Friday, 10 July 2026
  1. Home/
  2. Khalid Mahmood Faisal/
  3. La Parwahi Ka Culture

La Parwahi Ka Culture

سرحدی علاقہ سے ملحقہ غریبوں کی بستی میں ایک غریب کی چھت کیا گری کہ اس کے مکینوں کے خواب بکھر گئے، انہیں کیا معلوم تھا کہ وہ اپنے پیارے بچوں کو آخری بار گھر میں قائم نجی اکیڈیمی بھیج رہے ہیں، یہ بچے انکے خاندان کا ہی نہیں پاکستان کا بھی مستقبل تھے، اپنی غربت کا خاتمہ انہیں بچوں کی تعلیم میں نظر آرہا تھا، والدین سمجھتے تھے، کہ بغیر سرمایہ کاری کے نیم متوسط طبقہ میں خوشحالی کا واحد راستہ خاندان کو تعلیم سے آراستہ کرناہے، مگر چھت کے ملبہ کے نیچے ان کی خواہشات اور آرزوئیں بچوں کی موت کی صورت میں پڑیں تھیں۔

کاہنہ میں ایسا دل خراش سانحہ جس سے ہر آنکھ اشک بار تھی، اس آبادی میں دس سے زائد بچوں اور بچیوں کے جنازے ایک ساتھ اٹھے تویہ قیامت کا منظر تھا، ان معصوموں نے تو ابھی زندگی کی کئی بہاریں دیکھنا تھیں، مگر زندگی نے مہلت نہ دی، انسانوں کی غفلت نے انکی زندگی چھین لی، تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ لاپرواہی کے اس کلچر کی نذر یہ بچے ہو گئے، جس کا مظاہرہ ہمارے ہاں ہر لمحہ اور سو ہوتا ہے۔

نہیں معلوم کاہنہ کی اس معلمہ کی نظر سے ڈیرہ غازی خان کے پرائیویٹ سکول میں چھت گرنے سے چار بچوں کی ہلاکت کی خبر گزری تھی یا نہیں، قریباً دوماہ قبل اسی نوعیت کا واقعہ پیش آیا تھا، دوسری منزل پر اضافی تعمیراتی سامان کی وجہ سے کمزور چھت اور لوڈ ہوگئی، بوسیدہ چھت مگر بوجھ برداشت نہ کرسکی اور پہلی منزل کے کلاس روم پر آگری نتیجہ بچوں کی ہلاکت کی صورت میں نکلا جو کمرہ میں زیر تعلیم تھے، اسی سے ملتا جلتا سانحہ کاہنہ میں پیش آیا چھت کی مرمت جاری تھی، بچے کمرہ میں پڑھ رہے تھے کہ کمزور چھت ان پر آگری۔

دونوں واقعات میں لاپرواہی کے ساتھ پر وفیشنل ازم کی خاصی کمی دکھائی دیتی ہے، مہذب دنیا میں تعمیراتی کام صرف وہی فرد انجام دے سکتا ہے، جو اسکی مہارت اور اسکی سند رکھتا ہو، ایسے کاموں سب سے زیادہ توجہ سیفٹی کے راہنماء اصولوں کو دی جاتی ہے، مگر دونوں واقعات میں بچوں کی ہلاکتیں بتاتی ہیں، تحفظ، سیفٹی، بچاؤ کے تمام اصولوں کو یکسر نظر انداز کیا گیا۔

مذکورہ واقعات میں شریک افرا درس و تدریس سے وابستہ تھے، سیفٹی اصولوں کے لئے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں تھی، دوران کام طلباء و طالبات کو اس عمل سے دور رکھنا یا انہیں رخصت دینا تھا تاکہ کوئی حادثہ نہ ہو، دونوں واقعات میں مجموعی طور پر20 بچے لقمہ اجل بنے، ڈیرہ غازی خان میں بیس سے زائد افراد بشمول بچے زخمی ہوئے۔

دونوں واقعات غیر معمولی ہیں، کسی مہذب ملک میں ایسا ہوتا تو ریاست میں بھونچال آجاتا ہے، متعلقہ اداروں کے ذمہ داران اس غفلت کو مانتے ہوئے، عہدے چھوڑ دیتے اور انہیں قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنا پڑتا، یہاں لا پر واہی کے قومی کلچر "کو قسمت کا لکھا" سمجھ کر قبول کر لیا جاتا ہے، لاپرواہی اور غفلت کے مرتکب افراد قانون کو چکمہ دے کر بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتے، ہر سانحہ کے بعد سرکاری ادارے بھی چپ سادھ لیتے ہیں تاوقتیکہ نیا سانحہ وقوع پذیر نہ ہو، ارباب اختیار بھی اس چلتی پر خصوصی امداد کی صورت میں مٹی دال دیتے ہیں تاکہ گورننس کی بابت ان سے کوئی سوال نہ ہو۔ راوی پھرچین ہی چین لکھتا ہے۔

کاہنہ سانحہ کی زخمی ٹیچر کے بقول وہ غربت کی وجہ سے اپنے گھر ٹیویشن پڑھاتی ہیں، ان کا شوہر فروٹ بیچتا ہے، میڈیا کے مطابق اس علاقہ میں سرکاری سکول نہیں جبکہ والدین پرائیویٹ اداروں کی مہنگی تعلیم افوروڈ نہیں کر سکتے، جبکہ گھر میں کم فیس میں بچے پڑھ رہے تھے، تلخ حقیقت یہ ہے کہ لا پرواہی کا کلچر انفرادی طور پر فروغ نہیں پا رہا، سرکار بھی اپنے فرائض کی ادائیگی میں لا پرواہی کی مرتکب ہوتی ہے، ملک کی آبادی کا بڑا حصہ پنجاب میں مقیم ہے، مگر نت نئے سکینڈل سامنے آتے رہتے ہیں، جس میں لا پرواہی کے ساتھ ساتھ سرکار کی انتظامی اور معاشی کمزوریوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، گلی، محلہ کے مسائل کے حل کا بہترین فورم تو مقامی حکومتیں ہیں، بدقسمتی سے طویل عرصہ سے پنجاب میں لوکل باڈی کے الیکشن نہیں ہوئے، اگر مقامی حکومتوں کو وسائل اور مکمل اختیارات کے ساتھ کام کرنے کا موقع دیا جائے تو گلی محلہ تک مسائل کا حل ممکن ہے۔

قومی سطح پر لاپرواہی کلچر کے فروغ کی ایک وجہ قانون کا عدم اطلاق بھی ہے، آئے روز حادثات اسکی عمدہ مثال ہے، ملتان کی ایک فیملی کومری جاتے ہوئے ویگن میں آگ لگنے کا حادثہ جسکی کی وجہ سے جل کر مسافروں کا ہلاک ہونا کس قدر اذیت ناک تھا، کہا جاتا ہے، کہ ڈرائیور کی غفلت شامل تھی، نیز مری موٹر وے پولیس کے پاس آگ بجھانے کے آلات کا نہ ہونا تھا، لا پرواہی کے کلچر کا نتیجہ ایک ہی خاندان کے10افراد بشمول بچے، خواتین لقمہ اجل بن گئے، جبکہ تیرہ زخمی ہوئے، گاڑیوں کی فٹنس چیک کرنا، ڈرائیور کی نیند کا پورا ہونا اسکی ذمہ داری سرکار کے ساتھ مسافروں پر بھی عائد ہوتی ہے، تاہم جنوبی پنجاب کے باسیوں کو حکومت پنجاب سے ایک شکوہ ہے کہ کاہنہ لاہور کے متاثرین کے لئے وزیر اعلی نے فوری امداد کا اعلان کیا جبکہ ملتان کی مذکورہ متاثرہ فیملی کو نظر انداز کیا گیا، جسے مری میں حادثہ پیش آیا تھا۔

کراچی سے کوئٹہ جانے والی بس کو حادثہ بریک فیل ہونے کی وجہ سے پیش آیا جس کے نتیجہ میں بچوں خواتین سمیت 40افراد مارئے گئے، یہ حادثہ پہلااس لئے نہیں کہ یہاں نہ تو ٹرانسپورٹ کمپنی بین ہوتی ہے، نہ ہی ڈرائیور کا لائسنس منسوخ کیا جاتا ہے۔

رشوت، سفارش، لاقانونیت، دھونس دھاندلی نے عام فرد کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے، انسان کا خون سب سے ارزاں ہے، یہ کبھی حادثات کی نذر ہوتا ہے، کبھی سیلاب میں ڈوب جاتا ہے، کبھی پلازہ میں لگنے والی آگ کا ایندھن بنتا ہے، کبھی کمزور چھت کے نیچے آکر مرجاتا ہے، کبھی ٹرین حادثہ میں اپنی زندگی ہار دیتا ہے۔

قومی اداروں کی غفلت انفرادی لاپرواہی سے زیادہ خطرناک ہے، تربیت کا نچلی سطح پر کوئی اہتمام سرے سے موجود نہیں ہے، ترقیاتی کاموں کے مواقع پر کونسی احتیاطی تدابیر لازمی ہیں، اسکی کوئی آگاہی نہیں، زیر تعمیر روڈ پر رات کی تاریکی میں آج بھی ایسا میٹریل یا ڈرم ملیں گے جن پر کوئی کاشن یا لائٹ کا اہتمام نہیں ہوتا، حادثات بھی ہوتے ہیں، مگر لاپرواہی کی ذمہ داری کوئی فرد یا ادارہ قبول نہیں کرتا، پروفیشنل ازم کو پروان چڑھانا اور قانون کی مکمل عمل داری کرکے لاپرواہی کے کلچر کی حوصلہ شکنی کرنا یہ وقت کی ضرورت ہے۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais