Friday, 11 September 2026
  1. Home/
  2. Khalid Mahmood Faisal/
  3. Jamaat e Islami Ki Parliament

Jamaat e Islami Ki Parliament

حلقہ احباب میں سے ایک آٹو مارکیٹ میں کام کرتے ہیں، بر سبیل تذکرہ پوچھا کہ کاروبار کیسا چل رہا ہے، گویا ہوئے چار ماہ سے صورتحال مایوس کن ہے، پڑول کی روزانہ کی بنیاد پر بڑھتی قیمتیں اسکی بڑی وجہ ہے، جسکی فرد کی کمائی حلال ہے، وہ باامر مجبوری گاڑی نکالتا ہے، پھر اوپر سے مہنگائی اتنی ہے، مشکل وقت آن پہنچا ہے، دوسرا روزگار کے مواقع بھی محدود ہیں، گھر کا ایک فرد کمانے والا ہو تو معاملہ اور بھی سنگین ہو جاتا ہے، لگتا ہے ترقی اور خوشحالی کا عمل رکا ہوا ہے، جب گاڑیاں نہیں چلیں گی تو کام نہیں نکلے گا، ہمارا روزگار تو ان سے وابستہ ہے۔

بقول ان کے پٹرول ایسی آٹیم ہے جس کے اثرات ضروریات زندگی پر پڑتے ہیں، جن سے گھر کا چولہا چلتا ہے، سفر بھی مہنگا ہو جاتا ہے، ارباب اختیار کے دورے بھی بیرون ملک سے سرمایہ کاری لانے میں ناکام نظر آتے ہیں، ان کا خیال ہے، سرکار اگر پٹرول پر غیر ضروی ٹیکس کم کرے، تو بھی عوام کو ریلیف مل سکتا ہے، یہ اضافی ٹیکس دراصل لیوی ہی تو ہے، جس کی آگاہی امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان دے اور اسکے، خاتمہ کے لئے سراپا احتجاج ہیں، وہ گویا ہوئے کہ نجی ٹی وی پر ان کی گفتگو سن رہا تھا کہ 2025 میں موجودہ پارلیمنٹ نے لامحدود لیوی لگانے کی اجازت سرکار کو دی، کس قدر المیہ ہے کہ ایک لیٹر پر ایک سو روپئے کے قریب فی لیٹر لیوی ٹیکس لیا جارہا ہے، سماج کے وہ افراد جو زکوۃ کے مستحق ہیں وہ بھی یہ ٹیکس روزانہ کی بنیاد پر دیتے ہیں، مہنگا پٹرول اس کے علاوہ ہے، موٹر سائیکل تو عام آدمی کی سواری اور گھر کی ضرورت ہے، شہری ہر چیز پر ٹیکس ادا کررہے ہیں، پٹرول کی لیوی اور اضافی ٹیکس اب سرکاری بھتہ کی شکل اختیار کر گیا ہے۔

کہنے لگے اراکین اسمبلی کو اس لئے وہ ووٹ دیا گیا کہ وہ عوام کی مشکلات میں اضافہ کریں، کیسا دوہرا معیار ہے کہ جب اراکین پارلیمنٹ کو اپنی مراعات میں اضافہ کرنا ہوتا ہے یہ یک جان دو قالب ہوتے ہیں، عوامی ریلیف کی بات آتی ہے تو انکے باہم اختلافات ہو جاتے ہیں۔

اس وقت اپوزیشن کے سو سے زائد اراکین ہیں، پڑولیم لیوی، آئی پی پییز کے خاتمے کے حوالہ سے پارلیمنٹ میں قبرستان کی سی خاموشی ہے، مہنگائی، بے روزگاری، امن و امان کی صورت حال نے عوام کا جینا دو بھر کردیا ہے، یہ کیسے عوامی نمائیدگان ہیں جن کے سینے میں پتھر کا دل ہے، ان میں " تبدیلی"پارٹی کے اراکین بھی شامل ہیں کیا مسٹر اور مولانا اس جرم میں سب برابر شریک ہیں جنہوں نے پٹرولیم لیوی اور بجلی میں اضافی ٹیکسوں کے ایکٹ منظور کئے ہیں، آپ کو یاد ہے کہ مقروض قوم کو بذریعہ ہیلی کاپٹر وزیر اعظم ہاوس سے گھر جانے کا ایک ارب کا خرچ بھی برداشت کرنا پڑا، مغربی حکمرانوں کے سائیکل پر دفتر جانے کی مثالیں جو دیتے تھے، سب سے زیادہ ملکی قرض ان کے عہد میں لیا گیا، کرپشن روکنے میں بھی وہ ناکام نظر آئے۔

حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے، کہ اس ملک میں اڑھائی کروڑ موٹر سائیکل جبکہ 40 لاکھ گاڑیاں ہیں، یہ وہ کلاس ہے جو کسی طرح بھی ٹیکس ادائیگی کے قابل نہیں ہے، اس کے باوجود وہ پٹرول کی شکل میں لیوی ٹیکس دینے پر مجبور ہے دوسری طرف بڑے جاگیر دار، وڈیرے، سرداروں کو ٹیکس نیٹ ورک سے جان بوجھ کر باہر رکھا گیا، ان کا معاشی بوجھ بھی عام شہری اٹھا رہا ہے۔

برآمدات بتدریج کم ہورہی ہیں، بیرونی سرمایہ کاری ندارد، کاروبار مملکت زر مبادلہ، لیوی اور بجلی کے بھاری بھر ٹیکسوں سے چلایا جاریا ہے۔

ایف بی آر کی فوج ظفر موج ٹیکس کا ٹارگٹ حاصل نہیں کرسکی ہے بلکہ 1300 ارب کی کرپشن کی داستانیں ذد عام ہیں، مقام حیرت ہے کہ چالیس کا تجربہ رکھنے کے باوجود حکومت کی ناکامی نوشتہ دیوار ہے، تجربہ کار ارباب اختیار نے1500 ارب سے زائد لیوی کا ڈاکہ عوام کی جیبوں پر مارا ہے۔

دوست کہنے لگے، آئی ایم ایف نے کیسا قانون بنا رکھا ہے، جو عام شہری کو ریلیف دینے پر فوراً حرکت میں آجاتا ہے مگر اشرافیہ کی عیاشیوں پر چپ سادھ لیتا ہے، حافظ نعیم الرحمان کا یہ مطالبہ کہ نامساحد حالات میں اشرافیہ کو رضا کارانہ طور اپنی مراعات سے دستبردار ہونا چاہئے اور چھوٹی گاڑیوں کا استعمال کرنا چاہئے تاکہ پٹرول کی درآمد پر آنے والے اخراجات کم ہو، برمحل ہے، محمد خان جونیجو کے عہد کی مثال موجود ہے ساری افسر شاہی کو ایک ہزار سی سی کی گاڑیوں میں بٹھا دیا تھا، وہ خود وزیر اعظم ہاوس کی لائیٹس بند کیا کرتے، اُس وقت کے آمر اقتدار میں انہیں لائے، انہوں نے بلا تاخیر کہا کہ مارشل لاء اور جموریت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے، اس کے برعکس "تبدیلی" والے صاحب اقتدار ہوکر اسٹیبلشمنٹ کے گن گاتے رہے، ہائی بریڈ سسٹم لانے کے جرم میں وہ برابر کے شریک ہیں، جسکی بدولت عوام کا جینا محال ہوا ہے۔

جماعت اسلامی کے دھرنوں کے نتیجہ میں حکومت اور جماعت کی قائم کردہ کمیٹیوں میں مذاکرات کا ایک دور ہوچکا ہے، حقائق پر مبنی تجاویز پر عمل درآمد سے ریلیف کا راستہ نکل سکتا ہے۔

پارلیمانی طرز حکومت میں اولین ذمہ داری اپوزیشن کی بھی ہے کہ عوامی مسائل سے نہ صرف آگاہ ہو بلکہ حل بھی تجویز کرے بدقسمتی سے "تبدیلی" پارٹی کے اراکین اسٹینڈنگ کمیٹیوں کا بائیکاٹ کرنے کے باوجود پارلیمنٹ کی تمام تر مالی مراعات لے رہے یہ ان کا غیر جمہوری رویہ ہے، تاہم پلڈاٹ کی رپورٹس اس بات کی شاہد ہیں کہ جماعت اسلامی سے وابستہ افراد کو جب بھی پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں جانے کا موقع ملا انہوں نے عوامی نمائندگی کا پورا پوراحق ادا کیا۔

المیہ ہے کہ پارٹی کارکنان اپنی اپنی پارٹی کا احتساب کرنے کی بجائے وہ اس جماعت کو حرف تنقید بنارہے ہیں، عوامی ایشوز پر دھرنوں کی صورت میں جس نے اپنی پارلیمنٹ سجا رکھی ہے، تمام مکتبہ فکرکے لوگ اپنے خطبات میں عوامی ایشوز کو اپنا موضوع بنا رہے ہیں، میڈیا پرسن نے اعتراف کیا، کہ سیاسی تاریخ میں پہلی دفعہ عوامی مسائل پر دھرنا دیا گیا، اگرچہ مسائل کو اجاگر کرنا اور انکا حل پیش کرپارلیمنٹ کا کام ہے، مگر یہ سعادت جماعت اسلامی کے امیر محترم حافظ نعیم الرحمان کے حصہ میں آئی، تاہم سندھ اسمبلی کے اراکین نے عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے، لیوی ٹیکس کے خلاف متفقہ قرار داد منظور کی ہے، جماعت اسلامی سے وابستہ محمد فاروق ممبر اسمبلی نے اسے پیش کیا تھا، نہیں معلوم جماعت اسلامی کو پارلیمنٹ سے باہر رکھنے میں کس کس کا مفاد پنہاں ہے؟

Check Also

Karobar e Hayat, Hamari Nasal Aur Tawazum Ki Talash

By Unzila Siddiqui