نہیں معلوم ایران کے سکول میں امریکی بمباری سے شہادت کا رتبہ پانے والی طالبات نے اپنے نصاب میں امن کے قیام کے لئے عالمی ادارہ اقوام متحدہ کے بارے پڑھا بھی ہوگا یا نہیں، مگر انہیں کامل یقین تھا کہ د وسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کے عالمی راہنماؤں نے مل بیٹھ کر جس نئے عالمی ادارہ کی بنیاد رکھی، جس کے چارٹر پر دنیا کے حکمرانوں نے اپنے قلم دستخط ثبت کرکے قیام امن کا عہد کیا تھا، کیونکہ اس کا اہم اور کلیدی مقصد تو یہی تھا، کہ جس طرح پہلی عالمی جنگ میں انسانوں کے خون کی ہولی کھیلی گئی تھی۔
اس رویہ کو ہر صورت میں روکا جائے یہ تبھی ممکن ہے عالمی سطح پر ایک ایسا ادارہ ہو جو ممالک کے مابین کسی بھی نزاع کی صورت میں فوری متحرک ہو جائے اور امن کے قیام کو یقینی بنائے، المیہ مگر یہ ہوا اس ادارہ کی موجودگی میں 160 طالبات گولہ باورد کی نذر ہوگئیں جب وہ اپنے تعلیمی ادارہ میں اپنے اپنے کلاس رومز میں موجود تھیں، انہیں گمان تھا کہ عالمی ادارہ جنگ میں بھی انہیں تحفظ دے گا، صد افسوس! ان پر بم گرانے والے وہ ممالک ہیں جو دنیا میں ترقی یافتہ اور مہذب کہلاتے ہیں، جن میں شرح خواندگی سب سے زیادہ جن میں بہت سی غیر سرکاری تنظیمیں موجود ہیں، جو ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک میں تعلیم کے فروغ کے لئے کام کر رہی ہیں۔
معصوم اور بے گناہ طالبات پر بم برسانے والوں میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جنہیں اُس وقت بہت قلق ہوا جب سوات میں ایک طالبہ کو شدت پسند گروہ کی طرف سے نشانہ بنایا گیا، اس وقت تمام این جی اوز متحرک ہوگئیں، طالبہ کو سوات سے اٹھا کر بیرون ملک لے جایا گیا، عالمی سطح پر اس کو تعلیم کی علامت بنا دیا گیا کہ اس باہمت طالبہ نے لڑکیوں کی تعلیم کے حق میں آواز اٹھائی تھی، اس لئے نشانہ بن گئی، عنایات کی اس پر بارش ہوئی 2014 میں اسے نوبل انعام بھی دے دیا گیا، کیا اس کے خون کا رنگ ایران میں شہید ہونے والی طالبات سے مختلف تھا کیا یہ بچیاں تعلیمی ادارہ میں زیر تعلیم نہ تھیں، اس سے یہی سمجھا جاسکتا ہے کہ دنیا میں جنگ، امن، محبت، نفرت کے پیمانے الگ الگ ہیں، ان کا تعلق انسانیت سے نہیں بلکہ مفاداتی، سیاسی پالیسیوں سے ہے۔
معصوم بچیوں پر بمباری کرنے والے نہیں جانتے کہ انہوں نے 1949 میں عالمی برادری کے ساتھ مل کر عالمی قوانین بنائے ہیں جس کی بنیادی شق ہی عام شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے، جینوا کنونشن میں دی ہوئی شرائط کے باوجود جس طرح دنیا میں کشت و خون جاری ہے، یہ اس بات کی عکاس ہے کہ یہ دنیا اب کتابی بن گئی ہے، جنگی قوانین، انسانیت کے تحفظ کے لئے چار بین الاقوامی معاہدوں کا مذکورہ کنونشن پر مشتمل سیٹ بے معنی ہو چکا ہے، Rule of law کی بجائے اب Choice of war کی دنیا پر حکمرانی ہے۔
اس عالم کو جہنم بنانے والوں کی راہ میں نہ کوئی عالمی عدالت انصاف رکاوٹ بنتی ہے نہ ہی سلامتی کونسل بدمست عالمی راہنماؤں کو لگام ڈال سکتی ہے، انکی بشری کمزوریوں کی سزا دنیا میں معصوم اور بے گناہ افراد کو مل رہی ہے، وسائل کی لوٹ کھسوٹ کی جنگ کا ایندھن بننے والے یہ بچے کن کے ہاتھوں پے اپنا لہو تلاش کریں گے، جن والدین کی گود اجڑی ہے وہ کس سے انصاف طلب کریں گے، باضمیر حکمران کب دنیا کا مقدر ہوں گے جو اخلاقی طور پر اپنی سنگین غلطیوں کا اعتراف کرکے اس کو امن کا گہوارہ بنائیں گے؟
اقوام متحدہ کا قیام اور آج کی عالمی بدامنی کا تقابلی جائزہ لیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے، یہ عالمی ادارہ اس وقت ناکامی کے دہانے پر ہے، دنیا کو جنگ کی تباہ کاریوں سے بچانے، اقوام کے درمیان دوستانہ تعلقات کو فروغ دینے، اقتصادی، سماجی تعاون بڑھانے، انسانی حقوق کی پاسداری کرنے میں بری طرح ناکام ہوا ہے۔
اس ناکامی کی بڑی وجہ سپر پاور پر دست شفقت رکھنا، عالمی فورم سے قرار دادوں کی منظوری کی آڑمیں غریب اور ترقی پذیر ممالک پر حملہ آور ہونے کاسرٹیفکیٹ جاری کرنا ہے۔
مہذب دنیا میں یہ تصور ممکن نہ تھا کہ اقوام متحدہ اور جنیوا کنونشن کے معاہدات کی موجودگی میں غزہ کے بچوں کی لاشوں کو فارسفوس بموں سے مسخ کیا جاتا، ہسپتالوں پر حملے کئے جاتے، یہ سب کچھ آج کی ڈیجیٹل دنیا میں اقوام متحدہ کی ناک کے نیچے ہوتا رہا، یہ تمام اقدامات جنگی جرائم میں شامل ہیں۔
عالمی راہنماؤں کے دوہرے معیارات ہیں، روس اگر یوکرائین میں ہسپتالوں پر بمباری کرے تو امریکی صدر ہم منصب کو جنگی جرائم کا مرتکب قرار دیں، لیکن جب غزہ کے بچوں لاشوں کو جلایا جائے عالمی ضمیر بیدار ہو اسرائیل کے خلاف قرار سلامتی کونسل میں لائی جائے تو امریکہ بہادر اسے ویٹو کر دے، اسی نورہ کشتی نے اقوام متحدہ کے ادارہ کو ناکام بنانے میں فعال کردار ادا کیا ہے، بغیر قوت نافذہ عالمی ادارہ ایسے ہی مفلوج رہے گا، اس پر سوچ و بچار ہونا وقت کی ضرورت ہے۔
مذکورہ جنگ کی بھاری قیمت دنیا کے ترقی پذیر ممالک کے عام شہریوں کو ادا کرناپڑ رہی ہے، بد امنی سے معشیت پر دباؤ بڑھ رہا ہے، ظالم اور مظلوم کے مابین ایک کی انا اور دوسرے کی بقاء کی یہ جنگ ہے، جس سے پورا عالم خطرے میں ہے، جنہوں نے جنگوں کو روکنے کا نعرہ مستانہ لگایا تھا، وہی اس کے سرخیل بھی ہیں، ایسے ارباب اختیار کی حماقتوں کی قیمت دنیا پہلے بھی ادا کر چکی ہے، عراق، لیبیا، شام، لبنان، افغانستان کی تباہی کے بعد نجانے کس منہ سے انسانی حقوق کی پاسداری کی بات کی جاتی ہے، جمہوریت، امن پسندی کی باتوں اور دعوں سے منافقانہ پالیسیوں کی بو آتی ہے۔
اقوام متحدہ کے ذمہ داران کو یہ آئینہ دکھانے کے لئے کافی ہے کہ غزہ میں بچوں کی ہلاکتیں گذشتہ چار سالوں میں دنیا کے تنازعات سے زیادہ ہیں۔ بچوں، خواتین، بوڑھوں کے ساتھ ایسی بربریت اور لا قانونیت تو شائد لیگ آف نیشنزکے عہد میں بھی نہیں ہوئی ہوگی، جس کی ناکامی نے اقوام متحدہ کے قیام کی ضرورت کو محسوس کیا۔
جنیوا کنونشن میں تحریر کردہ الفاظ اپنی قدرو قیمت کھو چکے ہیں؟ اقتصادی اور سماجی ناانصافی عالمی سطح پر شدت پسندی کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے، ریاستی دہشت گردی نے اقوام متحدہ کے قوانین کو ہوا اڑا کر پورے عالم کو جنگل بنا دیا، جہاں مرضی کا قانون بزور طاقت نافذ ہے مگر زہرہ نگاہ معترف ہیں کہ سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے، آج کے بادشاہ نما حکمران کیا جانوروں سے بھی بدتر ہوگئے جو کسی قانون یا دستور کے احترم سے بالکل عاری ہیں؟