Friday, 01 May 2026
  1. Home/
  2. Hameed Ullah Bhatti/
  3. Mukalme Ki Zaroorat

Mukalme Ki Zaroorat

امریکہ و ایران کے درمیان مزید مزاکرات ہوں گے یا نہیں؟ اور اگر ہوں گے تو کیا دونوں میں کوئی آبرو مندانہ تصفیہ ہوجائے گا؟ اِن سوالات کے جواب جاننے کے لیے دنیا بے چین ہے مگر جن دو ممالک نے مزاکرات کرنے ہیں لگتا ہے اُنھیں دنیا کی بے چینی کا کوئی احساس نہیں کیونکہ دونوں ہی ایک دوسرے کو میدان کے بعد اب اعصابی جنگ میں شکست دینے کی کوشش میں ہیں مگر یہ کوشش دنیا کی معیشت کے لیے سخت نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔ جب مسائل کاحل بات چیت سے ممکن ہے کیونکہ دو فریق جب آمنے سامنے بیٹھتے ہیں تو موقف سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے اور لچک کا امکان پیدا جاتا ہے مگر جانے کیوں یہ نکتہ سمجھ میں نہیں آرہا۔

اِس بار ایران نے رویہ اور موقف ماضی سے زیادہ سخت کر لیا ہے کیونکہ جن امور پر عمان کی ثالثی میں تصفیہ ہوگیا تھا اُن سے بھی پیچھے ہٹنے لگا ہے یہی موجودہ ڈیڈ لاک کی اہم وجہ ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے یکطرفہ اور بلا جواز تھے اِس لیے حملوں کی تائید نہیں کی جا سکتی مگر جواب میں آبنائے ہُرمز جیسی عالمی گزرگاہ کو بند کردینا بدمعاشی ہے اِس بندش سے تیل کی بیس فیصد عالمی تجارت بند ہے اِس فیصلے سے صاف ظاہر ہے کہ آبنائے ہُرمز کی بندش سے حملہ آور ممالک کو نقصان پہنچانے کی بجائے ایران نے اپنے ہمسایہ اور حامی ممالک کی معیشت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے جو بدنیتی ہے۔ اِس فیصلے کا ایک نتیجہ تو یہ نکلا ہے کہ ایران سے نرمی یا تعاون کی تمام کوششیں اور منصوبے بُری طرح متاثر ہوچکے ہیں۔

متحدہ عرب امارات کا اوپیک کو خیر باد کہنا اور سعودی عرب کا تیل کی فروخت کے لیے آبنائے ہُرمز کے متبادل کی طرف متوجہ ہونا واضح دلیل ہیں۔ علاوہ ازیں ایران کی یہ بندش سراسر اسلامی ممالک کی معیشت کو غیر مستحکم کرنے کا باعث بنی اور مزید بیرونی مداخلت کا جواز فراہم کرنے کا باعث ہوئی مگر اب جبکہ امریکہ نے بھی تیل کی اِس تنگ گزرگاہ کی بندش کا دائرہ وسیع کردیا ہے تو ایران تلملانے لگا ہے اور تیل کی قیمت بڑھانے کا موجب قرار دینے لگا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران کی چال اُسی پر اُلٹنے سے خطے میں امریکہ کو کسی حد تک بہتر مقام حاصل ہوا ہے۔ مزاکرات سے انکار اور آبنائے ہُرمز کی بندش پر اصرار کرنے والا ایران اب کسی وقت موقف میں کچھ نرمی اور لچک پر آماد ہو سکتا ہے۔ شاید اُسے ایک ایسی فیس سیونگ درکار ہو جس سے شکست کے تاثر کی نفی ہوتی ہو۔

پاکستان نے بطور ثالث امریکہ اور ایران کو ایک میز پر بٹھایا اور کسی حد تک تصفیے کے آثار بھی دکھائی دینے لگے تھے کہ اچانک ایرانی وفد سرد مہری اختیار کرنے لگا جس کا مطلب یہی لیا گیا کہ وفد کو ملک سے نئی ہدایات آئی ہیں جو رویے میں تبدیلی کا باعث بنی ہیں۔ دراصل ایران کا نظام دنیا سے قدرے مختلف ہے یہ کچھ زیادہ ہی مذہب کے زیرِ اثرہے سیاسی قیادت موجود ہونے کے باوجود طاقت کا اصل مرکز رہبرِ اعلیٰ ہے جس کے کنٹرول میں پاسدارانِ انقلاب جیسی قوت ہے یہ فوج کے علاوہ ملک میں طاقت ہے جو سیاسی حکومت کے دائراہ کار سے باہر ہے اسی وجہ سے تو مسعودپزشکیان حملوں پر اپنے ہمسایہ عرب ممالک سے معذرت کرتے رہے لیکن اِس کے باوجود عرب ممالک پرحملے جاری رہے کیونکہ پاسدارانِ انقلاب سیاسی قیادت کے ماتحت نہیں بلکہ وہ صرف رہبرِ اعلیٰ کے احکامات تسلیم کرتے ہیں۔

اسلام آباد مزاکرات کو بھی پاسدارانِ انقلاب نے سبوتاژ کیا اور تصفیہ نہ دیا مگر پاکستان کی مخلصانہ کاوشیں ہنوز جاری ہیں تاکہ خطے کو مزید جنگ کی تباہ کاریوں سے بچایا جا سکے مگر ایران میں پاسدارانِ انقلاب کی شکل میں ایسے عناصر ہیں جو جنگ و جدل کا ماحول پسندکرتے ہیں تاکہ عوام اپنے اصل مسائل بھولے رہیں۔ آبنائے ہُرمز کی بندش سے امریکہ نے ایران کی تیل کی تجارت مکمل طور پر روک دی ہے جس کی وجہ سے ایرانی معیشت اِس حد تک شدید دباؤ کا شکار ہے کہ ملک میں مہنگائی اور افراتفری بڑھ سکتی ہے اسی بناپر کہا جا سکتا ہے کہ خطے اور ایران کی بہتری اسی میں ہے کہ بات چیت سے جلد تصفیہ طلب مسائل کا حل تلاش کیاجائے۔

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی جب دوسری بار پاکستان آئے تو یہ واضح کرگئے کہ اُن کا ملک امریکہ سے مزید براہ راست بات چیت یا مکالمہ نہیں چاہتا شاید اُن کا خیال ہو کہ ایران کا جب میدانِ جنگ میں پلڑا بھاری ہے اور وہ ایک طویل جنگ کے اسباب سے لیس ہے تو بات چیت کرنے کی بھلا ضرورت ہی کیاہے؟ لیکن ایران امور سے آشنا تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ایران کی سیاسی قیادت کو تو ملکی مسائل کا ادراک ہے کہ اُن کی عوام مسائل و مصائب کا بُری طرح شکار ہے لہذا ضروری ہے کہ جنگ کے ماحول سے جلد نکلا جائے تاکہ منجمد اثاثے نہ صرف دسترس میں آئیں بلکہ لگی بیرونی پابندیوں سے بھی نکلنے کا راستہ ہموار ہو لیکن ملک کی انقلابی قیادت موجودہ صورتحال میں بھی جذباتیت کاشکار ہے۔ یہ مہماتی جنگجو درپیش حالات کو اپنے حق میں کرنے کے لیے کامیابی کی لغو داستانیں سناتے پھرتے ہیں باوجود اِس کے کہ حالیہ جنگ میں اصل نقصان اسی طبقے کو ہوا ہے لیکن یہ ضدی اور ہٹ دھرم لوگ لگنے والی چوٹوں میں پورے ملک کوحصہ دار بناناچاہتے ہیں۔

امریکہ اور ایران میں فوری مکالمے کی ضرورت ہے تاکہ خطے میں تباہی کے راستے بند ہوں۔ حالات یہ ہیں کہ اگر سعودی عرب نے پاکستان سے دفاعی معاہدہ کر لیا ہے تو متحدہ عرب امارات اسرائیل کی طرف مائل ہے یہ خطے میں ہوتی نئی صف بندیوں کی طرف اِشارہ ہے اِس سے ایسے قیاسات کو تقویت مل رہی ہے کہ عرب خطے کے تنازعات میں نئے فریق آسکتے ہیں جس سے ایک ایسی نئی لڑائی کا خدشہ ہے جس کے اثرات سے خطے کا کوئی ملک شاید ہی محفوظ رہے۔

لہذا یہ فیصلہ کرنا ایران کا کام ہے کہ وہ ایسی دانش کی روش لے جس سے ایرانی عوام اور خطہ محفوظ رہے۔ اگر وہ اپنی معیشت کو بددستور عالمی بندیوں میں جکڑا دیکھنا چاہتا ہے اور اپنے منجمد اثاثوں کو عوامی بھلائی پر خرچ کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں رکھتا اور خطے میں ایک اور لڑائی کی بنیاد رکھنا چاہتا ہے تو آبنائے ہُرمز کی بندش اور مزاکرات سے فرارپر اصرار جاری رکھ سکتا ہے جس کے تباہ کُن نتائج کا شمار قابل از وقت ممک نہیں۔

اگر معیشت بہتر بنانی اور منجمد اثاثوں تک رسائی کا آرزومند ہے اور خطے کو امن کا گہوارہ دیکھنا چاہتا ہے تو اُسے مکالمے کی ضرورت کو سمجھنا ہوگا اور ثالثی کی مخلصانہ کوششوں کو کامیاب بنانے میں حصہ دار ہونا ہوگا۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais