Friday, 11 September 2026
  1. Home/
  2. Hameed Ullah Bhatti/
  3. Naqsha Aur Sarhadein

Naqsha Aur Sarhadein

دنیا کے نقشے پر کھینچی لکیریں بظاہر معمولی دکھائی دیتی ہیں مگر حقیقت میں اُن کے پیچھے تاریخ، سیاست، جنگ، سفارتکاری اور قومی مفادات کی پوری داستان پوشیدہ ہوتی ہے اسی لیے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے دنیا کے نقشے کو زیادہ درست انداز میں پیش کرنے سے متعلق۔ حالیہ قرارداد نے جنوبی ایشیا میں خاصی دلچسپی پیدا کی ہے اِس معاملے کاہم پہلو بھارت کا اِس قرارداد کے حق میں ووٹ دینا ہے کیونکہ کشمیر، ارونا چل پردیش اور اکسائی چن جیسے تنازعات کے تناظر میں بھارت کی یہ حمایت عجیب محسوس ہوئی۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ نے بھی نقشے کی درستگی کو ایسے پیش کیا جیسے بھارت نے کشمیر کو متنازع علاقہ تسلم کرلیا ہو۔

بھارت نے ایک ایسی قرارداد کی حمایت کیوں کی؟ کیا یہ بھارت کے کشمیر سے متعلق موقف میں تبدیلی کی علامت ہے یا اِس ووٹ کا تعلق کسی اور معاملے سے ہے؟ اِس کا جواب قرارداد کی نوعیت کو سمجھنے میں پوشیدہ ہے۔

چار ستمبر 2026 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے افریقی ممالک کی کوششوں سے، نقشہ درست کرو، کے عنوان سے ایک قرارداد منظور کی جس کا بنیادی مقصد دنیا کے مختلف خطوں کے رقبوں کو نقشوں میں زیادہ متوازن اور حقیقت کے قریب دکھانا ہے کیونکہ صدیوں سے استعمال ہونے والے معروف نقشہ جاتی طریقے میں قطبوں کے قریب واقع علاقے اپنے اصل حجم سے کہیں زیادہ بڑے جبکہ خطِ استوا کے قریب واقع افریقہ جیسے بڑے براعظم نسبتاََ چھوٹے دکھائی دیتے ہیں۔ نئی قرارداد میں ایسے نقشہ جاتی طریقوں کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے جو مختلف خطوں کے رقبے کو زیادہ درست انداز میں ظاہر کریں یہ قرارداد 164 ووٹوں سے منظور کی گئی چھ ممالک نے رائے شماری میں حصہ نہ لیا جبکہ صرف امریکہ نے مخالفت کی۔

اہم بات یہ ہے کہ اقوامِ متحدہ کی قراردادکا بنیادی موضوع کشمیر یا بھارت و چین کی سرحدی حدود کا تعین نہیں تھا بلکہ مقصد دنیا کے نقشے میں جغرافیائی رقبوں کی زیادہ متوازن نمائندگی تھا چنانچہ بھارت کا اِس قرارداد کے حق میں ووٹ یہ اعتراف نہیں کہ اُس نے کشمیر بارے اپنے دیرینہ موقف سے رجوع کر لیا ہے۔ بھارتی حکومت کہتی ہے کہ قرارداد کی حمایت ضرور کی لیکن اِسے جموں وکشمیر اور لداخ بارے سرکاری موقف میں تبدیلی نہ سمجھا جائے۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق بھارت چاہتا ہے کہ اُس کے علاقوں کو اِس کے سرکاری نقشے کے مطابق دکھایا جائے۔

اقوامِ متحدہ کے بعض نقشوں میں کشمیر کو ایسی سرحد دکھایا جاتا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ اِس علاقے کی حتمی حثیت متنازع ہے۔ پاکستان بھی اسی حقیقت کو اپنے موقف کی بنیاد بناتا اور کشمیر کو عالمی تنازع قرار دیتا ہے جبکہ بھارت اِس کے برعکس جموں و کشمیر کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے اِس لیے اقوامِ متحدہ کی نئی قرارداد کے حق میں بھارتی ووٹ کو کشمیر کو متنازع تسلیم کرنے کا قیاس جلدبازی پر مبنی ہوگا۔

بھارت کا ووٹ جغرافیائی اصول کی حمایت معلوم ہوتا ہے یہ فرق پورے معاملے کو سمجھنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے تاہم بھارت کے لیے یہ معاملہ صرف پاکستان تک محدود نہیں چین کے ساتھ بھی اُس کے شدید سرحدی تنازعات ہیں اسی لیے یہاں بھی نقشہ ایک حساس سیاسی مسئلہ ہے نیپال نے اپنی طرف سے نیا نقشہ جاری کر رکھا ہے جس میں کئی بھارتی علاقے نیپال کا حصہ دکھائے گئے ہیں۔

چین اروناچل پردیش کے بڑے حصے پر اپنا دعویٰ کرتا اور اُسے جنوبی تبت سے جوڑتا ہے جسے بھارت اپنا حصہ قرار دیتا ہے۔ چین نے ماضی میں اِس علاقے کے مختلف مقامات کے چینی نام جاری کیے جنھیں بھارت نے سختی سے مسترد کردیا۔ دوسرا اہم علاقہ اکسائی چن ہے یہ خطہ بھی بھارت اور چین کے درمیان متنازع ہے۔ بھارت اِسے لداخ کا حصہ قراردیتا ہے جبکہ چین اِس علاقے پر عملی انتظام رکھتا ہے یوں کشمیر کا تنازع صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان محدود نہیں بلکہ اِس کے جغرفیائی حصے بھارت، پاکستان اور چین کے درمیان مختلف نوعیت کے دعوؤں سے جُڑے ہوئے ہیں۔

حالیہ نقشے کے معاملے میں بھارت نے اسی حساسیت کا اظہار کیا ہے۔ بھارتی زرائع ابلاغ کے مطابق نئے عالمی نقشے میں ارونا چل پردیش اور اکسائی چن کی نقشہ بندی پر بھارت نے اعتراضات اُٹھائے ہیں اور وضاحت کی ہے کہ بھارت اپنی علاقائی حدود بارے کسی ایسے نقشے کو قبول نہیں کر سکتا جو اُس کے سرکاری موقف کے مطابق نہ ہو اب سوال پھر وہی ہے کہ اگر بھارت نئے نقشے کے بعض حصوں پر اعتراض کررہا ہے تو قرارداد کے حق میں ووٹ کیوں دیا؟ اِس کا جواب شاید یہ ہے کہ بھارت نے نقشے کی سیاسی تشریح نہیں کی بلکہ نقشہ سازی کے ایک عمومی اصول کی حمایت کی ہے مگر پاکستان نے نقشہ سازی کے عمل کو سیاسی تشریح کے زُمرے میں لے لیا۔

یہ سفارتکاری کا عام طریقہ ہے کہ کوئی ملک کسی عالمی قرارداد کے عمومی مقصد کی حمایت کر سکتا ہے لیکن اِس کے کسی خاص اطلاق یا تشریح سے اختلاف بھی کر سکتا ہے۔ بھارت نے بھی دنیا کے نقشے کو زیادہ درست بنانے کے اصول کی حمایت کی لیکن اِس حمایت کو اپنے علاقائی دعوؤں سے دستبرداری خیال نہیں کرتا۔

یہاں پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی سبق ہے کشمیر کو اقوامِ متحدہ کے نقشے میں متنازع انداز میں دکھایا جانا یقیناََ پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی نُکتہ ہے۔ پاکستان کے لیے زیادہ موئثر راستہ یہ ہے کہ اقوامِ متحدہ کی اُن تاریخی قراردادوں، کشمیر کی متنازع حثیت اور کشمیری عوام کے سیاسی حق کے حوالے سے اپنے موقف کو مسلسل اور مدلل انداز میں عالمی سطح پر اُجاگر کرے اسی طرح بھارت اور چین کے معاملے میں بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے ارونا چل پردیش اور اکسائی چن کو کسی نقشے میں کیسے دکھایا گیا ہے یہ اہم ضرور ہے لیکن نقشے کی لکیر کسی علاقے کی حتمی ملکیت کا فیصلہ نہیں کرتی کیونکہ نقشہ اور سرحد ایک چیز نہیں۔

نقشہ کسی ملک کے دعوے کی نمائندگی کر سکتا ہے کسی علاقے کی موجودہ انتظامی صورتحال دکھا سکتا ہے یا کسی تنازع کی نشاندہی کر سکتا ہے لیکن متنازع علاقے کی حتمی حثیت صرف نقشے میں تبدیلی سے ممکن نہیں۔ کشمیر، اروناچل پردیش اور اکسائی چن کی حقیقتیں سامنے مثالیں ہیں تینوں علاقوں کے بارے میں مختلف ممالک کے دعوے مختلف ہیں نقشے مختلف ہیں اور مختلف تاریخی اور سیاسی موقف ہیں لیکن اِن تنازعات کاحتمی حل سیاسی مزاکرات، عالمی قوانین، باہمی اتفاق اور متعلقہ فریقوں کے لیے قابلِ قبول فیصلے سے ہی ممکن ہے بھارت کا اقوامِ متحدہ کی قرارداد کے حق میں ووٹ معمولی نہیں مگر اِس ووٹ کی اہمیت یہ ہے کہ بھارت نے عالمی نقشہ سازی کے ایک نئے اصول کی حمایت سے اپنی عالمی تنہائی دورکرنے کی ایک کوشش کی ہے۔

دنیا کے نقشے بدلتے رہتے ہیں نقشہ بنانے کے طریقے بھی بدل سکتے ہیں مگر زمین پر موجود تنازعات صرف نقشے بدلنے سے ختم نہیں ہوتے نقشہ کسی تنازع کی تصویرتو ہو سکتا ہے لیکن تنازع ختم کرنے کافیصلہ نہیں۔

Check Also

Karobar e Hayat, Hamari Nasal Aur Tawazum Ki Talash

By Unzila Siddiqui