Wednesday, 09 September 2026
  1. Home/
  2. Hameed Ullah Bhatti/
  3. Naye Soobay: Zaroorat, Siasat Ya Qaumi Muslihat?

Naye Soobay: Zaroorat, Siasat Ya Qaumi Muslihat?

پاکستان کے قیام کو آٹھ عشرے مکمل ہونے میں چند ماہ رہ گئے ہیں لیکن ریاستی نظام کا بنیادی جغرافیائی ڈھانچہ آج بھی بڑی حد تک وہی ہے جو آج سے مختلف تاریخی حالات میں طے پایا تھا حالانکہ اِس دوران آبادی کئی گُنا بڑھ چکی، شہروں کا پھیلاؤ ہوا، معاشی مراکز تبدیل ہوئے، نئی لسانی اور علاقائی شناختیں مضبوط ہوئیں اور کئی علاقوں میں یہ احساس پیدا ہوا کہ بڑے صوبوں کے اندر اُن کی سیاسی، انتظامی اور معاشی ضروریات کو وہ اہمیت نہیں مل رہی جس کے وہ حقدار ہیں یہی احساس نئے صوبوں کے مطالبات کو جنم دینے کا باعث ہے۔

آج ایک مرتبہ پھر یہ سوالات اہم ہیں کہ کیا پاکستان کو مزید صوبوں کی ضرورت ہے؟ اور کیا موجودہ چار صوبے اِتنے غیر متوازن ہوچکے ہیں کہ انتظامی طور پر اُن کی تقسیم ضروری ہے یا نئے صوبوں کا قیام محدود وسائل رکھنے والے ملک کے لیے ایک نیا مالی بوجھ ثابت ہوگا؟ کیونکہ یہ سوال کسی ایک جماعت، علاقے یا زبان کے نہیں بلکہ پورے پاکستان کے مستقبل کی بات ہے۔

2023 کی مردم شماری کے مطابق پاکستان کی آبادی چوبیس کروڑ پندرہ لاکھ ہے۔ پنجاب بارہ کروڑ ستتر لاکھ آبادی کے ساتھ ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے جبکہ سندھ کی آبادی پانچ کروڑ ستاون لاکھ، خیبر پختونخواہ چار کروڑ نو لاکھ اور بلوچستان کی آبادی ایک کروڑ اُنچاس لاکھ ہے مگر رقبے کے اعتبار سے صورتحال اِس کے برعکس ہے۔ بلوچستان ملک کے رقبے کا چوالیس فیصد ہونے کے باوجود آبادی کا صرف چھ فیصد رکھتا ہے۔ یہ اعداد و شمار خود اِس بحث کی بنیاد فراہم کرتے ہیں کہ کیا اِتنے بڑے انتظامی یونٹس موجود دور کی ضررویات پوری کر سکتے ہیں؟

پنجاب میں جنوبی پنجاب اور بہاولپور کو الگ صوبہ بنانے کے مطالبات، خیبر پختونخواہ میں ہزارہ صوبے کی آواز، سندھ میں کراچی کو الگ انتظامی حثیت دینے کی بحث اور بلوچستان میں مختلف علاقوں کی محرومی کے احساس کو محض سیاسی نعرے قرار دیکر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اِن مطالبات کے پیچھے کہیں لسانی شناخت ہے، کہیں تاریخی وابستگی ہے، کہیں معاشی محرومی اور کہیں انتظامی مرکز سے فاصلے کا مسئلہ ہے تاہم یہاں ایک اور بنیادی سوال پیداہوتا ہے کہ ہر لسانی یا علاقائی شناخت کے لیے الگ صوبہ ضروری ہے؟

اگر جواب ہاں میں ہو تو پاکستان میں صوبوں کی تعداد بڑھانے کا مسئلہ شاید کبھی ختم نہ ہو کیونکہ ایک علاقے کی شناخت دوسرے علاقے سے مختلف ہے اور ہر خطے کے اپنے تاریخی اور ثقافتی حوالے موجود ہیں لیکن ریاستیں صرف زبان، نسل یا ثقافت کی بنیاد پر نہیں چل سکتیں انتظامی صلاحیت، معاشی استطاعت، جغرافیہ، وسائل، آبادی اور قومی مفاد بھی اتنی ہی اہم حقیقتیں ہیں لہذا نئے صوبوں کی بحث کو لسانی اور قومیت کے بجائے انتظامی ضرورت اور عوامی رضامندی کے اصول پر رکھنا زیادہ مناسب ہوگا۔

نئے صوبوں کے حق میں سب سے مضبوط دلیل یہ ہے کہ چھوٹے انتظامی یونٹس حکومت کو عوام کے قریب لے آتے ہیں اگر کسی علاقے کا دارالحکومت سینکڑوں کلومیٹر دور ہو، اہم فیصلے ایک بڑے شہری مرکز میں ہوتے ہوں اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے مسلسل دوسرے علاقوں پر انحصار کرنا پڑے تو محرومی کا احساس پیدا ہونا فطری عمل ہوتا ہے۔ جنوبی پنجاب کی مثال ہمارے سامنے ہے اگر کسی خطے کے لوگوں کو یہ محسوس ہو کہ اُن کے علاقے کے وسائل، ترقیاتی منصوبے اور انتظامی فیصلے کسی دورکے مرکز میں طے ہوتے ہیں تو الگ صوبے کا مطالبہ محض سیاسی خواہش نہیں رہتا بلکہ نمائندگی کا سوال بن جاتا ہے لیکن دوسری طرف نئے صوبے کا مطلب صرف نئی سرحد نہیں اِس کے ساتھ نئی صوبائی اسمبلی، گورنر ہاؤس، وزیرِ اعلیٰ سیکرٹریٹ، پولیس، محکموں کے دفاترعدالتوں کا ڈھانچہ اور دیگر اِدارے بھی درکار ہوں گے یہاں یہ سوال ہے کہ ایک ایسے ملک میں جہاں پہلے ہی مالی وسائل محدود ہیں اور حکومتیں اخراجات پورے کرنے کے لیے بیرونِ ملک اور اندرونِ ملک قرض لینے جیسی مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں تو کیا اِن حالات میں ہم مزید انتظامی ڈھانچے کا بوجھ اُٹھا سکتے ہیں؟

یہاں قومی مالیاتی کمیشن یعنی این ایف سی کا سوال بھی انتہائی اہم ہے۔ نئے صوبے بننے کے بعد وفاقی وسائل کی تقسیم کا فامولہ دوبارہ زیرِ بحث آئے گا وسائل آبادی کی بنیاد پر تقسیم ہوں، رقبے کو اہمیت دی جائے، پسماندگی کو معیار بنایا جائے یا محصولات پیداکرنے کی صلاحیت کو؟ یہ سب سوالات ایسے ہیں جن پر سیاسی اتفاق آسان نہیں ہوگا اِس لیے یہ سمجھنا درست نہیں کہ صوبہ بن جانے کے بعد پسماندگی خودبخود ختم ہوجائے گی۔ اگر کسی علاقے میں بدعنوانی، کمزور اِدارے، ناقص تعلیم، صحت کی سہولتوں کی کمی، بے روزگاری اور سیاسی مداخلت بڑھ جائے تو صرف صوبائی دارالحکومت تبدیل کرنے سے یہ مسائل ختم نہیں ہوں گے یہی وہ مقام ہے جہاں بلدیاتی نظام کی اہمیت زیادہ واضح ہو کر سامنے آتی ہے۔

ایک عام شہری کے لیے شاید زیادہ اہم نہیں کہ اُس کا صوبائی دارالحکومت کتنی دور ہے؟ اُسے صاف پانی، اچھی سڑک، اسکول، ہسپتال، روزگار، صفائی، نکاسی آب اور مقامی سطح پر فوری انصاف چاہیے اگر یہ اختیارات مضبوط اور باختیار بلدیاتی اِداروں کو دے دیے جائیں تو بڑے صوبوں کے اندر موجود بہت سی انتظامی شکایات ختم کی جا سکتی ہیں۔ پاکستان میں صوبوں کی بحث کے ساتھ ایک دوسری بحث بھی ہونی چاہیے کہ کیا ہم اختیارات صوبائی دارالحکومتوں سے نکال کر ضلعی اور مقامی سطح تک منتقل کرنے کے لیے تیار ہیں؟ اگر نہیں تو نئے صوبے بھی شاید وہی مرکزیت دوبارہ پیدا کردیں گے جس کے خلاف آج آوازیں بلند ہورہی ہیں۔ اِس کے باوجود نئے صوبوں کے مطالبات کو صرف بلدیاتی نظام کا حوالہ دیکر یکسر مسترد کرنا بھی درست نہیں۔

اسلام آباد کو محض ضمنی طور پر نہیں بلکہ نئے صوبوں کی بحث کے ایک اہم کیس کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے موجودہ آئینی حثیت میں اسلام آباد وفاقی دارالحکومت اور صوبوں سے الگ علاقہ ہے ایسے حالات میں جب نئے صوبوں کی بحث میں آئینی اور سیاسی پچیدگیاں موجود ہیں تو ضرورت اِس امر کی ہے کہ فیصلے کرتے وقت کوشش کی جائے کہ نئی نسلی، علاقائی شناختیں مضبوط کرنے کی بجائے ایسے فیصلے کیے جائیں جن سے وسائل اور اختیارات کی منتقلی کا شفاف عمل بنے اور عام شہری کے مسائل حل ہوں۔ کراچی، بہاولپور اور ہزارہ صوبے اگر بنانا ہے تو لسانیت یا قومیت کو بنیاد نہ بنایا جائے اگر ایسا کیا جاتا ہے تو فوائد سے مُضمرات بڑھ جائیں گے۔ معاشرے کی تقسیم کا عمل مزید فروغ پائے گا لہذا لازم ہے کہ نئے صوبے بناتے وقت سیاسی ضرورتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انتظامی ضرورتوں کو مدِ نظر رکھا جائے تاکہ ملک مضبوط اور مستحکم ہو اور ترقی کے ثمرات دور دراز علاقوں تک پہنچائے جا سکیں۔

Check Also

Karobar e Hayat, Hamari Nasal Aur Tawazum Ki Talash

By Unzila Siddiqui