Tuesday, 27 October 2026
  1. Home/
  2. Muhammad Irfan Nadeem/
  3. Naye Mustaqbil Ki Naveed

Naye Mustaqbil Ki Naveed

جامعة الرشید کراچی اورجامعہ الغزالی میں رابطۃ الجامعات الاسلامیہ کے تحت منعقد ہونے والی کانفرنس پاکستان کے تعلیمی مستقبل اور بالخصوص دینی مدارس کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ یہ محض ایک کانفرنس نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے تعلیمی، علمی اور تحقیقی مستقبل کے حوالے سے ایک نئی سوچ کی شروعات ہیں اور اس کے ساتھ یہ بھی امید ہے کہ یہ پیش رفت آنے والے دور میں پاکستان کی عصری جامعات میں تعلیم، سائنس، تحقیق اور ریسرچ کے فروغ کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگی۔

اس کانفرنس کو تین مختلف پہلوئوں سے دیکھا جا سکتا ہے، اس کانفرنس کا پہلا اور بنیادی پہلو پاکستان کی موجودہ عصری جامعات کی صورتِ حال سے متعلق ہے۔ ہماری جامعات میں تعلیم اور تحقیق کے معیار کو دیکھا جائے تو مجموعی صورتِ حا ل انتہائی تشویش ناک ہے۔ تعلیم و تحقیق کے نام پر سطحی سرگرمیوں اور تفریحی مشاغل کا غلبہ، سنجیدہ علمی مباحث کا فقدان اور تحقیق کے محدود مواقع ہماری عصری جامعات کے اہم مسائل ہیں۔ اس سے بھی افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ یہ جامعات اپنے طلبہ کی علمی و فکری تربیت کے فقدان کے ساتھ ان کی دینی، اخلاقی اور قومی شناخت کو مضبوط بنانے میں بھی مطلوبہ کردار ادا نہیں کر پا رہیں۔

اس پس منظر میں جامعہ الرشید اور جامعہ الغزالی کی طرف سے بین الاقوامی جامعات کے ساتھ روابط استوار کرنے، علمی اشتراک کو فروغ دینے اور عصری تعلیم کے میدان میں ایک متبادل نمونہ پیش کرنے کی کوشش غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ یہ ایک ایسے تعلیمی ماحول کی تشکیل کی شروعات ہیں جس میں جدید علوم کے حصول اور سائنسی تحقیق کے ساتھ دینی وابستگی، اخلاقی تربیت اور اسلامی شناخت کو بھی اہمیت حاصل ہوگی۔

اس کانفرنس کا دوسرا اہم پہلو دینی مدارس اور ان کے طلبہ کے مستقبل سے متعلق ہے۔ ہمارے ہاں دینی مدارس کے کردار کو اکثر ایک محدود دائرے میں دیکھا جاتا ہے۔ ان اداروں کو بالعموم دینی علوم کی تدریس اور مذہبی رہنمائی تک محدود سمجھا جاتا ہے جب کہ سائنس، ٹیکنالوجی، جدید تحقیق اور عصری جامعات کے علمی و تحقیقی نظام سے ان کے تعلق کو نسبتاً کم اہمیت دی جاتی ہے۔ اس صورتِ حال کے نتیجے میں دینی مدارس کے طلبہ کے لیے جدید علمی میدانوں میں آگے بڑھنے اور بین الاقوامی تعلیمی اداروں کے ساتھ روابط قائم کرنے کے امکانات بھی محدود ہوجاتے ہیں۔

جامعہ الرشید اور جامعہ الغزالی کی حالیہ کاوش اس تناظر میں بھی ایک نئی امید کی کرن ہے۔ اس کانفرنس کے ذریعے بین الاقوامی جامعات کے ساتھ روابط، علمی اشتراک کے امکانات اور تحقیق و ریسرچ کے فروغ کے لیے ایک پلیٹ فارم کی تشکیل، دینی مدارس کے طلبہ کو یہ احساس دلانے میں معاون ثابت ہوگی کہ ان کے لیے جدید علمی میدانوں میں آگے بڑھنے کے راستے بھی موجود ہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ دینی مدارس کے طلبہ اپنی دینی بنیادوں اور علمی روایت سے وابستگی برقرار رکھتے ہوئے جدید علوم، سائنسی تحقیق اور عصری تعلیمی تقاضوں سے بھی واقف ہوں۔

اس کانفرنس کا تیسرا پہلو اس میں شریک ہونے والی بین الاقوامی جامعات کے سربراہان، چانسلرز اور وائس چانسلرز کے مابین رابطوں اور مشترکہ علمی فکرکے فروغ سے متعلق ہے۔ مختلف ممالک کی جامعات کے سربراہان کا ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا محض رسمی ملاقاتوں یا تجربات کے تبادلے تک محدود نہیں تھا بلکہ یہ امتِ مسلمہ کے مشترکہ تعلیمی اور تحقیقی مستقبل کی منصوبہ بندی کا ایک مضبوط پلیٹ فارم تھا۔ مسلم دنیا کو آج سائنس، ٹیکنالوجی، طب، انجینئرنگ، مصنوعی ذہانت اور دیگر جدید علمی شعبوں میں جس نوعیت کے چیلنجز کا سامنا ہے ان سے نمٹنے کے لیے انفرادی قومی کوششوں کے ساتھ اس طرح کی بین الاقوامی اجتماعات کا انعقاد بھی ناگزیر ہے۔ اگر آج مختلف مسلم ممالک کی جامعات اپنے تحقیقی وسائل، علمی تجربات، ماہرین اور تعلیمی صلاحیتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ منسلک کر دیں تو اس کے نتیجے میں تحقیق کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔

اس کانفرنس کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اس میں شریک جامعات کے سربراہان اپنے اپنے ممالک میں جا کر اس مشترکہ سوچ کو آگے بڑھائیں گے۔ اگر مستقبل میں یہ رابطے محض کانفرنس کی یادوں تک محدود رہنے کے بجائے مستقل تعاون میں بدلتے ہیں تو مسلم دنیا میں علمی اشتراک کا ایک موثر نظام تشکیل پا سکتا ہے۔ امتِ مسلمہ کے لیے آج ایک ایسے مشترکہ پلیٹ فارم کی ضرورت ہے جو محض جذباتی وابستگی یا رسمی اتحاد کے تصور پر قائم نہ ہو بلکہ علم، تحقیق، سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدانوں میں عملی تعاون کی بنیاد پر استوار ہو۔ جامعہ الرشید کی یہ کوشش اسی سمت میں ایک قابلِ توجہ قدم ہے۔

ان تینوں پہلوئوں سے آگے بڑھتے ہوئے اس کانفرنس کی اصل اہمیت ایک بڑے سوال سے جڑی ہوئی ہے کہ امتِ مسلمہ اپنے زوال سے نکل کر دوبارہ علمی و تہذیبی عروج کیسے حاصل کر سکتی ہے؟ گزشتہ کئی دہائیوں کے تجربات نے یہ حقیقت واضح کی ہے کہ محض سیاسی اقتدار کی تبدیلی، جمہوری عمل یا عسکری جدوجہد کو اختیار کر لینا کسی معاشرے کی ہمہ گیر اصلاح اور ترقی کی ضمانت نہیں بن سکتا۔ مختلف مسلم ممالک میں تبدیلی کے لیے یہ مختلف راستے اختیار کیے جا چکے ہیں لیکن ان کے نتائج ہمیشہ ان توقعات کے برعکس نکلے جو ان سے وابستہ کی گئی تھیں۔ مصر کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں سیاسی اور جمہوری ذرائع سے تبدیلی کی کوششیں بھی ہوئیں اور اس سے پہلے مسلح جدوجہد کے مختلف تجربات بھی سامنے آئے لیکن ان میں سے کوئی بھی کوشش مطلوبہ اور پائیدار تبدیلی کی ضمانت نہ بن سکی۔

اسی طرح پاکستان میں بھی سیاسی اور جمہوری راستوں سے تبدیلی لانے کی مختلف کوششیں کی گئیں۔ یہاں مختلف ادوار میں عسکری اور جہادی سرگرمیوں کا ایک منظرنامہ بھی موجود رہا اور ان کے ذریعے تبدیلی لانے کی کوششیں بھی کی گئیں لیکن ان تجربات کے باوجود ملک کو درپیش بنیادی تعلیمی، علمی اور سماجی مسائل اپنی جگہ موجود رہے۔ اس لیے مختلف اسلامی ممالک میں کیے گئے ان تجربات کا تقاضا یہ ہے کہ ہم تبدیلی کے ان راستوں پر سنجیدگی سے غور کریں جن کے ذریعے معاشروں کی بنیادیں مضبوط ہوتی ہیں، ان کی فکری سمت متعین ہوتی ہے اور ان کی آئندہ نسلیں اپنے مستقبل کی تشکیل کرتی ہیں۔

Check Also

Jamhuriat Aur Awami Masail: Falsafa Aur Haqiqat Ka Fasla

By Unzila Siddiqui