Friday, 06 November 2026
  1. Home/
  2. Khalid Mahmood Faisal/
  3. Balochistan Ke Sehra Mein Molana Ki Azan e Sehar

Balochistan Ke Sehra Mein Molana Ki Azan e Sehar

گوادر کی ساحلی پٹی میں مچھیرے کے گھرمیں پیدا ہونے والے بچے سے ایسی یہ توقع تو نہ تھی، کہ بڑاہوکروہ اس نظام کو بھی چیلنج کردے گا، جس نے صوبہ بھر کے سرداروں کو سیاسی تحفظ فراہم کر رکھا ہے اس سیاسی ماحول میں عام افراد کو سردارسزا، جزا ہی نہیں دیتا بلکہ انکے خاندانی فیصلے کرنے پر بھی قادر سمجھا جاتا ہے، تعلیمی اداروں کی ضرورت ہے یا نہیں، شفاخانے، ہسپتال تعمیر ہو سکتے ہیں، یہ فیصلہ بھی سردار ہی کو کرنا ہوتا ہے، انکی تعمیر کی اجازت بھی سردار سے ملتی ہے، قبیلہ کا عام بچہ یا بچی حصول علم کے لئے کسی دوسرے شہر یا ملک جاسکتے ہیں سردار کی منشاء اس میں بھی شامل ہوتی ہے، ہاری کھیت سے کتنی مقدار میں فصل اٹھا سکتا ہے، اس کا حکم بھی سردار یا اس کا کارندہ دے گا، لڑکے اور لڑکی کی شادی میں قبیلہ کے سردار کی رضامندی باعث اعزاز سمجھی جاتی ہے، عہد جہالت کی روایت، کاروکاری کے جرم کا فیصلہ بھی سردار کی گولی کرتی ہے، باپ سردار کو یہ بتا کر خوشی محسوس کرے کہ اس کے بچے نے اعلی تعلیم حاصل کی ہے تو وہ لڑکے جسم پر شہد ڈلوا کرچیونٹیاں چھڑوادے، ایک بلوچ سردار نے اس حق کو بھی استعمال کیا ہے سردار کا گاڑی چڑھاکر ڈیوٹی پر موجود ٹریفک کانسٹیبل کو موت کی نیند سلا دینا تو کل کی بات ہے۔

ایم پی اے ایسا جس کا کسی سرادری قبیلہ سے کوئی تعلق نہیں، صوبائی اسمبلی میں سرداری نظام کے خاتمہ کی اس کا قرار داد لانا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا، حیرت تو یہ ہے، اس کی مخالفت اس اپوزیشن لیڈر نے کی، جن کا شجرہ نسب معروف مذہبی جماعت سے ملتا ہے، جو دہائیوں سے نفاذ اسلام کے نام پر سیاست کررہی ہے، سرداری نظام کا خاتمہ جبکہ انبیاء کی سنت ہے نجانے کس کی خوشنودی کے لئے وہ آپے سے باہر ہو ئے۔

ساحل مکران سے"حق دو گوادر کو" جس تحریک کا آغاز ہوا، روح رواں مولانا تھے، مردو خواتین سب شریک تھے، غیر قانونی ٹالزز، پانی، بجلی کی قلت، گوادر ہارڈر ٹریڈ اور سیکورٹی چیک پوسٹس پر عوامی مشکلات کے خلاف اپنی صدائے احتجاج انہوں نے بلندکی، 2021 میں شربندن کے مقام پر احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مولانا ہدایت الرحمان نے کہا کہ وہ اگر جماعت اسلامی سے منسلک نہ ہوتے تو علیحدگی پسند لیڈروں کے ساتھ پہاڑوں پر ہوتے، اس تحریک کے نتیجہ میں انہیں جیل بھی جانا پڑا۔

2024 کے انتخابات کے نتیجہ میں وہ گوادر سے ممبر اسمبلی منتخب ہوئے، اسی پلیٹ فارم سے نہ صرف سرداری نظام کے خاتمہ کی قرار داد پیش کی، بلکہ انہوں نے سرداروں سے مخاطب ہو کر کہا کہ بھاری بھر دولت رکھنے کے باوجود اپنے قبیلہ کے لوگوں کے لئے کوئی سرکاری یونیورسٹی، ہسپتال انہوں نے کیوں نہیں بنایا، تاکہ قبیلہ کے لوگ مستفید ہوتے، اس توانا آواز نے سرداروں کو عوامی کٹہرے میں لا کھڑا کیا۔

تاریخ شاہد ہے ریاست بہاولپور کے نوابوں نے الحاق پاکستان کے بعد بھی تعلیمی خدمات کا سلسلہ جاری رکھا تھا، سکول کالجز بنائے، عباسیہ خاندان کے دور میں مصر کی جامعہ الازہر کی طرز پر دینی اور عصری علوم کے لئے جو ادارہ قائم کیا اس کو 1975 میں یونیورسٹی کا درجہ دے دیا گیا، نواب صادق کے نام سے معروف پبلک سکول بھی عباسیہ خاندان نے قائم کیا، بلوچستان کے ممتاز، بااثر خاندانوں، نوابوں اور سرداروں کے بچے مذکورہ سکول میں زیر تعلیم رہے، اسی طرح ملتان کے گیلانی خاندان کی تعلیمی خدمات بھی قابل تحسین ہیں، مخدوم سید صدر الدین گیلانی نے قیام پاکستان سے پہلے انجمن اسلامیہ کی بنیاد رکھی اور پہلا تعلیمی ادارہ قائم کیا، اس وقت مسلم بچوں کو ہندووں کے سکول میں داخلہ لینے میں مشکلات پیش آتی تھیں، بعد ازاں بھی اس خاندان نے کالجز اور سکول قائم کرکے تعلیمی ترقی میں اپنا کردار کیا، دلچسپ امر یہ ہے کہ سکھوں نے خالصہ کے نام سے قیام پاکستان سے پہلے تعلیمی ادارے قائم کئے، 1921 میں برطانوی سول انجینئر سر گنگا رام نے لاہور میں ہسپتال قائم کیا۔ پنجاب کی برسر اقتدار سیاسی فیملی نے بھی ذاتی طور پر شعبہ طب کا معروف ادارہ قائم کیا ہے۔

برطانوی عہد کے رابرٹ سنڈیمن کے دور نظام میں 1876 کے بعد بلوچ سرداروں کے بچوں کوخصوصی وظائف دیئے جاتے، انہیں حصول تعلیم کے لئے بیرون ملک بھیجا جاتا، مگر یہ سہولت عوام یا غریب تک نہیں پہنچائی گئی، بلوچستان میں سرداروں، نوابوں کی جانب سے عام عوام کے لئے تعلیمی ادارے، شفاخانوں کے قیام کا کوئی تاریخی ریکارڈ میسرنہیں البتہ ان کے بچے اب بھی بیرون ملک تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

مولانا ہدایت الرحمان بلوچستان کی پسماندگی کا ایک بڑا سبب سرداری نظام کو گردانتے اور اس کے خاتمے کے متمنی ہیں، بدترین امن و امان، تعلیمی و سماجی پسماندگی، جہالت، غربت، معاشی ناہمواری، بے روزگاری، بھوک، افلاس کو بھی وہ مذکورہ سرداری نظام سے جوڑتے ہیں، خضدار کے علاقہ میں ایک استاد اور اس کی بیٹی کے علاوہ دیگر رشتہ داروں کے قتل کے پیچھے وہ بااثر سرداروں کا ہاتھ دیکھتے ہیں، پوائنٹ آف آرڈر پر مولانا نے صوبائی اسمبلی میں بااثر شخصیات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس سانحہ میں ملوث افرادکو سرداروں کی سرپرستی حاصل ہے، جو انکی پناہ میں رہتے ہیں، مولانا ہدایت الرحمان نے کہا کہ بلوچستان کا عام آدمی اس وقت سرادروں، نوابوں سے زیادہ مظلوم ہے۔

دعویٰ یہ کیا جاتا ہے، 1976میں بھٹو نے بلوچستان سے سرداری نظام کا خاتمہ کیا گیا، جس طرح پنجاب اور سندھ سے جاگیرداری نظام کا خاتمہ بھی کا غذوں میں کیا ہے، عملا یہ طبقہ اِس وقت بھی اپنی پوری آب وتاب سے پارلیمنٹ میں موجود ہے۔ علاوہ ازیں مذکورہ طبقات نے اہل اقتدار سے مالی و دیگر بھاری بھر غیر ضروری مراعات ہر عہد میں لی ہیں چاہے وہ دور سیاسی تھا یا غیر سیاسی۔

سوشل میڈیا پر مولانا کے مطالبہ کوبھر پور پذیر ائی ملی ہے، سول سوسائٹی اور میڈیا کو بھی انکی آواز میں اپنی آواز شامل کرناہوگی، ڈیجیٹل دور ہی کا یہ فیض ہے کہ سرداروں، نوابوں کے خلاف اظہار خیال کا موقع عام شہری کو میسر آیا ہے، عام بلوچ تو اس منفی پروپیگنڈہ کا اسیر رہا ہے کہ ان کے حقوق بڑے صوبہ نے دبا رکھے ہیں، باوجود اس کے بلوچستان میں ہر قبیلہ باری باری اقتدار کے مزے اور بھاری بھر سرکاری مراعات سے مستفید ہوتا رہا، جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی نے سرداری نظام کے منفی اثرات اور سماجی خدمات سے لا تعلق رہنے پر ان پر کاری ضرب لگا کر بلوچستان کے صحر ا میں مولانا ہدایت الرحمان نے اذان سحر دی ہے۔

Check Also

Jamhuriat Aur Awami Masail: Falsafa Aur Haqiqat Ka Fasla

By Unzila Siddiqui