ہفتہ رفتہ میں مدینہ ۃ اولیاء میں انتہائی دلخراش واقعات پیش آئے، جس سے پورے شہر کی فضا سوگوار اور غمگین ہوگئی، ملتان میں پانچ دوستوں کی کار کا جان لیواسانحہ تھا، ان کا تعلق شہر ملتان اور شجاع آباد سے تھا، تیز رفتاری کے باعث گاڑی کا کنٹرول برقرار نہ رکھ سکے، سر میں شدید چوٹیں آنے کے باعث لقہ اجل بن گئے، انکے والدین کے لئے بجا طور یہ شدید صدمہ ہے، اسی طرح دو نوجوان کانوں کو ہینڈ فری لگائے دنیا مافیا سے بے خبر ریلوے ٹریک پر برا جمان تھے، وہ ٹرین کی زد میں آگئے، بتایا جاتا ہے کہ ان میں سے ایک نوجوان والدین کا اکلوتا بیٹا تھا، ان تمام واقعات میں سے بدترین المیہ ایک یتیم بچے کا ایک کنٹریکٹر کی جانب سے قتل عمد ہے جس کو اس نے اپنی کار سے کچل دیا، تمام تر حادثات میں غفلت، ہٹ دھرمی لاپرواہی، لاقانونیت کارفرما ہے۔ یکے بعد دیگرے حادثات نے اہل ملتان کو افسردہ کر دیا، پر امن شہر کو نجانے کس کی نظر لگی، روز بروز حادثات کی خبریں سننے کو مل رہی ہیں۔
یتیم بچے کا قاتل جس کی آنکھوں میں خون اترا ہواتھا وہ سوسائٹی میں اس کا پیچھا کر رہا تھا، تو اس نے کیا سوچا ہوگا کہ وہ اسے جان سے مارنے جارہا ہے، اسے خمار ہوگا کہ اگر یہ مر بھی گیا تو کون ہوگا جو اس کا کچھ بگاڑ سکے گا؟ مگر قسمت میں کچھ اور ہی لکھا تھا، سہ پہر کے وقت اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا کہ اسکی زندگی کی یہ آخری شام ہے، نہ ہی اسکے اہل خانہ اور بچوں کو علم ہوگا کہ وہ صبح اس سے آخری بار مل رہے ہیں، سیانے مگر کہتے جو رات قبر میں ہے وہ تقدیر میں لکھی ہوتی ہے، اس ٹھیکدار کا اندازہ ہی نہیں تھا کہ وہ آخری بار اپنے دولت کدہ سے رخصت ہو رہا ہے، یہ پہلا یتیم بچہ نہیں تھا جو زیر تربیت تھا، کہا جاتا ہے کہ تعمیراتی کام میں پہلے بھی بچے اس کے زیر تربیت رہے ہیں، مگر بد قسمتی کہ جس بچے کو اس نے اپنی گاڑی کے نیچے کچلا وہی اس کی موت کا پروانہ لے کر آیا۔
ذرائع بتاتے ہیں کہ مرحوم بھی صاحب اولاد تھا، کاش! وہ پیار کی ایک نظر اس یتیم پر اس طرح ڈالتا جیسے یہ بھی اِس کا اپنا بچہ ہے، ضرورت مند، مگر مجبور ہے، باپ کی شفقت پدری سے محروم ہے اور سوچتا کہ اس کے اپنے بچے کتنے خوش قسمت ہیں کہ میرا سایہ ان کے سر پر ہے، وہ عیش و آرام کی زندگی بسر کر رہے ہیں، انکی ہر فرمائش پوری ہوتی ہے، وہ میرے دل کا سکون ہیں، یہ بیچارہ زمانے کی ٹھوکریں کھارہا ہے، یتیم خانہ میں پل رہا ہے، نجانے اسکی ماں بہن بھائی کس حال میں ہوں گے، نہیں معلوم اس دکھ بھری زندگی میں یہ کتنی بار اپنے باپ کو یاد کرتا ہوگا۔
اس کا والد اگر حیات ہوتا تو کامل یقین ہے کہ اس کو ایسی محنت اور مشقت والی زندگی وہ نہ گزارنے دیتا، اپنی استطاعت تک اسکی دیکھ بھال کرتا، خوراک پوشاک کا اہتمام کرتا، اسے تعلیم دلواتا، اسکی آنکھوں میں مستقبل کے خواب دیکھ کر وہ جوان رہتا، کہ یہ بچہ اِسکے خاندان کا کل ہے یتیم کا یہ قاتل ایک لمحہ کے لئے دل کو سمجھاتا، کہ یتیم بچے کی صورت میں اللہ کو راضی کرنے اسے سنہری موقع ملا ہے، اس کو ضائع نہیں کرنا چاہئے، اس کا والد اگر حیات نہیں ہے تو کوئی بات نہیں وہ بھی اس کو باپ جیسا پیار دے سکتا ہے، یہ بھی اس کے بچوں کی طرح اچھی زندگی گزار سکتا ہے، میرے پاس جو کچھ ہے یہ اللہ تعالیٰ کا ہی تو دیا ہوا ہے، اسی رب نے یتیموں سے حسن سلوک کا حکم بھی تو دیا ہے، اگر میں اس سے اچھا سلوک کروں گا تو میرا رب مجھ سے راضی ہوگا، زندگی کا مقصد بھی تو اس کی خوشنودی ہے۔
یہ بچہ میرے پیار اور رویہ سے متاثر ہو کر میرا مستقل سہارا بھی بن سکتا ہے، عین ممکن ہے میرے بچوں سے زیادہ محنتی اور وفادار بن جائے، تکبر، رعونت، دولت کے خمار نے مگر اس کو ایسا سوچنے نہ دیا، نیکی کرنے کی توفیق اسے نہ ملی جبکہ انجام بڑا ہی بھیانک ہوا، اندھی گولی نے اس کو قبر میں اتار دیا، سماج سے محبت کی بجائے نفرت لے کرگیا، عمر بھر کے لئے گہرا دکھ، کرب اولاد اور خاندان کے لئے چھوڑ گیا، کل وہ محروم، بے بس خوف میں مبتلا ایک یتیم کی زندگی کے در پے تھا، آج اس کے بچے یتیم ہوگئے، سوشل میڈیا پر اس کے بچوں کی تصاویر دیکھ کر ان سے اظہار ہمدردی کیا جارہا ہے کہ وہ بھی بے سہاراہوگئے، لمحوں کی خطا نے زندگی بھر کا پیٹرن ہی بدل کے رکھ دیا۔
اس سانحہ نے شیلٹرز ہوم میں یتیم بچوں کے ساتھ انتہائی کرب ناک سلوک کو بھی نمایاں کیا ہے، یہ معاملہ پرائیویٹ یتیم خانوں کا ہی نہیں بلکہ سرکار کی نگرانی میں چلنے والے یتیم خانوں کی حالت زار بھی قابل رشک نہیں، ان یتیموں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھا کر مافیاز کے سرگرم افراد نے اس کو بھی کاروبار بنا لیا ہے، تربیت کے بہانے ارزاں نرخ پر ان سے مزدوری کروائی جاتی ہے، ان کے خاندانوں سے ملوانے میں جان بوجھ کر لیت ولعل سے کام لیا جاتا ہے، انہیں دور دراز شہروں میں رکھا جاتا ہے، نجی ٹی وی کے پروگرام میں معروف سماجی کارکن نے انکی شکایت کی ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی مہربان ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا، پوچھا خادم یا غلام کی غلطیوں کو دن میں کتنی بار معاف کیا جائے؟ آپﷺ خاموش رہے جب اس نے یہی سوال تیسری مرتبہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا 70 مرتبہ، اگر ایسا نہ کر سکو تو انہیں آزاد کر دو، وہ لوگ جو غلطی کی پاداش میں گھریلوں ملازمین، نوکروں، یتیموں پر تشدد کرتے حتیٰ کہ جان سے مار دیتے ہیں یہ حدیث مبارکہ انکی نظروں سے نجانے کیوں اوجھل ہے؟ لمحوں کی خطا کی سزا صرف مجرمان کوہی نہیں ملتی بلکہ خاندان عمر بھربھگتتا ہے۔
کار کی تیز رفتاری، ہینڈ فری کی بدولت ٹرین کی زد میں جو نوجوانان موت کے منہ میں چلے گئے، انکی غلطی اگرچہ لمحہ بھر کی تھی مگر ساری حیاتی کے لئے والدین اور بہن، بھائیوں کو سوگوار کر گئے، جس کی تلافی ممکن ہی نہیں یہی معاملہ یتیم بچے کے قاتل کا بھی ہے، مظفر رمزی کا یہ شعر ان پر صادق آتا ہے۔
یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے
لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی