Tuesday, 27 January 2026
  1. Home/
  2. Hameed Ullah Bhatti/
  3. Beijing Aur Ottawa Mein Qurbat Aalmi Tabdeeli Ka Akkas

Beijing Aur Ottawa Mein Qurbat Aalmi Tabdeeli Ka Akkas

کیا وینزویلا میں امریکی کاروائی سے براعظم امریکہ میں چین کی تجارتی پیش قدمی رُک گئی ہے؟ اِس کے جواب میں ہاں نہیں کہہ سکتے بلکہ اِس واقعہ نے دنیا کو جھنجوڑا ہے اور عالمی تبدیلیوں کو تیز تر کردیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے حامی اور مخالف دونوں کو زچ کر رکھا ہے جس کی وجہ سے کئی ایسے ممالک بھی چین کی طرف دیکھنے پر مجبور ہیں جو کئی عشرے امریکہ کے ساتھ رہے اِن میں یورپی ممالک بھی شامل ہیں۔ بظاہر وینزویلا سمیت کسی بھی ملک کے خلاف امریکی کاروائی کے خلاف چین نے ہمیشہ شدید عملی ردِ عمل دینے سے گریز کیا لیکن اب احتیاط پسندی پر حقیقت پسندی غالب ہے۔ ایران امریکہ کشیدگی میں بھی چینی ردِ عمل سفارتی رہا لیکن کچھ شدت محسوس کی گئی جس سے کمزور ممالک کی کافی حوصلہ افزائی ہوئی ہے اور وہ سرمایہ کاری اور متبادل سمجھ کر چین کی طرف متوجہ ہوئے ہیں۔

کینیڈا کو 51واں صوبہ بننے کی پیشکش اور گرین لینڈ کو حصہ بنانے کا ٹرمپ اعلان دنیا نے مسترد کر دیا ہے حالانکہ ڈنمارک کا شمار نیٹو دفاعی اتحاد کے بانیوں میں ہوتا ہے جس کی ایک شق یہ ہے کہ اِس تنظیم میں شامل کسی ملک پر ہونے والا حملہ تمام رُکن ممالک پر تصور ہوگا۔ ویسے بھی ٹرمپ کونسا کسی کی سُنتے ہیں جو قوانین، اخلاق یا اصول کی بات کریں مگر اُن کے اقدامات نے عالمی تبدیلیوں کو اِس حد تک ناگزیر بنا دیا ہے کہ کینیڈا جیسا ہمسایہ بھی متبادل کی طرف راغب ہے اور وہ روایتی پالیسی ترک کرتے ہوئے چین کی طرف دیکھنے لگا ہے جس کا چینی قیادت نہ صرف گرمجوشی سے خیر مقدم کررہی ہے بلکہ اِس تبدیلی کامثبت جواب دے رہی ہے۔ غالب اِمکان ہے کہ چین و کینیڈا شراکت داری سے براعظم امریکہ میں چینی رسوخ میں تیزی سے اضافہ ہوسکتا ہے۔

کینیڈا سے چین کے سفارتی تعلقات میں برسوں تک کشیدگی کا عنصر غالب رہا جس کی اہم وجہ امریکہ جیسے اتحادی کو خوش رکھنا تھا۔ کینیڈا نے چینی سامان تجارت پر سو فیصد محصولات لگائے تو جواب میں چین نے بھی محصولات بڑھا دیے جس سے باہمی تجارت شدید متاثر ہوئی لیکن کینیڈین وزیرِ اعظم مارک کارنی کا ایک ہی جست میں برسوں کی کشیدگی ختم کرنے سے لگتا ہے کہ دونوں طرف ہی قریب آنے کی خواہش تھی جسے پورا کرنے کے ٹرمپ نے اسباب پیدا کردیے۔

کینیڈا نے چین کو سب سے پسندیدہ ملک درجہ دیکر اُس کی الیکٹرک گاڑیوں پر نہ صرف کم ترین محصول چھ فیصد لاگو کر دیا ہے بلکہ سالانہ 49000گاڑیوں کا کوٹہ بھی دیا ہے۔ چین نے بھی فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کینیڈین کینولا پر محصولات 85 سے پندرہ فیصد کر دیا ہے جس سے طویل عرصہ بعد کینیڈین زرعی مصنوعات کی برآمد کا راستہ ہموار ہوگیا ہے۔ دونوں ممالک نے زراعت، توانائی، ثقافت کے ساتھ زرعی خوراک جیسے شعبوں میں جامع تعاون کے تحریری معاہدے بھی کیے ہیں۔ دو کھرب یوان کا مقامی کرنسی کا مالیاتی معاہدہ دوطرفہ تجارت و اقتصادیات کی بنیاد بن سکتا ہے۔ اِس سے نہ صرف دونوں ممالک کا ایک دوسرے پر انحصار بڑھے گا اور ڈالر سے منسلک تجارت میں کمی کے ساتھ بااعتماد شراکت داری کو فروغ ملے گا۔ یہ فیصلے براعظم امریکہ میں چین کے لیے بڑا دروازہ کھولیں گے۔ یہ وینزویلا میں امریکی کاروائی کے بعد ایک اہم ترین تبدیلی ہوگی۔

2017 میں آخری بار جسٹن ٹروڈو چین گئے جس کے بعد کسی کینیڈین وزیرِ اعظم نے چینی دورے سے اجتنا ب کیا۔ کینیڈا نے امریکہ کو خوش کرنے کے لیے معروف الیکٹرانک کمپنی ہواوے کے چیف فنانشل آفیسر مینگ وائزو کو 2018 میں وینکوور میں گرفتار کر لیا جس سے دونوں ممالک کے تعلقات اِس حد تک کشیدہ ہوگئے کہ نہ صرف جوابی گرفتاریاں ہوئیں بلکہ باہمی محصولات میں اضافہ ہوا۔ دونوں نے ایک دوسرے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات لگائے اور انتخابی مداخلت میں ملوث قرار دیا گیا مگر گزشتہ برس کی سفارتی کوششوں سے نہ صرف مارک کارنی کا رواں ماہ جنوری میں چار روزہ دورہ ممکن ہوا بلکہ یہ دورہ تجارتی رکاوٹوں کے خاتمے کا باعث بنا ہے۔ دونوں ممالک کی گرمجوشی لگتا ہے کہ کینیڈا تجارت کو متنوع بناکر امریکہ پر انحصار کم کرنا چاہتا ہے۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے عالمی تنازعات میں مشترکہ موقف اور دفاعی تعاون کی طرف بھی جا سکتا ہے۔

دنیا کی طرح چین اور کینیڈا بھی امریکی محصولات سے پریشان ہیں اور متاثرہ ممالک کو اشتراکِ کار کی راہ دکھائی ہے۔ چین جس نے اپنی معیشت کو تجارت سے تقویت دی اور وہ اب ایک بڑی دفاعی طاقت بننے کے لیے کوشاں ہے تاکہ عالمی امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی میں قائدانہ کردار ادا کر سکے۔ اب جبکہ امریکی معیشت دباؤ کا شکار ہے اور اُسے سالانہ ایک ٹریلین ڈالر سے زائد رقم قرضوں کے سود کی مد میں ادا کرنا ہوتی ہے مگر ٹرمپ خراب معاشی حالت کو سُدھارنے کے لیے نئی معاشی پالیسی بنانے کی بجائے حامی ممالک پر دباؤ ڈال کر رقوم چھین رہے ہیں، حالانکہ کساد بازاری کا شکار دنیا کی معیشت ایسے اقدامات کی متحمل نہیں۔ سوچ کا یہ فرق ہی دنیا کا منظر نامہ بدل رہا ہے اور چین کسی نوعیت کی فوجی کارروائی نہ کرنے کے باوجود اپنے عالمی کردار کو وسعت دے کر دنیا کی مجبوری بن رہا ہے۔ چین اور کینیڈا کی طرف سے باہمی تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ اور ٹھوس اقدامات سے اب کوئی ابہام نہیں رہا کہ امریکہ کے ستائے ممالک چینی چھتری تلے سستانے کی کوشش میں ہیں۔

امریکی پیداکردہ حالات سے دنیا میں آنے والی تبدیلی میں جہاں کئی خرابیاں ہیں وہیں مثبت پہلو بھی ہیں۔ دنیا کو یہ سبق ملا ہے کہ کسی ایک ملک پر ہی مکمل طور پر انحصار کرنا درست نہیں بلکہ دانشمندی اِس میں ہے کہ معیشت اور تجارت متنوع ہو یہاں تک کہ جرمنی اور فرانس جیسے طاقتور یورپی ممالک بھی نئی حکمتِ عملی اختیارکر رہے ہیں۔ 2024 میں امریکی ایما پرہی کینیڈا نے چینی الیکٹرک کاروں پر سوفیصد محصولات لگا کر درآمد روک بند کرنے کی کوشش کی مگر حالیہ چین و کینیڈا مفاہمت کے نتائج کا ٹیسلا جیسی کمپنی کو سامنا کرنا ہوگا جس کے تناظر میں کہا جا سکتا ہے کہ امریکی پالیسی اسی کے لیے نقصان دہ ہے۔

گزشتہ برس اکتوبر میں کوریا میں چینی صدر شی جن پنگ اور کینیڈین وزیرِ اعظم نے ملاقات میں دوطرفہ تعاون پر بات کی۔ کیسی تعجب کی بات ہے کہ جس چین کو براعظم امریکہ اور یورپ سے بے دخل کرنے کے لیے امریکہ نے ہزار کلو میٹر سے زائد دوری پر واقع ملک وینزویلا کے خلاف فوجی کاروائی کی اسی امریکہ کا ہمسایہ کینیڈا نہ صرف چین کی طرف دستِ تعاون بڑھا کرماضی کی غلطیوں کی تلافی کرنے کی کوشش میں ہے بلکہ دونوں ممالک ایک دوسرے کی قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے دفاعی تعاون کی طرف بھی آنے والے ہیں یہ تعاون عالمی تبدیلی کا عکاس ہے۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais