انسان صدیوں سے اپنے وجود، نسب، خاندانی تاریخ اور بیماریوں کے اسباب سمجھنے کی کوشش کرتا آیا ہے۔ اس جستجو کا ذریعہ کبھی شجرہ نسب رہا، کبھی قدیم مخطوطات اور خاندانی روایات اور کبھی آثارِ قدیمہ اور تاریخی دستاویزات۔ لیکن دورِ جدید میں سائنس نے انسانی جسم کے اندر موجود ڈی این اے پر رقم تحریر تک رسائی حاصل کر لی ہے اس کے ذریعے انسانی وجود، نسب اور خاندانی تاریخ کو دریافت کر لیاہے۔
آج جدید جینیاتی ٹیکنالوجی نے یہ امکان پیدا کر دیا ہے کہ انسان اپنے آباؤ اجداد، موروثی بیماریوں اور اپنی جسمانی خصوصیات کے بارے میں پہلے سے کہیں زیادہ معلومات حاصل کر سکے۔ کچھ سال پہلے تک ڈی این اے پر رقم تحریر کو پڑھنے اور اپنی موروثی معلومات حاصل کرنے کے لیے کسی ماہر ڈاکٹر، مخصوص طبی ضرورت اور تجربہ گاہ سے رجوع کرنا پڑتا تھا لیکن اب 23andMeنامی کمپنی نے اس عمل کوانسانوں کے لیے آسان کر دیا ہے۔ 23andMeکمپنی 2006ء میں قائم ہوئی، اس کے بانیوں میں این ووجسکی، لنڈا ایوی اور پال کسنزا شامل تھے۔ کمپنی کا نام انسانی خلیے میں موجود کروموسومز کے 23 جوڑوں کی بنیاد پر رکھا گیا ہے۔ اس کمپنی کے قیام کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ انسانوں کی جینیاتی معلومات صرف تحقیقی اداروں، ماہرین اور طبی مراکز تک محدود نہ رہیں بلکہ عام انسان بھی اپنے جسم میں موجود موروثی معلومات تک رسائی حاصل کر سکیں۔
2007ء میں کمپنی نے امریکہ بھر میں اس ٹیسٹ کی سہولت کا اعلان کیا اور 2008ء میں اس کی ڈی این اے ٹیسٹ کی سہولت کو ٹائم میگزین نے سال کی اہم ترین ایجادات میں شمار کیا۔ کمپنی کا طریقہ کار یہ ہے کہ صارف آن لائن فیس ادا کرکے کمپنی سے ڈاک کے ذریعے ٹیسٹ کِٹ حاصل کرتا، اس میں اپنے لعاب کا نمونہ جمع کرتا ہے اور اسے مقررہ طریقہ کار کے تحت واپس کمپنی کو بھیج دیتا ہے۔ تجربہ گاہ میں نمونے کا تجزیہ کیا جاتا اور صارف کو آن لائن رپورٹ فراہم کر دی جاتی ہے۔
اس رپورٹ میں نسب، آبائی جغرافیائی نسبتوں، بعض جسمانی خصوصیات اور مخصوص جینیاتی صحت کے خطرات سے متعلق معلومات شامل ہوتی ہیں۔ یہ ٹیسٹ انسان کے پورے جینیاتی وجود کی مکمل اور قطعی تشریح نہیں ہوتا بلکہ یہ مخصوص مقامات کا تجزیہ کرتا ہے اور ان مقامات سے حاصل ہونے والی معلومات کو جینیاتی مطالعات اور مختلف حوالوں کے ساتھ ملا کر کچھ قیاسات لگاتا ہے۔ اس طرح ایک ایسی رپورٹ سامنے تیار ہوتی ہے جو انسان کے موروثی پس منظر یا اس کی بیماریوں سے متعلق مختلف پہلوؤں کی وضاحت کرتی ہے۔
مستقبل قریب میں اگر یہ ٹیکنالوجی عام ہوتی ہے تو اس کے ساتھ کئی مذہبی اور سماجی پہلو بھی جڑجائیں گے۔ مثلاََ اسلام میں نسب، خاندان، نکاح، وراثت اور رشتہ داری کو اہمیت دی گئی ہے۔ قرآن مجید کی سورہ حجرات میں انسانوں کے مختلف گروہوں اور قبائل میں تقسیم ہونے کا ذکر کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ قوموں اور قبیلوں کی شناخت باہمی تعارف کا ذریعہ ہے۔ اس تناظر میں جینیاتی تحقیق انسانی تنوع اور باہمی تعلق کو سمجھنے کا ایک سائنسی ذریعہ بن سکتی ہے۔
یہ انسان کو یاد دلا سکتی ہے کہ دنیا کے مختلف خطوں میں آباد انسانوں کے درمیان تاریخی روابط اور مشترک موروثی ورثے موجودہو سکتے ہیں۔ یہ سوال بھی اہم ہوگا کہ اگر کسی شخص کو ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے اپنے خاندان کے بارے میں ایسی معلومات حاصل ہوں جو اس کے سابقہ تصور سے مختلف ہوں تو اس کے نفسیاتی، خاندانی اور سماجی اثرات کیا ہوں گے؟ کسی شخص کے حیاتیاتی والدین، نامعلوم بہن بھائیوں یا خاندانی تعلقات کے بارے میں نئی معلومات ممکنہ طور پر شناخت کے احساس کو متاثر کر سکتی ہیں۔ ایسی معلومات کے افشا ہونے سے خاندانوں میں اختلافات پیدا ہونے، ازدواجی تعلقات متاثر ہونے اور افراد کی نجی زندگی میں مداخلت کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ اس لیے مستقبل میں یہ جینیاتی ٹیسٹ محض ایک سائنسی عمل نہیں رہے گا بلکہ انسانی تعلقات اور خاندانی زندگی سے متعلق ایک حساس معاملہ بھی بن جائے گا۔
ایک اہم سوال تقدیر اور انسانی اختیار سے متعلق پیدا ہوگاہے۔ اگر جینیاتی رپورٹ کسی شخص میں کسی بیماری کا امکان ظاہر کرتی ہے تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی زندگی پہلے ہی متعین ہو چکی ہے؟ سائنسی اعتبار سے کسی بیماری کا جینیاتی امکان سو فیصد نہیں ہوتا بلکہ بہت سی بیماریوں میں جینیاتی عوامل کے ساتھ ماحول، طرزِ زندگی، غذا اور دیگر عوامل بھی کردار ادا کرتے ہیں۔ اسلام میں تقدیر پر ایمان کے ساتھ انسانی ذمہ داری، اختیار اور تدبیر کی بھی اہمیت ہے۔ ایک بنیادی سوال انسانی تخلیق، فطری ساخت اور علاج کی حدود سے متعلق پیدا ہو سکتاہے، مثلاََ اگر سائنس کسی موروثی بیماری کو پیدا ہونے سے پہلے روکنے یا درست کرنے کے قابل ہو جائے تو کیا یہ انسانی زندگی کے تحفظ کی ایک صورت ہوگی یا انسانی تخلیق میں ایسی مداخلت تصور ہوگی جس پر مذہبی اور اخلاقی غور ضروری گا؟
اس سوال کو لے کر مذہب اور سائنس کے درمیان مکالمہ کے وسیع امکانات پیدا ہو سکتے ہیں، مثلاََ بیماری کے علاج، شدید تکلیف سے بچاؤ اور انسانی صحت کے تحفظ کا معاملہ ایک طرف ہوگا جبکہ محض ظاہری خوب صورتی، جسمانی برتری یا مطلوبہ خصوصیات کے حصول کے لیے جینیاتی تبدیلی دوسری نوعیت کے سوالات پیدا کرے گی۔ اسلامی اخلاقیات میں انسانی جان، وقار، ضرر سے بچاو اور ذمہ داری جیسے اصول اس بحث اور مکالمے کے لیے اہم بنیاد فراہم کر سکتے ہیں۔
اس ٹیسٹ کے عام ہونے کے صورت میں سماجی اداروں کے سامنے بھی نئے سوالات آئیں گے۔ مثلاََ کیا کسی شخص کی جینیاتی معلومات اس کی اجازت کے بغیر حاصل کی جا سکتی ہیں؟ کیا والدین کو اپنے بچوں کی تمام جینیاتی معلومات جاننے کا حق حاصل ہے یا بعض معلومات بچے کے مستقبل کے اختیار اور رازداری کے لیے محفوظ رکھی جانی چاہییں؟ کیا شادی سے پہلے جینیاتی ٹیسٹ کو لازم قرار دینا مناسب ہوگا؟ موروثی بیماریوں سے متعلق معلومات کی بنیاد پر شادیوں کے فیصلے کس حد تک کیے جا سکتے ہیں؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن میں طبی فائدے، انسانی اختیار، خاندانی ذمہ داری اور مذہبی اخلاقیات سب شامل ہیں۔ 23andMeنے اس جینیاتی علم کو عام انسان کی گفتگو کا حصہ بنا دیا ہے اور اس نے ان سوالات کو گھر گھر پہنچا دیا ہے جو کبھی صرف تجربہ گاہوں اور طبی تحقیق کے حلقوں میں زیرِ بحث آتے تھے۔
اکیسویں صدی میں جینیاتی تحقیقات کے نتیجے میں مذکورہ سوالات کا سامنا صرف مغرب کو نہیں ہوگا بلکہ مسلم دنیا میں بھی جینیاتی تحقیق سے متعلق سرگرمیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ قطر اور سعودی عرب جیسے ممالک میں قومی جینوم منصوبوں کے ذریعے آبادیوں کی جینیاتی خصوصیات، موروثی بیماریوں اور صحت سے متعلق معلومات پر کام کیا جا رہا ہے۔ خلیجی خطے میں جینیاتی تحقیق کو صحت عامہ، طبی منصوبہ بندی اور قومی تحقیقی صلاحیتوں سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔ تاہم پاکستان اور تیسری دنیا سے تعلق رکھنے والے اسلامی ممالک اس دوڑ میں ابھی بہت پیچھے ہیں۔
23andMe جیسی ٹیکنالوجیز کے بارے میں متوازن رویہ یہ ہے کہ اس کے علمی امکانات سے فائدہ اٹھایا جائے، اس کی حدود کو تسلیم کیا جائے اور انسانی وقار، رازداری اور اختیار کو ہر حال میں مقدم رکھا جائے۔ مستقبل کا اصل سوال صرف یہ نہیں ہوگا کہ انسان اپنے ڈی این اے کے بارے میں کتنا جان سکتا ہے بلکہ یہ بھی ہوگا کہ اس علم کو کس کے اختیار میں دیا جائے اور انسانی زندگی کے بارے میں فیصلے کرنے کا حق کس کے پاس ہو۔ یہی وہ مقام ہے جہاں جینیاتی سائنس کا مستقبل انسانی آزادی، مذہبی اخلاقیات اور معاشرتی انصاف کے سوالات سے جڑ جاتا ہے۔