کپتان نے جب تبدیلی کا نعرہ بلند کیا تو غالب اکثریت نے اس کو ہوا کا تازہ جھونکا خیال کیا، اس جماعت کے بلند بانگ دعوں سے قوم نے یہ اُمید باندھ لی کہ فرسودہ نظام اب تبدیل ہوگا، اسکی بڑی وجہ یہ تھی کہ ریاست کے تمام ادارے انکی پشت پر تھے، باوجود اس کے وہ کوئی انقلابی اقدامات نہ کر سکے، انکی تمام تر سیاسی سر گرمیاں سیاسی مخالفین کوبرا بھلا کہنے تک محدود رہیں، اقتدار میں آنے سے پہلے میڈیا پر جن خیالات کا وہ اظہار کرتے، پیروکار جس جذباتی انداز میں باہر پڑی دولت کو ملک میں لا کر آئی ایم ایف کے منہ پر دے مارے کے دعوے کرتے، اس سے عوام نے توقع باندھ لی کہ ریاست آئی ایم ایف کی غلامی سے آزاد ہو جائے گی، ان کے دور اقتدار میں مگر قوم مزید مقروض ہوگئی، عدالتی، پولیس، ریونیو، تعلیم، معاشی، پارلیمانی، سماجی نظام میں مطلوب اصلاحات نہ ہو سکیں، ساڑھے تین سال کا عرصہ گزر گیا، نہیں معلوم کپتان کو اقتدار میں لانے والوں منشاء پوری ہوئی یا نہیں مگر عوامی سطح پر سنجیدہ حلقے شدید مایوس ہوئے۔
انکی پارٹی کو جس صوبہ میں حکومت کرتے قریبا دو دہائیاں گز ر چکی ہیں، وہاں کے عوام بھی بدترین گوررننس کی شکایت کرتے ہیں، بدعنوانی کی داستانیں زد عام ہیں، کرپشن فری ریاست کے ایجنڈا کا ڈھونگ رچایا گیا، پارلیمانی مدت میں پارٹی نے دوسرے وزیر اعلی نامزد کئے، خان کے دور حکومت میں بھی وزیر خزانہ بدلتے رہے، بائیس سالہ سیاسی جدوجہدکا ثمر تھا کہ اہم ترین وزارتوں کے لئے پارٹی سے افراد میسر نہ آئے، دوسری جماعتوں سے مستعار لینے پڑے، الیکیٹیبل کی بنیاد پر بنی سرکار نے کپتان کو زندان تک پہنچا دیا یہ طبقہ کپتان کی رہائی اب بے نیاز ہوچکا ہے، رہائی کی بابت چند آوازیں ہی بلند ہوتی ہیں، 9 مئی کے سانحہ کی پاداش میں کارکنان اور عہدہ داروں پر کیا گزر رہی ہے یہ الگ کہانی ہے۔
کے پی کے میں اراکین اسمبلی رہائی سے زیادہ اپنے مفادات کی فکر ہے وہ بلا امتیازحصول کے لئے کو شاں ہیں وزیر اعلی نے اسمبلی میں بیلو پاسپورٹ کی ممبران کو تاحیات فراہمی کی نئی بدعت کا آغاز کیا ہے، اپنے وزیر اعلی نے "تبدیلی" کے تابوت میں گویا آخری کیل ٹھونک دی ہے، جس کا بوجھ اڈیالہ کا قیدی اٹھائے ہوئے تھا، پروٹوکول اور بھاری بھر مراعات کے خلاف کپتان کے بیانہ کی نفی سے وزیر اعلی نے واضع پیغام دیا کہ ہم سب ایک ہیں۔
ہر چند یہ سہولت پارلیمنٹ اور دیگر صوبہ جات میں پہلے سے میسر ہے، اس میں کسی مسٹر اور مولانا کی بھی کوئی تقسیم نہیں، کہا جاتا ہے، پارلیمنٹ سمیت صوبہ جات میں اراکین کی تعداد گیارہ سو کے لگ بھگ ہے، جنہیں بلیو پاسپورٹ ملے ہیں، اس کے علاوہ افر شاہی و دیگر اہم سرکاری و غیر سرکاری شخصیات اس اعزاز سے مستفید ہورہی ہیں۔
قریباً پچاس ممالک میں Viza on arrival صرف انہیں ملتا ہے، جن کے پاس، بلیو، سرکاری، یا سفارتی پاسپورٹ ہوتا ہے، ایک طرف ڈنکی لگا کر جانے والے تعلیم یافتہ نوجوان ہیں، جو جان کی بازی ہار جاتے ہیں، ان کے والدین پر کیا گزرتی ہے، بلیو پاسپورٹ لینے والے اراکین پارلیمنٹ اور انکے خاندانوں نے اس بارے میں کبھی سوچا ہے، عوام کے ووٹ کی بدولت یہ بلیو پاسپورٹ انہیں ملتا ہے؟
سمندر کی لہروں کی نذر ہونے نوجوانوں کے خون کا رنگ اراکین پارلیمنٹ کے بچوں اور خاندان سے کیا مختلف ہوتا ہے، قومی وسائل پر ان کا کوئی حق نہیں، صرف اشرافیہ ہی کا مقدر کیوں ہے کہ ائر پورٹ پر انہیں تو پروٹوکول ملے اور والدین کی جائیداد بیچ کر بیرون ملک جانے والوں کو آف لوڈ کیا جائے، اراکین پارلیمنٹ کو اس لئے ممبر منتخب کیا جاتا ہے کہ وہ صرف اپنی ہی مراعات میں اضافہ کرتے رہیں، عوامی مسائل سے انہیں کوئی سروکار نہ ہو، تین بڑی سیاسی اور علاقائی، مذہبی جماعتوں کو مرکز اور صوبہ جات میں دو دہائیوں سے زیادہ مدت کے لئے اقتدار ملا ہے، مگر کہیں بھی قابل رشک صورت حال نہیں ہے، کسی بھی شہری کی جان مال، عزت، آبرو محفوظ نہیں ہے، بشمول کشمیر امن وامان کی صورت حال نا گفتہ بہہ ہے، بیرون سرمایہ کاری، برآمدت میں اس خطہ میں سب سے پیچھے ہم ہیں۔
اپنوں اور دوستوں پر مشتمل وزراء کی فوج ظفر موج مگر کوئی ادارہ مثالی نہیں، عدلیہ، افر شاہی کی بھاری بھر مراعات کی دنیا میں مثال نہیں مگر عام آدمی مہنگائی سے تنگ، بے روزگاری کی بدولت برین ڈرین ہو رہا ہے، اداروں میں اصلاحات لانے کی بجائے انہیں ٹھیکیداروں کے حوالہ کیا جارہا ہے، پورے کے پورے خاندانوں کو بلیو پاسپورٹ کی سہولت وہ بھی تاحیات دی جارہی ہے، ترقیاتی فنڈز اس کے علاوہ ہیں، مراعات لینے کی بابت کوئی اختلافی آواز پارلیمنٹ میں سنائی نہیں دیتی۔
فیملی، فرینڈ پیکج کے لئے عوام ووٹ دیتے ہیں کہ اراکین پارلیمنٹ وصوبائی اسمبلی کوشرافیہ کا کلب بنا دیں؟
تاج برطانیہ کے قانون اور نظام کو کس نے ختم کروانا ہے، پولیس کلچر میں تبدیلی، عدالتی اصلاحات لانا، صوابدیدی فنڈز اوراختیارات، پروٹوکول کا خاتمہ کیا پارلیمنٹرین کی ذمہ داری نہیں؟
حد ہے کہ بھاری تنخواہیں لینے کے باوجود کورم پورا نہیں ہوتا، یہ بھی شنید ہے کہ حاضری کا بائیو میٹرک نظام پارلیمنٹ میں اس لئے نافذ نہیں کیا جاتا کہ اراکین ایک دوسرے کی حاضری لگائیں، غیر حاضر ممبر تنخواہ اور دیگر مراعات لے سکے، ایسے ممبران مقروض عوام کے ہمدرد اور خیر خواہ سکتے ہیں؟
ان اراکین کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے، جو عوامی ایشوز پر بات کرتے ہیں، غالب تعداد پارلیمانی مدت میں صرف اپنی حاضری لگوا کر ووٹرز کو اپنی موجودگی کا احساس دلاتی ہے۔
مہذب ممالک میں پارلیمنٹ، صوبائی اسمبلیاں قانون سازی کرتی ہیں، ترقیاتی کام کروانا میٹروپولیٹن، ضلع، تحصیل کونسلز کے منتخب نمائندوں کا کام ہے، اشرافیہ پر مبنی اراکین پارلیمنٹ کو یہ منظور نہیں کہ ترقیاتی بجٹ ان کے ہاتھ لگے، الیکشن اسی لئے نہیں کروائے جاتے۔
عوام ووٹ اس لئے دیتے ہیں کہ پارلیمنٹ ان کے دکھوں کا مداوہ کر ے، کلیدی اصلاحات کو نافذ کر سکے عام شہری کی حیاتی سکھی ہو، وڈیروں، گدی نشینوں، سرداروں، جاگیر داروں کے چنگل سے عوام آزاد ہوجائے۔
وہ سیاسی پارٹیاں جونئے پاکستان یا تبدیلی کا بھاشن دیں، ووٹ کو عزت دو کی بات کریں، یا جمہوریت بہترین انتقام ہے کی صدا لگائیں، آئین کی بالا دستی کا راگ آلا پیں، مسٹر ہوں یا مولانا ان کے اراکین ایک ہی سیاسی کشتی کے سوار ہیں، بلیو پاسپورٹ سے وہ اپنے خاندان اور بچوں کا مستقبل محفوظ بنانا چاہتے ہیں، انہیں اس سے کوئی سروکار نہیں کہ قوم کے کروڑوں بچے سکول سے باہر کیوں ہیں۔