Monday, 09 March 2026
  1. Home/
  2. Muhammad Irfan Nadeem/
  3. Taqat Ke Baghair Mazhab

Taqat Ke Baghair Mazhab

جب آپ یہ کالم پڑھ رہے ہوں گے تب مشرقِ وسطیٰ کی فضا نئے دھماکوں سے گونج رہی ہوگی۔ وہی دنیا جو کل تک امن، انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کے وعظ دے رہی تھی آج طاقت کے سامنے خاموش کھڑی ہے۔ پورا مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی ریاستیں یا تو کھل کر امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ کھڑی ہیں یا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ عوامی سطح پر اضطراب ضرور ہے مگر ریاستی سطح پر کوئی واضح مزاحمت دکھائی نہیں دیتی۔ یہ خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ طاقت کا توازن یکطرفہ ہو چکا ہے۔ جب قوت ایک طرف مرتکز ہو جائے تو سب آوازیں مدھم پڑ جاتی ہیں۔

تاریخ کبھی مائیک پکڑ کر تقریر نہیں کرتی، وہ عدالت لگاتی ہے اور فیصلے سنانے کے بعد، انہیں وقت کے ماتھے پر کندہ کر دیتی ہے۔ وہ چیختی نہیں، مگر اس کے لکھے ہوئے لفظ صدیوں تک گونجتے رہتے ہیں۔ حالیہ ایران تنازع میں بھی تاریخ نے زمانے کی پیشانی پر ایک نا مٹنے والی تحریر رقم کی ہے، وہ یہ کہ جو قومیں قوت و طاقت سے تہی دست ہوتی ہیں خواہ نعروں اور نظریات میں کتنی ہی بلند کیوں نہ ہوں میدانِ عمل میں نیست و نابود کر دی جاتی ہیں۔ وہ قومیں جن کے ہاتھ میں صرف جذبات ہوں، جن کے زور بازو میں دم نہ ہو وہ عالمی سیاست کے طوفانوں میں اسی طرح بہا دی جاتی ہیں۔

تاریخ نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ کمزور کی صداقت بھی بے وزن ہو تی ہے اور طاقتور کا جھوٹ بھی قانون بن جاتا ہے۔ یہ سب کیا ہے؟ کیا یہ ثابت نہیں کرتا کہ اس دنیا میں الفاظ کی کلیمی اگر طاقت کے عصا سے خالی ہو تو وہ محض بے بنیاد باتیں رہ جاتی ہیں۔ یہاں سچ صرف وہی ہے جس کے پیچھے طاقت اور قوت کھڑی ہے۔ طاقت کے بغیر کوئی نظریہ، کوئی فکر، کوئی مذہب اور کوئی فلسفہ بے معنی ہے۔

محض تصورات اور خیالات سے نہ ریاستیں تعمیر ہوتی ہیں نہ تہذیبیں جنم لیتی ہیں۔ قوت ہی وہ بنیادی عنصر ہے جو کسی فکر کو زمین پر زندہ حقیقت بناتا ہے۔ یہ قوت کبھی علم کی شکل میں ظہور پذیر ہوتی ہے، کبھی سائنس اور ٹیکنالوجی کی صورت میں، کبھی معاشی اور مالیاتی نظام کی صورت میں اور کبھی عسکری طاقت کی صورت میں لیکن آج امت اس بنیادی نکتے کو فراموش کر چکی ہے۔ ہمارے لیے مذہب صرف عبادات اور رسومات تک محدود ہوگیا ہے۔ ہم نے مذہب سے سب سے بنیادی حقیقت قوت کو الگ کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج امریکہ، اسرائیل اور دیگر مغربی طاقتیں اپنی طاقت اور قوت کے بل

بوتے پر دنیا کے فیصلے کر رہی ہیں اور امت اپنے کثرت وسائل اور افرادی قوت کے باوجو د بے بسی کی تصویر بنی بیٹھی ہے۔ امریکہ اس وقت دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی اور عسکری طاقت ہے، اس کے ہتھیار دنیا بھر میں فیصلے کرتے ہیں، اس کی ٹیکنالوجی دنیا کے مستقبل کا تعین کرتی ہے اور اس کا میڈ یا بیانیہ سازی کے ذریعے پوری دنیا کا ذہن بدلتا ہے۔ اسرائیل رقبے اور آبادی کے لحاظ سے ایک چھوٹا سا ملک ہے مگر محض قوت کے بل پر نہ صرف پورے مشرق وسطیٰ بلکہ مسلم دنیا کے دو ارب مسلمانوں کو یر غمال بنا چکاہے۔

اب ہمیں یہ حقیقت تسلیم کر لینی چاہیے کہ دنیا میں اخلاقیات، انصاف، قانون اور ضمیر کی ساری باتیں صرف اس وقت و زن رکھتی ہیں جب ان کے پیچھے طاقت کھڑی ہو۔ ورنہ طاقتور اپنی مرضی کے مطابق" سچ " گھڑ لیتا ہے اور " جھوٹ " کو بھی سچ بنا کر پیش کرتا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کی مثالیں اس کا بہترین مظہر ہیں۔ جہاں فیصلے ہمیشہ طاقتور کے حق میں ہوتے ہیں اور کمزور ملک صرف قرار دادوں کے سہارے آنسو پونچھتے رہ جاتے ہیں۔

افغانستان، عراق، شام، لیبیا، یمن، فلسطین اور اب ایران یہ سب زخم ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ہم قوت کے میدان میں بہت پیچھے ہیں۔ امت مسلمہ کے پاس وسائل کی کمی نہیں، تیل، گیس، معدنیات، نو جوان آبادی، زرخیز مینیں اور اہم جغرافیائی محل وقوع یہ سب کچھ ہمارے پاس ہے لیکن ہم نے اپنی اجتماعی قوت کو منظم کرنے کے بجائے اسے دوسروں کے لیے آؤٹ سورس کر دیا ہے۔ ہمارا سرمایہ مغربی بینکوں میں پڑا ہے، ہماری افرادی قوت مغربی کمپنیوں کی خدمت کر رہی ہے اور ہماری جامعات تحقیق کے بجائے محض ڈگریاں بانٹنے کے مراکز بن گئی ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ وہ لوہا جو ہم نے اپنی تلواروں میں ڈھالنا تھا ہم اس سے ہتھکڑیاں بنا رہے ہیں۔ ہماری مساجد عبادات تک محدود ہو چکی ہیں۔

عبادات کا مقصد انسان کو قوت، تخلیق اور حرکت کی طرف ابھار نا تھا مگر ہم نے ان کو کمزوروں کی پناہ گاہ بنا دیا ہے۔ جہاں کمزوربیٹھ کر طاقتور وں کے خلاف صرف بد دعائیں کر سکتے ہیں۔ آج مغرب کو ہماری نمازوں اور روزوں پر کوئی اعتراض نہیں لیکن جیسے ہی ہم اپنی عبادات کو قوت، نظام، سیاست، سائنس اور معیشت میں ڈھالنے لگیں گے تو وہ ہمیں برداشت نہیں کرے گا۔ اگر آپ نے اپنا سسٹم اور اپنی طاقت ان کے مقابل لانے کی کوشش کی تو وہ آپ کو کچل ڈالے گا۔ ایران نے 1979 سے بزعم خود اسلامی نظام نافذ کر رکھا ہے مگر امریکہ اور اسرائیل کو اس سے کوئی تکلیف نہیں تھی لیکن جب ایران نے طاقت و قوت کا مظہر ایٹم بم بنانے اور جوہری توانائی حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تو اسے نشان عبرت بنا دیا گیا۔

آج امریکہ اور اسرائیل اپنی قوت کی بنا پر دنیا کی سیاست اور جغرافیوں کے نقشے بدل رہے ہیں۔ اسرائیل اپنی عسکری طاقت اور جدید ٹیکنالوجی کے سہارے پورے مشرق وسطیٰ اور عالم اسلام کو یر غمال بناچکا ہے۔ دو ارب مسلمان چند کروڑ یہودیوں کے سامنے بے بس کھڑے ہیں۔ ان دو ارب مسلمانوں کے پاس وسائل تو ہیں مگر وہ بکھرے ہوئے ہیں، ان کے پاس دولت تو ہے مگر وہ مغربی بینکوں کی زینت ہے، ان کے پاس مذہب تو ہے مگر قوت کے بغیر۔ ان کے پاس کلیمی تو ہے مگر عصا کے بغیر۔

آج یہی وہ نکتہ ہے جسے ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہم نے مذہب کو صرف عبادات اور رسومات تک محدود کرکے قوت کے پہلو کو فراموش کر دیا۔ اگر ہم واقعی مذہبی ہیں تو ہمیں سب سے زیادہ تخلیق، تحقیق، علم اور سائنس کی پیاس ہونی چاہیے تھی۔ مگر بد قسمتی سے آج ہمارے نوجوان مغرب کی ایجادات اور ٹیکنالوجی کے گاہک تو ہیں مگر ان کے خالق نہیں۔ ہم جب تک قوت پیدا نہیں کریں گے ہم اپنی عبادات کے ثمرات بھی حاصل نہیں کر سکیں گے۔ قوت اور طاقت سچائی سے زیادہ مقدس ہیں کیونکہ سچ قوت ہی کی بنیاد پر قائم رہ سکتا ہے۔ خدا کا پہلا تعارف سچ نہیں طاقت اور قوت ہے۔ ہمیں اپنی عبادات کو قوت کے ساتھ جو ڑنا ہوگا۔ قوت علم سے، قوت سائنس سے، قوت معیشت سے، قوت سیاست سے۔ تبھی ہم دنیا میں اپنی کھوئی ہوئی عزت اور مقام واپس حاصل کر سکیں گے۔

یہی پیغام آج ہمیں اپنی مساجد، اپنی جامعات، اپنے ذرائع ابلاغ اور اپنی سیاست سے دینا ہوگا کہ قوت کے بغیر مذہب محض فلسفہ ہے اور فلسفہ کبھی تحریک پیدا نہیں کرتا۔ اگر ہم نے یہ سبق نہ سیکھا تو ہماری نسلیں بھی اسی طرح غلامی کی زنجیروں میں جکڑی رہیں گی اور ہمارے وسائل دوسروں کے لیے استعمال ہوتے رہیں گے۔ وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی عبادات کو قوت میں بدلیں، اپنی کمزوری کو طاقت میں ڈھالیں اور اپنی بے بسی کو تخلیق کی آگ میں جھونک کر نئی دنیا کی تعمیر کریں۔ یہی مذہب کا اصل پیغام ہے اور یہی ہماری نجات کا واحد راستہ۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais