Thursday, 29 October 2026
  1. Home/
  2. Javed Chaudhry/
  3. Maharaja Hari Singh Ke Jawahrat

Maharaja Hari Singh Ke Jawahrat

یہ تین عورتوں اور ایک مرد کی حیران کن کہانی ہے، یہ کہانی ماضی کے مشہور موسیقار اور اداکار رفیق غزنوی سے شروع ہوتی ہے، وہ 1930ءکے آگے پیچھے ہندوستان میں بہت مشہور تھے، غزنوی صاحب نے 1932ء میں فلم ساز اے آر کاردار کی فلم ہیر رانجھا اور 1943ء میں فلم ساز محبوب کی بلاک بسٹر تقدیر میں اداکار بھی کی اور موسیقی بھی ترتیب دی، وہ تقسیم کے بعد پاکستان شفٹ ہوگئے اور فلموں میں بطور اداکار، گلوکار اور موسیقار کام کرتے رہے، وہ آخر میں ریڈیو پاکستان میں ملازم ہو گئے اور دو مارچ 1974ء کو کراچی میں فوت ہو گئے۔

غزنوی صاحب اس کہانی میں اہم تھے لیکن یہ کہانی ان کی نہیں تھی، ان کا کردار اس کہانی میں معمولی سا تھا، رفیق غزنوی نے ممبئی کے زمانے میں اداکارہ انوری بیگم سے شادی کی، انوری کے بطن سے ان کی بیٹی زرینہ پیدا ہوئی، رفیق غزنوی اور انوری کے درمیان زرینہ کی پیدائش کے بعد طلاق ہوگئی، انوری نے بعدازاں ہندو تاجر جگل کشور مہرہ سے شادی کر لی، مہرہ ہندوستان کی مشہور فلم ساز فیملی کپورز کا رشتے دار تھا، راج کپور والدہ کی طرف سے اس کا فرسٹ کزن تھا، اس نے اپنے زمانے کی مشہور طوائف پارو کے ساتھ بھی شادی کر رکھی تھی۔

مہرہ اور پارو نے زرینہ کو گود لے لیا، پارو کی ماں بھی طوائف تھی، اس کا نام بلو تھا، پارو کو زرینہ کے معصوم چہرے، خوب صورت آنکھوں اور چھریرے بدن میں اپنا اقتصادی مستقبل نظر آیا، اس نے اس کا نام بدل کر نسیم رکھا اور وہ اسے فلموں کی دنیا میں لے آئی، نسیم آگے چل کر پری چہرہ نسیم کہلانے لگی، نسیم نے اپنے زمانے کے مشہور ہیرو کے ایل سہگل کے ساتھ بطور ہیروئن کام کیا، پارو کی رسائی مہاراجہ کشمیر ہری سنگھ کے دربار تک تھی، نسیم (زرینہ) اور پارو دونوں مہاراجہ کے دربار میں داخل ہوئیں اور محل کے اندر تک چلی گئیں۔

1947ء میں ہندوستان تقسیم ہوگیا اور مہاراجہ کی سلطنت پاکستان اور بھارت دو حصوں میں تقسیم ہوگئی، مہاراجہ ہری سنگھ کا دربار ختم ہوگیا، پارو اور نسیم کی کیوں کہ مہاراجہ کے محل کے اندر تک رسائی تھی لہٰذا انہوں نے مہاراجہ کے 32 قیمتی ہیرے اور جواہرات چرا لیے، ان میں ریجنٹ نام کا ایک بڑا ہیرا بھی تھا، دونوں خواتین یہ جواہرات چرا کر راولپنڈی آ گئیں اور گم نام زندگی گزارنے لگیں، اس دوران نسیم کی ملاقات ایک افغان قالین فروش لیاقت گل آغا سے ہوئی، وہ افغان تھا، ایران سے قالین درآمد کرکے بیچتا تھا، بلا کا خوب صورت تھا، وہ امرتسر سے راولپنڈی آیا تھا، نسیم (زرینہ) نے لیاقت گل آغا سے شادی کر لی جس کے بعد وہ زرینہ غزنوی سے زرینہ آغا ہوگئی، ان دونوں کے ہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام سلمیٰ رکھ دیا گیا، یہ لوگ بعدازاں کراچی شفٹ ہوگئے، لیاقت گل آغا نسیم اور پارو کے پاس موجود قیمتی جواہرات سے واقف تھا۔

وہ جواہرات بہت قیمتی تھے لیکن مہاراجہ کی ملکیت ہونے کی وجہ سے پاکستان میں فروخت نہیں ہو سکتے تھے، یہ صرف برطانیہ یا امریکا میں بک سکتے تھے لیکن انہیں سٹیٹ بینک آف پاکستان کی منظوری کے بغیر ملک سے باہر منتقل کرنا ممکن نہیں تھا اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کو ان کی "منی ٹریل" چاہیے تھی اور یہ لوگ اس کا رسک نہیں لے سکتے تھے۔

بہرحال قصہ مختصر سلمیٰ پیدائشی فن کار تھی، ماں زرینہ اداکارہ اور گلوکارہ رہی تھی، نانی پارو بھی درباروں میں ناچتی رہی تھی، ان دونوں نے سلمیٰ پر بچپن میں ہی محنت شروع کر دی، اسے موسیقی اور رقص سکھایا اور اپنی اداؤں سے دوسروں کو گھائل کرنے کے طریقے بھی سمجھائے، سلمیٰ ٹیلنٹڈ نکلی، وہ سکول میں گیت گاتی اور ناچتی تھی، وہ جوان ہوئی تو خاندان نے ایک ایسا داماد تلاش کرنا شروع کر دیا جس کے ذریعے یہ مہاراجہ ہری سنگھ کے جواہرات ملک سے باہر لے جا سکتے تھے، اس کے لیے سب سے بہترین طریقہ وزارت خارجہ تھی، خاندان نے سوچا ہمیں وزارت خارجہ کا کوئی ایسا نوجوان تلاش کرنا چاہیے جس کے ذریعے ہم اپنے زیورات باہر منتقل کر سکیں، یہ لوگ مختلف بہانوں سے فارن سروسز اکیڈمی کے چکر لگانے لگے۔

ان دوروں کے دوران جاوید امیر نام کا ایک نوجوان افسر ان کے ہتھے چڑھ گیا، جاوید امیر 1969ء بیچ کا آفیسر تھا، وہ ہر امتحان میں پہلی پوزیشن حاصل کرتا تھا، وہ گڈ لوکنگ اور ہینڈسم تھا، یہ لوگ کاری گر تھے، انہوں نے جاوید امیر کو گھیر لیا، پورا گھرانہ جاوید امیر اور اس کے خاندان کو اتنی عزت اور محبت دیتا تھا کہ وہ لوگ پریشان ہو جاتے تھے، بہرحال قصہ مزید مختصر جاوید امیر اور سلمیٰ کی شادی ہوگئی اور زرینہ گل نے مہاراجہ ہری سنگھ کے جواہرات جہیز قرار دے کر اپنی بیٹی کو دے دیے۔ سرکاری ملازمین انگریز دور سے اپنی بیگمات کے اثاثے ڈکلیئر کرنے کے پابند چلے آ رہے ہیں، جاوید امیر نے بھی اپنی ٹیکس ریٹرنز میں یہ زیورات بطور جہیز ڈکلیئر کر دیے یوں ان کی "منی ٹریل" بننا شروع ہوگئی۔

جاوید امیر کی 1970ء میں نیدر لینڈ میں پوسٹنگ ہوگئی، قانون کے مطابق اس کی بیگم کا بھی اس کے ساتھ ڈپلومیٹک پاسپورٹ بن گیا جس کے بعد یہ اب ویزے اور تلاشی کے بغیر دنیا کے کسی بھی ملک میں جا سکتی تھی، جاوید امیر بیگم کے ساتھ "دی ہیگ" شفٹ ہوا تو اس کی بیگم کا "جہیز" بھی اس کے ساتھ نیدر لینڈ چلا گیا، جاوید امیر نے اس کے لیے سٹیٹ بینک آف پاکستان سے باقاعدہ منظوری لی، یہ این او سی بعدازاں زیورات کی منی ٹریل بن گیا، اس دوران زرینہ، اس کی "لے پالک" ماں پارو اور شوہر لیاقت گل آغا لندن منتقل ہو گئے، لیاقت گل آغا نے وہاں قالینوں کا کاروبار شروع کر دیا، سلمیٰ والدین سے ملنے لندن گئی اور اپنے زیورات بھی ساتھ لے گئی اور یوں یہ قیمتی زیورات وہاں پہنچ گئے جہاں انہیں پہنچنا تھا، لیاقت گل آغا نے یہ لندن میں فروخت کر دیے، اس زمانے میں یہ کروڑوں روپے میں بکے، ان لوگوں نے اس رقم سے آدھ درجن گھر اور کمرشل پراپرٹیز خریدیں، ہیروڈز (Herrods) سٹور کے ساتھ قیمتی قالین شاپ بنائی اور شاہی خاندان جیسی زندگی گزارنے لگے۔

جاوید امیر کے ساتھ گل خاندان کا رویہ زیورات لندن پہنچنے تک بہت اچھا تھا، یہ اسے بادشاہ جتنی عزت دیتے تھے، اسے داماد صاحب کہا جاتا تھا لیکن جوں ہی زیورات لندن پہنچے ان کا رویہ بدل گیا، سلمیٰ جاوید کا زیادہ تر وقت دی ہیگ کی بجائے لندن میں گزرنے لگا، جاوید امیر کا تبادلہ بعدازاں برسلز ہوگیا، سلمیٰ نے وہاں جانے سے انکار کر دیا، جاوید امیر کو اس سے بے انتہا محبت تھی، وہ اسے منا کر لے آتا تھا لیکن وہ دو تین ہفتوں کے بعد لندن واپس چلی جاتی تھی، لیاقت گل آغا کا کاروبار بھی چل نکلا اور وہ دونوں ہاتھوں سے دولت سمیٹنے لگا، خاندان امیر سے رئیس ہوگیا جس کے ساتھ ہی داماد سے ان کا رشتہ کم زور سے کم زور ہوتا چلا گیا یہاں تک کہ سلمیٰ جاوید نے خاوند سے طلاق مانگ لی، جاوید امیر نے اسے راضی کرنے کی کوشش کی لیکن سلمیٰ کے خاندان نے عجیب شرط رکھ دی، ان لوگوں کا کہنا تھا تم نوکری سے استعفیٰ دو، لندن شفٹ ہو جاؤ اور لیاقت گل آغا کی دکان پر ملازمت کر لو، یہ جاوید امیر کے لیے قابل قبول نہیں تھا، بہرحال اس تنازع کا نتیجہ طلاق کی صورت میں نکلا، یہ طلاق اگست 1973ء میں لندن میں ہوئی۔

جاوید امیر اور سلمیٰ جاوید دونوں لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن گئے، اس زمانے میں شہریار خان ہیڈ آف چانسلری تھے، سلمیٰ جاوید نے اپنا ڈپلومیٹک پاسپورٹ ان کے حوالے کیا اور شہریار خان نے دونوں کو طلاق کا سرٹیفکیٹ دے دیا، جاوید امیر نے بعدازاں کولمبیا کی سفارت کار کلے مینسیا (Clemencia) سے شادی کر لی، نوکری سے استعفیٰ دیا اور واشنگٹن میں سیٹل ہوگیا، یہ ابھی تک حیات ہیں اور میرے ساتھ رابطے میں ہیں جب کہ سلمیٰ جاوید طلاق کے بعد لندن میں سیٹل ہوگئی، طویل عرصہ مشہور بزنس مین ایاز محمود سپرا کی گرل فرینڈ رہی، فلموں میں آئی، اداکاری اور گلوکاری کی، بھارت میں بھی فلمیں کیں اور پاکستان میں بھی، اس نے بعدازاں مشہور سکوائش پلیئر رحمت خان سے شادی کر لی، اس سے اس کی بیٹی ساشا نے جنم لیا، رحمت خان سے طلاق ہوئی اور دوبئی کے بزنس مین منظر شاہ سے شادی کر لی، یہ کچھ عرصہ پاکستانی اداکار جاوید شیخ کے نکاح میں بھی رہی، یہ آج کل بھارت میں ہے اور اپنی بیٹی ساشا کو اداکارہ بنانے کی کوشش کررہی ہے، جی ہاں آپ درست سمجھے یہ اداکارہ سلمیٰ آغا کی کہانی ہے۔

مجھے چند ہفتے قبل سلمیٰ آغا کے انٹرویو کا ایک کلپ دیکھنے کا اتفاق ہوا، اس میں اس نے دعویٰ کیا، میں کبھی پاکستانی شہری نہیں رہی، ہم امرتسری ہیں اور وہاں سے سیدھے لندن چلے گئے تھے، یہ انٹرویو دیکھتے ہی میری ہنسی نکل گئی اور مجھے یہ سارا واقعہ یاد آ گیا، سلمیٰ آغا نہ صرف کراچی میں پیدا ہوئی تھی بلکہ یہ پاکستانی بیوروکریٹ اور سفارت کار کی بیوی بھی رہی اور اس کے پاس پاکستان کا ڈپلومیٹک پاسپورٹ بھی تھا لیکن آپ اس کا کمال دیکھیے، اس نے اپنا پورا ماضی بدل دیا، آپ کو اس کے کسی پرفائل بشمول "وکی پیڈیا" میں بھی کسی جگہ جاوید امیر کا نام یا ذکر نہیں ملتا، اس فن کار عورت نے کسی جگہ اس واقعے کا ذکر ہی نہیں ہونے دیا چناں چہ آپ کو سلمیٰ آغا کی زندگی کے کسی ورق میں جاوید امیر، پہلی شادی اور مہاراجہ ہری سنگھ کے 32 جواہرات کا حوالہ نہیں ملتا، مجھے بھی اگر جاوید امیر اپنی شادی، یورپ میں سیروتفریح، طلاق اور طلاق کی تصویریں نہ بھجواتے تو شاید میں بھی یقین نہ کرتا۔

میں نے سلمیٰ آغا کی کہانی پہلی بار سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان کی آٹو بائیوگرافی میں پڑھی تھی، شمشاد خان صاحب کی نومبر 1972ءمیں برسلز میں جاوید امیر اور سلمیٰ آغا سے باقاعدہ ملاقات ہوئی تھی، جاوید امیر اس وقت وہاں تھرڈ سیکرٹری تھے، ان دونوں نے شمشاد صاحب کو فیملی سمیت باقاعدہ ڈنر پر بلایا تھا اور یہ پوری شام اکٹھے رہے، جاوید امیر نے اس شادی اور شادی کے ڈراموں پر "ماڈرن سوپ" کے نام سے کتاب بھی لکھی لیکن سلمیٰ آغا سرے سے اس شادی اور پاکستانی شہریت سے ہی منکر ہیں، کمال ہے، یہ دنیا بھی کیا زبردست جگہ ہے اور اس زندگی کے بھی کیا کیا رنگ ہیں، سلمیٰ آغا جیسے کردار اگر ہمیں حیران نہ کریں تو پھر شاید ہم زندگی سے بور ہو جائیں، ہم شاید جیون سے اکتا جائیں لہٰذا سلمیٰ آغا جیسے لوگ اس زندگی کا اصل حسن ہیں، یہ ہمارے محسن ہیں، ان کی وجہ سے ہماری زندگی میں رونق ہے، یہ نہ ہوتے تو شاید ہمارے لیے بور زندگی گزارنا مشکل ہو جاتا۔

About Javed Chaudhry

Javed Chaudhry is a newspaper columnist in Pakistan. His series of columns have been published in six volumes in Urdu language. His most notable column ZERO POINT has great influence upon people of Pakistan especially Youth and Muslims of Pakistan. He writes for the Urdu newspaper Daily Express four time a week, covering topics ranging from social issues to politics.

Check Also

Jamhuriat Aur Awami Masail: Falsafa Aur Haqiqat Ka Fasla

By Unzila Siddiqui