Wednesday, 30 September 2026
  1. Home/
  2. Hameed Ullah Bhatti/
  3. Europi Muashron Mein Taqseem

Europi Muashron Mein Taqseem

یورپ ایسے سیاسی دورمیں داخل ہوتادکھائی دیتا ہے جہاں انتخابات صرف حکومتوں کی تبدیلی کا زریعہ نہیں بلکہ معاشروں کے اندر موجود گہری بے چینی، خوف، شناخت کے سوال اور مستقبل کے بارے میں مختلف تصورات کااظہار بھی بن چکے ہیں کہیں تارکینِ وطن مخالف جماعتیں آگے ہیں تو کہیں اُنھیں پہلے کے مقابلے میں کم عوامی حمایت مل رہی ہے یہی تضاد اِس سوال کو جنم دیتا ہے کہ کیا یورپی معاشروں میں واقعی تقسیم ہے؟

رواں ماہ ستمبر کے سویڈش انتخابات اِس حوالے سے اہم مثال ہیں جہاں ڈیموکریٹس کو 17.48 فیصد ووٹ ملے یہ گزشتہ انتخابات میں حاصل ہونے والے ووٹوں سے تین فیصد کم ہیں یہ جماعت پارلیمان میں باسٹھ نشستوں کے ساتھ اب بھی ملک کی تیسری بڑی سیاسی قوت ضرور ہے لیکن اِس کے ووٹوں میں کمی قابلِ توجہ ہے کہ گزشتہ برسوں میں اِس جماعت نے مسلسل اپنی سیاسی جگہ مضبوط کی مگر حالیہ نتائج کم ہوتی مقبولیت کی طرف اِشارہ ہیں۔

یہ نتیجہ تارکینِ وطن کے لیے کسی فوری اور قطعی تبدیلی کی ضمانت تو نہیں لیکن یہ ضرورمعلوم ہوگیاہے کہ سویڈن میں امیگریشن مخالف سیاست کو عوام کی مکمل اور بڑھتی ہوئی حمایت مزید حاصل نہیں رہی یہ انتخابی نتیجہ یورپ میں جاری اِس بحث کے دوسرے رُخ کو سامنے لاتا ہے جس میں رواداری، کثیرالثقافتی معاشرے اور تارکینِ وطن کے انضمام کو اہمیت حاصل ہے لیکن جرمنی سے آنے والی خبر اِس تصویر کو یکسر مختلف بنا دیتی ہے۔

بیس ستمبر کو میکلن برگ۔ فورپومرن کے ریاستی انتخابات میں متبادل برائے جرمنی یعنی اے ڈی ایف 38.2فیصد ووٹ لے کر سب سے بڑی جماعت بن گئی 2021کے انتخابات میں اِسے صرف 16.7فیصد ووٹ ملے تھے دوسری طرف سوشل ڈیمو کریٹک پارٹی 35.5فیصد ووٹ لیکر دوسرے نمبر پررہی جرمنی کی حکمران جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین صرف 4.9فیصد ووٹ لیکر پہلی بار اِس ریاست کی پارلیمان سے باہر ہوگئی ہے یہ نتیجہ محض ایک ریاستی حکومت کی تشکیل کا مسئلہ نہیں کیونکہ جرمنی یورپ کی سب سے بڑی معیشت ہے لہذا یہاں دائیں بازو کی مقبولیت میں اضافہ پورے یورپ کی سیاسی بحث پر اثرانداز ہوتا ہے تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اے ایف ڈی بڑی جماعت بننے کے باوجود حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں کیونکہ دیگر جماعتیں اِس کے ساتھ اتحاد کرنے سے انکار ی ہیں اور سوشل ڈیموکریٹس، گرینزاور دی لیفٹ کے درمیان حکومت بنانے کی گنجائش موجودہے۔

یہاں بنیادی نُکتہ سمجھنے کی ضرورت ہے یورپ میں دائیں بازو کی مقبولیت کو صرف تارکینِ وطن سے جوڑ دینا شاید مکمل درست نہیں مہنگائی، مکانوں کے بڑھتے کرائے، توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، روزگار، جرائم، سماجی مایوسی بھی سیاسی تبدیلی کے اہم عوامل ہیں جرمنی کے حالیہ نتائج میں بھی معاشی و رہائشی مسائل نے عوامی رائے کو تبدیل اور حکومت سے ناراضگی میں اضافہ کیاہے امیگریشن بھی ایک مرکزی سیاسی مسئلہ ہے گزشتہ ایک عشرے کے دوران مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ سے آنے والے پناہ گزینوں، غیر قانونی ہجرت اور سرحدی نگرانی کے سوال نے یورپی سیاست کو بدلا ہے دائیں بازو کی جماعتیں اِسے قومی شناخت، سلامتی اور ریاستی وسائل جیسے مسائل کے طورپر پیش کرتی ہیں جبکہ مخالفین کا موقف ہے کہ یورپی معیشت اور عمررسیدہ آبادی کے لیے تارکینِ وطن کی معاشی اورسماجی شمولیت اہم ہے۔ اب نگاہیں فرانس پر ہیں۔

فرانس میں 2027 کا صدارتی انتخاب اِس پورے رجحان کا ایک بڑا امتحان ہوگا موجودہ انتخابی جائزوں میں قومی اجتماع سے وابستہ امیدواروں کو پہلے مرحلے میں خاصی مضبوط حمایت حاصل ہے اگرچہ انتخاب ابھی دورہیں اور اُمیدواروں، سیاسی اتحادوں اور عوامی ترجیحات میں تبدیلی ممکن ہے لیکن ستمبر کے بعض سروے قومی اجتماع کی مضبوط پوزیشن کی نشاندہی کرتے ہیں۔

فرانس کی اہمیت اِس لیے زیادہ ہے کہ یہ محض ایک اور یورپی ملک نہیں بلکہ یورپی یونین کی بڑی سیاسی اور فوجی طاقت ہے اگر وہاں بھی امیگریشن، قومی شناخت اور یورپی اتحاد بارے سخت گیر سیاست مزید مضبوط ہوتی ہے تو اِس کے اثرات فرانس کی داخلی سیاست سے کہیں آگے جا سکتے ہیں لیکن یہاں بھی سوال صرف دائیں بائیں بازو کا نہیں اصل سوال یہ ہے کہ یورپی شہری اپنے معاشرے کا مستقبل کس شکل میں دیکھنا چاہتے ہیں ایک تصور ایسا ہے جس میں یورپ کُھلی سرحدوں، کثیر الثقافتی معاشرے اور مختلف ثقافتوں کے بقائے باہمی کو قبول کرتا ہے دوسرا تصورقومی ریاست، سخت سرحدی نگرانی، محدودہجرت اور قومی شناخت کو زیادہ اہمیت دیتا ہے اِن دونوں تصورات کے درمیان کشمکش اب یورپی سیاست کا مستقل حصہ بن چکی ہے۔

سویڈن اور جرمنی کے نتائج بظاہر متضاد ہونے کے باوجود ایک ہی کہانی کا حصہ ہیں سویڈن میں تارکینِ وطن مخالف جماعت کا ووٹ کم ضرور ہوا مگر وہ اب بھی پارلیمان کی ایک بڑی قوت ہے جرمنی میں اسی نوعیت کی سیاسی قوت نے ایک ریاست میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے لیکن حکومت بنانے میں مشکلات کاشکارہے فرانس میں 2027کا صدارتی انتخاب اِس بحث کو مزید گہراکر سکتاہے۔

تو کیا یورپی معاشروں میں تقسیم مزیدبڑھے گی؟

شاید ایسا کہنا ابھی قبل ازوقت ہوگا کہ یورپ دوحصوں میں تقسیم ہورہا ہے لیکن یہ ضرورکہا جا سکتا ہے کہ یورپی معاشروں کے اندر سیاسی فاصلے بڑھ رہے ہیں ایک طرف وہ لوگ ہیں جو یورپ کو کُھلا، متنوع اور کثیر الثقافتی دیکھنا چاہتے ہیں اور دوسری طرف وہ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ ہجرت کی رفتار، قومی شناخت اور سرحدوں کے معاملے میں زیادہ سخت پالیسی ضروری ہے اصل خطرہ شاید اختلافِ رائے نہیں بلکہ اختلاف کا اِس حد تک بڑھ جانا ہے کہ ایک طبقہ دوسرے طبقے کواپنے لیے اجنبی سمجھنے لگے۔ جمہوریت میں سیاسی اختلاف فطری ہے لیکن جب معاشی مشکلات، شناخت کے سوال اور ہجرت جیسے حساس معاملات معاشرے کو باہم متصادم شناختوں میں تقسیم کردیں تو پھر مسئلہ صرف انتخابات کا نہیں رہتا۔

سویڈن نے ایک سمت کا اِشارہ دیا ہے جرمنی نے دوسری سمت کی طاقت دکھائی ہے اور فرانس کا 2027کا انتخاب شاید اِس یورپی کہانی کا ایک اور اہم باب رقم کرے گافی لحال اِتنا کہنا زیادہ درست ہوگا کہ یورپ ٹوٹنے سے زیادہ ایک نئے سیاسی توازن کی تلاش میں ہے اور اِس تلاش کا نتیجہ ابھی سامنے آنا باقی ہے۔

Check Also

Karobar e Hayat, Hamari Nasal Aur Tawazum Ki Talash

By Unzila Siddiqui