Saturday, 23 May 2026
  1. Home/
  2. Khalid Mahmood Faisal/
  3. Qatal o Gharat Gari Ka Sad e Bab

Qatal o Gharat Gari Ka Sad e Bab

برطانوی صحافت کے باوا آدم لارڈ کلف خبر کی تعریف کرتے ہیں اگر کتا انسان کو کاٹ لے تو یہ خبر نہیں البتہ انسان نے کتے کو کاٹ لیا تو یہ خبر ہے نامی گرامی ڈکیت، ڈکیتی اور چور چوری کرے تو یہ واقعہ خبر نہیں بنتا معمول کی معلومات سمجھی جاتی ہے، لیکن اگر کوئی پولیس آفیسر معمولی بات پر تین افراد کا قتل کر دے تو یہ محض خبر ہی نہیں بڑا سانحہ ہوگا، پولیس ہی کو تو عوام کا محافظ سمجھا جاتا ہے، طرح طرح کے مجرموں سے پولیس کا واسطہ پڑتا ہے، گمان ہے کہ اس سے انکی قوت برداشت بڑھ جاتی ہے اور جلد آپے سے باہر نہیں ہوتے۔

جبکہ گذشتہ دنوں تاندلیاوالہ کے نواحی گاؤں میں سابق پولیس آفیسر کے ہاتھوں معمولی تنازع پر تین افراد کا قتل ہونا کچھ اور ہی پیغام دے رہا ہے، ذرائع کے مطابق کھیت میں جانوروں کے داخل ہونے سے دو برادریوں کے مابین تو تکرار کا معاملہ جھگڑے کی شکل اختیار کر گیا، جس کا منطقی انجام قتل کی صورت میں ہوا۔

مذکورہ واقعہ کے بعد قاتل اور مقتولین کے خاندان کس عذاب سے گزریں گے، اس کا اندازہ اگر انہیں پہلے ہوتا تو شائد معاملہ اس نہج تک نہ پہنچتا، سابقہ پولیس آفیسر جن پر قتل کا الزام ہے جھگڑے کی طوالت کو اگر رکوا دیتے تو اس ناگہانی صورت حال اور ہر طرح کے الزامات سے محفوظ رہتے نجانے انہیں اپنے سابقہ عہدہ کا خمار تھا یا حالات ایسے بن گئے کہ قانون کو ہاتھ میں لینے پر مجبور ہوئے، ان سے بہتر کون جان سکتا تھا کہ عدالتی نظام میں ملزمان کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے، جیل میں ان پر کیا گزرتی ہے، لواحقین اور اہل خانہ برائت تک روز جیتے اور مرتے ہیں، دیہی کلچر میں کسی کا ناحق قتل کرنے سے مراد آنے والی نسلوں کے لئے جھگڑے کی بنیاد رکھنا ہے اہل دانش کہتے ہیں غصہ کو پی جانا ہی اصل مردانگی ہے۔

گزشتہ سال لاہور میں خانگی جھگڑے اور پلاٹ کے معاملہ پر ڈپٹی پولیس آفیسر کے ہاتھوں لرزہ خیز واردات میں بیوی اور بیٹی کے قتل نے سب کو چونکا دیا کہ کیا ان رشتوں سے بھی عزیز کوئی اور تعلق ہو سکتا ہے، گھر کا سکون، اولاد جائیداد یا پلاٹ کا نعم البدل ہو سکتا ہے، پھر ایک پولیس آفیسر جس کا مجرمان سے واسطہ رہتا اور قانون کو ہاتھ میں لینے پر ہر روز تبرہ ان پر بھیجتے ہیں، خود ان میں اس قدر عدم برداشت کا پایا جانا کہ خون ان کے سر سوار ہو جائے انکی پیشہ وارانہ تربیت پر سوالیہ نشان چھوڑتا ہے۔

سادہ زمانہ میں جب لوگ سچے تھے اور مکان کچے، کالی آندھی کے بارے میں گمان رکھتے کہ اس وقت آسمان پر نمودار ہوتی جب کہیں کوئی قتل ہو جاتا، دور دراز بیٹھے لوگ فکر مند ہوجاتے کہ نجانے کس کی جان ناحق چلی گئی ہے، آج کے زمانے میں اگر سادہ لوگ ہوتے تو روزانہ کی بنیاد پر قتل وغارت گری دیکھ کرمحو حیرت میں گم ہو جاتے، وہ بیٹا جیسے بوڑھے باپ کا سہارا بننا ہوتا ہے باپ ہی کے ہاتھوں معمولی رنجش پر قتل ہو جاتا ہے، جائیداد کے تنازعہ پر ماں جیسی ہستی کو بیٹا مار دیتا ہے۔

رائیونڈ میں مقیم اس خاندان کے دکھ اور کرب کو کیسے کو ئی محسوس کر سکتا ہے کہ جن کے دو جوان بیٹے 30 روپئے کے جھگڑے کی بنیاد پر قتل کر دیئے گئے، والدین بہن بھائی تو جیتے ہی مر گئے، مارنے والے کوئی سیٹھ، شاہو کار، بدمعاش نہیں تھے، بلکہ خوانچہ فروش تھے، ذرائع بتاتے چند روز بعد ان کے دو قاتل بھی مارے گئے چار افراد کی جان کا حساب لگایا جائے تو ایک جان کی قیمت ساڑھے سات روپئے بنتی ہے، دنیا میں اتنا ارزاں خون تو کسی جانور کا بھی نہیں یہ تو انسان تھے؟ ، مشاہدہ ہے کہ جانوروں پر حملہ ہو تو سب نہ صرف اپنی اپنی زبان میں احتجاج کرتے بلکہ حتیٰ المقدور چھڑانے کی سعی کرتے ہیں۔ میڈیا کے مطابق جب جھگڑا طول پکڑرہا تھا، دونوں بھائیوں کو مارا اور پیٹا جارہا تھا تو لوگ انہیں چھڑانے کی بجائے وڈیوز بنا رہے تھے، زندہ انسانوں معاشرہ ایسا بھی ہو سکتا ہے؟

تعلیمی ادارے بھی ایسی تربیت نہیں کرتے کہ نسل نو میں برداشت کے مادہ کو فروغ ملے، بازاروں میں کھلے عام لڑائی مار کٹائی دیکھی جا سکتی ہے۔ قانون کو ہاتھ میں لینا یہاں حق سمجھا جاتا ہے، بااثر افراد اورصاحب ثروت کے بچے تو اس خمار میں مبتلا ہوتے ہیں کون ان پر ہاتھ ڈالے گا، غریب جہالت اور جھوٹی انا کی وجہ سے مارے جاتے ہیں۔

ہرگلی محلہ میں مسجد موجود ہے، جہاں پانچ وقت کی نماز ہوتی ہے، درس قرآن اور حدیث بھی ہوتا ہوگا، جمعہ المبارک میں وعظ بھی ہوتا ہے پھر بھی عوام الناس کی اخلاقی تربیت کا معقو ل انتظام نہیں، المیہ یہ کہ ہم مسجد کو سماج کا بہترین ادارہ بنانے میں ناکام رہے ہیں، مقدس مقام کو فرقہ پرستی کی آماجگا ہ بنا دیا ہے، واعظ ا کرام اپنے وعظ میں زمین سے نیچے یا آسمان سے اوپر کی بات کرتے ہیں، زندہ معاشرہ گفتگو کا موضوع کم ہی ہوتا ہے، انہیں کیا معلوم کہ ان کے محلہ کے گردوپیش میں لوگوں کے مسائل کیا ہیں، یہی معاملہ دیہاتوں کا ہے جب کوئی بڑا سانحہ ہوتا ہے تو سب ہاتھ ملتے ہیں۔

جذبات کے ہاتھوں مغلوب ہو کر قتل کرنے والوں کے پاس سوائے پچھتاوے کے کچھ نہیں بچتا وہ جیل کی کال کوٹھری میں کس حال میں ہیں، میڈیا اورسماجی اداروں کو ضرور ایسے سلسلہ کا آغاز کرنا چایئے جو ان کے جذبات اور حالت زار کو ان نوجوانان تک پہنچا سکے، تاکہ وہ عبرت پکڑیں، جن کے نزدیک عام فرد کا قتل معمولی سی بات ہے۔

سرکار کام یہ کہ وہ ان وجوہات کا جائزہ لے، معمولی نزاع پر انسان کو قتل کیوں کیا جاتا ہے؟ عوام پر مالی، سماجی، قانونی دباؤ جو موجود ہے اس کو ہر حال میں کم کرے، روزگار دے، معاشی تفاوت کم کرے، دولت کی نمائش، اسلحہ پر پابندی عائد کرے، برداشت کو فروغ دے، عدل قائم اور تعلیم کو عام کرے، ان حالات میں سب سے بڑی ذمہ داری، مذہبی، سیاسی جماعتوں، اساتذہ، علماء کرام، والدین، میڈیاکی بھی ہے، وہ سماج میں برداشت کے کلچر کو فروغ دے، انسانیت سے محبت، جرم سے نفرت کا درس دیں، تعلیمی اداروں، دینی مدارس، معاشرہ میں سیرت ﷺ کے پیغام کو عام کیا جائے، بقائے باہمی کے مروجہ اصولوں کو اپنا کر ہر سطح پر پنچائتی نظام کو فعال کیا جائے تو بہت سے معاملات گلی محلہ، کالونی ہی میں حل ہو سکتے ہیں، نیز بلا امتیاز سخت سزاؤں کو عملا نافذ بھی کیا جائے۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais