اسرائیل کے 26 ویں عام انتخابات نے ثابت کر دیا ہے کہ انتخابی کامیابی اور اقتدار حاصل کرنے میں کافی فرق ہے۔ بظاہر وزیرِ اعظم نیتن یاہو کا سیاسی اتحاد سب سے آگے ہے مگر حکومت بنانے کے لیے وہ مطلوبہ سادہ اکثریت حاصل نہیں کر سکا جبکہ حزبِ مخالف بھی تنہا حکومت تشکیل دینے کی پوزیشن میں نہیں۔ موجودہ صورتحال کا باعث اکیس لاکھ عرب ووٹر ہیں جنھوں نے ووٹ دینے میں غیر معمولی دلچسپی لی اب عرب جماعتیں اسرائیلی سیاست کا اہم پہلو ہیں جو 19 نشستوں پر آگے ہیں لیکن اصل سوال یہ نہیں کہ کِس اتحاد نے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کیں اور کون اقلیت میں ہوکربھی فیصلہ کُن طاقت ہے بلکہ یہ ہے کہ حکومت بنانے کے لیے کون اب اپنے سیاسی وعدوں، نظریاتی اختلافات اور انتخابی مفادات کے درمیان راستہ نکالتا ہے۔
ابتدائی نتائج میں میں انتہائی انتہا پسندوں اور انتہا پسندوں نے ایک دوسرے کا خوب مقابلہ کیا انتہائی انتہاپسندوں اور مذہبی جماعتوں پر مشتمل اتحاد 53 نشستوں پر آگے جبکہ سابق عسکری سربراہ گیڈی آئزن کوٹ کی قیادت میں انتخابی اتحاد 48 نشستیں حاصل کرنے کے قریب ہے۔ عرب جماعتوں کی 19 نشستیں اہم ترین ہوگئی ہیں البتہ فوجیوں کے ووٹوں سے کچھ کمی و بیشی ہو سکتی ہے مگر اسرائیلی پارلیمان جسے کنیسٹ کہا جاتا ہے میں حکومت بنانے کے لیے 61 نشستیں ضروری ہیں اور یہ تعداد کسی اتحاد کے پاس نہیں۔ اِس تناظر میں دونوں بڑے اتحادوں کو حکومت سازی کے لیے دوسرے سیاسی دھڑوں کی حمایت حاصل کرنا ہوگی مگر قرائن سے ظاہر ہے کہ اسرائیل میں حکومت سازی اب مشکل ہے اور دوبارہ انتخابات کا امکان موجود ہے کیونکہ دونوں بڑے اتحاد اگر عرب جماعتوں کو ساتھ ملا کر حکومت تشکیل دیتے ہیں تو یہ عمل انتہائی انتہاپسند آبادی کی حمایت سے محروم کر سکتا ہے یہ محرومی برداشت کرنے کا کوئی بھی تصور تک نہیں کر سکتا۔
نیتن یاہو جیسے انتہائی انتہا پسند کے لیے یہ صورتحال بہت پچیدہ ہے تجربہ کار رہنما ہونے کے باوجود موجودہ مشکل صورتحال میں انھیں اپنی بقا کے راستے نکالنا آسان نہیں رہا۔ سب سے بڑا مسئلہ تو اپنے انتہائی انتہا پسند اتحادیوں کو مطمئن رکھنا ہے جن کا فلسطینی ریاست، مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع، غزہ کی نسل پرستانہ جنگ اور عرب سیاسی نمائندگی بارے سخت موقف ہے۔ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے کے لیے اعتدال پسند جماعتوں سے مفاہمت کرتے ہیں تو سخت گیر اتحادیوں کو ساتھ رکھنا دشوار ہوجائے گا۔ دوسری طرف حزبِ مخالف کے لیے بھی اقتدار میں آنا آسان نہیں گیڈی آئزن کوٹ اور اُن کے وہ ساتھی جو نیتن یاہو کو حکومت سے باہر کرنا چاہتے ہیں اُن کے سامنے سوال ہے کہ کیا عرب جماعتوں کی حمایت قبول کر لیں گے؟ انتخابی مُہم کے دوران اسرائیل کی کئی یہودی جماعتوں نے عرب سیاسی قوتوں کے ساتھ تو اتحاد بنانے سے بھی گریز کیا تھا اب اگر وہ عرب جماعتوں کی حمایت لینے سے انکار کرتی ہیں تو نیتن یاہو کی واپسی کا امکان ہو سکتا ہے اور اگر حمایت قبول کرلیتی ہیں تو اپنے ووٹروں اور اتحادیوں کو اِس فیصلے کے متعلق مناسب جواب دینا مشکل ہوگا۔
عرب جماعتوں کی کامیابی اِس انتخابی معرکے کا غیر معمولی پہلو ہے اسرائیل میں عرب شہری ملکی آبادی کا ایک اہم حصہ ہیں مگر انھیں طویل عرصے سے امتیازی سلوک، سماجی عدم مساوات، جرائم، وسائل کی غیر مساوی تقسیم اور سیاسی عدمِ اعتماد جیسے مسائل کا سامنا رہا۔ اچانک اُن کی نمائندگی میں بڑا اضافہ اِس امر کا اظہار ہے کہ عرب ووٹروں نے اپنی سیاسی قوت کو موئثر انداز میں استعمال کیا ہے کیونکہ 19 نشستیں انھیں حکومت سازی کے مذاکرات میں اہم مقام فراہم کریں گی۔ اگرچہ یہ سمجھنا درست نہیں کہ تمام عرب جماعتیں ہر معاملے پر ایک جیسا موقف رکھتی ہیں یا اتحاد کے لیے انتہائی انتہا پسند یا انتہا پسند کسی سیاسی اتحاد کی حمایت کرسکتی ہیں۔ عرب جماعتوں کے لیے یہ موقع محض نشستوں کی تعداد بڑھانے کا نہیں بلکہ اپنے ووٹروں کے بنیادی مسائل اور سیاسی مذاکرات کا حصہ بنانے کا ہے وہ جرائم کی روک تھام، عرب آبادی والے علاقوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی، رہائش، تعلیم، روزگار اور شہری مساوات جیسے معاملات پرضمانتیں طلب کر سکتی ہیں۔ تاہم کامیابی کا انحصار اِس پر ہوگا کہ وہ اپنے مطالبات کو کہاں تک عملی اثر میں تبدیل کرپاتی ہیں۔ صرف کسی حکومت کو گرانے یا بنانے میں کندھا دینا کافی نہیں اصل اہمیت اِس کی ہے کہ اِس تعاون کے بدلے عام عرب شہریوں کی زندگی میں مثبت تبدیلی لائی جائے۔
موجودہ انتخابی نتائج کو فلسطین کے مسئلے سے الگ نہیں دیکھا جا سکتا غزہ کی تباہ کُن جنگ، مغربی کنارے میں کشیدگی، اسرائیلی یرغمالیوں کا معاملہ، سلامتی کے خدشات اور فلسطینی ریاست کے قیام کے سوال نے اسرائیلی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ نیتن یاہونے انتخابی مُہم میں اپنی حکومت کی عسکری کامیابیوں اور ایران سے لاحق خطرات کو نمایاں کیا اور مخالفین نے سلامتی کے انتظامات، سات اکتوبر 2023 کے حملوں سے پہلے اور بعد کی حکمتِ عملی اور سیاسی جواب دہی کے معاملات پر زیادہ بات کی جن کے جوابات نئی حکومت کی تشکیل اور اِس کی پالیسیوں پر بھی اثرانداز ہوں گے۔ صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کی حمایت اور انتخابی سیاست میں عالمی تعلقات کو نمایاں کیا مگر یہ حربہ ناکام رہا اب تو ثابت ہوگیا ہے کہ امریکی حمایت کسی اسرائیلی رہنما کی انتخابی اکثریت کی بحرحل ضمانت نہیں۔ امریکہ کے لیے بہتر ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تزویراتی تعلقات کو برقرار رکھنے کے ساتھ مداخلت کم کردے۔ خطے میں جنگ کے پھیلائو، انسانی بحران اور سفارتی تنہائی کے خطرات کو سمجھے اگر اسرائیل میں نئی حکومت تشکیل پاجاتی ہے تو اُسے امریکہ اور عرب ممالک سے تعلقات کو نئے سرے سے دیکھنا ہوگا۔
اسرائیلی انتخابات کا سبق یہ ہے کہ اقتدار کی کشمکش یہودی جماعتوں تک محدود نہیں رہی بلکہ عرب ووٹروں نے عرب جماعتوں کی پارلیمانی طاقت سے حکومت کی روایتی تشکیل کو ایک الگ رُخ دیدیا ہے لیکن یہ نیا رُخ فلسطین کے بارے پالیسی بدلنے کا باعث بنے گا اِس کا فوری طور پر ہاں میں جواب دینے کی بجائے کچھ عرصہ انتظار بہتر ہوگا مگر اِس بارے انتہاپسندانہ رویہ مستقبل میں مسائل پیداکر سکتا ہے۔ اسرائیل نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اپنی سیاست کو مسلسل تصادم، سخت گیر قوم پرستی اور عارضی اتحادوں کے گرد رکھے گا یا اپنے معاشرتی اختلافات کا کوئی سیاسی حل بھی تلاش کرے گا۔ نیتن یاہو اقتدار میں آئے یا آئزن کوٹ حکومت بناتا ہے اب اصل امتحان سلامتی، جمہوری جواب دہی، شہری مساوات اور فلسطین تنازع کا حل تلاش کرنا ہوگا۔ 19 عرب نشستیں بہت اہم ہیں جس کو سمجھے بغیر اندرونی استحکام کا خواب شاید مشکل سے پورا ہو۔