Sunday, 27 September 2026
  1. Home/
  2. Hameed Ullah Bhatti/
  3. Trump Xi Mulaqat: Dosti Ya Majboori?

Trump Xi Mulaqat: Dosti Ya Majboori?

دنیا کی دوبڑی طاقتوں امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات میں اچانک آنے والی سفارتی گرمجوشی نے عالمی سیاست میں اِس اہم سوال کو جنم دیا ہے کہ کیا واشنگٹن اور بیجنگ واقعی ایک دوسرے کے قریب آرہے ہیں یا دونوں طاقتیں اپنی اپنی مجبوریوں کے تحت وقتی طورپر مفاہمت کر رہی ہیں؟ ٹرمپ کا شی جن پنگ کو جوائنٹ بیس اینڈ ریوز پر خود لینے جانا معمولی سرگرمی نہیں کیونک حالیہ عشروں میں امریکی صدور عام طور پر ایسے استقبال سے گریز کررہے ہیں اسی بناپر صدر شی کی امریکہ آمد پر صدر ٹرمپ کی طرف سے والہانہ استقبال غیر معمولی اور روایت شکن تاثر گہرا کرنے کا سبب بنا ہے۔

چینی صدر شی جن پنگ کا حالیہ دورہ امریکہ اور صدر ٹرمپ کی جانب سے غیر معمولی پُرتپاک استقبال بلاشبہ علامتی اہمیت رکھتا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں فوجی اعزاز، مشترکہ تقریبات، گرمجوش ملاقات اور اِس کے بعد تجارتی جنگ بندی میں توسیع نے یہ تاثر پیدا کیا ہے کہ دونوں ممالک اپنے تعلقات کو کسی نئے بحران سے بچانا چاہتے ہیں لیکن اِس مفاہمت کو چین و امریکہ دوستی کہنا شاید حقیقت سے زیادہ اُمید پر مبنی تعبیر ہوگی۔

حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور چین اب بھی ایک دوسرے کے بڑے تجارتی اور تزویراتی حریف ہیں۔ تجارت، مصنوعی زہانت، سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی، تائیوان، بحیرہ جنوبی چین، عالمی منڈیوں اور اہم معدنیات کے معاملے پر دونوں کے مفادات مختلف ہیں۔ حالیہ سربراہی ملاقات میں بھی اِن بنیادی اختلافات کا کوئی حتمی حل سامنے نہیں آیا سب سے نمایاں نتیجہ یہ ہے کہ دونوں ملکوں نے تجارتی جنگ بندی کو دس جنوری 2027 تک بڑھانے پر اتفاق کر لیا ہے۔ یہ توسیع دراصل دونوں کی باہمی ضرورت کی علامت ہے۔ امریکہ ابھی چین کے ساتھ تجارتی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا جب عالمی معیشت پہلے ہی جنگوں، توانائی کے بحران اور سپلائی چین جیسے مسائل سے دوچار ہے۔

دوسری طرف چین بھی امریکی منڈی، ٹیکنالوجی اور عالمی مالیاتی نظام سے مکمل علیحدگی نہیں چاہتا۔ مزید یہ کہ نایاب معدنیات اور خصوصاََ نایاب ارضی عناصر کی عالمی رسد میں چین کا اہم کردار ہے۔ یہ معدنیات جدید ٹیکنالوجی، برقی گاڑیوں، توانائی اور دفاعی صنعت کے لیے بہت اہم ہیں۔ یہی انحصار واشنگٹن اور بیجنگ دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ کسی نہ کسی درجے کا رابطہ رکھنے پر مجبور کرتا ہے۔ اِس پس منظر میں ٹرمپ کی سفارتی گرمجوشی کو دوستی سے زیادہ انتظام شدہ مسابقت کہا جا سکتا ہے۔ دونوں طاقتیں ایک دوسرے کو شکست دینے کی کوشش سے دستبردار تو نہیں ہوئیں لیکن شاید یہ سمجھ چکی ہیں کہ مکمل محاز آرائی دونوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے اسی لیے اختلافات اپنی جگہ رکھتے ہوئے تصادم کو روکنے کے لیے رابطے کے راستے کُھلے رکھنا ضروری سمجھا گیا۔

یہ پہلو خاص طور پر اہم ہے کہ دنیا پہلے ہی کئی محازوں پر بحران کا شکار ہے۔ روس و یوکرین جنگ نے یورپی سلامتی کا پورا ڈھانچہ متاثر کیا ہے جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے امریکہ کی توجہ اور وسائل پر مزید دباؤ بڑھایا ہے۔ ایسے ماحول میں واشنگٹن اور بیجنگ براہ راست ایک دوسرے کے خلاف نیا محاز کھولتے ہیں تو عالمی عدمِ استحکام کئی گُنا بڑھ سکتا ہے۔ اسی لیے ٹرمپ-شی مفاہمت کو ایک ممکنہ نئی سرد جنگ سے بچنے کی کوشش کے طور پر دیکھاجا سکتا ہے۔ یہ سردجنگ روایتی امریکہ سوویت کشکمش سے مختلف ہوگی اِس کا مرکز فوجی اتحادوں، ٹیکنالوجی، چپ سازی، معدنیات، مالیاتی نظام اور عالمی سپلائی چین ہوں گے۔ خطرہ یہ ہے کہ اگر یہ مقابلہ بے قابو ہوگیا تو دنیا دوالگ الگ معاشی اور تکنیکی بلاکس میں تقسیم ہو سکتی ہے۔

جنوبی ایشیا میں اِس صورتحال کا ایک اہم پہلو بھارت ہے واشنگٹن نے گزشتہ برسوں بھارت کے ساتھ دفاع، ٹیکنالوجی اور جوہری توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھایا ہے۔ امریکہ اور بھارت نے 123 سول نیو کلیئر معاہدے کو آگے بڑھانے اور امریکی ساختہ جوہری ری ایکڑوں میں تعاون کا اعادہ بھی کیا ہے۔ بھارت، امریکہ، جاپان اور آسٹریلیا کے ساتھ کواڈ کا حصہ ہے اور واشنگٹن اِسے ہند۔ بحرالکاہل میں ایک اہم شراکت دار سمجھتا ہے لیکن یہاں ایک اہم نُکتہ ہے بھارت کا امریکہ کا اہم شراکت دار ہونا چین کے ساتھ امریکی تعلقات کی ضرورت کو ختم نہیں کرتا بلکہ اِس کے برعکس واشنگٹن شاید بھارت کو چین کے مقابل ایک علاقائی شراکت دار اور چین کو ایک عالمی طاقت کے طور پر دیکھتا ہے چنانچہ امریکہ بیک وقت بھارت کے ساتھ تزویراتی تعاون اور چین کے ساتھ کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش میں ہے یہ تضاد نہیں بلکہ امریکی خارجہ پالیسی کی کثیرالجہتی نوعیت کی علامت ہے۔

یورپ اِس پورے منظرنامے میں شاید سب سے زیادہ محتاط فریق ہوگا۔ یورپی ممالک امریکہ کے روایتی اتحادی ہیں لیکن چین اُن کے لیے ایک بہت بڑی تجارتی حقیقت ہے۔ امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی کشیدگی میں کمی یورپی صنعت اور عالمی تجارت کے لیے کچھ استحکام پیدا کر سکتی ہے لیکن اگر واشنگٹن اور بیجنگ کسی ایسے بڑے سمجھوتے پر پہنچتے ہیں جس سے یورپی مفادات نظر انداز ہوں تو یورپ خود کو عالمی طاقتوں کے درمیان ایک ایسے کھیل میں پھنسا ہوا محسوس کر سکتا ہے جس کے فیصلے واشنگٹن اور بیجنگ کررہے ہوں۔ یورپ پہلے ہی چین کے ساتھ تجارتی عدم توازن، اہم معدنیات اور صنعتی مسابقت کے مسائل پر مزاکرات کررہا ہے۔

روس اور یورکرین جنگ اور مشرقِ وسطیٰ کے بحران نے اِس صورتحال کو مزید پچیدہ کردیا ہے۔ امریکہ اگر ایک طرف روس، ایران اور دوسرے عالمی بحرانوں سے نمٹ رہا ہے تو دوسری طرف چین کے ساتھ کُھلی محاز آرائی اُس کے لیے ایک الگ بوجھ ہوگی۔ چین بھی ایسے وقت میں امریکہ کے ساتھ مستقل کشیدگی نہیں چاہتا جب اُسے اپنی معیشت، عالمی تجارت اور ایشیا میں اپنے مفادات کو آگے بڑھانا ہے لہذا واشنگٹن میں ٹرمپ اور شی جن پنگ کی گرمجوشی کو نہ تو نئی چین و امریکہ دوستی کا آغاز سمجھنا چاہیے اور نہ ہی محض نمائشی سفارتکاری کہہ کر نظر انداز کردینا حقیقت ہوگا۔ زیادہ مناسب تعبیر یہ ہے کہ دنیا کی دوبڑی طاقتیں اپنے اختلافات ختم کیے بغیر اُنھیں قابو میں رکھنے کی کوشش میں ہیں۔ یہ مفاہمت اگر برقرار رہتی ہے تو اِس کا سب سے بڑا فائدہ شاید کسی ایک ملک نہیں بلکہ عالمی معیشت کو ہوگا لیکن اگر تجارت کے بعد تائیوان، ٹیکنالوجی، مصنوعی زہانت اور بحرالکاہل کے معاملات دوبارہ تصادم کا موجب بنے تو موجودہ گرمجوشی بھی عارضی ثابت ہو سکتی ہے۔

دنیا اِس وقت نئے عالمی توازن کی تشکیل کے مرحلے میں ہے سوال یہ نہیں کہ امریکہ اور چین دوست بن رہے ہیں یا دشمن، اصل سوال یہ ہے کہ کیا دونوں اپنی مسابقت کو اِتنا محدود رکھ سکتے ہیں کہ وہ ایک نئی سرد جنگ کو گرم تصادم میں تبدیل ہونے سے روک سکیں واشنگٹن میں ہونے والی حالیہ ملاقات کا اصل امتحان بھی یہی ہے۔

Check Also

Karobar e Hayat, Hamari Nasal Aur Tawazum Ki Talash

By Unzila Siddiqui