Sunday, 03 May 2026
  1. Home/
  2. Javed Chaudhry/
  3. Operation Bunyan Ul Marsoos (2)

Operation Bunyan Ul Marsoos (2)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر پہنچ کر ختم ہوگیا لیکن آپ اللہ کا کرم اور فضل دیکھیے، اگست 2015ء میں بورڈ ہوا، یہ والدہ کی دعائیں لے کر گئے اور معجزانہ طور پر پروموٹ ہوکر ائیر وائس مارشل بن گئے، انہیں ناردرن کمانڈ کا ائیر آفیسر کمانڈ (AOC-NAC) بنا دیا گیا۔

2015ء میں ائیرفورس کی چار کمانڈز ہوتی تھیں، نادرن ائیر کمانڈ، سدرن ائیرکمانڈ، سنٹرل ائیر کمانڈ اور ائیرڈیفنس کمانڈ، ان کمانڈز میں اب اضافہ ہو چکا ہے، یہ نادرن ائیرکمانڈ کے کمانڈر بن گئے، کمانڈ کا ہیڈکوارٹر پشاور میں ہے، چکلالہ ائیربیس اور چکوال بیس اسی کمانڈ کا حصہ ہیں، اے وی ایم ظہیر احمد بابر نے ناردن کمانڈ سنبھال لی لیکن چند ہفتے بعد 18 ستمبر 2015ء کو بڈا بیر کیمپ پر دہشت گردوں کا حملہ ہوگیا، وہ حملہ ٹی ٹی پی نے کیا تھا۔

صبح پانچ بجے 14 دہشت گرد ایف سی کی یونیفارم میں کیمپ میں داخل ہوئے اور اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی، ان کے پاس راکٹ بھی تھے، دہشت گرد کیمپ میں داخل ہو کر دو حصوں میں تقسیم ہو گئے، ایک گروپ نے ایڈمنسٹریشن بلاک کو نشانہ بنایا جب کہ دوسرا رہائشی بلاک کی طرف نکل گیا اور جوانوں اور ٹیکنیکل سٹاف کو نشانہ بنانے لگا، دہشت گردوں نے مسجد میں گھس کر نمازیوں کو بھی شہید کر دیا، اس حملے میں 29 آفیسر اور جوان شہید ہو گئے، بعدازاں آرمی کوئک فورس نے تمام دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

فوج میں اس نوعیت کے واقعات کو کمانڈر کی نالائقی سمجھا جاتا ہے چناں چہ یہ واقعہ بھی دھبہ بن کر ان کے کیریئر پر لگ گیا، ناردرن کمانڈ کے بعد یہ وزارت دفاع میں ٹرانسفر کر دیے گئے، انہیں ایڈیشنل سیکرٹری بنا دیا گیا، یہ ایک کھڈے لائین پوسٹنگ ہوتی ہے جس کے بعد ننانوے فیصد آفیسر ریٹائر ہو جاتے ہیں اور کبھی واپس ائیرہیڈ کوارٹر کا منہ نہیں دیکھ پاتے، انہیں بڈابیر واقعے کے بعد 2016ء میں وزارت دفاع بھجوا یا گیا تھا یہاں پہنچ کر ایک بار پھر بظاہر ان کا کیریئر ختم ہوگیا لیکن اس کے بعد چند عجیب واقعات ہوئے اور ان واقعات نے تاریخ بدل کر رکھ دی۔

مارچ 2018ء میں مجاہد انور خان ائیرچیف مارشل بن گئے، ائیروائس مارشل ظہیر احمد بابر کا بورڈ ہوا، یہ بھی پروموٹ ہو کر ائیر مارشل ہو گئے، پاک ائیرفورس میں اس زمانے میں 50 سے 55 ائیر وائس مارشل ہوتے تھے جب کہ ائیر مارشل کی تعداد چھ یا سات تھی، یہ تھری سٹار جنرلز کے برابر ہوتے ہیں، ان کے کندھوں پر بھی تین ستارے لگتے ہیں اور صرف جی ڈی پائلٹس اس عہدے تک پہنچ پاتے ہیں۔

آپ اللہ کا کرم دیکھیے ظہیر احمد بابر کھڈے لائین پوسٹنگ پر بھی ائیرمارشل بن گئے جس کے بعد یہ ائیرفورس سٹریٹجک کمانڈ (AFSC)کے ڈی جی بنا دیے گئے، یہ کمانڈ بہت اہم ہوتی ہے، ائیرفورس کا میزائل پروگرام اس کے زیرکمانڈ ہوتا ہے، یہ اس لیول تک پہنچ کر سنیارٹی میں چوتھے نمبر پر آ گئے، ان سے اوپر ائیرمارشل سید نعمان شاہ، ائیرمارشل حسیب پراچہ اور ائیر مارشل جواد سعید تھے، ائیرمارشل جواد سعید اور حسیب پراچہ سنیارٹی میں پہلے اور دوسرے نمبر پر تھے، یہ دونوں ایف 16کے پائلٹ اور گہرے دوست تھے، یہ ائیرچیف مارشل مجاہد انور خان کے قریب تھے، ان تینوں کا بہت قریبی گروپ تھا اور یہ روزانہ ائیرکلب میں شامیں اکٹھے گزارتے تھے۔

2018ء میں عمران خان وزیراعظم بن گئے تو ان تینوں نے اپنے ایک ونگ کمانڈر کو وزیراعظم کا اے ڈی سی بنوا دیا، ان کا نام خرم جاوید تھا اور وہ سینیٹر فیصل جاوید کے بھائی تھے یوں ان کی رسائی وزیراعظم تک ہوگئی، یہ تینوں ظہیر احمد بابر کو ناپسند کرتے تھے لیکن کام اور مہارت کی وجہ سے یہ ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے تھے، ائیرفورس کو ائیر مارشل ظہیر احمد بابر کی ضرورت تھی، ائیرفورس میں ائیرچیف کے بعد ڈی سی اے ایس (ڈپٹی چیف آف ائیرسٹاف) ایڈمن اور ڈی سی اے ایس (ڈپٹی چیف آف ائیرسٹارف) آپریشن کے عہدے بہت اہم ہوتے ہیں، یہ وہ دو ٹانگیں ہوتی ہیں جن پر ائیرفورس کھڑی ہوتی ہے۔

2019ء میں جب بھارت نے بالاکوٹ پر ائیرسٹرائیکس کیں تو اس وقت ڈی سی اے ایس آپریشن ائیر مارشل حسیب پراچہ تھے، آپریشن سوفٹ ریٹارٹ (Swift Retart) حسیب پراچہ نے لیڈ کیا تھا جس میں پاک ائیرفورس نے 27 فروری 2019ء کو بھارت کے دو طیارے گرا دیے اور ونگ کمانڈ ابھی نندن کو گرفتار کر لیا، یہ بڑی کام یابی تھی جس کے بعد ائیرفورس کی بلے بلے ہوگئی، اس آپریشن کو تین لوگوں نے کھل کر کیش کرایا، ائیر چیف مجاہد انور، ائیرمارشل حسیب پراچہ اور ائیرمارشل جواد سعید، اس کام یابی نے ان کے اعتماد میں غیرمعمولی اضافہ کر دیا اور یہ اعتماد آگے چل کر ان کے گلے پڑ گیا۔

چکلالہ راولپنڈی میں نور خان ائیربیس ہے، یہ وی وی آئی پی بیس ہے وہاں صدر، وزیراعظم، آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کے جہازوں کے ہینگرز ہیں، دنیا جہاں سے وی وی آئی پی مہمان اس ائیربیس پر اترتے ہیں اور یہیں سے واپس جاتے ہیں، یہ اسلام آباد کے پرانے ائیرپورٹ کے ساتھ ہے، 2018ء میں نیا ائیرپورٹ بن گیا جس کے بعد پرانے ائیرپورٹ کی ہزاروں ایکڑ زمین خالی ہوگئی، یہ زمین ائیرفورس کی نگرانی میں تھی، لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اس زمانے میں ڈی جی آئی ایس آئی تھے، وہ ملک میں آل ان آل تھے، یہ وہاں ڈی ایچ اے بنانا چاہتے تھے جب کہ مجاہد انور، جواد سعید اور حسیب پراچہ اس زمین پر پی اے ایف کی آفیسر کالونی تعمیر کرانا چاہتے تھے۔

عام حالات میں ائیرفورس ڈی جی آئی ایس آئی کو انکار کی جرات نہیں کر سکتی تھی لیکن آپریشن سوفٹ ریٹارٹ کے بعد ائیر فورس پرانی ائیرفورس نہیں رہی تھی چناں چہ ان لوگوں نے جنرل فیض حمید کو صاف انکار کر دیا اور یوں پھڈا شروع ہوگیا، اس تنازعے کا کلائمیکس اس وقت ہوا جب ان لوگوں نے نور خان ائیربیس پر جنرل فیض حمید کے جہاز کا ہینگر بند کر دیا، جنرل فیض حمید اس وقت لینڈ کر رہے تھے جب ان کے پائلٹ کو بیس کمانڈر نے پیغام دیا آپ اگلی بار نور خان ائیر بیس پر نہیں اتریں گے، آپ نئے ائیرپورٹ جائیں اور وہاں اپنے ہینگر کا بندوبست کر یں۔

یہ حرکت جنرل فیض حمید جیسے متکبر شخص کے لیے ناقابل برداشت تھی، وہ سیدھے آرمی چیف کے پاس چلے گئے جس کے بعد بیس کمانڈر کو کوئٹہ ٹرانسفر کر دیا گیا جب کہ اس "گستاخی" پر انکوائری شروع ہوگئی، ڈی جی آئی کے پائلٹ کو یہ حکم تین لوگ دے سکتے تھے، ائیر چیف، ڈپٹی ائیر چیف ایڈمن اور ڈپٹی ائیرچیف آپریشنز، ان تینوں سے پوچھا گیا لیکن یہ ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالتے رہے، بہرحال قصہ مختصر جنرل فیض حمید ائیرمارشل جواد سعید اور حسیب پراچہ سے ناراض ہو گئے اور انہیں کھلے عام دھمکی دے دی "میں دیکھتا ہوں اب تم میں سے کون ائیر چیف بنتا ہے؟"۔

ائیرچیف نے 2020ء میں ائیرمارشل جواد سعید کو ڈی سی اے ایس ایڈمن سے ڈی سی آپریشن بنا دیا، وہ انہیں اگلا ائیرچیف بنانا چاہتے تھے اور اس کے لیے آپریشن کا تجربہ ضروری تھا، اس کے بعد ایڈمن کی سیٹ خالی ہوگئی اور ائیرمارشل ظہیر احمد بابر کو اس پر تعینات کر دیا گیا، ائیر چیف مارشل مجاہد انور انہیں سخت ناپسند کرتے تھے، جواد سعید اور حسیب پراچہ بھی ان کے خوف ناک حد تک مخالف تھے، آپ ان لوگوں کی مخالفت کا اندازہ اس سے لگا لیجیے ایک روز ظہیر احمد بابر کا ڈرائیور ائیرہیڈ کوارٹر میں اوورسپیڈنگ کی وجہ سے پکڑا گیا، اسے جرمانہ کر دیا گیا لیکن ائیرچیف مارشل کے حکم سے گاڑی کے پیچھے بینر لگوا دیا گیا "ڈی سی اے ایس ایڈمن کو جرمانہ کیا گیا" اس پر ظہیر احمد بابر نے بہت احتجاج کیا، ان کا کہنا تھا "ڈرائیور نے اوورسپیڈنگ کی، اسے جرمانہ ہوگیا لیکن مجھے کیوں بدنام کیا جا رہا ہے؟"۔

بہرحال قصہ مختصر مارچ 2021ء میں نئے ائیرچیف کا فیصلہ ہونا تھا، یہ فیصلہ وزیراعظم نے کرنا تھا، سینیٹر فیصل جاوید اور ان کے اے ڈی سی بھائی خرم جاوید کے ذریعے وزیراعظم ہائوس میں فیلڈنگ فکس تھی لیکن جنرل فیض حمید ان دونوں کے مخالف تھے اور وزیراعظم ان کی بات نہیں ٹال سکتے تھے یوں حالات نے اچانک ظہیر احمد بابر کے لیے کام یابی کے دروازے کھول دیے، آپ یہاں ایک اور حقیقت بھی ملاحظہ کیجیے جس طرح فوج میں وہ لیفٹیننٹ جنرل آرمی چیف نہیں بن سکتا جس نے کم از کم ایک سال بطور کور کمانڈر خدمات سرانجام نہ دی ہوں بالکل اسی طرح ائیرفورس میں بھی وہ ائیر مارشل ائیر چیف نہیں بن سکتا جو ڈی سی اے ایس آپریشن نہ رہا ہو یعنی جو آپریشن کے شعبے کا سربراہ نہ رہا ہو، مجاہد انور خان نے انہیں جان بوجھ کر آپریشن سے محروم رکھا تھا تاکہ ان کے تمام امکانات ختم ہو جائیں یوں ظہیر احمد بابر ایک دن بھی ڈی سی اے ایس آپریشن نہیں رہے تھے لیکن قدرت نے ایسے مواقع اور ایسے اتفاقات پیدا کردیے کہ ان کے علاوہ کوئی آپشن نہیں بچا تھا اور یہاں سے بنیان المرصوص کی بنیاد پڑی۔

بہرحال قصہ مزید مختصر 19 مارچ 2021ء کو حافظ صاحب کا بیٹا ائیرچیف بن گیا اور یہ کسی معجزے سے کم نہیں تھا، ان کی زندگی مکمل فلمی تھی، ان کے راستے کی ہر رکاوٹ ویڈیو گیم کی طرح لیتھل اور تباہ کن تھی مگر اللہ تعالیٰ کو پاکستان کا عروج منظور تھا چناں چہ یہ ظہیر احمد بابر، عاصم منیر، اسحاق ڈار اور شہباز شریف جیسے لوگوں کو درجہ بہ درجہ اوپر لاتا چلا گیا، آپ اگر آج پیچھے مڑ کر تفصیلی جائزہ لیں تو آپ ان چاروں کو "شارٹ کورس" کا نتیجہ پائیں گے، فیلڈ مارشل عاصم منیر اوٹی ایس شارٹ کورس کے آفیسر تھے، یہ آفیسر آرمی چیف کے عہدے تک نہیں پہنچتے لیکن جنرل عاصم منیر ریٹائرمنٹ سے تین دن پہلے آرمی چیف بن گئے، ان کا راستہ بھی ہر جگہ روکا گیا، انہیں ڈی جی آئی ایس آئی کی پوسٹ تک سے ہٹا دیا گیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے باوجود انہیں نوازا۔

شہباز شریف کو بھی ہر مقام پر وزیراعظم بننے سے روکا جاتا رہا، ان کا سیاسی کیریئر بھی ظہیر احمد بابر اور عاصم منیر کی طرح چھ سات مرتبہ ختم ہوا لیکن پھر کوئی نیا راستہ نکل آتا تھا اور پکچر دوبارہ شروع ہو جاتی تھی، اسحاق ڈار چارٹرڈ اکائونٹینٹ ہیں اور انہوں نے کبھی سیاست میں آنے کا سوچا تک نہیں تھا، یہ بھی نکالے جاتے رہے لیکن قدرت کو پاکستان کی عزت منظور تھی لہٰذا یہ چاروں اوپر آئے، ان کا گروپ بنا اور پاکستان کے عسکری اور سفارتی عروج کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر نے فضائیہ کا سربراہ بن کر تین کام کیے، ایک ائیرمارشل نعمان شاہ کو برقرار رکھا، عسکری اداروں کی روایات ہیں سینئر یا بیچ میٹس کسی ایک ساتھی کی ترقی کے بعد ملازمت سے استعفیٰ دے دیتے ہیں، اس عمل کو "سپر سیڈ" کہا جاتا ہے، جواد سعید، حسیب پراچہ اور نعمان شاہ سپر سیڈ ہو گئے تھے چناں چہ تینوں نے استعفیٰ دے دیا، نئے چیف نے جواد سعید اور حسیب پراچہ کا استعفیٰ قبول کر لیا لیکن نعمان شاہ سے درخواست کی مجھے آپ کی ضرورت ہے، آپ مہربانی کریں، نعمان شاہ بہت شان دار انسان ہیں، یہ مان گئے اور یہ ریٹائرمنٹ تک ائیر چیف کے ساتھ رہے۔

ائیرفورس میں ان کا کنٹری بیوشن بے مثال تھا، دوم ظہیر احمد بابر نے اولڈ ائیرپورٹ کی جگہ ناسٹپ (NASTP) بنا دیا، یہ پاکستان کا پہلا ائیرو سپیس ٹیکنالوجی پارک تھا، اس ٹیکنالوجی پارک نے آگے چل کر بنیان المرصوص میں نہایت اہم کردار ادا کیا، اس کے نوجوانوں نے واقعی نئی تاریخ رقم کر دی اور نئے ائیرچیف نے چین سے جے 10 طیارے خریدنے کا فیصلہ کیا، یہ اس وقت حماقت محسوس ہورہی تھی لیکن اس فیصلے نے 2025ء میں پوری دنیا کو حیران کر دیا، یہ طیارے کس طرح خریدے گئے تھے، یہ بھی ایک حیران کن کہانی ہے۔۔

جاری ہے۔۔

بہ شُکریہ: جاوید چوہدری ڈاٹ کام

About Javed Chaudhry

Javed Chaudhry is a newspaper columnist in Pakistan. His series of columns have been published in six volumes in Urdu language. His most notable column ZERO POINT has great influence upon people of Pakistan especially Youth and Muslims of Pakistan. He writes for the Urdu newspaper Daily Express four time a week, covering topics ranging from social issues to politics.

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais