Thursday, 08 October 2026
  1. Home/
  2. Hameed Ullah Bhatti/
  3. Election Commission Ke Khilaf Ehtejaj Bharti Jamhuriat Ka Imtihan

Election Commission Ke Khilaf Ehtejaj Bharti Jamhuriat Ka Imtihan

بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کادعویٰ کرتا ہے اِس دعوے کی بنیاد آبادی یا انتخابات کے بڑے پیمانے پر انعقاد نہیں بلکہ ادارہ جاتی نظام رہی ہے مگر جب انتخابی عمل کی شفافیت، ووٹرفہرستوں یا الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری پر سوال اُٹھنے لگیں تو پوری جمہوری ساخت بحث کی زد میں آجاتی ہے الیکشن کمیشن کے خلاف جاری احتجاج اسی نوعیت کی سیاسی بحث کو جنم دے رہا ہے۔

چیف الیکشن کمیشنر گیانیش کمار2025سے اِس منصب پر ہیں ستمبر2026میں سپریم کورٹ نے اُن کے طرزِ عمل اور ایس آئی آر کے خلاف دائر درخواس پر سماعت پر آمادگی ظاہرکی کیونکہ کچھ شواہدسے جانبداری ظاہرہوئی الیکشن کمیشن کے اندرسے بھی بعض امور پر اختلاف کی خبروں اور الیکشن کمیشن کے دو ممبران کی جانب سے بعض فیصلوں پر اعتراضات کی اطلاعات نے بحث کو مزید اہم بنا یا۔ ممبئی سمیت ملک بھر میں ہزاروں افراد کابھارتی الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج دراصل حزبِ اختلاف کی طرف سے ووٹر فہرستوں اور انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کے سنگین الزامات سامنے آنے پر شروع ہواہے انتخابی فہرستوں میں موجود خامیوں اور بعض حلقوں میں ووٹروں کے ناموں سے متعلق سوالات کا احتجاجی جواب مانگ رہے ہیں مگر الیکشن کمیشن اپنے طریقہ کار اور انتخابی عمل کا دفاع کرتا ہے حالانکہ ایک جمہوری معاشرے میں اختلافِ رائے کو محض سیاسی شعور سمجھنے کی بجائے سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔

انتخابات جمہوریت کی بنیاد ہیں لیکن صرف انتخابات کا انعقاد ہی جمہوریت کی ضمانت نہیں بلکہ انتخابات شفاف، ووٹرکو اپنا ووٹ ڈالنے کا آزادانہ حق دینا، انتخابی فہرستیں درست رکھنااور تمام سیاسی جماعتوں کے اعتماد پر پورا اُترنابھی ضروری ہے اگر عوام یا سیاسی جماعتوں کویہ محسوس ہوکہ انتخابی نظام شفاف نہیں تو نتائج چاہے قانونی طورپر درست قرار پائیں سیاسی اعتبار سے سوالات جنم لیتے ہیں۔

الیکشن کمیشن جیسے اہم اِدارے کی ذمہ داری ووٹنگ کے انتظام سمیت انتخابی عمل پر عوامی اعتماد بحال رکھنا بھی ہے لہذا ہر الزام کو فوراََ درست یا غلط قرار دینے کی بجائے شفاف تحقیقات اور اعدادوشمار کی بنیاد پر جواب دینا زیادہ بہتر ہے کیونکہ جمہوریت میں اِداروں کی طاقت قانونی اختیارات کے ساتھ عوامی اعتماد سے ہوتی ہے۔

جمہوریت میں حزبِ مخالف کا کردار بھی اہم ہوتا ہے اگر کسی سیاسی جماعت یا اتحاد کوانتخابی فہرستوں، ووٹوں یا انتخابی طریقہ کار پربے قاعدگی کا شبہ ہو توثبوت کے ساتھ اُسے متعلقہ فورم پر معاملہ اُٹھانے کا حق ہے لیکن بھارت میں صرف حکومتی موقف سنا جاتا ہے اپوزیشن کی کہیں شنوائی نہیں۔ ایساطرزِ عمل وقتی طورپر سیاسی فائدہ تو دے سکتاہے مگر طویل مدت میں پورے جمہوری نظام پر عوامی اعتماد کم کرنے کاباعث بن سکتا ہے بعض مظاہرین کے خلاف کاروائی اور تحقیقات شروع کرنے میں پولیس بھی توازن کھورہی ہے حالانکہ اگر کسی احتجاج کے دوران قانون شکنی ہوئی ہے تو قانون اپنا راستہ اختیار کرے لیکن محض سیاسی اختلاف یا حکومت اور الیکشن کمیشن پر تنقید جُرم نہیں ایسا تصورکرنا جمہوری معاشرے کے لیے خطرناک ہے ریاستی اِداروں کی ذمہ داری ہے کہ احتجاج اور بدامنی میں فرق رکھیں۔

موجودہ دورمیں انتخابی سیاست صرف پولنگ اسٹیشن تک محدود نہیں رہی بلکہ سوشل میڈیا نے سیاسی بحث کو ایک نئی شکل دیدی ہے ایک ویڈیو، ایک الزام یا ایک نامکمل دستاویز چند گھنٹوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے جس سے انتخابی اداروں کی ذمہ داری پہلے سے بڑھ گئی ہے کہ وہ معلوما ت کی بروقت وضاحت کریں انتخابی فہرست پر سوال اُٹھنے پر عوام کو بتایا جائے کہ تیاری کیسے ہوئی، اعتراضات کیسے جمع کرائے اور غلطی کی صورت میں اصلاح کا طریقہ کیا ہے؟ خاموشی شکوک ختم نہیں کرتی بلکہ مزید گہرا کر تی ہے بہارمیں 65لاکھ، اُتر پردیش میں 2.05کروڑ، مغربی بنگال میں 27.16لاکھ ووٹ خارج کیے گئے مغربی بنگال میں 22.21لاکھ نے دوبارہ شمولیت کی اپیلیں کیں اِن تینوں ریاستوں میں بی جے پی جیتی کشمیر میں 67ہزار ووٹ حذف کرنے کے بعد ایک لاکھ ساٹھ ہزار نئے ووٹ بنائے گئے یوں بی جے پی کی پوزیشن ریاست میں بہتر ہوئی اِس کاذمہ دارصرف الیکشن کمیشن ہے۔

بھارت جیسے وسیع اور متنوع ملک میں کروڑوں ووٹر، مختلف ریاستیں، مختلف زبانیں، متعدد سیاسی جماعتیں اور بے شمار انتخابی حلقے ہیں ایسے نظام میں معمولی انتظامی غلطی سیاسی تنازع بن سکتی ہے انتخابی فہرستوں کی مسلسل جانچ، ووٹرکی شکایات کا فوری ازالا اور سیاسی جماعتوں کو مناسب معلومات کی فراہمی جمہوری عمل کاحصہ ہے اِس پورے معاملے کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ بھارت میں سیاسی مقابلہ گزشتہ چند سالوں میں زیادہ سخت ہو اہے لہذاحکومت اور حزبِ مخالف کے درمیان اعتماد کی کمی ہوگی توانتخابی نتائج پرسوالات بھی شدت سے اُٹھیں گے ایسے ماحول میں الیکشن کمیشن کے لیے ضروری ہے کہ اپنی غیر جانبداری کو صرف بیان نہ کرے بلکہ اپنے اقدامات سے ثابت کرے اسی طرح حکومت یہ تاثر دینے سے گریز کرے کہ انتخابی اِدارے پر ہونے والی تنقید دراصل ریاست کے خلاف مُہم ہے۔

جمہوریت کی اصل خوبی سوال کرنے کی اجازت ہونا ہے اگر شہری انتخابی نظام پر سوال اُٹھاتے ہیں تو جواب طاقت سے نہیں بلکہ دلیل، شفافیت اور معلومات سے دیا جانا چاہیے حزبِ مخالف الزامات کے ثبوت پیش کرے تو الیکشن کمیشن الزامات کومحض بے بنیاد کہنے کی بجائے اعدادوشمار اور دستاویزات جیسے شواہدسے رَد کرناچاہیے۔ بھارت کے موجودہ احتجاج کو اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے جو چند سیاسی جماعتوں اور الیکشن کمیشن کے درمیان کشمکش نہیں بلکہ اُس سوال سے جُڑا معاملہ ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اپنے انتخابی نظام پر عوامی اعتماد برقراررکھنے میں ناکامی سے دوچارہے انتخابات میں جیت اور ہار سیاسی عمل کا حصہ ہیں مگر انتخابی عمل پر اعتماد ختم ہونا جمہوریت نہیں۔

جمہوریت صرف اکثریت کا نام نہیں بلکہ اعتماد، شفافیت، اختلافِ رائے اور اداروں کی غیر جانبداری کا مجموعہ ہے بھارت اگر اپنے انتخابی نظام پر اُٹھنے والے سوالات کا جواب کُھلے پن، تحقیقات اور شفاف معلومات سے دیتا ہے تو جمہوری نظام مضبوط ہوگا لیکن سیاسی الزامات کاجواب الزامات سے اور عوامی خدشات کا جواب خاموشی یا طاقت کا ستعمال نہیں بھارت کے لیے امتحان صرف یہ نہیں کہ اگلا انتخاب کون جیتے گا بلکہ یہ ہے کہ انتخابی نتائج آنے کے بعد عوام اور سیاسی جماعتیں اِس نتیجے کو تسلیم کرنے کے لیے الیکشن کمیشن پر کتنا اعتماد کرتی ہیں۔

Check Also

Jamhuriat Aur Awami Masail: Falsafa Aur Haqiqat Ka Fasla

By Unzila Siddiqui