کیئر اسٹارمر کی رخصتگی سے ایک بار پھر اِس خیال کی تائید ہوئی ہے کہ برطانیہ سے سیاسی استحکام رخصت ہو چکا ہے اور اب یہ ملک سیاسی عدمِ استحکام کا شکار ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو چار برسوں میں ملک پانچویں وزیرِ اعظم کے انتظار میں نہ ہوتا طویل عرصے سے اقتدار و اپوزیشن جیسے عہدوں کا فیصلہ کرنے والا دو جماعتی نظام کا دم توڑنے کے قریب ہے نئی سیاسی جماعتوں کو عوام کی طرف سے پزیرائی ملنا اِس کی دلیل ہے جس سے یورپ میں سیاسی استحکام کی علامت سمجھا جانے والا برطانیہ مسلسل بحرانوں کی زد میں ہے۔
صرف گزشتہ دس برسوں کے سیاسی منظر نامے کا جائزہ لیں تو ملک کے چھ وزرائے اعظم مدت پوری کرنے کی بجائے قبل از وقت عہدوں سے مستعفی ہوئے جسے دو صدیوں میں تنزلی کی تیز ترین رفتار کہہ سکتے ہیں کیئر اسٹارمر کا پانچ سالہ مدت پوری کرنے کا خواب ایسے بھیانک طریقے سے ٹوٹا ہے کہ رندھی آواز کے ساتھ پیر کو استعفے کا اعلان کرنے کے بعد 10 ڈاؤننگ سٹریٹ کے باہر اُنھیں گلے لگانے کو صرف اہلیہ ہی مِل سکی۔ اقتدار سے الگ ہونے کے بعد ایسی بے قدری یا بے زاری صرف تیسری دنیا کے ممالک میں نظر آتی ہے لیکن برطانیہ جیسے ملک جِسے اپنی جمہوری اقدار پر ناز ہے اور مہذب ہونے کا دعویٰ بھی، کے مناظر نے اقتدار و اختیار چھن جانے کے بعد کی کمزوری کو اُجاگر کیا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیئر اسٹارمر کے بعد وزیرِ اعظم کے عہدے کے بڑے اور اہم ترین امیدوار گریٹ مانچسٹر کے مئیر اینڈی برنہم کچھ سیاسی و معاشی سحرسے عوام کو گرویدہ کرسکیں گے تاکہ ملک ایک بار پھر سیاسی استحکام پر سفر شروع کرنے کے قابل ہوجائے بظاہر امکانات کم ہیں کیئر اسٹارمر کی عجیب بدقسمتی کہ اُن کے استعفے کی خبرملکی میڈیا سے بھی پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دی۔
کئیر اسٹارمر وزارتِ عظمیٰ کے ساتھ حکمران جماعت لیبر پارٹی کی قیادت سے بھی مستعفی ہوگئے ہیں یہ لیبر پارٹی کے لیے کسی بڑے دھچکے سے کم نہیں کیونکہ ایسے حالات میں جب یہ جماعت اگلے عام انتخابات 2029 بارے مشاورت میں مصروف ہے۔ یہ استعفیٰ کھائی میں گرتے کو زور سے دھکا دینے کے مترادف ہے۔ عام انتخابات سے قبل اب اُسے قیادت کا طے کرنا ہے بظاہر تو کوئی مقبول عوامی چہرہ نہیں جو عام انتخابات میں اپنی پارٹی کی ساکھ بچاسکے کئیر اسٹارمر کی یہ بات جزوی حد تک درست ہے کہ اُن کی جماعت پوچھ رہی ہے کہ کیا وہ اگلے عام انتخابات کے لیے موزوں شخص ہیں؟
یہ سوال سُن لیا اور پورے وقارکے ساتھ قبول بھی کرلیاہے مگر وہ اقتدار میں اچھے اور مقبول فیصلے نہیں کر سکے سچ یہ ہے کہ عام انتخابات میں اکثریت ملتے ہی فاش غلطیاں کیں جب انھیں معلوم تھا کہ ملکی سیاست جو کئی عشروں سے دوجماعتی لیبر پارٹی اور کنزویٹو(ٹوری) کے گرد گھوم رہی تھی اب ناموافق ہو رہی ہے اور عوامی پسندیدگی بدل رہی ہے تو بھی مشاورت سے فیصلے کرنے کی بجائے کچھ بدنام چہروں کی اہم عہدوں پر تعیناتیاں کردیں۔ بریگزٹ سے ملک یورپی یونین سے الگ تو ہوگیا لیکن ہونے والی علیحدگی سے طویل مدتی خارجہ اور معاشی نظام تہہ بالا ہو جسے درست کرناضروری تھا لیکن فوری توجہ کے متقاضی کو نظر انداز کردیا گیا۔ بریگزٹ اثرات سے سکاٹ لینڈ میں آزادی کی تحریک کو دوبارہ تقویت ملی مگر کئیر اسٹارمر ملکی حالات پر توجہ دینے کی بجائے عالمی رہنما بننے کی تگ و دو کرتے رہے اِس ناقص حکمتِ عملی کا نتیجہ ہے کہ نہ تو عالمی رہنما بن سکے اور نہ ہی ملک میں مقبول رہے اور منصب سے بھی الگ ہونے پر مجبور ہوگئے۔
قوموں کو آگے لیجانے یازوال سے دوچار کرنے میں رہنماؤں کااہم کردار ہوتا ہے جب برطانیہ کے شہریوں تک کو معلوم ہے کہ 2008 کے مالیاتی بحران کے اثرات سے ابھی تک ملک مکمل طور پر نکل نہیں سکا کرونا وبا نے نے مزید معیشت کو متاثر کیا یوکرین جنگ سے مزید دباؤ بڑھا لیکن یہ بات کیئر اسٹارمر جیسا قانون دان شاید سمجھ نہ سکا اور مسلسل ایسی پالیسی پر عمل پیرا رہا جس سے ملکی قرضے جی ڈی پی کے سو فیصد کے قریب جاپہنچے اور حکومتی اخراجات بارے بھی حالات پریشان کُن ہوگئے۔ مزید یہ کہ عوام کے گرتے معیارِ زندگی کو سنبھالنے پر بھی کوئی توجہ نہ دی گئی اور غیر قانونی مہاجرت جیسا مسئلہ بھی شدت اختیار کرتا گیا جس سے سیاسی اور سماجی خلیج میں اضافہ ہوا اور آخر کارنہ صرف حکمران جماعت بلدیاتی انتخاب ہارگئی بلکہ ناکامی کے الزامات کے ساتھ کیئر اسٹارمر منصب سے الگ ہوئے۔
برطانیہ کو عالمی سطح پر سیاسی، اقتصادی اور معاشی استحکام کا عملبردار سمجھا جاتا رہا ہے لیکن گزرے دس برسوں میں یہ ملک مسلسل بحرانوں کے بھنور میں ہے کیونکہ قیادت اپنے عالمی اور ملکی کردار کو فراموش کر بیٹھی۔ امریکی حاشیہ بردار بن کر تشخص اور ساکھ تک کھو بیٹھی جس سے عالمی رسوخ میں کمی آئی۔ ملک کے اندر بھی شدید سیاسی بے چینی نے جنم لیا اور دو جماعتی نظام قصہ پارینہ بننے کا عمل شروع ہوا جس سے برطانیہ سیاسی گڑھے میں گرتا چلا گیا۔ اِس طرزِ عمل سے ملک کے ساتھ سیاسی قیادت کا بھی نقصان ہوا ہے۔
پہلے رشی سوناک اپنی پارٹی کے لیے بھاری پتھر ثابت ہوئے رواں برس مئی میں ہونے والے مقامی کونسلوں کے انتخابات میں جب حکمران جماعت لیبر پارٹی اہم ترین شہروں میں ہار گئی اور تیسرے نمبر پر جاپہنچی تو تجزیہ کارکہنے لگے کہ اب کئیر اسٹارمر کا سیاسی مستقبل تاریک ہے تو انھوں نے پالیسیاں درست کرنے کی بجائے جماعت پر گرفت مضبوط کرنے کو ترجیح دی مگر کامیاب نہ ہوسکے جس سے پارٹی میں بغاوت شدت اختیار کرنے لگی اور استعفے کا مطالبہ زور پکڑتا گیا اب خیال کیا جانے لگا ہے کہ لیبر پارٹی کے لیے کیئر اسٹارمر بھی ایک ایسا بھاری پتھر ثابت ہوئے جو خود ڈوب کر جماعت کو بیچ منجدھار بے یارومددگار چھوڑ گئے۔
لیبر پارٹی اور کنزرویٹوپارٹی کی غلط پالیسیوں نے تیسری قوت کے لیے سیاسی میدان ہموار کیا جس کا ریفارم پارٹی نے بھر پور فائدہ اُٹھایا اور ایسے حالات میں جب عشروں سے حکمرانی کرنے والی جماعتیں فیصلوں میں تذبذب کا شکار رہیں تو ریفارم پارٹی نے دوٹوک اور واضح موقف اپنا کر عوامی توجہ حاصل کرلی مئی کے بلدیاتی انتخابات نے ثابت کردیا ہے کہ ریفارم پارٹی ملک میں مضبوطی سے قدم جما چکی ہے اور معجزاتی نتائج کی صلاحیت رکھتی ہے کیونکہ لیبر پارٹی اور کنزرویٹو دونوں جب قیادت کے بحران میں ہیں۔ ریفارم پارٹی کی عوام یقین نے عوام کو یقین دلا دیا ہے کہ وہ ملک کو موجودہ سیاسی اور معاشی بھنور سے نکالنے کی طاقت و صلاحیت رکھتی ہے اِس لیے امکان ہے کہ شاید 2029 سے قبل ہی ریفارم پارٹی عشروں سے حکمرانی کرنے والی جماعتوں کو اقتدار کی راہداریوں سے باہر دھکیل دے مگرسیاسی استحکام کی محرومی ختم ہونے کے بارے میں پھر بھی یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔