Sunday, 03 May 2026
  1. Home/
  2. Khalid Mehmood Rasool/
  3. Tehzeeb Ki Qirat

Tehzeeb Ki Qirat

"ہم ایک تہذیبی شیزوفینیا میں مبتلا ہیں، جس نے خود ہمیں اپنی نگاہ سے پوشیدہ کر رکھا ہے۔ خیالی غلبے کی لذت اتنی بڑھی ہوئی ہے کہ واقعی مغلوبیت کی کسک محسوس ہی نہیں ہوتی۔ " یہ مختصر اقتباس حال ہی میں شائع ہونے والی ایک عمدہ کتاب "تہذیب کی قرأت" سے ہے (ایمل مطبوعات اسلام آباد)۔ کتاب کے مصنف معروف دانشور، فلاسفر اور ماہر اقبالیات احمد جاوید ہیں۔

اپنے نام اور موضوعات کے اعتبار سے یہ کتاب اسم با مسمیٰ ہے۔ ہمارے ہاں علمی حلقوں میں زیربحث بہت سے اہم موضوعات اس کتاب کا حصہ ہیں: ایمان اور عقل جدید، تہذیب و ثقافت، مغرب: فکری اساسیات سے ماسٹرز بعد جدیدیت تک، دین، احیائے دین اور مذہبی، اصلاحی وسیاسی تحریکیں، مابعدالانسان دور، اقبالیات، ادب و فنون، مختلف نظام ہائے تعلیم و تربیت اور ٹیکنالوجی اور میڈیا۔

کتاب کا عنوان انتہائی معنی خیز ہے۔ اپنی تاریخ، تہذیب اور ورثے کا فخریہ اقرار اور اس کی گہرائی میں اتر کر قرأت پر مبنی ہے۔ احمد جاوید باقاعدگی سے مختلف محفلوں، مجالس اور چینلز پر ان موضوعات پر انتہائی پرمغز اور سنجیدہ گفتگو کرتے آئے ہیں۔ یہ کتاب ان کے ایسے ہی مکالموں سے کشید ہے۔ گفتگو یا بیانیہ مواد سے کتاب کی تدوین مشکل امر ہے لیکن شاہد اعوان نے یہ مشکل کام انتہائی محنت اور جاں فشانی سے سر انجام دیا ہے۔

گزشتہ دنوں کاشف منظور ڈائریکٹر جنرل پبلک لائبریریز کے ہاں اس کتاب کا ذکر آیا۔ موضوع کی گیرائی اور احمد جاوید کی استدلال کے سبب کتاب سے دلچسپی بڑھ گئی۔ کاشف منظور نے کتاب عنایت کی۔ مطالعہ شروع کیا تو موضوعات کے تنوع اور استدلال نے باندھ کر رکھ لیا۔

احمد جاوید کو ہم نے کئی بار سنا، ان کی شاعری بھی سنی۔ ان کا انداز بیاں اور لہجہ بہت منفرد ہے۔ ان کی رائے اور استدلال سے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن ان کے خلوص، وسعت مطالعہ اور گہرے غور وفکر کی ریاضت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

کتاب کے مرتب اور تدوین کار شاہد اعوان کے بقول احمد جاوید صاحب ہمارے وقت کا ایک نادر علمی وجود اور یگانہ روزگار شخصیت ہیں۔ اپنے موضوعات کے تنوع، فکر کی گہرائی، ندرت بیان، اظہار کے اسلوب، ذہن کی خلاقی، طبیعت کی درویشی اور بے مثل اخلاق جیسے عوامل کے امتزاج نے انھیں یہ مقام عطا کیا ہے۔ احمد جاوید صاحب کی شخصیت تیزی سے گم ہوتی ہوئی ہماری فکر وتہذیب کی ایک کڑی ہے جو اپنے عصر سے ہم آہنگ اور روایت میں گڑی ہے۔

جاوید صاحب کئی برسوں سے مجالس اور سماجی میڈیا کے ذریعے اپنی فکر کا چراغ جلائے ہوئے ہیں اور تہذیب وروایات کے عشاق کے لیے امید کی کرن ہیں۔ احمد جاوید صاحب کا علمی کام بوجوہ تحریری کم اور جدید صوتی وبصری ذرائع ابلاغ کے توسط سے زیادہ رہا۔ حرف مطبوعہ کی وقعت اور اہمیت کے پیش نظر کتابی شکل میں اس مواد سے ایک ایسا گراں مایہ علمی مواد فراہم ہوگیا ہے جو بجا طور پر وقت کی ضرورت ہے۔

کتاب کے موضوعات اور استدلال کا کینوس بہت وسیع ہے اور کالم کا دامن محدود۔ تاہم تہذیب کی قرأت سے چند خوشے آپ کی نذر، ہمارے زوال کا حقیقی ذمے دار کون؟ اس ضمن میں احمد جاوید کا استدلال کچھ یوں ہے: کبھی غور کیجیے کہ مسلمان علمی طور پر پسماندہ ہیں، بالکل ٹھیک لیکن اس علمی پسماندگی کا بڑا سبب علماء نہیں ہیں، جدید تعلیم یافتہ طبقہ ہے، یہ بہت پسماندہ ہے، اسی طرح مسلمان اخلاقی طور پر بہت کم تر ہیں۔

یہ بات بھی بالکل ٹھیک ہے لیکن اس اخلاقی کمتری کے مظاہر جدید تعلیم یافتہ طبقے میں روایتی طبقے سے زیادہ نظر آتے ہیں۔ حاصل کلام یہ ہے کہ دین کی ترجمانی کا نظام طبقاتی نہیں ہے۔ دین کے علمی اور اخلاقی آئیڈیلز کو حاصل کرنے کی کوشش میں علماء کے تمام طبقات کو ہم کاری اور ہم مقصدی کی کوشش میں ایک ہونا چاہیے، اس کے بغیر کچھ نہیں ہوگا۔

چونکہ ہم دین کو دنیا پر مثبت تخلیقی اور تحقیقی مفہوم میں غالب نہ کر سکے یا نہ رکھ سکے، تو اس کا سب سے بڑا اثر یہ پڑا کہ ہمارے اخلاقی آئیڈیلز اس ماحول ہی سے منقطع ہو کر رہ گئے جس میں ان کا عمل میں آنا ممکن تھا۔ زندگی کو بنانے بگاڑنے اور دنیا کو بدلنے اور چلانے کی قوت سے مکمل محرومی نے ہمارے اخلاقی وجود کو مضحکہ خیز حد تک کاروبار زندگی سے لاتعلق کرکے رکھ دیا۔

اس لا تعلقی کا وہی نتیجہ نکلنا تھا جو ہم دیکھ رہے ہیں یعنی اخلاقی وجود کی پژمردگی۔ تاہم امید کا یہ جواز بہرحال موجود ہے کہ ہمارے تمام آئیڈیلز ابھی ہمارے حافظے سے خارج نہیں ہوئے اور ہمارے جذبات واحساسات میں ہلکا سا تموج ضرور پیدا کر سکتے ہیں۔

پس ہمارا اجتماعی حافظہ ابھی پوری طرح کند نہیں ہوا، اس سے توقع باندھی جا سکتی ہے کہ ہمارے آئیڈیلز حافظے سے عمل میں آنے کا امکان ضرور رکھتے ہیں بشرطیکہ ہمیں بھی مغرب کی طرح ایک ہمہ گیر تبدیلی کا محرک مل جائے۔

انقلاب ہمیشہ حافظے اور احساسات میں زندگی پیدا ہونے سے آتا ہے۔ ہمیں بس زندگی کی رو کا انتظار ہے جو فی الحال ہمارے ویران ساحلوں سے اتنی دور ہے کہ اس چشم تصور سے بھی دکھائی نہیں دیتی۔

اس سوال پر کہ ہمارے ہاں تبدیلی بہت تیزی سے آ رہی ہے۔ کتاب سے رغبت ختم ہو رہی ہے، لوگوں نے سمجھنے کی بجائے دیکھنا شروع کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا اور الیکٹرانک آلات کا استعمال بہت عام ہے۔ کیا یہ تبدیلی ترقی کی جانب گامزن ہے یا ایک نیا زوال اور تنزل ہے؟

اس کے جواب میں لکھتے ہیں: جی ہاں یہ تنزل ہے مگر یہ تنزل گلوبل ہے تاہم ہمارا معاملہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں حالت کمال تو آئی ہی نہیں تھی، بس زوال کے مظاہر ادلتے بدلتے رہتے ہیں۔ مغرب بھی اس پہلو سے زوال پذیر ہے لیکن ان کے پاس اس زوال کو ایک حد میں رکھنے کی قوت بھی موجود ہے جو ہمارے پاس نہیں۔

موجودہ دور میں یعنی ٹیکنالوجی کے دور میں آدمیت نے جہاں بہت پہلو سے ترقی کی ہے وہیں اسے ایک جوہری انحطاط اور بحران سے بھی گزرنا پڑ رہا ہے۔ ٹیکنالوجی ہمیں اپنے اندر جھانکنے سے روکتی ہے اور انفرادیت کی باطنی بنیادوں کو کمزور کرتے بالاخر ڈھا دیتی ہے۔

فرد کو اپنا ہونا بے جواز لگنے لگتا ہے، چیزوں سے تعلق کی وہ احساس انگیز حالتیں، وہ نسبتیں جو کبھی دھیرے دھیرے کہیں دھندلی اور کہیں روشن ہو کر منکشف ہوتی تھیں اور جو گہرے سانس کی طرح سینے کو بھر دینے والا لمس عطا کرتی تھیں، یہ سب جیسے سامری جادوگر کی چھڑی کے اشارے سے غائب ہوتے جا رہے ہیں۔

ٹیکنالوجی انسان کی تعریفی حدود کو توڑ رہی ہے۔ ٹیکنالوجی کی برکت سے سبجیکٹ غائب ہوتا جا رہا ہے، بس چیزیں رہ گئی ہیں اور آنکھیں مغلوب، آنکھیں مجذوب، خالی پن سے بھری آنکھیں، ندیدی آنکھیں، یہ آنکھیں صرف اور صرف لذت کی جویا ہیں اور ہر منظر کو خوشگوار یا ناخوشگوار میں سے کسی ایک تاثر میں تبدیل کرتی رہتی ہیں۔

یہ خود ایک گراوٹ ہے جو آنکھوں پر مسلط ہے۔ انسان سماجی وجود ہے، اس کا ہر عروج وزوال اسی کسوٹی پر پرکھا جائے گا کہ اس کا جذبہ تعلق کس حالت میں ہے اور کس سطح کا ہے۔ ٹیکنالوجی کے نئے مظاہر نے نظام تعلق پر ایسی ضرب لگائی ہے کہ اب خود سے بھی بھرا پرا تعلق رکھنا دشوار سے دشوار تر ہو چلا ہے۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais