Tuesday, 28 April 2026
  1. Home/
  2. Muhammad Irfan Nadeem/
  3. Jamea Punjab Mein Holi Ki Taqreeb Aur Ilhad Ka Tariqa e Wardat

Jamea Punjab Mein Holi Ki Taqreeb Aur Ilhad Ka Tariqa e Wardat

20 اپریل کو پنجاب یونیورسٹی میں ہولی کا تہوار منایا گیا۔ اس تہوار میں چند ہندو اور سکھ لڑکوں کے ساتھ سیکڑوں مسلمان لڑکے اور لڑکیاں شریک ہوئے۔ بے ہنگم میوزک کے ساتھ مخلوط ڈانس ہوا، اخلاقیات کی دھجیاں اڑائی گئی اورکھلے عام بے ہودگی کا مظاہرہ کیا گیا۔ ہولی کیا ہے اوریہ کیوں منائی جاتی ہے پہلے ہم اس کی ہسٹری آپ کے سامنے رکھ دیتے ہیں۔ ہولی ہندوؤں کا ایک قدیم تہوار ہے اور یہ ہر سال مارچ کے مہینے میں منایا جاتا ہے۔

قدیم ہندوستان میں ہرن یکشپو نامی راجہ کی عبادت سے خوش ہو کر دیوتاؤں نے اسے نوید سنائی کہ وہ لافانی ہوگیا ہے۔ اسے نہ کوئی انسان مار سکے گا نہ حیوان، نہ اسے دن کو موت آئے گی نہ رات کو، نہ وہ زمین پر مر سکے گا، نہ پانی میں اور نہ ہوا میں، نہ وہ گھر کے اندر مرے گا نہ باہر۔ ہرن یکشپو سمجھا کہ اب اسے کبھی موت نہیں آئے گی۔ یہ سوچ کر اس نے اپنی رعایا پر ظلم کا بازار گرم کر دیا اور زبردستی اپنی پوجا کرانا شروع کر دی۔ اس کا ایک بیٹا جس کا نام پرہلادا تھا، اس نے باپ کی عبادت سے انکار کر دیا۔ باپ نے اپنی بہن ہولیکا کو حکم دیا کہ پرہلادا کو جلا کر ہلاک کر دے۔

ہولیکا کے بارے مشہور تھا کہ اسے آگ نہیں چھوتی۔ ہولیکا پرہلادا کو اپنے ساتھ لے کر آگ میں کود گئی۔ دیکھنے والوں کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ آگ پرہلادا کا کچھ نہ بگاڑ سکی لیکن ہولیکا جل کر راکھ ہوگئی۔ روایت ہے کہ آخری سانس لینے سے پہلے ہولیکا کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور اس نے پرہلادا سے معافی مانگی۔ پرہلادا نے اپنی پھوپھی سے عہد کیا کہ اس کا نام ہمیشہ زندہ رکھے گا۔ اس نے ہولیکا کے نام سے منسوب ہولی کا تہوار شروع کیا جو آج تک منایا جاتا ہے۔

قارئین! ہولی کا یہ پس منظر بتا رہا ہے کہ ہولی مکمل طور پر ہندووانہ تہوار ہے۔ اب آپ ذرا یوٹیوب یا فیس بک پر جائیں اور ہولی کی تقریب کے مناظر دیکھیں۔ آپ دیکھیں گے کہ کس طرح سیکڑوں مسلمان طلبا و طالبات کھلے میدان میں جمع ہیں، بلند آواز سے میوزک چل رہا ہے، شور شرابا ہے، مخلوط ڈانس ہے، ہوہو ہاہا کا شورہے اور ایک دوسرے پر رنگ پھینکے جا رہے ہیں۔ یہ طلبا و طالبات کون ہیں؟ یہ مسلمان ہیں، مسلمان گھرانوں میں پلے بڑھے ہیں، والدین نے انہیں تعلیم و تہذیب کے لیے یونیورسٹی بھیجا ہے لیکن یہ یونیورسٹی میں بے ہنگم میوزک، مخلوط ڈانس اور ہولی جیسے تہواروں کو منانا سیکھ رہے ہیں۔

ہولی سے جڑا ایک اور واقعہ بھی ہم آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتے ہیں۔ تین سال قبل 13 جون 2023 کو قائد اعظم یونیورسٹی میں بھی ہولی منائی گئی تھی، اس میں بھی اسی طرح بے ہودگی، بے راہ روی اور مخلوط ڈانس کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اس ہولی کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو معاملہ ایچ ای سی کے نوٹس میں آیا، اس وقت کی ایچ ای سی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر شائستہ سہیل نے اس کا نوٹس لیتے ہوئے جامعات میں ہولی پر پابندی کا لیٹر جاری کر دیا تھا۔

ایچ ای سی نے یونیورسٹی کا نام لیے بغیر پابندی کا لیٹر جاری کیا تھا اور یہ لیٹر انتہائی معقول اور مدلل تھا، پاکستانی ثقافت، اقدار، روایات اور اسلامی نظریہ حیات کا حوالہ دے کر کہا گیا تھا کہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اور ایسی تقریبات کےلیے پاکستان میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ جیسے ہی لیٹر جاری ہوا مغربی فنڈڈ میڈیا، این جی اوز اور مذہب بے زار چیخ اٹھے، شاہ زیب خانزاہ اور دیگر اینکرز نے پروگرام میں چیخنا چلانا شروع کر دیا، بات قومی اسمبلی تک پہنچ گئی، اقلیتی ارکان نے خلط مبحث پیدا کرکے ہمدردی سمیٹنے کی کوشش کی اور اس وقت کے وزیر ہائر ایجوکیشن رانا تنویر حسین نے پابندی کا یہ نوٹس نہ صرف واپس لینے کا اعلان کیا بلکہ ایچ ای سی کے متعلقہ ذمہ داران کو آئندہ ایسے اقدامات سے باز رہنے کا حکم بھی دیا تھا۔

ایک ایسی تقریب جو انتہائی غیر مناسب تھی، جو پاکستان کی شناخت، تہذیب، اقدار و روایات پر خوفناک حملہ تھی، جس پر پابندی لگانا ملکی آئین و قانون کا تقاضا اور چوبیس کروڑ عوام کا مطالبہ تھا اسے صرف دو دن کے اندر اڑا کر رکھ دیا گیا تھا۔ این جی اوز، میڈیا ہاؤس اور چند مذہب بے زار جیت گئے تھے اور پاکستان کا آئین، مذہب اور چوبیس کروڑ عوام ہار گئے تھے۔

اب ہم آتے ہیں اس اہم سوال کی طرح کہ ہولی اور اس طرح کے حیا باختہ ایونٹ کس طرح الحاد کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیز میں الحاد بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ بات یہ ہے کہ الحاد کبھی براہ راست حملہ آور نہیں ہوتا، یہ ابتدا میں انسان کو خدا کے انکار پر ہرگز قائل نہیں کر پاتا کیونکہ خدا کا انکار اتنا آسان نہیں ہوتا۔ الحاد کیا کرتا ہے، یہ چپکے چپکے سے اپنی جگہ بناتا ہے۔ یہ دبے پاؤں دل کی دنیا میں داخل ہوتا ہے اور تب خبر ہوتی ہے جب انسان کی سب سے قیمتی متاع ایمان کو لے کر رخصت ہو جاتا ہے۔

الحاد سب سے پہلے نوجوانوں کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا کرتا ہے، یہ انہیں آزاد خیالی اور روشن ضمیری کا سبق پڑھاتا ہے، یہ انہیں سائنسی فتوحات کی کہانیاں سنا کر رام کرتا ہے۔ یہ وسوسے ڈالتا ہے کہ دیکھو سائنس نے ثابت کر دیا ہے کہ کائنات خود بخود وجود میں آئی اور یہ خود بخود چل رہے ہی۔ اسی طرح ایک دن یہ خود بخود ختم ہو جائے گی اس لیے اس میں کسی خدا کو ماننے کی کیا ضرورت ہے۔ الحاد انہیں یہ سبق پڑھاتا ہے کہ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ سورج مشرق سے نکلتا ہے اور مغرب میں غروب ہوتا ہے جبکہ سائنس ثابت کر چکی ہے مشرق اور مغرب سب ڈھکوسلا ہے، اصل بات یہ ہے کہ سورج اور زمین کی گردش ہوتی ہے جس سے ہمیں سورج طلوع اور غروب ہوتا دکھائی دیتا ہے۔

الحاد مزید آگے بڑھ کر الجھاتا ہے کہ پہلے ہمیں بتایا جاتا تھا کہ کوئی خدا ہے جس نے ہمیں ایک آدم اور حوا سے پیدا کیا اور وہ ہمیں موت دے گا اور حساب و کتاب لے گا جبکہ جدید سائنس یہ ثابت کر چکی ہے کہ انسان اربوں سال پہلے از خود وجود میں آنے والے ایک سنگل سیل سے وجود میں آیا ہے۔ الحاد مزید کچوکے لگاتا ہے کہ مذہب ایک ڈھکوسلا ہے جسے مذہبی طبقہ محض اپنی اجارہ داری کے لیے استعمال کرتا ہے۔ مذہب کی دی ہوئی اخلاقی اقدار کوئی معنی نہیں رکھتی انسان خود اپنے لیے اخلاقی اقدار کا تعین کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ الحاد انہیں کچھ اخلاقی سوالوں میں الجھاتا ہے، مثلاً اللہ غفور و رحیم ہے تو ہمیں اور کافروں کو عذاب میں کیوں مبتلا کرے گا، ہمیں عذاب دے کر اسے کیا ملے گا۔

کافر اگر نیک عمل کریں تو انہیں اس کا بدلہ کیوں نہیں ملے گا اس کے لیے کلمہ پڑھنا کیوں ضروری ہے وغیرہ۔ قتل کے بدلے قتل کا اصول کیوں ہے، حدود کا ظالمانہ نظام کیوں رکھا گیا ہے۔ اللہ انسانوں پر جنگیں کیوں مسلط کرتا ہے، سیلاب اور زلزلے کیوں آتے ہیں اور اگر مذہب کو ماننا ہی ہے تو اسلام ہی کیوں دیگر مذاہب کو کیوں نہ مان لیا جائے۔ ایک طرف الحاد سٹوڈنٹس کے ذہنوں پر ان سوالات کے کچوکے لگاتا رہتا ہے دوسری طرف عمریں ایسی ہوتی ہیں کہ آزادی چاہتی ہیں اور رہی سہی کسر مخلوط ماحول پوری کر دیتا ہے۔ یہ سب عوامل مل کرخواہشات کی پیروی کو ہوا دیتے ہیں، موقع بھی ہوتا ہے، دستور بھی اور خواہشات بھی لہٰذا مذہب اپنی اہمیت کھو دیتا ہے اور الحاد کا بیج ذہنوں میں جڑ پکڑنا شروع کر دیتا ہے۔

الحاد یہ طریقہ واردات کیوں اختیار کرتا ہے اس کی وجہ بہت سادہ ہے، ڈائریکٹ خدا کا انکار انسان کے لیے آسان نہیں ہوتا کیونکہ اللہ نے ہر انسان کے اندر ہدایت کا مادہ رکھا ہے جسے وہ تھوڑی سی غور وفکر کی بنیاد پر پہچان سکتا ہے۔ اللہ نے بارہا قرآن میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے، سورہ الشمس میں اللہ فرماتے ہیں فالھما فجورھا وتقوھا، کہ ہم نے ہر انسان کے اندر اچھائی اور برائی، ہدایت اور گمراہی کا مادہ رکھا ہے۔ اس لیے یہ حقیقت ہے کہ کسی بھی ذی شعور کے لیے خدا کا انکار آسان نہیں ہے، تو اس کےلیے الحاد یہ طریقہ واردات اختیار کرتا ہے اور یونیورسٹیز میں ہولی، دیوالی، آزاد ماحول، مخلوط ڈانس، بے ہنگم میوزک اور مغربی تہوار یہ الحاد کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں، یہ الحاد کے بیج ہوتے ہیں اور یہ الحاد کی پنیری کا کام کرتے ہیں۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ ہم نے 2023 میں قومی اسمبلی میں اسے قانونی جواز فراہم کرکے آئندہ نسلوں کے ایمان کا سودا کر لیا ہے۔ کاش ہماری مذہبی سیاسی جماعتوں کو جامعات میں ہونے والی اس بے راہ روی کے نقصانات کا اندازہ ہوتا۔ کاش ہمارے وکلا کا کوئی ایسا پلیٹ فارم ہوتا جس کے ذریعے مذہب، تہذیب، اقدار اور روایات پر ہونے والے ان حملوں کو عدالت میں چیلنج کیا جاتا اور اس جنگ کو عدالت کے ایوانوں میں لڑا جاتا۔ کاش ہمارے علما کو صورت حال کی سنگینی کا اندازہ ہوتا اور وہ اس بے راہ روی کو روکنے کے لیے آگے بڑھتے۔

قارئین میری آپ سے بھی درخواست ہے کہ آپ آگے بڑھیں اور اپنا کردار ادا کریں۔ آپ یقین کریں یہ کام ساری رات نوافل پڑھنے سے زیادہ افضل ہے، یہ آئندہ نسلوں کے ایمان کے تحفظ کا معاملہ ہے اور کسی ایک مسلمان کا ایمان بچانا ہزاروں سال کی عبادت سے افضل ہے۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais