Saturday, 03 October 2026
  1. Home/
  2. Khalid Mahmood Faisal/
  3. Syed Farooq Haider Maududi Ka Gumrah Kun Muaqaf

Syed Farooq Haider Maududi Ka Gumrah Kun Muaqaf

مفکر اسلام سید ابو اعلیٰ مودودیؒ کے فرزند ارجمند سید فاروق حیدر مودودی ماضی کے ایک انٹرویو کی بدولت سوشل میڈیا میں ان دنوں وائرل ہیں، وہ قائد اعظم، قیام پاکستان کے بارے میں "شگوفے چھوڑ" رہے تھے کہ وہ قیام پاکستان کے گناہ میں شریک نہیں تھے، اس بھونڈی کاوش میں انہوں نے اپنے والد گرامی اعلی مرتبت سید مودودیؒ کا نام بھی اسی بابت لیا، بین السطور وہ یہ کہنا چاہ رہے تھے کہ سید مودوی کا بھی یہی موقف تھا، ان کا نقطہ نظر ان کا ذاتی ہو سکتا ہے مگر تاریخی حقائق، سید مودودی کا لٹریچر اس کی گواہی نہیں دیتا ہے۔

وہ نسل نو کو گمراہ کرنے کے ساتھ علمی، اخلاقی، تاریخی بد یانتی کے مرتکب ہوئے، موصوف ماضی میں بھی غیر روایتی بیانات دیتے رہے ہیں اس طرح کی متنازعہ گفتگو کی بابت وہ معروف بھی ہیں، وہ شائد میڈیا میں "ان" رہنے کے خواہاں ہیں، معروف کالم نگار اثر چوہان نے اپنے کالم میں انکی قادیانی ہیڈ کوارٹر "ربوہ" جانے اور انکے خلیفہ سے ملاقات کا تذکرہ کرتے ہوئے انکو سید مودودی کا منحرف بیٹا قرار دیا تھا۔

سید مودودیؒ کے متعلق یہ تاثر دینا کہ وہ قیام پاکستان یا بانی کے مخالف تھے، قطعی بے بنیاد ہے، وہ قائد اعظم کا دلی طور پر احترام کرتے تھے، انکی وفات کے بعد ماہنامہ ترجمان القرآن 1948 کے شمارہ میں سید مودودیؒ نے انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا کہ قیام پاکستان کے بعد پہلا حادثہ بانی پاکستان کی وفات ہے، انکی راہنمائی پر سب کو بھروسہ تھا، انکے ذاتی اثر رسوخ نے مسلمانوں کو متحد قوم بنایا، جس کے نتیجہ میں پاکستان بن گیا، وہ جمہوریت پسند تھے اور پاکستان میں ایک جمہوری نظام کی تشکیل کو پیش نظر رکھا۔

پروفیسر ڈاکٹر جاوید اصغر نے اپنی کتاب "سید مودودی، عہد ساز مفکر اور قائد" میں رقم کیا کہ جماعت اسلامی کے قیام کے پہلے ہفتہ میں سید مودودیؒ نے قمر الدین خاں، ناظم جماعت اسلامی کو قائد اعظم کے پاس جماعت اسلامی کے قیام، مقاصد، اسکی دعوت روشناس کرانے کے لئے بھیجا۔ 45 منٹ کی اس ملاقات میں قائداعظمؒ نے فرمایا، "میں مولانا مودودیؒ کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں، مسلم لیگ اور جماعت اسلامی میں کوئی اختلاف نہیں، جماعت اسلامی اعلی مقصد کے لئے کام کررہی ہے، لیگ اس فوری حل طلب مسئلہ کی طرف متوجہ ہے۔

1937 میں کانگریس کی سیاسی تحریک اس قدر زور پکڑ گئی، علماء کرام کی بڑی تعداد ہنددوں کے ساتھ مل گئی، کانگریس یہ کہتی تھی، کہ ہندوستان کے مسلمان، ہندو سب مل کر ایک قوم ہیں، اگر اس بات کو مان لیا جاتاتو ہندوستان میں مسلمانوں کی علیحدہ حیثیت ختم ہو جاتی، کانگریس کے اس نظریہ کو "متحدہ قومیت یاایک قومی نظریہ" کا نام دیا گیا، سید مودودی نے اس خطرہ کی شدت سے محسوس کرتے ہوئے، اس کے خلاف بہت سے مضامین لکھے، جو کتابی کی شکل میں "مسئلہ قومیت" اور "مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش"کے عنوان سے شائع ہوئے، جس میں انہوں نے ثابت کیا، مسلمان اور ہندو دو الگ الگ قومیں ہیں، سید مودودی پہلے شخص تھے جنہوں نے نظریہ پاکستان کو علمی سطح پر دلائل کے ساتھ پیش کیا، ان دلائل کا گانگریس سے وابستہ علماء کرام کے پاس کوئی مدلل جواب نہ تھا۔

بانی پاکستان قائد اعظمؒ کی خواہش اور ہدایت پر 1948 میں سید ابواعلیٰ مودودیؒ نے ریڈیو پاکستان لاہور سے 6 تا 20 جنوری اسلامی نظام حیات کے مختلف پہلووں پر تقاریر کیں، بعد ازاں یہ تقاریر کتابی شکل میں شائع ہوئیں، قائد اعظم سید مودودی کے علمی اور فکری کام کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے، اسی لئے ان کے ذریعہ ریڈیو سے اسلامی نظام حیات پر مبنی تقاریر کا سلسلہ شروع کروایا جو انکی وفات تک جاری رہا، اس لئے کہ ڈاکٹر صفدر مرحوم نے اپنی کتاب "سچ تو یہ ہے" میں لکھا ہے کہ بانی پاکستان اسلامی اور فلاحی ریاست کے قیام کے خواہاں تھے۔

جید صحافی الطاف حسن قریشی مرحوم نے لکھا سید مودودی نے عام فہم اور اذہان کو متاثر کرنے کا لٹریچر تیار کیا جس سے مسلمانوں میں اپنی جد اگانہ حیثیت کا شعور گہرا ہوا، قیام پاکستان کے بعد سید مودوی نے جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم سے قوم کی فکری، اخلاق، سیاسی تربیت پر مسلسل کام کیا، اس امر کی کوشش کی کہ پاکستان کی سیاسی، آئینی جنگ جس نظریہ کی بنیاد پر لڑی گئی تھی، اسے زندگی کے ہر شعبہ میں بالا دستی کا درجہ حاصل ہو۔

1947 اگست میں والٹن میں سید مودودی اور جماعت اسلامی کے کارکنان نے مظلوم اور بے سہارا مہاجرین کے لئے تمام تر خدمات انجام دیں، کیمپ کے اندرموجود بد عنوانیوں، غبن اور بے ضابطیوں کے خلاف آواز اٹھائی، سید مودودی اگر پاکستان کی تحریک کے مخالف ہوتے تو وہ بھی مولانا مفتی محمود کی طرح برملا کہتے کہ "ہم اس گناہ میں شریک نہ تھے" یا احرار گروپ کی طرح بانی پاکستان کے خلاف غیر پارلیمانی زبان استعمال کرتے، مگر سید مودودی کانگریسی علماء کے ہاتھوں استعمال نہ ہوئے۔

سید مودودی اور آل انڈیا مسلم لیگ کے مابین نظریاتی اور سیاسی نقطہ نظر پر اختلاف تھا، ان کا خیال تھا کہ مسلم لیگ کی قیادت مغربی تعلیم یافتہ اور سیکولر ذہن کی حامل ہے، جو اسلامی نظام حکومت اور شریعت کے نفاذ کی کوئی یقینی منصوبی بندی نہیں رکھتی۔

سید فاروق حیدر مودودی کا یہ موقف کہ انہیں زبر دستی پاکستان آنا پڑا، انکی محترمہ بہن حمیرا مودودی کے خیال سے بالکل مختلف ہے، وہ رقم کرتی ہیں کہ علامہ اقبالؒ کی دعوت پر سید مودودی نے لاہور کو اپنا علمی مرکز بنایا، پھر پٹھانکوٹ ہجرت کی مگر قیام پاکستان کے بعد سید مودودی نے ایک عظیم قائد کا کردار ادا کیا، انہوں نے تمام پناہ گزینوں اور جماعت اسلامی کے کارکنان کو پہلے بھیجا، خود سب سے آخر میں تشریف لائے، دیگر پناہ گزینوں کی طرح انہیں بھی لاہور میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

قیام پاکستان کی مخالفت ایک منفی اور بے بنیاد پروپیگنڈہ سید مودوی اور جماعت اسلامی کی بابت سینہ بہ سینہ چلا آرہا ہے، تاریخ، لٹریچر، زمینی حقائق سے نابلد عام افراد سید مودودی کو بھی کانگریسی علماء کرام کے ساتھ بریکٹ کر دیتے ہیں، جنہوں نے قیام پاکستان کی بجائے متحدہ ہندوستان کی حمایت کی تھی، اینکر پرسن، یو ٹیوبرز کو کم از کم علمی حقائق کی روشنی میں اس پروپیگنڈہ کی حوصلہ شکنی کرنی چاہئے۔

سید فاروق حیدر مودودی کا اس اعتبار سے گمراہ کن موقف بھی تاریخ سے رو گردانی ہے، انہیں تو اپنے عظیم باپ پر نازاں ہونا چاہئے جن کی فکرکے چرچے پورے عالم میں ہیں، دنیا بھر کی جامعات میں ان کے کلیدی نظریہ Political Islam پر تحقیق کا عمل جاری ہے، وہ 21صدی کے بہترین اسلامی مفکر تھے، تحریک پاکستان سے کر اب تک انکی علمی، فکری، اجتہادی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

Check Also

Jamhuriat Aur Awami Masail: Falsafa Aur Haqiqat Ka Fasla

By Unzila Siddiqui