مفتی عبد الرحیم صاحب ملک کے نامور مدرسہ جامعۃ الرشید کے سرپرست اور الغزالی یونیورسٹی کے چانسلر ہیں۔ انہوں نے اپنی تمام تر توانائیاں دینی مدارس کے نظام، نصاب، طلبہ کی فکری تربیت، جدید تقاضوں سے ہم آہنگی اور مدارس کے سماجی کردار کو مضبوط بنانے پر صرف کی ہیں۔ بیس پچیس سال قبل جب مدارس کی دنیا میں نصابی اور فکری جمود ایک مسلمہ حقیقت تھا اس وقت مفتی عبد الرحیم صاحب نے ان مسائل کو نہ صرف محسوس کیا بلکہ عملی طور پر میدان میں اتر کر بہتری اور اصلاح کی کوششیں کی۔
انہوں نے مدارس کے نصاب میں جدید علوم، جدید زبان، جدید محاورے اور عصرِ حاضر کی ضروریات کو شامل کرکے مدارس کے فکری اور نصابی جمود میں ارتعاش پیدا کیا۔ آج سے بیس پچیس سال قبل یہ اقدامات آسان نہیں تھے لیکن مفتی صاحب نے یہ بیڑا اٹھایا اور اس کے اثرات مجموعی طور پر ہماری مدارس کی دنیا میں محسوس کیے گئے۔ مفتی عبد الرحیم صاحب نے بہت پہلے یہ محسوس کر لیا تھا کہ اگر مدارس اپنے بنیادی دینی تشخص کو برقرار رکھتے ہوئے عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہ ہوئے تو ان کے فضلاء کو مستقبل میں متعدد عملی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اور یہی احساس ان کی اصلاحی جدوجہد کا بنیادی محرک بنا۔
مفتی صاحب کی ایک بڑی خدمت یہ ہے کہ انہوں نے مدارس کے بارے میں معاشرے میں موجود روایتی تاثر کو بدلنے کی کوشش کی۔ ایک زمانہ تھا جب مدرسہ عام آدمی کی نظر میں صرف ایک ایسا ادارہ سمجھا جاتا تھا جہاں محدود نوعیت کی دینی تعلیم دی جاتی تھی اور جس کا جدید ریاستی و سماجی اداروں سے کوئی مؤثر تعلق نہیں تھا۔ مدرسہ کو ایک ایسا ادارہ سمجھا جاتا تھا جہاں صرف غریب لوگوں کے بچے داخلہ لیتے تھے لیکن مفتی عبد الرحیم صاحب نے اس تصور کو چیلنج کیا۔ انہوں نے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد، صحافیوں، دانش وروں، سرکاری شخصیات اور دیگر وفود کو مدارس میں مدعو کیا، انہیں مدارس کے نظام سے روشناس کرایا اور یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ مدارس معاشرے کا ایک مثبت، فعال اور تعمیری حصہ ہیں۔ اسی طرح انہوں نے جدید ذرائع ابلاغ کی اہمیت کو بھی بہت پہلے محسوس کر لیا تھا۔ جب اکثر دینی ادارے میڈیا سے فاصلہ رکھتے تھے، اس وقت انہوں نے میڈیا کو دعوت و اصلاح کا ایک مؤثر ذریعہ سمجھا اور اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ اس حکمتِ عملی کا نتیجہ یہ نکلا کہ مدارس کا مثبت تعارف وسیع حلقوں تک پہنچا اور بہت سے ایسے طبقے جو پہلے مدارس کے بارے میں منفی یا غیر واضح رائے رکھتے تھے ان کی سوچ میں تبدیلی آئی۔
مفتی عبد الرحیم صاحب کے فیصلوں اور ان کی مساعی سے جو نتائج برآمد ہوئے اس کے اثرات صرف ان کے اپنے ادارے تک محدود نہیں رہے بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ دیگر مدارس نے بھی ان اصلاحات سے سیکھنا شروع کیا۔ مدارس کے انفراسٹرکچر، انتظامی نظم، جلسہ ہائے دستاربندی، اسناد کی ترتیب، تعلیمی ماحول اور کئی دیگر شعبوں میں رفتہ رفتہ ایسی تبدیلیاں آئیں جن کی ابتدا کسی نہ کسی صورت انہی اصلاحی کوششوں سے جڑی ہوئی تھی۔ گویا انہوں نے صرف اپنے ادارے میں تبدیلی پیدا نہیں کی بلکہ ایک ایسا رجحان پیدا کیا جس کے اثرات پورے دینی تعلیمی نظام پر محسوس کیے گئے۔
ایک طرف مفتی صاحب نے مدارس کے داخلی نصاب ونظام کو بہتر بنانا شروع کیا اور دوسری طرف انہوں نے مدارس کا خوبصورت چہرہ اور مثبت تعارف سماج کے سامنے پیش کیا۔ انہوں نے مختلف علمی، صحافتی، سرکاری اور سماجی حلقوں سے تعلق رکھنے والے وفود کو جامعۃ الرشید میں مدعو کیا، انہیں مدارس کے ماحول سے روشناس کرایا اور یہ تاثر ختم کرنے کی کوشش کی کہ مدرسہ صرف ایک محدود دینی ادارہ نہیں۔ ان کوششوں کے نتیجے میں معاشرے کے کئی بااثر طبقات میں مدارس کے بارے میں مثبت سوچ پیدا ہوئی اور آج اگرانٹیلیکچوئل اور پالیسی ساز حلقوں میں مدارس کے بارے میں بہتر تاثر موجود ہے تو اس میں مفتی عبد الرحیم صاحب کی ان کاوشوں کا بڑا حصہ ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
مفتی صاحب کی خدمات کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ مدارس کی تاریخ میں عمومی طور پر دفاعی طرزِ عمل غالب رہا۔ جب بھی مدارس کے نصاب یا نظام پر سوال اٹھا تو زیادہ تر توجہ اس کے دفاع پر دی گئی۔ لیکن مفتی صاحب نے دفاعی طرزِ فکر سے آگے بڑھ کر اقدامی طرزِ عمل اختیار کیا۔ انہوں نے مدارس کے مستقبل کے بارے میں مسلسل غور وفکرکیا، مسائل کی نشاندہی کی، ان کے حل تجویز کیے اور اس ساری تگ و دو کے نتیجے میں مدارس کی اصلاح میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا۔ ان کا اصلاحی پروجیکٹ صرف نصاب میں تبدیلی یا انتظامی بہتری تک محدود نہیں تھا بلکہ ان کا اصلاحی پروجیکٹ اس بنیادی سوال پر بھی مشتمل تھا کہ مدارس سے فارغ ہونے والے طلبہ کا مستقبل کیا ہوگا؟ وہ معاشرے میں کس مقام پر کھڑے ہوں گے؟ کیا ان کی تعلیم انہیں صرف مسجد اور مدرسے تک محدود رکھے گی یا وہ قومی زندگی کے دوسرے شعبوں میں بھی اپنا کردار ادا کر سکیں گے؟ یہ وہ سوالات تھے جن پر آج سے بیس پچیس برس پہلے بہت کم لوگ سنجیدگی سے سوچتے تھے۔
اس دور میں مدارس کے بیشتر طلبہ کی صورتِ حال یہ تھی کہ وہ اعلیٰ دینی تعلیم حاصل کرنے کے باوجود عملی زندگی میں محدود مواقع رکھتے تھے۔ ان کی علمی صلاحیت اپنی جگہ لیکن ریاستی اداروں، جامعات، بینکنگ سیکٹر، ذرائع ابلاغ، تحقیق، پبلک پالیسی اور دیگر جدید شعبوں میں ان کے لیے دروازے تقریباً بند تھے۔ اس کی بنیادی وجہ ان کی صلاحیت نہیں بلکہ ان کی اسناد اور تعلیمی نظام کی محدود قبولیت تھی۔ مفتی عبد الرحیم صاحب کا خیال تھا کہ اگر ایک طالب علم اپنی زندگی کے دس، بارہ یا پندرہ سال دینی تعلیم کے حصول میں صرف کرتا ہے تو اس کے بعد اسے صرف اس وجہ سے معاشرے کے مختلف میدانوں سے محروم نہیں ہونا چاہیے۔ مفتی صاحب کا ماننا تھا کہ مدارس کے طلبا کو آگے بڑھ کر حکومتی اور سماجی اداروں کا حصہ بن کر ان میں اثر ورسوخ اور نفوذ حاصل کرنا چاہیے اور سماج کی اسلامائزیشن کے حوالے سے کردار ادا کرنا چاہیے۔