Monday, 19 October 2026
  1. Home/
  2. Hameed Ullah Bhatti/
  3. Portugal Mein Pareshani

Portugal Mein Pareshani

ابھی شام کا سُرمائی رنگ اندھیرے سے کچھ فاصلے پر تھا جب میرے فرزندِ اکبر زیشان حمید نے ایک نجی کام کی انجام دہی کے لیے مجھے بیلجیم کے ایک مقامی ائرپورٹ پر الوداع کیا۔ مجھے پُرتگال جانا تھا یہاں افراتفری کے باوجود مجھے اپنی منزل تلاش کرنے میں کوئی خاص دشواری نہ ہوئی۔ میرے رفیقِ سفر مرزا مشاق بیگ تھے جو خاصے ملنسار ہونے کے ساتھ خوش گفتار بھی ہیں۔ اسی وجہ سے انتظار گاہ میں کوئی خاص بوریت نہ ہوئی۔ ہم دونوں ایک دوسرے کو گزرے واقعات سناتے اور خود ہی قہقہ لگاکر خوش ہولیتے، اِس دوران منزل پر جانے والی سواری پر بھی نظر تھی۔

جلد ہی گیٹ نمبر وغیرہ لگی سکرین پر تفصیلات ظاہر ہوگئیں تو ہم بھی فضائی سواری کی طرف بڑھنے لگے۔ شینگن ممالک میں سفر اندرونِ ملک جیسا ہے۔ طویل جنگوں سے یورپ نے اتفاق اور بھارئی چاے کا سبق لیا ہے لہذا سرحدیں محض ممالک کی حدبندی ہیں جہاں سے گزرنے کے لیے کسی ویزے یا خاص اجازت نامے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ہم جلد ہی منزل پر جانے کے لیے سوار ہوگئے۔ حسبِ روایت جہاز کی روانگی معینہ وقت میں ہوئی اور وہ فضا میں بلند ہونے کے بعد پُرتگال کی طرف بڑھنے لگا نشستیں ساتھ نہ ہونے پر ہم دونوں بوڑھے خوش گپیاں چھوڑ کر اپنی اپنی نشستوں پر جابیٹھے۔

سفری کوفت اِس لیے محسوس نہ ہوئی کہ یورپ میں اندرونِ ملک کی فضائی سواریوں میں پاکستانی ریلوے اور بسوں سے ملتا جُلتا ماحول تو ہوتا ہے لیکن کسی چہرے پر بے زاری یا غصہ نہیں ہوتا۔ نصف شب کے قریب ہماری فضائی سواری نے پُرتگال کی سرزمین کو چھوا۔ جس کا نام لزبن یا لزبوا ہے۔ یہ پُرتگال کا دارالحکومت بھی ہے اور اِس کی ایک اور وجہ واسکوڈے گاما کی سرزمین ہونا بھی ہے۔ یہاں معروف صحافی اور خدائی خدمت گار ضیا سید بھی رہتے ہیں لیکن اُن سے ملاقات نہ سکی کیونکہ وہ پاکستان تھے۔

لزبن ایک مصروف ترین ہوائی اڈا ہے یہاں راستہ بنانا دشوار ہے لیکن ہماری فضائی سواری کیونکہ رائن ائرلائن تھا جس کی ٹکٹیں سستی ہوتی ہیں لیکن ایک ہم جیسے عمر رسیدہ لوگوں کے فائدے کی بات یہ ہے کہ اِس ائر لائن کے جہاز کافی ہٹ کر اُترتے اور فضا میں بلند ہوتے ہیں جہاں لوگوں کا اژدھام نہیں ہوتا۔ جہاز اُترتے ہی ہم نے اپنے اپنے بیگ اُٹھائے اور اگلی منزل کے لیے زمینی سواری تلاش کرنے لگے لیکن مشکل یہ پیش آئی کہ یہاں ادائیگی کا طریقہ کار صرف کارڈ سے قبول تھا جس کے لیے فون میں ایک مخصوص ایپ ہونا لازمی ہے۔ یہ ایپ ہم دونوں کے پاس نہ تھی اسی لیے ایک بار پھر فرزندِ اکبر زیشان حمید سے رابطہ کیا اور مسئلہ حل کرنے کو کہا جو بار بار گاڑیاں بھجواتا رہا جنھیں ہم تلاش نہ کرپاتے لہذا کچھ وقت کے بعد بُکنگ خود بخود منسوخ ہوجاتی۔ یہ ایسی پریشانی تھی جس کا حل ہمارے پاس نہ تھا۔

کافی دیر ائر پورٹ پر اِدھر اُدھر بھٹکنے کے بعد ایک سردار جی نظر آئے تو اُنھیں ایپ کا مسئلہ بتایا جس پر ٹھیٹ پنجابی میں بولے ویر جی، ایہہ تے گل ای کوئی نئیں تُسی تھوڑا جیہا باہر نکلو تے پٹرول پمپ تے بڑے پاکستانی لبھ جان دے جیہڑے تھوڑیاں پیسیاں اچ تہانوں تہاڈے ٹھکانے تے پہنچا دین گے انھوں نے پاکستان کے حالات پوچھے اور گورونانک کی دھرتی کے لیے دعا بھی کی۔ رہنمائی ملتے ہی ہم ائرپورٹ کے قریب پٹرول پمپ کی طرف روانہ ہوگئے اِس دوران میں نے اپنے بیگ کو زادِ راہ نکالنے کے لیے کھولا تو آشکار ہوا کہ میرا تو بیگ ہی کسی سے بدل گیا ہے کیونکہ بیگ میں خواتین کے کچھ پُرانے کپڑے اور جوتے تھے پُرتگال میں یہ ایک ایسی پریشانی تھی جو میرے لیے صدمے کا باعث تھی لیکن اپنے اللہ پر کامل یقین تھا کہ زادِ راہ میں جب حرام کا ایک پیسہ بھی نہیں اور میرے صاحبزادے کی محنت کی حلال کمائی ہے تو نقصان نہیں ہوسکتا۔ میں نے اللہ سے دعا کی کہ مجھے صبر دے اور جو میرا بیگ لے گیا یا لے گئی ہے اگر وہ مجھ سے زیادہ مستحق ہے تو روزِ قیامت اُسے معاف کرنے کی توفیق دینا۔

اب سوال یہ تھا کہ نصف شب ڈھل چکی تھی بھوک اور پیاس سے بُرا حال تھا کھانا تو کُجا پانی خریدنے کے لیے بھی پاس کچھ نہ تھا۔ منزل تک کرائے کی ادائیگی تو مرزا مشتاق بیگ نے کردی جبکہ شب بسری کا زیشان حمید نے آن لائن بندوبست کردیا تھا اسی لیے بستر پر موجود تو تھا لیکن تھکاوٹ کے باوجود نیند کوسوں دور تھی۔ اب تو دیارِ غیر میں آباد دونوں صاحبزادوں سے رابطہ بھی نہیں کر رہا تھا کہ ممکن ہے دن بھر کی محنت کے بعد تھک کر نیند کی آغوش میں ہوں۔ رہ رہ کر سوچتا کہ پُرتگال میں اپنا مسئلہ کِسے بتائوں کہیں کوئی غلط مطلب ہی نہ لے۔ ایک طرف تھکاوٹ اور بھوک وپیاس ستارہی تھی مگر ذہن میں نجی کام اور موجودہ پریشان کُن خیالات تھے، میزبان کو صورتحال کیسے بتائوں کہ پریشانی سمجھ جائیں۔

میرے دونوں صاحبزادے کیسے مجھے اخراجات کے لیے کچھ بھجوا سکیں گے سوتے جاگتے یہی سوچتے صبح ہوگئی آخر کار دل نے کہا کہ عمران حمید کو مسئلہ بتانا زیادہ بہتر ہوگا کیونکہ وہ صبح جلدی جاگ جاتا ہے۔ جھجکتے جھجکتے اُسے پیغام لکھ بھیجا تو اُس نے فوری رابطہ کیا اور کہا ابو پریشان نہ ہوں ابھی آپ کو پیسے مِل جاتے ہیں میں نے دریافت کیا کیسے؟ تو کہے بغیر اُس کا جواب تھا ابو دنیا چاند پر پہنچ گئی ہے اور آپ ابھی تک بینک میں چیک لکھتے اور رقم نکلواتے ہیں۔ یہ یورپ ہے دس منٹ دیں آپ کو پیسے مِل جاتے ہیں جس سے دل کو تسلی ہوئی تھوڑی دیر گزری تو زیشان حمید نے رابطہ کرلیا اور بتایا کہ بھائی عمران نے مجھے پیسے بھیجے ہیں کیا مسئلہ ہوا ہے؟ میں نے دوبارہ ساری روداد سنا تو کہا پریشان نہ ہوں ایک منٹ میں چوہدری ثنا اللہ کو پیسے بھیجتا ہوں وہ آپ کو دے دیں گے یہ بات بہت حوصلہ افزا تھا لیکن سوال پھر وہی تھا کہ بھوک و پیاس کامسئلہ فوری کیسے حل ہو۔

جس نے کبھی دستِ سوال دراز نہ کیا ہو اور ہمیشہ اپنے خالق مالک اور رازق پر توکل کیا ہو کہ وہی مُشکل کُشا ہے وہ کسی اور خاکی سے دستِ سوال مشکل سے ہی کرتا ہے کیونکہ اللہ دیتا ہے تو جتاتا نہیں صرف بندگی کے لیے رکوع و سجود اور احترامِ آدمیت کا حکم دیتا ہے۔ میں بھی اسی شش و پنچ کا شکار سوچتے دعاکر رہا تھا کہ جس اللہ نے ساری زندگی انا اور خودداری کی توفیق دی اور دستِ سوال دراز کرنے کی زلت سے بچایا ہے آج بھی کاش پُرتگال میں پیش آنے والی پریشانی سے نجات دلادے۔ قبل دوپہر مرزا مشتاق بیگ نے ناشتے کے لیے چلنے کو کہا مگر دل ہچکچاہٹ کا شکار تھا جس پر مرزا مشتاق بیگ نے تجویز پیش کی کہ مِل کر خرچ کرتے ہیں بعد میں حساب کرلیں گے۔ یہ ایک اچھا اور باعزت طریقہ تھا ہم دونوں نے ایک جگہ سے سستا اور مناسب سا ناشتہ کیا اسی دوران حاجی طالب حسین چہرے پر مہربان مسکراہٹ سجائے ہمیں لینے آگئے اور ہم تینوں پر مشتمل مختصر سا قافلہ منزل کی جانب روانہ ہوگیا۔ دورانِ تعارف تبادلہ خیال بھی ہوگیا نجی کام مکمل ہوتے ہی حاجی طالب حسین نے بتایا کہ چوہدری ثنااللہ اپنے رفقا کے ساتھ ہمارا کھانے پر انتظار کررہے ہیں۔ یہ اللہ کا مجھ حقیر پر خاص کرم ہے کہ زندگی میں سخت بھوک تک برداشت کرلی مگر کسی سے مانگ کر کھانے پر کبھی دل رضامند نہیں ہوا۔

چوہدری ثنااللہ گجرات کے باسی ہیں اور پُرتگال میں پاکستانیوں کے لیے کسی شجرِسایہ دار سے کم نہیں یہ مہمان نواز بھی ہیں اور ملن سار بھی۔ خود بھی عزت دارہیں اور ہر ملنے والے سے عزت و احترام سے پیش آتے ہیں۔ مجھے بھی پُرتپاک طریقے سے ملے اور انواع و اقسام کے لذیز کھانوں سے مہمان نوازی کی میں کھاتے ہوئے اللہ رب العزت کا شکر ادا کررہا تھا کہ میرے اے رحیم و کریم مالک، تیرا کیسے شکر ادا کروں جس کی جیب میں ایک پیسہ تک نہیں اُسے دنیا و جہان کے لذیذ کھانے میسر ہیں۔ بے شک اللہ جسے عزت دیتا ہے تو اسباب پیدا کر دیتا ہے طعام کے بعد طریقے و سلیقے سے چوہدری ثنااللہ نے صاحبزادے کے بھیجے پیسے مجھے تھماتے کہا کہ ویسے آپ اگر مجھے بتا دیتے تو یہ بھی اپنائیت کی بات ہوتی۔ جب بات چل نکلی تو میں نے کہا کہ جہاز میں میرا بیگ تبدیل ہوگیا ہے جس کی وجہ سے میں زادِ راہ سے محروم ہوگیا ہوں وگرنہ اللہ نے عزت کا بھرم رکھنے کے لیے ہر قسم کی نعمت سے نواز رکھا ہے۔ یہ سُنتے ہی کامل یقین سے بولے کہ پریشان نہ ہوں بیگ مِل جائے گا ساتھ ہی انھوں نے حاجی طالب حسین کو ہدایت کی کہ مجھے ائرپورٹ لے جائیں اور مسئلہ حل کرائیں۔

حاجی طالب حسین مجھے ساتھ لیکر ائر پورٹ آئے اور دوتین جگہوں پر میرا مسئلہ بتایا تو ایک نے ائر پورٹ پر بنے تھانہ جانے کی ہدایت کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ جس خاتون کا آپ کے پاس بیگ ہے وہ صبح آکر شکایت درج کرا گئی ہے ہم دونوں تھانہ پہنچے اور موجود آفیسر کو اپنا مسئلہ بتایا اُس نے چند ایک سوال پوچھے اور پھر میرا بیگ میرے حوالے کردیا۔ میرے لیے یہ ایک ناقابلِ یقین منظر تھا میری حیرانگی کو بھانپتے ہوئے آفیسر نے کہا کہ پہلے آپ بیگ میں رکھی اشیا دیکھ لیں اگر پوری ہیں تو یہاں دستخط کریں اور اپنا بیگ لے جائیں۔ میں نے بیگ کا جائزہ لیا جہاں تمام اشیا میری رکھی ترتیب کے مطابق موجود تھیں میں نے آفیسر کو بتایا تو اُس نے میرے دستخط لیے اور بیگ میرے حوالے کردیا۔ جب میں نے ایک تصویر بنوانے کی فرمائش کی تو جواب مزید حیران کُن تھا کہ میں نے اپنی ذمہ داری پوری کی ہے آپ کو آپ کا سامان دیکر کوئی احسان تو نہیں کیا۔

سچ جانیے تو پُرتگال میں پیش آنے والی پریشانی سے مجھ یورپ کی ترقی کا راز معلوم ہوا ہے یہاں مسلمان اکثریت میں نہیں لیکن اسلام کے مطابق ایمانداری موجود ہے۔ دفاتر میں تعینات لوگ فرض شناس ہیں دھوکہ و فریب بہت کم ہے احترامِ آدمیت ہے کیا۔ فرماتے ہیں آپ پُرتگال میں پریشانی کی رودار پڑھنے کے بعد؟

Check Also

Jamhuriat Aur Awami Masail: Falsafa Aur Haqiqat Ka Fasla

By Unzila Siddiqui