Saturday, 22 August 2026
  1. Home/
  2. Hameed Ullah Bhatti/
  3. Muzakrat Ki Aankh Micholi Aur Aman

Muzakrat Ki Aankh Micholi Aur Aman

امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی آنکھ مچولی پر دنیا کی نظریں ہیں کبھی سفارتی روابط کی خبریں آتی ہیں جن سے مذاکرات کی بحالی کی امید پیداہوتی ہیں اور کبھی دونوں طرف کے سخت بیانات امید پر پانی پھیر دیتے ہیں۔ مذاکرات سے واقعی پائیدار امن کے معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے اگر سفارتی سرگرمیوں کو محض جنگ کو کچھ عرصہ ٹالنے کی کوشش نہ سمجھا جائے۔ اب سوال یہ ہے کہ اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کا مستقبل کیا ہوگا اور پاکستان کی سفارتی کوششیں کِس حد تک کامیاب ہوسکتی ہیں؟

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کوابتدا میں خطے کے امن کے لیے ایک اہم اور سنجیدہ پیش رفت قرار دیاگیا کیونکہ فریقین نے فوجی کاروائیاں ختم کرنے، ایک دوسرے کی خودمختاری کا احترام کرنے اور زیادہ سے زیادہ ساٹھ روز کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا اِس میں آبنائے ہُرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت، پابندیوں میں نرمی سمیت ایران کی معاشی بحالی جیسے اہم نکات کو شامل تھے لیکن دونوں طرف سے ابھی تک وعدوں کی تکمیل نہیں کی گئی۔

پاکستان کے لیے یہ پیش رفت اِس لیے غیر معمولی اور اہم تھی کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان رابطے کا ایک قابلِ اعتماد زریعہ بنا اور مذاکرات کی میزبانی اور سہولت کاری سے ثابت کیا کہ اسلام آباد خطے میں جنگ کی بجائے ایسی سفارتکاری کا آرزومند ہے جو مسائل کے حل میں مددگار ہو۔ دو ماہ قبل جون میں وسطی سوئٹزرلینڈ کے مقام برجن اسٹاک میں بھی پاکستان اور قطر کی معاونت سے امریکہ اور ایران نے اعلیٰ سطحی مذاکرات کیے جن میں جوہری مسئلے، پابندیوں، نگرانی اور اختلافات کے حل کے لیے ورکنگ گروپس بنانے پر اتفاق ہوا لیکن آج تک کی صورتحال سے ظاہر ہے کہ دونوں مذاکرات سے دور ہیں۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ معاہدہ کرنا اور معاہدے پر عمل کرنا دو الگ پہلو ہیں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ بنیادی اختلافات کو مکمل طور پر حل نہ کیا گیا ایران کے لیے اپنی خودمختاری اور جوہری پروگرام کے حوالے سے ضمانتیں اہم ہیں جب کہ امریکہ چاہتا ہے کہ پہلے ایران جوہری پروگرام، علاقائی سرگرمیوں اور سیکورٹی معاملات پر یقین دہانی کرائے دونوں ممالک کے مطالبات میں یہ بنیادی فرق مذاکرات کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان اعتماد کا بحران بہت گہرا ہے ایران کو خدشہ ہے کہ اگر وہ اپنی طرف سے رعایتیں دے دیتا ہے تو امریکہ دوبارہ پابندیاں لگا سکتا ہے جبکہ امریکہ کو یہ فکر لاحق ہے کہ ایران معاہدے کے بعد اپنی پالیسی بدل سکتا ہے۔ ماضی کا جوہری معاہدہ بھی دونوں ملکوں کے عدمِ اعتماد کو ختم نہ کر سکا اسی بناپر موجودہ مذاکرات میں ہر فریق دوسرے سے پہلے ضمانت اور عملی اقدامات کا مطالبہ کرتا دکھائی دیتا ہے۔

صورتحال اِس حد تک پچیدہ ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں حتمی معاہدے کے لیے مقرر کردہ ساٹھ روزہ مدت رواں ماہ سترہ اگست کو ختم ہوچکی ہے مگر دونوں فریقین کسی جامع اور حتمی معاہدے پر نہیں پہنچ سکے۔ باعثِ تعجب پہلو یہ ہے کہ دونوں ہی ایک دوسرے کو مذاکرات کے تعطل کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں جبکہ حقائق یہ ہیں کہ کشیدگی دوبارہ بڑھ رہی ہے۔ ایران کی طرف سے سخت فوجی ردِ عمل کی دھمکیاں آرہی ہیں جو طفلانہ طرزِعمل کے سواکچھ نہیں کیونکہ ایران کے پاس فضائیہ نہ ہونے کے برابر ہے البتہ عرب ممالک کو میزائلوں سے نشانہ بناکر دباؤ ڈالنے کی پوزیشن میں ہے۔

موجودہ صورتحال میں کیا مذاکرات کامیاب ہو سکتے ہیں؟ بظاہر ایسا امکان کم اور مکمل ناکامی کا زیادہ ہے مگر مذاکرات کے دروازے کو مکمل طور پر بند سمجھنا ابھی قبل ازوقت ہوگا وجہ یہ ہے کہ جنگ کی قیمت دونوں کے لیے بہت ذیادہ ہے امریکہ طویل جنگ، علاقائی عدمِ استحکام اور توانائی کی عالمی منڈی پر اثرات کے بوجھ کا ذمہ دار نہیں کہلوانا چاہتا جبکہ ایران پہلے ہی شدید معاشی اور عسکری دباؤ میں ہے۔ آبنائے ہُرمز کی صورتحال عالمی تجارت اور تیل کی قیمتوں کو براہ راست متاثر کرتی ہے لہذا عالمی طاقتیں کسی نئی وسیع جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتیں۔

پاکستان کا کردار اب بھی بہت اہم ہے اسلام آباد نہ تو امریکہ کو نظر انداز کر سکتا ہے کیونکہ معاشی اور دفاعی مفادات وابستہ ہیں۔ ایران سے بھی تاریخی، مذہبی اور جغرافیائی تعلقات ہیں پاکستان کی اصل طاقت فریق بننے میں نہیں بلکہ ثالث اور سہولت کار بننے میں ہے اگر اسلام آباد دونوں ممالک کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی ہوگی بلکہ پورے خطے کے لیے مثبت پیش رفت ہوگی تاہم پاکستان کویہ حقیقت پیشِ نظر رکھنا ہوگی کہ ثالث فریقین کو مجبور نہیں کر سکتاوہ صرف رابطہ قائم، اعتماد بحال اور قابلِ قبول راستہ فراہم کر سکتا ہے۔

مزید جنگ کا امکان ابھی موجود ہے اگر آبنائے ہُرمز، پابندیوں اور جوہری پروگرام پر تصفیہ نہیں ہوتا یا امریکی فوجی موجودگی جیسے معامات پر بھی کوئی درمیانی راستہ نہیں نکلتا تو محدود فوجی جھڑپیں دوبارہ بڑے تصادم کی طرف جاسکتی ہیں۔ حالیہ کشیدگی اِس خطرے کی واضح علامت ہے تاہم جنگ ناگزیر بھی نہیں اگر امریکہ پابندیوں میں مرحلہ وار نرمی، ایرانی جوہری سرگرمیوں پر قابلِ تصدیق ضمانتیں اور آبنائے ہُرمز میں محفوظ بحری آمدورفت کے حوالے سے سے قابلِ عمل فارمولے پر اتفاق کرلے تو مذاکرات دوبارہ نتیجہ خیز ہو سکتے ہیں کسی بھی نئے معاہدے کو محض سیاسی وعدوں کے بجائے موئثر نگرانی اور تنازع حل کرنے کے نظام سے جوڑنا ضروری ہوگا۔

یہ طے ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان موجودہ بحران کا فیصلہ میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ مذاکرات کی میز پر ہوگا اگر دونوں فریق ہی اپنی زیادہ سے زیادہ شرائط پر اصرار کرتے رہے تو جنگ کاخطرہ موجودرہے گا دونوں فریق اگر سمجھ لیں کہ کسی کے لیے بھی مکمل فتح ممکن نہیں اور باعزت سمجھوتہ ہی بہتر راستہ ہے تو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت ایک ناکام کوشش کی بجائے مستقبل کے حتمی معاہدے کی بنیاد بن سکتی ہے۔

دنیا جنگ نہیں بلکہ ایک قابلِ عمل امن کا راستہ چاہتی ہے اسلام آباد کی سفارتی کامیابی بھی اسی میں ہے کہ وہ کسی ایک فریق کا ساتھی بننے کی بجائے امن کا سہولت کاربنے امریکہ اور ایران سے حالات کا تقاضا ہے کہ آ نکھ مچولی ختم کرکے براہ راست، سنجیدہ اور قابلِ تصدیق مذاکرات کی طرف واپس آئیں کیونکہ اگلی ناکامی صرف مذاکرات کی ناکامی نہیں ہوگی بلکہ یہ خطے کو ایک نئی اور زیادہ خطرناک جنگ کے قریب لے جا سکتی ہے۔

Check Also

Karobar e Hayat, Hamari Nasal Aur Tawazum Ki Talash

By Unzila Siddiqui