Thursday, 05 November 2026
  1. Home/
  2. Maleeha Syed/
  3. Pakistan Mein Barhta Hua Zehni Bohran

Pakistan Mein Barhta Hua Zehni Bohran

ذہنی صحت کے حوالے سے پاکستان کی وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کردہ حالیہ اعداد و شمار کو محض کاغذ پر ثبت کوئی رسمی گنتی سمجھنا بہت بڑی بھول ہوگی کیونکہ یہ رپورٹ درحقیقت ایک خاموش، زہریلے اور بھیانک سماجی سانحے کا کھلا اعلان ہے۔ یہ ہوش ربا انکشاف کہ پاکستان میں مختلف نوعیت کے ذہنی، اعصابی اور نفسیاتی عوارض میں مبتلا افراد کی تعداد تین کروڑ بیس لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، ہمارے اجتماعی ضمیر پر ایک کاری ضرب اور اربابِ اختیار کے لیے بیدار ہونے کا آخری اشارہ ہونا چاہیے۔ اس کا سیدھا اور لرزہ خیز مطلب یہ بنتا ہے کہ ہماری آبادی کا ہر ساتواں یا آٹھواں انسان کسی نہ کسی درجے کے شدید ذہنی دباؤ، اداسی، خوف، اضطراب یا فکری انتشار کا سامنا کر رہا ہے۔ تاہم، سچی بات یہ ہے کہ زمینی حقائق کے تناظر میں یہ سرکاری ہندسہ بھی اصل حقیقت کا محض بالائی سرا دکھائی دیتا ہے۔ لاکھوں لوگ ایسے ہیں جو اپنے گھروں کی چار دیواری میں خاموشی کے ساتھ اپنے اندر ہی اندر روز گھلتے ہیں، تڑپتے ہیں، بغیر کسی تشخیص اور اندراج کے زندگی سے لڑتے رہتے ہیں اور آخر کار ایک دن مایوسی کی راکھ بن کر فنا ہو جاتے ہیں۔

یہ بدترین بحران راتوں رات اچانک کسی آسمانی آفت کی طرح ہم پر نازل نہیں ہوا بلکہ یہ دہائیوں سے مسلسل پروان چڑھنے والی معاشی ناہمواری، بے روزگاری، کمر توڑ مہنگائی، عدم تحفظ، سیاسی بے یقینی اور شدید سماجی گھٹن کا ایک فطری اور ناگزیر منطقی نتیجہ ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں ایک سفید پوش اور محنت کش باپ کے لیے اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی عزت و وقار کے ساتھ کھلانا ایک روزمرہ کا محاذ بن چکا ہو، جہاں بجلی اور گیس کے بل انسانی زندگی کی بنیادی سانسوں سے زیادہ بھاری ہو چکے ہوں، وہاں اعصاب کا سلامت رہنا کسی معجزے سے کم نہیں۔ ہمارے نوجوان ہاتھوں میں اعلیٰ تعلیمی ڈگریاں اٹھائے ناامیدی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں۔ مستقبل کے غیر یقینی خاکے نے ان کے چہروں کی رونق اور ذہنوں کا سکون چھین لیا ہے۔ جب بقا ایک نہ ختم ہونے والی جنگ بن جائے اور محنت کا صلہ ذلت و درماندگی کی شکل میں ملے، تو ایسے معاشرے کے اندر ڈپریشن، یاسیت، غصے اور اعصابی تناؤ کا طوفان برپا ہونا کوئی حیران کن امر نہیں رہ جاتا۔ اقتصادی بدحالی نے ہنستے بستے گھرانوں کے سکون کو نگل لیا ہے اور انسان کو مشین بنا کر اس کی روح اور عقل کو کچل ڈالا ہے۔

اس بحران کا سب سے زیادہ المناک اور سنگین رخ وہ معاشرتی رویہ ہے جو ذہنی بیماریوں کو کسی جرم، گناہ، کردار کی کمزوری یا اخلاقی عیب کے طور پر لیتا ہے۔ ہمارے قدامت پسند اور روایتی معاشرے میں اگر کوئی شخص مستقل اداسی، مسلسل بے چینی یا کسی اندرونی خوف کا ذکر کرے تو اس کا درد سمجھنے کے بجائے اسے فوراً "ایمان کی کمزوری"، "ناشکری"، "نافرمانی" یا پھر "پاگل پن" کا طعنہ دے دیا جاتا ہے۔ یہ معاشرتی بدنامی یا "اسٹگما" مریض کے گلے میں وہ زہریلا طوق بن جاتا ہے جو اسے اپنی تکلیف چھپانے اور احساسِ جرم میں مبتلا رہنے پر مجبور کرتا ہے۔ لوگ یہ تسلیم کرنے کو تیار ہی نہیں کہ جیسے دل، جگر، معدہ یا ہڈیاں بیمار ہو سکتی ہیں اور ان کے علاج کے لیے ڈاکٹر کے پاس جانا پڑتا ہے۔ بخار یا ذیابیطس کے مریض سے ہمدردی جتائی جاتی ہے مگر جب کوئی ڈپریشن کے ہاتھوں زندگی کی جنگ ہار رہا ہو تو اسے تنقید کی سولی پر لٹکا دیا جاتا ہے۔ یہ رویہ مریض کو مایوسی کے اس اندھے کنویں کی تہہ میں پھینک دیتا ہے جہاں سے نکلنے کا واحد راستہ اسے اپنی جان لے کر ہی سجھائی دیتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے ملک میں خودکشی کے دل دہلا دینے والے واقعات میں روز بروز خوفناک اضافہ ہو رہا ہے۔

جہاں تک ہماری ریاستی ترجیحات اور طبی ڈھانچے کا تعلق ہے، وہاں صورتِ حال مجرمانہ غفلت اور لاپروائی کی ایک المناک داستان بیان کرتی ہے۔ جس وبائی اور طوفانی رفتار سے ذہنی امراض کا دائرہ پھیل رہا ہے، اس کے مقابلے میں ہماری قومی تیاری اور وسائل صفر کے برابر ہیں۔ پاکستان میں صحت کا عمومی بجٹ ہی ہمیشہ سے نا کافی رہا ہے اور اس بجٹ میں سے ذہنی صحت کے حصے میں آنے والی رقم تو اونٹ کے منہ میں زیرے سے بھی کم ہے۔ بائیس تئیس کروڑ کی آبادی کے لیے مستند سائیکاٹرسٹس اور کلینیکل ماہرینِ نفسیات کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔ پورے ملک میں صرف چند سو تربیت یافتہ معالجین موجود ہیں، جس کا مطلب ہے کہ لاکھوں مریضوں کے تناسب سے بمشکل ایک مستند ڈاکٹر میسر ہے۔ بیشتر سرکاری ہسپتالوں میں ذہنی امراض کے وارڈز یا تو سرے سے موجود ہی نہیں ہیں اور اگر کہیں برائے نام بنے ہوئے بھی ہیں تو وہاں نہ ادویات کا معقول بندوبست ہے اور نہ ہی باعزت دیکھ بھال کا نظام۔ دور دراز دیہات اور پسماندہ اضلاع میں تو ذہنی امراض کے کسی اسپتال کا تصور تک ناپید ہے۔

دوسری طرف نجی شعبے کی جانب رخ کیا جائے تو وہاں علاج اس قدر ہوش ربا اور مہنگا ہے کہ عام شہری تو ایک طرف، اچھے خاصے کھاتے پیتے اور برسرِ روزگار سفید پوش گھرانوں کے لیے بھی ایک سیشن کی فیس ادا کرنا ناممکن ہو چکا ہے۔ ایک ماہرِ نفسیات کی ایک گھنٹے کی کونسلنگ فیس ہزاروں روپے میں وصول کی جاتی ہے اور اس کے بعد طویل عرصے تک جاری رہنے والی ادویات کے اخراجات الگ ہوتے ہیں۔ جب ایک عام انسان کے پاس اپنی اس خوفناک بیماری کے علاج کے لیے معاشی طاقت نہیں ہوتی اور سرکاری سطح پر بھی کوئی ہاتھ تھامنے والا نہیں ہوتا، تو وہ مایوس ہو کر اندھی تاریکیوں کی طرف قدم بڑھاتا ہے۔

بدقسمتی سے سائنس، تحقیق اور میڈیکل طریقہ علاج کے اس وسیع خلا کو پیروں، فقیروں، جعلی عاملوں اور نجومیوں نے پر کر رکھا ہے۔ ذہنی مریضوں کو زنجیروں سے باندھنا، ان پر وحشیانہ تشدد کرنا، تعویذ گنڈوں کے نام پر ان کی رہی سہی جمع پونجی لوٹ لینا اور انہیں آسیب زدہ قرار دے کر زندہ درگور کر دینا ہمارا روز کا معمول بن چکا ہے۔ بروقت علاج نہ ملنے سے قابلِ علاج مریض بھی اپنی ذہنی توانائیاں ہمیشہ کے لیے کھو بیٹھتے ہیں اور عمر بھر کے لیے معذور ہو جاتے ہیں۔ اگر ہم نے آج بھی اپنے گریبان میں نہ جھانکا اور اس بحران کے تدارک کے لیے ٹھوس، عملی اور فوری اقدامات نہ اٹھائے، تو یہ خاموش وبا ہمارے پورے سماجی تانے بانے کو دیمک کی طرح چاٹ جائے گی اور ہماری آنے والی نسلوں کی تمام تر فکری، علمی اور تخلیقی صلاحیتوں کو ہمیشہ کے لیے نگل لے گی۔

Check Also

Jamhuriat Aur Awami Masail: Falsafa Aur Haqiqat Ka Fasla

By Unzila Siddiqui