Tuesday, 24 February 2026
  1. Home/
  2. Muhammad Irfan Nadeem/
  3. Syed Salman Gillani

Syed Salman Gillani

سید سلمان گیلانی 1951 میں لاہور کی زرخیز مٹی میں پیدا ہوئے۔ یہیں پلے بڑھے اور اسی شہر لاہور سے عملی زندگی کا آغاز کیا۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جن کی موجودگی محفلوں میں زندگی کی رمق دوڑا دیتی تھی۔ وہ بولتے تو محسوس ہوتا جیسے سماعتوں میں رس گھل رہے ہوں۔ وہ خاموش ہوتے تو ان کی متانت ایک خاموش پیغام دیتی تھی۔ اوراب جب وہ اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے ہیں تواپنے پیچھے نہ ختم ہونے والی اداسیوں کا ایک سلسلہ چھوڑ گئے ہیں۔ ان کی غیر موجودگی تادیر دلوں کومضطرب کئے رکھے گی۔ ان کا بچھڑنا محض ایک فرد کی موت نہیں بلکہ ایک پورے عہد کا خاتمہ ہے۔ ایک ایسی آواز کا خاموش ہونا ہے جو اپنے مخصوص انداز سے دلوں کو تڑپانے، مسکرانے اور رلانے کا فن جانتی تھی۔

سید سلمان گیلانی نے اپنی پوری زندگی ادب، مذہب اور سماجی مسائل پر شعرو شاعری کرتے ہوئے گزاری۔ ان کی زندگی کا سفر مدحِ رسول ﷺ سے شروع ہو کر دفاعِ ختمِ نبوت پر مکمل ہوا۔ سلمان گیلانی کی مقبولیت کا دائرہ صرف پاکستان تک محدود نہیں تھا بلکہ وہ بیرونِ ممالک بھی بے حد مقبول تھے۔ وہ برطانیہ، امریکہ، کینیڈا اور خلیجی ممالک میں منعقد ہونے والے مشاعروں اور مذہبی کانفرنسوں کی جان سمجھے جاتے تھے۔ دیارِ غیر میں بسنے والے پاکستانیوں کے لیے ان کی آواز وطن کی مٹی کی خوشبو اور دین کی پکار کا امتزاج ہوا کرتی تھی۔ انہوں نے بین الاقوامی سطح پر اردو ادب اور اسلامی اقدار کا مقدمہ جس خوبصورتی سے لڑا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ ان کے مداح دنیا کے ہر کونے میں موجود ہیں جو آج ان کی وفات پر اتنے ہی رنجیدہ ہیں جتنے پاکستان میں رہنے والے ان کے قریبی دوست اور عزیز و اقارب۔

سلمان گیلانی کی وفات ایک ایسے وقت میں ہوئی جب پورا عالمِ اسلام رحمتوں، برکتوں اور مغفرت کے مہینے میں غرق اور اس سے فائدہ اٹھا رہاہے۔ یہ وہ مقدس مہینہ ہے جس کے بارے میں خوشخبری ہے کہ اس میں جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے ابواب بند کر دیے جاتے ہیں۔ ان کا اس ماہِ مبارک میں خالقِ حقیقی سے جا ملنا کسی نیک شگون سے کم نہیں ہے۔ اہل بصیرت جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے برگزیدہ اور پسندیدہ بندوں کو اپنے خاص ایام میں ہی اپنے پاس بلانے کا شرف عطا کرتے ہیں۔ رمضان میں ان کی رخصتی اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی جس مشن کے لیے وقف کر رکھی تھی اس کا صلہ انہیں ربِ کائنات نے اسی پاکیزہ مہینے میں رخصت کرکے عطا فرمایا۔

سلمان گیلانی کی زندگی کا سب سے نمایاں، روشن اور خوبصورت پہلو یہ تھا کہ وہ "عشقِ رسول ﷺ"اور "عقیدہ ختمِ نبوت" کے تحفظ کے لیے ہر لمحہ تیار رہتے تھے۔ انہیں بلاشبہ "شاعرِ ختمِ نبوت" کا لقب دیا جا سکتا ہے اوریہ لقب ان پر پوری طرح جچتا بھی ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری، اپنی پرتاثیر تقاریر اور اپنی تمام تر سماجی و مذہبی سرگرمیوں کو عقیدہ ختمِ نبوت کی ترویج اور ناموسِ رسالت کے دفاع کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ وہ صرف ایک روایتی شاعر نہیں تھے بلکہ وہ ناموسِ رسالت کے ایک نڈر، بے باک اور جری سپاہی تھے۔ ختمِ نبوت کے مختلف پلیٹ فارمز کے ساتھ ان کی وابستگی محض ایک رسمی عہدے یا رکنیت تک محدود نہیں تھی بلکہ انہوں نے اپنی خداداد آواز اور شاعری کو اس مقدس مقصد کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔

انہوں نے اپنی ظرافت اور مزاح کے خوشنما لبادے میں بھی اکثر ایسے گہرے، فکر انگیز اور ایمان افروز نکات بیان کیے جو قادیانیت اور دیگر باطل فتنوں کے خلاف دو دھاری تلوار ثابت ہوئے۔ ان کا یہی جوہر انہیں معاصر شعراء میں ممتاز اور یکتا کرتا تھا۔ وہ بخوبی جانتے تھے کہ معاشرے میں پھیلے ہوئے بگاڑ اور فتنوں کو دور کرنے کے لیے صرف خشک نصیحت کافی نہیں ہوتی بلکہ کبھی کبھی طنزومزاح کے نشتر بھی ضروری ہو تے ہیں۔ ان کے طنز کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ اس میں کبھی تلخی یا تحقیر نہیں ہوتی تھی بلکہ ہمیشہ اصلاح کا ایک میٹھا اور پردرد پہلو نمایاں رہتا تھا۔

وہ ایک ایسے منفرد اسلوب کے مالک تھے کہ جب وہ نعت پڑھتے تو سامعین کی آنکھیں نم ہو جاتیں اور دلوں میں عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی شمعیں روشن ہو جاتیں اور جب وہی زبان نظم سنانے کے لیے استعمال کرتے تو مجمع وجد میں آ جاتا۔ ان کے مزاحیہ اشعار محض ہنسانے کے لیے نہیں تھے بلکہ وہ معاشرتی برائیوں پر ایسی کاری ضرب لگاتے تھے کہ سننے والا ہنسنے کے ساتھ ساتھ اپنے گریبان میں جھانکنے پر بھی مجبور ہو جاتاتھا۔ ان کا اسلوب سادہ مگر بے حد پر اثر تھا۔ وہ پیچیدہ سے پیچیدہ مذہبی و سیاسی فلسفوں کو عام فہم اور دل نشین زبان میں بیان کرنے کا ملکہ رکھتے تھے۔ ان کی شاعری میں ایک طرف دین کی تڑپ اور حقانیت نظر آتی تھی اور دوسری طرف امتِ مسلمہ کے موجودہ زوال کا کرب بھی چھپا ہوا تھا۔

ان کی تحریری خدمات کا ذکر کیا جائے تو ان کی کتاب "میری باتیں ہیں یاد رکھنے کی" ایک شاہکار کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ کتاب ان کی زندگی بھر کے مشاہدات، تجربات، یادداشتوں اور دلچسپ واقعات کا خوبصورت مجموعہ ہے۔ اس کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے قاری سلمان گیلانی کے ساتھ ساتھ اس سفر میں شریک ہے جسے انہوں نے لاہور کی گلیوں سے شروع کرکے عالمی شہرت تک طے کیا۔ اس کتاب میں ان کا مخصوص شگفتہ انداز، سچائی اور دردمندی صاف نظر آتی ہے۔ یہ کتاب آنے والی نسلوں کے لیے ایک قیمتی علمی اور ادبی اثاثہ ہے جو انہیں بتاتی ہے کہ ایک سچا قلم کار اپنے عہد کا کتنا گہرا نبض شناس ہوتا ہے۔

سلمان گیلانی صرف ایک شاعر نہیں تھے وہ ایک مکمل اور ہمہ جہت انسان تھے۔ ان کی شخصیت میں عاجزی، انکساری اور خوش اخلاقی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ ان سے پہلی بار ملنے والا شخص بھی یہ محسوس کرتا تھا کہ شاید سلمان صاحب اسے برسوں سے جانتے اور اسے سب سے زیادہ چاہتے ہیں۔ ان کے چہرے پر ہمیشہ ایک ملکوتی مسکراہٹ رہتی تھی جو دوسروں کے غم غلط کرنے کا سبب بنتی تھی۔ وہ دکھوں کے اس دور میں خوشیاں بانٹنے والے انسان تھے۔ آج ان کے بچھڑنے پر ہرمذہبی و ادبی حلقہ سوگوار ہے۔

ان کے چلے جانے سے شعرو ادب کی جو محفلیں ویران ہوئی ہیں ان کا مداوا شاید اب ممکن نہیں۔ وہ جو اسٹیج پر آتے ہی سماں باندھ دیتے تھے اورنعت خوانی کرتے وقت فضا کو معطر کر دیتے تھے اب ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئے ہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے سلمان گیلانی جیسے لوگ کبھی مرتے نہیں وہ اپنے افکار، اپنے اشعار اور عقیدہ ختمِ نبوت کے لیے دی جانے والی اپنی عظیم قربانیوں کی صورت میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ وہ ایک سرخرو انسان کی طرح اپنے رب کے حضور پیش ہوئے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کی قبر کورحمتوں سے بھر دے اور انہیں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais