Friday, 23 October 2026
  1. Home/
  2. Khalid Mahmood Faisal/
  3. Punjab Ke Mazloom Sarkari Mulazmeen Ki Faryad

Punjab Ke Mazloom Sarkari Mulazmeen Ki Faryad

صوبائی اسمبلی پنجاب کے گذشتہ اجلاس میں سرکاری ملازمین کے مسائل کے حق میں بہت سے اراکین اسمبلی نے آواز اٹھائی، سرکاری اور اپوزیشن کے بنچوں سے ان کا تعلق تھا، پنشن میں کٹوتی، لیوان کیشمنٹ کے قانون میں تبدیلی، ڈسپیریٹی الاونس کی عدم ادائیگی، 17اے رولز میں تبدیلی پر کلمہ حق بلند کرنے پر تمام ملازمین نے انکی تحسین کی۔

محترم اسپیکر پنجاب اسمبلی نے اراکین سے اتفاق کرتے ہوئے اس کا نوٹس لینے اور محترمہ وزیر اعلی پنجاب کی توجہ اس سنگین ناانصافی کی جانب مبذول کراوکر ملازمین کو ریلیف فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے، بڑی دلیل یہ 2دسمبر2024پنشن رولز میں ترامیم کا جو نوٹیفکیشن جاری ہوا، پنجاب کے قریباً 15لاکھ ملازمین کومعاشی نقصان پہنچا، مکان کی تعمیر، بچوں کی شادی، حج کی سعادت سب منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے، صرف صوبہ پنجاب ہی میں اس کا اطلاق کیوں؟ اس طرز کے سرکاری حکم نامہ کی کوئی تمثیل دوسرے صوبہ جات حتیٰ کہ وفاق میں بھی نہیں ملتی، معزز اراکین نے کہا کہ ملازمین کے ساتھ یہ بڑی ناانصافی ہے کہ جن شرائط پر ان کو ملازمت دی گئی، مراعات بھی انہی اُصولوں کی بناء پر ملازمین کو دی جائیں، تجویز کیا گیاکہ پنشن رولزمیں تبدیلی، کا آغاز نئے بھرتی ہونے والے ملازمین سے ہونا چاہئے، 02دسمبر کا اطلاق جن پر کیا گیا وہ ملازمین تواپنی مدت ملازمت پوری کر چکے، ایسا کرنا قانونی، اخلاقی طور پر ناانصافی ہی نہیں بلکہ یہ ظلم کے مترادف ہے۔

پنجاب کے ملازمین کو اس کے علاوہ جن مسائل کا سامنا اور ان کا حل زیر التواء ہے، اس جانب نہ تو پنجاب کی حکومت نے توجہ دی، نہ ہی اراکین پارلیمنٹ نے نوٹس لیا ہے، ان کا تعلق قانون سازی سے بھی ہے، مقام افسوس ہے کہ وہ سیلری کلاس جس کا گزر بسر صرف تنخواہ یا پنشن پر ہے اپنے حقوق کے حصول کے لئے عدلیہ کے در پر اسے بھی دستک دینا پڑتی ہے، اجتماعی طور پر وکلاء کی فیسوں کی صورت میں اضافی معاشی بوجھ بیچارے ملازمین کو ہی اٹھانا پڑتا ہے سرکار ان ایشوز کا از خود باقاعدہ نوٹس لیتی رہے توملازمین کے مسائل عدلیہ کے در پر جائے بغیر حل ہو سکتے، تو یہ بہترین گڈ گورننس ہوتی۔ ذیل میں تین اہم بنیادی مسائل کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے۔

پنجاب کے ملازمین کو بینوولنٹ فنڈ کی مد میں کچھ مالی مراعات دی جاتی ہیں، جن میں ذہین طلباء و طالبات کو تعلیمی وظیفہ، بیٹیوں کی شادی پر میرج گرانٹ، وفات کی صورت میں تجہیزوتکفین کے اخراجات ہیں، لاکھوں ملازمین میں سے ہزاروں ایسے بھی مردو خواتین ملازمین ہیں، جنہوں اپنی تنخواہ سے ہزاروں روپئے ماہانہ کی بنیاد پر مذکورہ فنڈ کی مد میں سرکاری طور کٹوائے مگر ساری سروس میں ایک پائی کا بھی مالی فائدہ نہ لیا، کیونکہ وہ اس معیار پر پورے نہیں اترتے تھے، یا وہ غیر شادی شدہ تھے، یا انکی بیٹیاں نہیں یا ان کے بچے تعلیمی وظیفہ کے قابل نہ تھے یا خدا نخوستہ اولاد کی نعمت سے محروم رہے، انکی تنخواہوں سے لاکھوں روپئے کی کٹوتی آخر کہاں ہے؟

اسی طرح جو ملازمین اس سے مستفید ہوئے، مذکورہ بالا مراعات کی مدات میں رقم جو انہیں ملی جو تنخواہ سے رقم کاٹی گئی، اس کاایک چوتھائی بھی نہیں تھا جو ان کو ملا، ان کا ریکارڈ محکمہ کے پاس موجود ہے؟ قانونی، اخلاقی طور پر زائد رقم کی ادائیگی ملازمین کا حق نہیں؟ اس کی ادائیگی کے انتظار میں بہت سے ملازمین ملک عدم روانہ ہو گئے۔

یہی معاملہ گروپ انشورنس کی رقم کا ہے، دنیا بھر میں مروجہ اصول ہے کہ جونہی کسی ملازم کی انشورنس پالیسی میچور ہوتی ہے، تمام رقم اس کے اکاونٹ میں انشورنس کمپنی ٹرانسفر کرتی ہے، پنجاب ملازمین کا المیہ یہ ہے، انشورنس کی رقم کے انتظار میں بہت سے ملازمین ریٹائرڈمنٹ کے بعد بھی اس سے تاحال محروم ہیں، جن خوش قسمت ملازمین کو یہ رقم ملی، انہیں موت کا مزہ چکھنا پڑا کیونکہ ضابطہ کے مطابق یہ رقم اس ملازم کوملتی ہے جو مدت ملازمت کے خاتمے کے پانچ سال تک زندہ رہتا ہے، بعض ملازمین نے قانونی چارہ جوئی بھی کی ہے، عدالتوں کے واضع احکامات انشورنس کی رقم ملازمین کو ادا کرنے کے ہیں، مگر چند قانونی تقاضے آڑے آتے ہیں، اطلاعات ہیں کہ پنجاب کے علاوہ باقی صوبہ جات میں اس رقم کی ادائیگی کی بابت کافی پیش رفت ہوچکی ہے، پنجاب اسمبلی کو بھی اس بابت قانون سازی کرکے موجودہ یا سابقہ ہر ملازم کو ریٹائرڈمنٹ کے بعد رقم ادا کرنی چاہئے، انشورنس کمپنی کے پاس ملازمین کایہ جمع شدہ پیسہ ہے پنجاب سرکار پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں ہوگا۔

پنجاب ملازمین کاتیسرا درینہ مسئلہ 2013 سے زیر التواء ہے وہ پنجاب سرونٹس ہاوسنگ فاونڈیشن کے زیر اہتمام مکان یا پلاٹ کی بنیادی گریڈ یا سکیلوں کی بنیاد پر الاٹمنٹ ہے، دلچسپ امر یہ ہے کہ فاونڈیشن کے پاس 2004سے جمع ہونے والی ملازمین کی رقم بمعہ ریکارڈ موجود ہے جو انکی تنخواہوں سے ماہانہ کی بنیاد پر اس لئے کاٹی جاتی رہی ہے کہ رقم کے عوض فاونڈیشن کی اسکیموں میں مکان یا پلاٹ ملے گا، جس کی زمین سرکار جبکہ ترقیاتی فنڈز ملازمین نے پلاٹ کے رقبہ کے حساب سے ادا کرنا تھے، فاونڈیشن کے منتظمین نے اپنی سکیمیوں میں بہت سے کمرشل پلاٹ بھی فروخت کئے، مگر13سال گزرنے کے باوجود ملازمین کو نہ پلاٹ مل رہے ہیں نہ ہی جمع شدہ رقم پر منافع کا کوئی اصولی فیصلہ ہوا ہے۔

مسلح افواج اور وفاقی ادارہ جات کی بہت سی مثالیں ہیں کہ جنہوں نے پنجاب گورنمنٹ سرونٹس ہاوسنگ فاونڈیشن کی طرز اپنے ملازمین کو گھر یاپلاٹ دینے کی سکیم کا آغاز کیاور پھر ریٹائرڈمنٹ پر ملازمین کوضابطہ کے تحت گھر یاپلاٹ دیا گیا مگر پنجاب حکومت اس ذمہ داری کو ادا کرنے میں مکمل ناکام نظرآتی ہے، مذکورہ فاونڈیشن میں بطور ممبربڑی تعداد بیوگان، یتیم بچوں کی ہے، جو والدین کی طرف سے جمع کروائی رقم کے عوض پلاٹ یا مکان کی الاٹمنٹ کے منتظر ہیں، بعض ملازمین گزشتہ تیرہ سالوں سے انتظار کرتے کرتے دنیا سے رخصت ہو گئے، مگر فاونڈیشن کے منتظمین نے انکی اشک شوئی کرنا بھی مناسب نہیں سمجھی، اب پرائیویٹ رہائشی سکیموں میں مہنگے اور اقساط پر پلاٹ دینے کالولی پاپ دیا جارہا ہے، پنشن، لیو ان کیشمنٹ میں غیر قانونی کٹوتی، بینوولنٹ فنڈ اورگروپ انشورنس کی رقم کی عدم ادائیگی، پنجاب گورنمنٹ سرونٹس ہاوسنگ فاونڈیشن سکیم میں پلاٹ یا مکان کی عدم الاٹمنٹ پنجاب ملازمین کے درینہ ایشوز ہیں، 15 لاکھ ملازمین نہیں یہ خاندان ہیں انہیں بنیادی حقوق سے محروم رکھ کرگڈ گورننس کا دعویٰ کرنا خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔

Check Also

Jamhuriat Aur Awami Masail: Falsafa Aur Haqiqat Ka Fasla

By Unzila Siddiqui