Saturday, 16 May 2026
  1. Home/
  2. Hameed Ullah Bhatti/
  3. Ye Karkardagi Hai?

Ye Karkardagi Hai?

معاشی گرداب سے نکلنے کی جدوجہد میں مصروف پاکستان کے لیے اب بھی اچھی خبروں کا فقدان ہے اور عالمی ساکھ میں بہتری کے باوجود معاشی صورتحال مزید خراب ہوتی جارہی ہے اور ملک کا انحصار قرضوں پر ہے۔ اِس کا مطلب ہے کہ حکومت کے معاشی ارسطو ناکام ہوچکے ہیں اگر جلد پیداواری شعبے کو بہتر نہ بنایا گیا تو معاشی بہتری کا خواب ادھورا ہی رہے گا عسکری اور سفارتی کامیابیوں سے بھی معاشی بھلا نہیں ہوگا بیرونی دورے بھی وقت اور سرمائے کا ضیائع ہی ثابت ہوں گے۔

پاکستان کا سرپلس بجٹ سے خسارے میں جانا خطرے کی گھنٹی ہے جسے حکمران اشرافیہ کو سنجیدہ لینا چاہیے۔ رواں مالی سال کے نو ماہ جولائی تا مارچ بجٹ خسارہ 856 ارب چھتیس کروڑ ہوگیا ہے۔ یہ خسارہ مالی سال کے اختتام تک ہزار ارب کا ہندسہ کراس کر سکتا ہے۔ اِن اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مالی خرابیاں نہ صرف بددستور موجود ہیں۔

برآمدات کی طرح درآمدات کے حوالے سے بھی کوئی نتیجہ خیز پالیسی نہیں بنائی جاسکی جس سے آمدن کے زرائع مزید کم ہو رہے ہیں اور ملک قرضوں کی دلدل میں دھنس رہا ہے ظاہر ہے۔ اِس خرابی کی ذمہ دار اپوزیشن تو نہیں بلکہ حکومت ہی ہے جو فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی اور غفلت کی مرتکب ہے۔

یہ تو ملک کا ایک عام شہری بھی جانتا ہے کہ جب تک غیر ضروری اخراجات پر قابو نہیں پایا جاتا اور آمدن کے زرائع مستقل بنیادوں پر بڑھائے نہیں جاتے۔ ملک کی معاشی حالت بہتر ہونا مشکل ہے۔ یہ عام فہم بات حکومت کے معاشی ارسطو بھی جانتے ہوں گے لیکن دستیاب اعداد و شمار سے جو صورتحال معلوم ہوتی ہے اُس کے مطابق اخراجات میں کمی اور کفایت شعاری کے تمام تر دعوؤں کے باوجود رواں برس کے گزرے نو ماہ کے دوران وفاقی حکومت کے اخراجات گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے سے 629 ارب ہوچکے ہیں۔ اگر بقیہ تین ماہ کو شامل کر لیں تو یہی اخراجات سات سو ارب تک جا سکتے ہیں لہذاصاف عیاں ہے کہ کفایت شعاری اور بچت کے حکومتی دعوؤں میں کوئی صداقت نہیں بلکہ اِن کے قول و فعل میں تضاد ہے۔

حکومت کا فرض ہے کہ قرضوں میں کمی کے لیے زرائع آمدن بڑھائے مگر اِس حولے سے حکومتی ناکامی واضح ہے۔ بیرونی اور اندرونی قرض اٹھانوے ہزار ارب سے تجاوز کر چکا ہے اور بروقت اقساط اور سودکی ادائیگی کی سکت ملک کھورہا ہے۔ ستم ظریفی تو یہ کہ عالمی اداروں اور مقامی قرض لینے کو خوبی بنا کر پیش کیا جارہا ہے اسی خوبی نے ایک برس کے دوران پاکستان پر قرضے اور واجبات میں سات ہزار پانچ سو تینتیس ارب اضافہ کر دیا ہے۔ حکمرانوں سے اپیل کی جا سکتی ہے کہ اِس خوبی کو اب ختم کردیں وگرنہ بقیہ مدتِ اقتدار میں قرضہ مزید ہزاروں ارب بڑھنے کا احتمال ہے لہذا ملک پر رحم کھائیں اور صرف وعدے ہی نہ کریں بلکہ عملی طور پر غیر ضروری اور غیر پیداواری اخراجات میں بڑی کٹوتی کریں اور تیل کی قیمتیں بڑھا کر عوام کا خون نچوڑنے کا سلسلہ موقوف کر دیں۔

اب تو حکومتی کامیابیاں تلاش کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف لگتا ہے۔ رواں مالی سال کے لیے بجٹ اہداف کے مطابق حکومت 4.2 فیصد جی ڈی پی گروتھ بھی حاصل نہیں کر سکی اب 3.70 فیصد کی منظوری نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی سے حاصل کی گئی ہے۔ ملک خوراک میں خودکفالت کھوچکا ہے۔ کپاس کی پیداوار مسلسل گرتی جارہی ہے آبی قلت سے فصلوں کی بوئی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اِن حالات میں بہتری کے خواب دیکھنا دانشمندی نہیں ملکی صنعتیں بڑی تعداد میں بند ہونے سے برآمدات کم ہوکر محض 30.6 ارب ڈالر رہ گئی ہیں لیکن درآمدات 8.3 فیصد اضافے کے ساتھ 56.3 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں جبکہ بیرونی سرمایہ کاری میں کمی بھی واضح ہے۔

اِن حالات میں ترسیلاتِ زر کا 33 ارب ڈالر سے تجاوز کرنا کسی نعمت سے کم نہیں لیکن ظاہر ہے اِس میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں بلکہ یہ تارکینِ وطن کا اپنے اہلِ خانہ کی کفالت کے لیے بھیجی رقوم ہیں۔ حکومت تو دن رات کوشاں ہے کہ کسی طرح بیرونِ ملک جانے کی حوصلہ شکنی کی جائے یہاں تک کہ لوگوں کے پاس درست ویزے ہوتے ہیں لیکن فضائی سفر سے روک لیا جاتا ہے۔ اِس طرح کے متاثرین کی تعداد ہزاروں میں ہے اسی بناپر لوگ جانیں خطرے میں ڈال کر غیر قانونی طریقے سے بیرونِ ملک جانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ حکومت کا کرنے والا کام تو یہ ہے کہ ملک کی بہتر عالمی ساکھ اور اچھی سفارتکاری کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے افرادی قوت کو باعزت طریقہ سے بیرونِ ملک بجھوانے کی کوشش کرے تاکہ ترسیلاتِ زر میں نمایاں اضافہ ہو اور زرِ مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کچھ توکم ہو۔

اِس وقت اقتدار میں ملک کے بڑے صنعتی خاندان شامل ہیں لہذا ضرورت اِس امر کی ہے کہ توانائی کی ہوشربا قیمتوں اور مہنگے خام مال جیسے مسائل حل اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی کو ممکن بنایاجائے تاکہ برآمدی صنعتیں علاقائی حریفوں کا زیادہ بہتر طریقہ سے مقابلہ کر سکیں غیر ملکی امداد اور قرضے پائیدار حل نہیں یہ وقتی حل ہیں۔ اِس طرح معاشی استحکام نہیں آتا طویل مدتی اور ناگزیر فیصلے ہی اصل اور مستقل حل ہیں مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور آبنائے ہُرمز کی بندش نے چند دن میں ہی معاشی حالت کی قلعی کھول دی ہے جس کا سبق یہ ہے کہ ایسی منصوبہ بندی کی جائے جس سے عالمی منظرنامے میں ہونے والی تبدیلیوں کے باوجود معیشت عدمِ استحکام کا شکار نہ ہو۔

ملک کی بدترین معاشی حالت کے باوجود آئی پی پیز پر حکومتی مہربانیاں سمجھ سے بالاتر ہیں۔ نیپرا نے سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کے اجلاس میں انکشاف کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے آئی پی پیز کوکی جانے والی سالانہ ادائیگیاں 3400 ارب ہوچکی ہیں۔ مزید ظلم یہ کہ اٹھارہ سو سے دو ہزار ارب تک سالانہ کیپسٹی ادائیگی کردی جاتی ہے یعنی یہ بجلی گھر بجلی کی ایک یونٹ بنائے بغیر رقوم لے جاتے ہیں۔

آئی پی پیز کو سات سو سے آٹھ سو ارب انرجی ادائیگی بھی کی جاتی ہے اور ساٹھ فیصد کیپسٹی ادائیگیوں کے ساتھ بارہ سو ارب کی سبسڈی بھی دی جاتی ہے۔ یہ تفصیلات جان کر بخوبی آشکار ہو جاتا ہے کہ ملک قرضوں کی دلدل میں کیوں دھنس رہا اور مسلسل غربت کاشکار کیوں ہے؟ سوال یہ ہے کہ جب آج بھی ملک توانائی کی قلت کا شکار ہے تو آئی پی پیز کو اربوں روپیہ کیوں مفت دیا جارہا ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ صاحبانِ اقتدار خود بھی وصولیوں سے فیض یاب ہونے والوں میں شامل ہیں؟

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais