پاکستانیوں میں کئی ایسی خوبیاں ہیں جو دنیا کے لیے قابلِ رشک ہیں یہ خوبیاں اُنھیں دیگرقوموں سے ممتاز کرتی ہیں اول۔ پاکستانی انتہا کے زہین ہیں یہ جس کام کا تہیہ کرلیں اُس کے لیے جنونی کی طرح محنت کرتے ہیں کہ پایہ تکمیل کو پہنچاکردم لیتے ہیں اِس کی ایک مثال جوہری پروگرام ہے جس کی دنیا بھر نے مخالفت کی امریکہ اور یورپی ممالک نے پاکستان کو اِس صلاحیت سے محروم رکھنے کے لیے طرح طرح کی پابندیاں لگائیں مگر جب انھوں نے بوقتِ ضرورت استعمال کرنے کی کوشش کی تو پاکستان نے کچھ اِس طرح مسائل بتائے کہ امریکی صدور کئی برس تک جوہری صلاحیت نہ حاصل کرنے کاسرٹیفکیٹ جاری کرتے رہے۔
اِس وقت دنیا میں تین بڑی طاقتیں امریکہ، روس اور چین ہیں کمال کی بات یہ ہے کہ تینوں سے پاکستان کے خوشگوار تعلقات ہیں اِس وقت پاکستانی دنیا بھر میں سب سے زیادہ عطیات دینے والے تصور کیے جاتے ہیں پاکستان اپنے تین ہمسایہ ممالک بھارت، ایران اور افغانستان سے اپنی طاقت کالوہا منوا چکا ہے خطے میں پاکستان کو عسکری حوالے سے وہ ممتازاور قابلِ رشک مقام ہے جس کی قومیں آرزو کرتی ہیں آج کل پاکستان دنیا کی سفارتی سرگرمیوں کا محورہے عالمی اداروں اور اقوامِ عالم کی نظریں پاکستان پر ہیں جو امریکہ اور ایران جیسے برسوں کے مخالف ممالک کے مزاکرات کی میزبانی کررہا ہے پہلی بار دنیایہ نظارہ کررہی ہے کہ دونوں کے مزاکرات کی میزبانی کے ساتھ پاکستان بطورثالث جنگ بندی میں توسیع جیسا مشکل فیصلہ بھی کرارہا ہے اِس پر دنیاحیران ہے اور پاکستانیوں کی قدرومنزلت میں اضافہ ہواہے آج کا پاکستان ماضی والا نہیں بلکہ ایسا امن پسندملک ہے جو ثالثی کے لیے سب کو قبول ہے لیکن جارح ہمسایوں کوسبق سکھانے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے اِسے مشرقِ وسطیٰ میں ایسا اہم مقام حاصل ہے جس سے ٹکرانے کی اسرائیل بھی جسارت نہیں کرتا یہ خوبیاں معمولی نہیں بلکہ غیر معمولی ہیں موجودہ مقام کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستانیوں کو اپنی کچھ عادات تبدیل کرناہوں گی تاکہ نہ صرف دنیاکے لیے باعثِ رشک رہیں اور موجودہ حاصل مقام بھی برقرار رہے بلکہ زرِ مبادلہ بچانے کے ساتھ خوراک کے ذخائرکا ضیاع نہ ہولیکن کیا ملک میں ایسی اجتماعی سوچ فروغ پذیر ہے؟ بظاہر ایسا کوئی اِشارہ نہیں ملتا۔
پاکستان میں ضرورت کے مطابق چائے کی پیداوار نہیں ہے مگر یہ مشروب ملک میں سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے جس کی وجہ سے اِس وقت پاکستان دنیا میں چائے کا تیسراسب سے بڑا درآمد کنندہ ہے حاصل اعدادوشمار کے مطابق تو2021 میں پاکستان دنیا میں سب سے بڑاچائے کا درآمد کنندہ رہ چکاہے 2023 سے 2024 کے دوران 109,000ٹن چائے پی گئی ایک ایسا ملک جوبیرونی قرضوں سے پریشان ہے کیونکہ اقساط اور سودکی ادائیگی میں بھی مشکلات کا سامنا ہے اِس کے باوجود چائے پینے کی عادت ترک کرنے پر تیار نہ ہوناباعثِ تعجب ہے کیونکہ چائے کی پتی درآمدکرنے پر سالانہ اربوں روپیہ صرف ہوتا ہے جبکہ یہ بھی ثابت ہوچکا کہ زیادہ چائے پینے کی عادت صحت کے لیے مفید نہیں۔
پاکستان کا قومی مشروب گنے کا رس ہے جوخطے کی آب وہوا کی وجہ سے صحت کے لیے مفیدہے لیکن اِس کا ستعمال روزبروز کم ہوتا جارہا ہے ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں چائے اِس کثرت سے استعمال کی جاتی ہے جو سالانہ ڈیڑھ کلو فی کس بنتی ہے صرف گزشتہ برس اِس کا درآمدی خرچ 179 ارب سے زائد رہا اگر پاکستانی من حیث القوم چائے کی عادت کم کردیں تو درآمدی خرچہ کم ہو سکتا ہے اِس طرح پاکستان کے زرِ مبادلہ پر دباؤبھی کم ہوگاچائے کے متبادل میں گنے کے رس اورقہوے سمیت دیگر موسمیاتی مشروبات کا استعمال بھی ممکن ہے پاکستان دنیا کے بہترین کنو ں اور آم پیداکرتاہے جولذت میں اپنامنفرد مقام رکھتے ہیں جن کا استعمال صحت کے لیے بہتر ہے۔
پاکستانیوں کی کچھ اور ایسی بُری عادات ہیں جنھیں کسی صورت اچھا نہیں کہا جا سکتا اب تواُن کا عالمی سطح پربھی چرچا ہونے لگا ہے جس سے ایک باشعور قوم کی نفی ہوتی ہے اقوامِ متحدہ کی جاری ہونے والی ایک حالیہ رپورٹ کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستانیوں کا شمار خوراک کا ضیاع کرنے والے اولیں ممالک میں ہوتا ہے اِس رپورٹ کے مطابق خوراک کے مجموعی ضیاع کے حوالے سے پاکستان کا دنیا بھر میں چوتھا نمبر ہے جبکہ اِس کے شہری فی کس سالانہ کی بنیادوں پر دوسرے نمبر پر ہیں یہ شرمناک رپورٹ پاکستانیوں کی غیر ذمہ داری کی طرف اِشارہ کرتی ہے ایک ایسا ملک جو غریب شمار ہوتا ہو جس کے شہری بہتر روزگارکے لیے دنیا کے ہر خطے میں پائے جاتے ہوں اُن کا ایسا غیر ذمہ دارانہ اور لاپرواہی پر مبنی رویہ سمجھ سے بالاتر ہے۔
دستیاب عالمی اعدادوشمار نشاندہی کرتے ہیں کہ اِس وقت 67 کروڑ30لاکھ افراد شدید غربت اوربھوک کے عالم میں زندگی کے دن گزار نے پر مجبور ہیں یہ تعداددنیا کی کُل آبادی کا چھ فیصد ہے لیکن اسی دنیا کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ہربرس 1.3ارب ٹن خوراک ضائع کردی جاتی ہے جسے دنیا کی کُل آبادی کے حوالے سے دیکھا جائے تو ایک شخص ایک برس میں 170کلو خوراک ضائع کرتا ہے یہ خوراک اگر ضائع نہ کی جائے تو دنیا بھر کے بھوکے افراد کو ایک دن میں کئی بار کھانا کھلایا جا سکتا ہے نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے پاکستانیوں کافرض ہے کہ آگے بڑھیں اور بھوک و افلاس کے خاتمے میں اپناکرداراداکریں تاکہ جس طرح پاکستانیوں کو آج ایک عالمی اِدارہ غیر ذمہ داراور لاپرواہ ظاہر کررہا ہے وہ آئندہ نیک نامی بتانے پر مجبورہو۔
بلاشبہ پاکستان میں بھوکے پیٹ سونے والوں کی تعدادبہت کم ہے جو کُل آبادی کا دو فیصد بھی نہیں بنتی مگر جنوبی پنجاب اور اندرون سند ھ جیسے علاقوں میں غذائی قلت سے بھی انکار نہیں کر سکتاسماجیات کے ماہرین برملا کہتے ہیں کہ پاکستان میں ہوٹلوں اور تقریبات میں بے تحاشاکھانا ضائع کیاجاتا ہے شادیوں میں مدعومہمانوں سے کہیں زیادہ کھانے تیارکیا جاتا ہے اضافی کھانے کاضیاع برسوں سے جاری ہے گزشتہ عشرے کے دوران تو اموات پر بھی کھانے کا ضیاع دیکھاجانے لگا ہے اِس عادت پر من حیث القوم قابو پانے کی ضرورت ہے شہریوں کی اِس بُری عادت پر حکومت قوانین بناکر قابوپا سکتی ہے اگر تقریبات میں نمودونمائش کے لیے انواح و اقسام کے کھانے پیش کرنے پر پابندی لگاکرایک ڈش پر مبنی صرف سادہ کھانے پیش کرنے کا پابند بنادیا جائے جس میں مہمانوں کی تعدادکابھی تعین ہو تو 170کلوفی کس کے حساب سے ہر برس ضاع ہونے والا کھانا بھوکے افراد کا پیٹ بھرنے کے کام آسکتا ہے عادتوں میں یہ تبدیلی کوئی مشکل کام نہیں کیونکہ پاکستانی جب تہیہ کرلیں تو سب کچھ ممکن بنالیتے ہیں کاش ایسی کوئی ملک گیر تحریک کا آغاز ہو جس سے بُری عادات کا معاشرے سے خاتمہ ممکن ہو۔