حلقہ احباب میں سے کسی نے بتایا کہ کافی سال پہلے وہ ملتان کی مشرقی جانب بستی میں عزیزوں سے ملنے گئے، تو وہاں صاحب حیثیت رشتہ دار کو پاکر خوش گوار حیرت ہوئی، بر سبیل تذکرہ ہم نے آمد کا سبب پوچھا تو کہنے لگے، کہ یہاں کچھ رقبہ خرید نے آئے ہیں، جب زمین کی بابت استسفار کیا، تو وہ عام سارقبہ تھا، ہم نے کہا کہ آپ نے 60میل دور طویل سفر کیا ہے، اس طرح کا رقبہ تو اپنے علاقہ میں بھی ہے، زیر زمین پانی بھی ٹھیک ہے، ریٹ بھی اس سے کم ہے، ہمیں محسوس ہوا کہ وہ کوئی بات چھپا رہے ہیں، ہمارے اصرار پر انہوں نے بتایا کہ جو زمین ہم خریدنا چاہتے، اس کے ساتھ بائی پاس روڈ بننے والی ہے اور یہ بات ہمارے عزیز ایک وزیر نے بتائی ہے، ہم انکی مشاورت سے کاروبار کی منصوبہ بندی کریں گے، دلچسپ بات یہ ہے، کہ اس وقت تک کسی کے علم میں بھی نہیں تھا، کہ شہر سے باہربائی پاس روڈ بن رہا ہے، اس کے اردگرد زمین سستے داموں مخصوص طبقہ نے جب خرید کر لیں تو پھر سب کو اس مجوزہ روڈ کی تعمیر کا علم ہوگیا۔
کہا جاتا ہے کہ جو پہلی موٹر وے بنائی گئی تھی، کسی سیاسی شخصیت کو فائدہ پہنچانے کے لئے انکی منشاء کے مطابق اس کا روٹ طے ہوا، ہرچند یہ ٹریفک انجینئرنگ کے اصولوں کے مطابق اب بھی نہیں ہے، کلر کہار ایسا خطرناک ایریا ہے جہاں دسیوں حادثات ہو چکے ہیں، کراچی کی شاہراہ بھٹو کی تعمیر، پنجاب میں سیاسی قیادت کے نام سے سکول اور شفاخانے سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لئے ہیں، ہمارے ہاں سڑکیں عمومی طور پر انتخابات کے موقع بنائی جاتی ہیں، کم تجارتی یا آبادی والے علاقہ جات میں سڑک کی تعمیر اگرچہ خزانہ پر بوجھ سمجھا جاتاہے مگر اس کے پیچھے کسی کا سیاسی ہاتھ یا فائدہ ضرور ہوتا ہے، زیادہ تر سیاسی شخصیات کے ڈیروں، گھروں، محلات تک رسائی کے لئے بنائی جاتی ہیں، سرکاری راز امانت ہی خیال کئے جاتے ہیں، مگر دفتری کلچر میں یہ راز نہیں رہتے، چندوزراء کرام سے لے کر افسران بالا تک پیٹ کے ہلکے ہوتے ہیں، مخصوص لابی میں راز اگل دیتے ہیں، انکی راز افشانی کا مقصد ریاست کی بہتری نہیں بلکہ اپنے، عزیزو اقرباء اور حلقہ احباب کو نوازناہوتا ہے، وہ متوقع پراجیکٹس سے فائدہ اٹھا کر دولت مند ہو جاتے ہیں۔
سٹاک ایکسچینج میں یہ دھندہ تو عروج پر ہوتا ہے، کس کمپنی کا شیئر چند دنوں میں اوپر جائے گا، روایت ہے کہ ناورے میں ایک وزیر کو اپنی وزارت سے اس لئے ہاتھ دھونا پڑے کہ اس نے ایک ایسی کمپنی کے شیئر خرید کئے، جس کو بعد میں حکومت کی طرف سے ایک بڑا کنٹرکٹ ملا تھا اور یہ بات وزیر موصوف کے علم میں تھی، رائے عامہ کے مصنف رائے ریاض حسین رقم کرتے ہیں کہ جنرل مشرف کے دور میں ریلوے کی141 کنال زمین ایک ایسی کمپنی کو دی گئی، جس میں انکے بیٹے کا سسرریٹائرڈ فوجی کنسلٹنٹ تھا، جس سے ریلوے کو25ارب کا نقصان ہوا۔
دنیا کے جن ممالک میں سب سے کم کرپشن ہے، ان میں ناورے بھی شامل ہے، اسکی ترقی اور خوشحالی میں قومی دیانت داری کا کلیدی کردار ہے، جس میں عوامی کفایت شعاری، سادہ انداز زندگی اور طرز حکومت کا بھی بڑا عمل دخل ہے بے حیثیت قوم ہم اس معیار سے تو کوسوں دور ہیں۔
گذشتہ دنوں ناورے کے وزیر خارجہ کسی کانفرنس میں شرکت کے لئے اسلام آباد آئے، ہر طرح کے پروٹوکول سے وہ مبرا تھے، ہرچندانکا سٹاف ان کے ساتھ تھا، مگر انہوں نے اپنا سامان خود تھام رکھا تھا، اپنے سامان کا بوجھ سٹاف پر نہیں ڈالا، اسی انداز میں لاونج سے باہر آنے کی وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، جس ریاست میں اسسٹنٹ کمشنر پر سایہ رکھنے کی خاطر چھتری اردلی پکڑکر لارڈ صاحب کی یاد تازہ کردے، جہاں وی وی آئی پی موومنٹ پر ہٹو بچو کا کلچر ہو، لاؤ لشکرکے جلو میں ارباب اختیار کا آنا جانا ہو توپبلک کے لئے یہ انہونی بات تھی، ایسے ماحول میں نارویجن کے وزیر خارجہ کی سادگی دیکھ رشک آنا فطری عمل ہے، ترقی یافتہ اور فلاحی ریاست کے وزیر خارجہ چارٹرڈ طیارے کی بجائے کمرشل فلائٹ سے تشریف لائے تھے، تاکہ سرکاری دورہ کا معاشی بوجھ نارویجن عوام پر کم سے کم پڑے، اس کے برعکس مقروض ریاست کی ایک وزیر اعلی نے ٹھاٹھ باٹھ سے جانے کے لئے سرکاری خزانہ سے جہاز ہی خرید لیا ہے۔
روایت ہے کہ بطور نگران وزیر اعظم درویش صفت ملک معراج خالد ایک پرائیویٹ گاڑی میں ذاتی کام سے دوست کے ساتھ لاہور میں محو سفر تھے، دیکھا کہ چوراہے پر ٹریفک بند تھی، دوست نے ٹریفک سارجنٹ سے وجہ پوچھی تو پتہ چلا صوبائی وزیر کے پروٹوکول کی وجہ سے بند ہے، ملک صاحب نے دوست سے کہا کہ ان کا بس چلے تو یہ اپنے سروں پر بھی ہوٹر لگوا لیں "تبدیلی" والے وزیر اعظم کی بذریعہ ہیلی کاپٹروزیر اعظم ہاوس سے گھر تک آنیاں جانیاں قوم کو ایک ارب مالیت میں پڑی ہیں۔
سادگی سے دورہ کرنے میں نارویجین وزیر خارجہ کا پیغام یہ تھا کہ کرپشن صرف پیسے کی نہیں ہوتی، قومی وسائل کا ضیاع اور عوام پر اپنی اپنی عیاشیوں کا بوجھ ڈالنا بھی کرپشن ہے، اپنے من پسند افراد یا ادروں کو ٹھیکے دینا ہی اختیارات کا ناجائز استعما ل نہیں بلکہ ایسے قومی راز جن کے افشاء کرنے سے، عزیز و اقرباء اور مخصوص کلاس کو ذاتی اور مالی فائدہ ہو وہ بھی بدعنوانی کے زمرے میں آتا ہے۔
کہاجاتا ہے کہ چانکیہ کی تعلیمات کو میکیاولی نے آگے بڑھایا، جس نے سیاست سے اخلاقیات کو الگ کردیا، میکیاولی کی تعلیمات کے مطابق امور مملکت میں جھوٹ، فریب اور غضب جائز ہے، حکمرانوں کو کبھی بھی معاملات میں مکمل راست بازی اور دیانت داری نہیں برتنی چاہئے، المیہ یہ ہے کہ نبی مہربان ﷺ کی ریاست مدینہ کا عملی نمونہ موجود ہے مگر ارباب نے عملی طور میکیاولی کی تعلیمات کو اپنا لیا ہے، جو ہماری قومی تنزلی کے اسباب ہیں، مقام حیرت ہے کہ غیر مسلم ریاست ناروے کی سرکار نے حضرت عمرؓ لاز کا اپنی ریاست میں اطلاق کرکے فلاحی ریاست کے طور عروج پایا، اس کے وزراء نے ہمارے ملک میں آمد کے موقع پر اپنی سادگی کی عمدہ مثال قائم کی ہے، جو ہمارے وزراء کے لئے بھی قابل تقلید ہو سکتی ہے۔