یونیورسٹیز میں کسی بھی سطح کی ڈگری کلاسز میں داخلہ لینے والے طلبہ کی اکثریت عربی زبان کے ایسے پس منظر کے ساتھ داخل ہوتی کہ ان میں بنیادی عربی کی صلاحیت تو دوران میں بنیادی اردو لکھنے پڑھنے اور سمجھنے کی صلاحیت بھی موجود نہیں ہوتی۔ ایسے طلبا سے یہ توقع کرنا کہ وہ چند گھنٹوں پر مشتمل کورس کی بنیاد پر قرآن کے عربی متن کو براہِ راست سمجھنے کے اہل ہو جائیں گے اور اس مقصد کے لیے مسلسل اور پیچیدہ لسانی مشق برداشت کرسکیں ایک غیر واضح مفروضہ ہے۔ جب ایک طالب علم پہلے ہی مرحلے میں الفاظ، تراکیب، قواعد، معانی اور مختلف لسانی نکات کے ایک بڑے ذخیرے سے دوچار ہوتا ہے تو وہ قرآن فہمی کی طرف بڑھنے کے بجائے اس نصاب کوایک بوجھ محسوس کرتا ہے۔ نتیجتاً نصاب کا مقصد اور تدریسی عمل ایک دوسرے سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں اور قرآن کے ساتھ فکری، اخلاقی اور روحانی تعلق پیدا ہونے کے بجائے اس سے تنفر کی فضا پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
یہاں ایک اہم اصولی سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ طریقہ تدریس بنیادی طور پر بی ایس سطح کے لیے مرتب کیا گیا تھا تو اسے ایم فل، پی ایچ ڈی، ایم بی اے اور دیگر اعلیٰ تعلیمی پروگراموں میں اسی نوعیت سے شامل کرنے کی کیا ضرورت اور منطق ہے؟ ایم فل اور پی ایچ ڈی جیسے پروگراموں میں عمومی طور پر کورس ورک کے لیے محدود مدت دستیاب ہوتی ہے۔ اگر کسی پروگرام میں صرف دو سمسٹر کا کورس ورک ہو اور انہی دو سمسٹرز میں طالب علم سے اس نوعیت کی قرآن فہمی کی توقع رکھی جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اتنے محدود عرصے میں اس نصاب کے ذریعے طالب علم قرآن فہمی کی مطلوبہ صلاحیت حاصل کرسکتا ہے؟
یہاں مسئلہ صرف یہ نہیں کہ دو سمسٹر میں کتنا مواد مکمل ہوگا، اصل مسئلہ یہ ہے کہ دو سمسٹر کے بعد طالب علم سے کس درجے کی قرآن فہمی کی توقع کی جارہی ہے۔ اگر بی ایس کے طالب علم کے لیے آٹھ جلدیں آٹھ سمسٹرز میں مکمل کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے تو ایم فل یا پی ایچ ڈی کے طالب علم کے لیے صرف دو سمسٹر میں اسی نوعیت کا نصاب پڑھا کر یہ فرض کرلینا کہ وہ قرآن فہمی کے لیے مطلوبہ بنیادی اہلیت حاصل کرلیں گے، ایک غیر واضح مفروضہ ہے۔ عملی صورت حال یہ ہے کہ دو سمسٹر میں ایک جلد بھی مکمل طور پر پڑھانا مشکل ہوجاتا ہے۔ اگر صرف دو سمسٹرز میں قرآن فہمی کی مطلوبہ بنیادی اہلیت حاصل نہیں ہوتی تو ایسے طلبا کو بلاوجہ مشکل میں ڈالنے اور قرآن فہمی سے متنفر کرنے کی کیا منطق بنتی ہے؟
اس صورت حال کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ یونیورسٹی میں آنے والا طالب علم کسی ایک مخصوص ڈگری اور علمی تخصص کے حصول کے لیے آتا ہے۔ انجینئرنگ کا طالب علم انجینئرنگ پڑھنے، میڈیکل کا طالب علم طب پڑھنے، ایم بی اے کا طالب علم کاروباری علوم پڑھنے اور سماجی علوم کا طالب علم اپنے متعلقہ مضمون میں مہارت حاصل کرنے کے لیے یونیورسٹی میں داخل ہوتا ہے۔ اس کے نصاب میں ایک حد تک مذہبی و اخلاقی مضامین شامل کیے جاسکتے ہیں لیکن ان مضامین کا حجم اور نوعیت اس طرح کی ہونی چاہیے کہ وہ طالب علم کی اصل علمی ترجیحات اور اصل علمی میدان کو متاثر نہ کریں۔
اگر ایسے طلبا کے لیے قرآن فہمی کا ایک ایسا وسیع اور مشکل نصاب عائد کردیا جائے جسے مکمل کرنے کے لیے مسلسل وقت، محنت اور ذہنی توجہ درکار ہو تو طالب علم کے سامنے ایک عملی کشمکش پیدا ہوجاتی ہے۔ وہ اپنی اصل ڈگری پر توجہ دے یا اس اضافی نصاب کو مکمل کرنے کی کوشش کرے؟ اس صورت میں خطرہ یہ ہے کہ طالب علم نہ اپنی اصل ڈگری کے لیے مطلوبہ وقت اور یکسوئی حاصل کرپاتا ہے اور نہ اس وسیع قرآنی نصاب کو اس درجے تک سمجھ پاتا ہے جس درجے کی اس سے توقع کی جارہی ہوتی ہے۔ یوں صورت حال بعض اوقات "آدھا تیتر، آدھا بٹیر" کی بن جاتی ہے۔ نہ وہ قرآنی فہمی میں مطلوبہ مہارت حاصل کرپاتا ہے اور نہ اپنی اصل علمی تخصص کے لیے پوری یکسوئی پیدا کرپاتا ہے۔
یہاں ایک اصولی فرق کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔ جس طرح ہم مدارس کے طلبا کے بارے سے یہ توقع نہیں رکھتے کہ انہیں ڈاکٹر، انجینئر یا ماہر معاشیات بنایا جائے کیونکہ مدارس کا بنیادی مقصد دینی علوم کی تعلیم ہوتی ہے، تو اسی طرح یونیورسٹی سے بھی یہ مطالبہ نہیں ہونا چاہیے کہ وہ ہر شعبے کے طالب علم کو ایک جامع قرآنی عالم یا قرآن فہمی کا ماہر بنانے کی ذمہ داری اپنے ذمے لے۔ یونیورسٹی کا کام طلبہ کو ان کے اصل علمی تخصص میں مضبوط بنانا ہوتاہے۔ اس کے ساتھ قرآن اور اسلامی فکر سے ان کا بامعنی تعلق ضرور قائم کیا جاسکتا ہے لیکن اس کے لیے ایسا نصاب اختیار کرنا جو اصلی علمی تخصص کے مضمون سے بھی زیادہ محنت طلب ہو، زمینی حقائق سے نظرین چرانے کے مترادف ہے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ نوجوان نسل قرآن سے محبت کرے، اسے اپنی زندگی سے متعلق سمجھے اور اس کے پیغام کو سنجیدگی سے لے تو ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ہم قرآن کو نسل نو کے سامنے کس صورت میں پیش کررہے ہیں۔ قرآن سے تعلق پیدا کرنے کے لیے ضروری نہیں کہ ہر طالب علم کو ایک طویل اور پیچیدہ عربی نصاب سے گزارا جائے۔ صرف منتخب قرآنی آیات، ان کا ترجمہ، مناسب تشریح، متعلقہ احادیث، عملی مسائل اور عصرِ حاضر سے ان کا تعلق طالب علم کے اندر قرآن کے ساتھ کہیں زیادہ بامعنی تعلق پیدا کرسکتا ہے۔
اس حوالے سے یونیورسٹیوں میں پہلے سے رائج ترجمہ قرآن کے نصاب کی افادیت موجودہ نصاب سے کہیں زیادہ تھی۔ پہلے سے رائج نصاب میں قرآنِ مجید کی منتخب آیات شامل تھیں، ایسی آیات جن کا تعلق ایمان، عقائد، اخلاق، معاشرت، انسانی تعلقات، نوجوانوں کے مسائل اور روزمرہ زندگی سے تھا۔ جب استاد ان آیات کا ترجمہ، تشریح اور تفسیری پس منظر بیان کرتا تھاتو طالب علم کو یہ احساس ہوتا تھاکہ قرآن محض ایک قدیم مذہبی متن نہیں بلکہ اس کی اپنی زندگی کے سوالات سے بھی گفتگو کرتا ہے۔ اسے محسوس ہوتا تھاکہ قرآن اسے براہِ راست مخاطب کررہا ہے، اس کے مسائل کو دیکھ رہا ہے اور اسے زندگی گزارنے کے لیے رہنمائی فراہم کررہا ہے۔ اس طرح قرآن کے ساتھ تعلق، دلچسپی اور محبت پیدا ہونے کے امکانات موجودہ نصاب کی نسبت کہیں زیادہ تھے۔
اس کے برعکس اگر طالب علم کو ابتدا ہی سے ایک بڑے عربی متن، مسلسل الفاظ، تراکیب اور قواعدی نکات کے ساتھ مشغول کر دیا جائے تو اس کے سامنے قرآن کا اصل پیغام پس منظر میں چلا جاتا ہے اور عربی متن ایک مشکل تعلیمی ذمہ داری کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ نصاب کے تحت طلبہ قرآن کو سمجھنے کے بجائے اس مضمون کو محض پاس کرنے کی ایک اضافی شرط سمجھنے لگتے ہیں۔ یہ صورتحال قرآن کے مطلوبہ تعلیمی مقصد کے بالکل برعکس ہے۔ اگر کسی نصاب کا نتیجہ یہ ہو کہ طالب علم اس سے قریب ہونے کے بجائے اس مضمون سے ذہنی طور پر دور ہونے لگے تو ایسے نصاب، اس کے حجم، تدریسی طریقہ کار اور تدریسی فلسفے پر دوبارہ غور کرنالازم ہو جاتا ہے۔
اس طریقہ تدریس میں ایک اور قابلِ توجہ مسئلہ گرامر کی تدریس کا ہے۔ اس طریقے کے بارے میں یہ تصور پیش کیا جاتا ہے کہ اس میں طلبہ کو روایتی انداز میں قواعد و گرامر کی بھول بھلیوں میں نہیں الجھایا جاتا لیکن عملی طور پر گرامر کو مکمل طور پر خارج بھی نہیں کیا گیا بلکہ اسے مختلف مقامات پر منتشر انداز میں شامل کیا گیا ہے۔ مثلاً حروفِ جار کو اگر مجموعی طور پر ایک منظم سبق میں سمجھایا جائے تو طالب علم ایک ہی جگہ پریہ جان سکتا ہے کہ حروفِ جار کیا ہیں، کتنے ہیں، ان کا بنیادی عمل کیا ہے اور وہ جملے میں کس طرح استعمال ہوتے ہیں۔
لیکن اگر ہر صفحے پر ایک الگ حرفِ جار سامنے آئے اور اس کے ساتھ اس کے عمل اور استعمال کی وضاحت کی جائے تو ایک ہی بنیادی قاعدہ مختلف صفحات میں بکھر جاتا ہے اور تفہیم کے بجائے ذہنی انتشار کا باعث بنتا ہے۔ یعنی اگر حروفِ جار کی تعداد کو سمجھانے کے لیے انہیں مختلف مقامات پر بار بار پیش کیا جائے تو طالب علم کے ذہن میں ایک منظم قواعدی نقشہ بننے کے بجائے یہ احساس پیدا ہوجاتا ہے کہ ہر چند صفحات کے بعد کوئی نیا اصول سامنے آ رہا ہے۔ یہی معاملہ دوسرے قواعدی نکات کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ نتیجتاً طالب علم کو گرامر کا ایک مربوط نظام سمجھنے کے بجائے منتشر قواعد کا سامنا رہتا ہے۔ ایک اصول کہاں بیان ہوا، دوسرا کہاں، تیسرا کس سیاق میں آیا اور ان سب کا باہمی تعلق کیا ہے، یہ چیز طالب علم کے لیے اضافی ذہنی بوجھ پیدا کردیتی ہے۔
یہاں سوال یہ نہیں کہ گرامر پڑھائی جائے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ گرامر کو کس ترتیب، کس مقدار اور کس تدریسی منطق کے ساتھ پڑھایا جائے۔ اگر قواعد کو منظم اور مرحلہ وار انداز میں پڑھایا جائے تو وہ قرآن فہمی کا معاون ذریعہ بن جاتے ہیں لیکن اگر انہیں متن کے مختلف مقامات پر اس طرح پھیلا دیا جائے کہ طالب علم کو قواعد کا مجموعی نقشہ ہی نظر نہ آئے تو یہی قواعد فہم کے بجائے انتشار پیدا کرتے ہیں۔
اس پورے معاملے کے پیچھے ایک اور بنیادی مفروضہ بھی قابلِ غور ہے کہ کیا قرآن فہمی کو محض عربی زبان سیکھنے کے برابر سمجھا جاسکتا ہے؟ اگر قرآن فہمی صرف عربی زبان جاننے کا نام ہوتا تو شاید یہ مفروضہ قابلِ قبول ہوتا کہ طالب علم کو عربی کے الفاظ، تراکیب اور قواعد سکھا دئیے جائیں اور وہ قرآن فہمی کے اہل ہوجائیں۔ لیکن اسلامی علمی روایت میں قرآن کو سمجھنے کے لیے صرف زبان کافی نہیں سمجھی گئی۔ تفسیر، حدیث، اصولِ تفسیر، اسبابِ نزول، ناسخ و منسوخ، فقہ، اصولِ فقہ، علمِ کلام، سیرت، تاریخ، بلاغت، عربی لغت اور دیگر متعلقہ علوم نے قرآن فہمی کے لیے ایک وسیع علمی پس منظر تشکیل دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر قرآن فہمی واقعی ایک وسیع علمی عمل ہے تو پھر یہ توقع کیسے کی جاسکتی ہے کہ ایک طالب علم محدود مدت میں چند جلدیں پڑھ کر اس درجے کی قرآن فہمی حاصل کرلے گا کہ اسے قرآن کے مفہوم تک براہِ راست رسائی حاصل ہوجائے گی؟
مسئلہ قرآن کی تعلیم دینے یا نہ دینے کا نہیں بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ قرآن کی تعلیم کس مقصد کے لیے، کس سطح پر، کس سطح کے طلبہ کے لیے اور کتنے وقت میں دی جارہی ہے۔ اگر مقصد یہ ہے کہ یونیورسٹی کا طالب علم قرآن کو اپنی زندگی، اپنے اخلاق، اپنے معاشرے اور اپنے فکری مسائل سے متعلق ایک زندہ ہدایت کے طور پر سمجھے توموجودہ پیچیدہ، مشکل اور اذیت آمیز نصاب کے بجائے ایسا نصاب زیادہ م¶ثر ہوسکتا ہے جو منتخب آیات، ترجمہ، تشریح، بنیادی قرآنی تصورات اور عصرِ حاضر کے مسائل کے ساتھ قرآن کے تعلق کو سامنے لائے۔
ایک اور اہم پہلو اخلاص اور نتائج کے درمیان فرق کا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ اس نصاب کو مرتب کرنے، اسے یونیورسٹیوں میں نافذ کرنے اور اسے اعلیٰ تعلیمی سطح پر شامل کرنے کے پیچھے نیت قرآن سے طلبہ کو جوڑنے کی ہو۔ لیکن صرف اچھی نیت کسی کام اور کسی نصاب کی کامیابی اور نتیجہ خیز ہونے کی ضمانت نہیں ہوتی۔ تعلیمی پالیسی اور نصاب سازی میں نیت کے ساتھ نتائج، زمینی حقائق، طلبہ کی استعداد، اساتذہ کا تجربہ، تدریسی وقت اور عملی ثمرات کو بھی دیکھنا ضروری ہوتاہے۔
اس لیے صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ قرآن فہمی کا یہ نصاب بہت اچھی نیت سے بنایا گیا ہے بلکہ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ اس کے نتائج کیا نکل رہے ہیں۔ کیا طلبہ واقعی قرآن کے قریب ہورہے ہیں؟ کیا ان کے اندر قرآن پڑھنے اور سمجھنے کا ذوق پیدا ہورہا ہے؟ کیا وہ اپنی زندگی کے مسائل میں قرآن کی رہنمائی تلاش کرنے لگے ہیں؟ کیا وہ قرآن کے بنیادی پیغام کو سمجھ پا رہے ہیں؟ یا اس کے برعکس وہ اس مضمون کو ایک اضافی بوجھ سمجھ کر صرف امتحان پاس کرنے کی حد تک پڑھ رہے ہیں؟ کیا یہ نصاب ان کی اصل ڈگری کے لیے اذیت کا باعث تو نہیں بن رہا؟
کیا اس نصاب کے لیے دستیاب وقت مطلوبہ نتائج کے لیے کافی ہے؟ اور کیا اس کی موجودہ ساخت اپنے مقرر کردہ مقاصد حاصل کررہی ہے؟ ان سوالات کا جواب کسی نظری بحث سے نہیں بلکہ باقاعدہ تدریسی تجربے، طلبہ کے ردِعمل، اساتذہ کے مشاہدات اور تعلیمی نتائج کے جائزے سے حاصل ہونا چاہیے۔ اگر زمینی حقیقت سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ایسا نصاب جس کا مقصد نوجوانوں کو قرآن سے قریب کرنا تھامگر عملی طور پر وہ نصاب طلبا کوقرآن سے سے دور، ذہنی طور پر بوجھل اور متنفر کررہا ہے تو اخلاص کے ساتھ اس کی اصلاح بھی اسی مقصد کا حصہ ہونی چاہیے۔
بظاہر یہ طریقہ طلبہ کو قرآن کے اصل متن سے قریب کرنے اور انہیں ترجمہ اور گرائمر پر غیر ضروری انحصار سے بچانے کی کوشش کا دعویٰ کرتا ہے لیکن جب اسے قرآنِ مجید کی عملی تدریس کے لیے اختیار کیا جاتا ہے تو اس کے ساتھ متعدد علمی، لسانی، تدریسی اور تفسیری مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ مثلاًسب سے بنیادی مسئلہ یہ سامنے آتاہے کہ یہ طریقہ کار بنیادی طور پر زبان سکھانے کے لیے تشکیل دیا گیا ایک تدریسی طریقہ ہے جب کہ قرآنِ مجید کا مطالعہ محض کسی زبان کی تعلیم کا عمل نہیں بلکہ قرآن ایک مذہبی، اخلاقی، فکری، قانونی اور تہذیبی متن ہے۔
اس کے الفاظ اور جملوں کو سمجھنا یقیناََ عربی زبان سے واقفیت کا تقاضا کرتا ہے لیکن قرآن فہمی صرف زبان کے روزمرہ استعمال ہونے والے الفاظ کے معانی جان لینے سے مکمل نہیں ہوجاتی۔ آیت کے مفہوم تک پہنچنے کے لیے سیاق و سباق، آیات کا باہمی تعلق، احادیث، شانِ نزول، مکی و مدنی پس منظر، فقہی مباحث، کلامی مسائل، اسلوبِ قرآن اور صدیوں پر محیط تفسیری روایت سے بھی واقفیت ضروری ہوتی ہے۔ اس لیے زبان کی تدریس کے لیے تیار کیا گیا کوئی طریقہ قرآن فہمی کا مکمل اور خود کفیل نظام نہیں بن سکتا۔
دوسرا اہم مسئلہ قرآن کے متن کی معنوی پیچیدگی ہے۔ قرآنی عربی میں بہت سے الفاظ ایسے ہیں جن کے ایک سے زیادہ لغوی اور اصطلاحی معانی ہوتے ہیں۔ بعض اوقات ایک لفظ کا مفہوم اس کے لغوی معنی سے آگے بڑھ کر پورے سیاق سے متعین ہوتا ہے۔ اسی طرح قرآن میں استعارات، تشبیہات، کنایات، ایجاز، حذف، تقدیم و تاخیر، تاکید اور دیگر بلاغی اسالیب استعمال ہوئے ہیں۔ اگر ڈائریکٹ میتھڈ کے تحت ہر لفظ یا جملے کو تصویروں، اشاروں، روزمرہ مثالوں یا براہِ راست عربی توضیح کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کی جائے تو اس بات کا امکان موجود رہتا ہے کہ قرآن کے گہرے اور تہہ دار مفہوم کو ایک نسبتاً سادہ اور محدود معنی میں سمجھ لیا جائے۔ زبان سکھانے کے لیے یہ سادگی بعض اوقات مفید ہوسکتی ہے لیکن قرآن فہمی میں یہی سادگی ایک بہت بڑا مسئلہ اور حجاب بن جاتی ہے۔
مثلاً کسی لفظ کا ایک معروف لغوی معنی طلبہ کو بتا دینا اس امر کی ضمانت نہیں ہوسکتا کہ وہ ہر قرآنی مقام پر اسی معنی کو درست طور پر سمجھ لیں گے۔ ایک لفظ کا مفہوم مختلف سیاقوں میں بدل سکتا ہے اور بعض اوقات اس کے معنی کے تعین کے لیے پورے جملے یا پوری آیت کے علاوہ سابقہ و لاحقہ آیات کو بھی سامنے رکھنا پڑتا ہے۔ لہٰذا قرآن کی تدریس میں صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ طالب علم عربی لفظ دیکھے، اس کا معنی سمجھے اور پھر پوری آیت کا مفہوم اخذ کرلے۔ اس عمل کے درمیان کئی علمی مراحل موجود ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
اس طریقہ کار میں طلبہ کو زبان کے ساتھ براہِ راست تعامل کے ذریعے زبان سکھانے پر زور دیا جاتا ہے۔ زبان سیکھنے کے اعتبار سے یہ اصول قابلِ فہم ہے لیکن قرآن کے معاملے میں اصل متن سے براہِ راست تعامل اور متن کی تعبیر دو الگ چیزیں ہیں۔ طالب علم قرآن کی عبارت خود پڑھ سکتا ہے، الفاظ کی شناخت کرسکتا ہے اور بعض بنیادی معانی اخذ کرسکتا ہے لیکن اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جاسکتا کہ وہ آیت کی جامع اور درست تفسیر بھی خود متعین کرسکتا ہے۔ متن تک براہِ راست رسائی اور متن کے درست مفہوم تک رسائی دو الگ الگ چیزیں ہیں۔
ایک اہم پہلو یہ سامنے آتا ہے کہ یونیورسٹی یا کالج کی سطح پر قرآن پڑھنے والے تمام طلبہ عربی زبان کے یکساں پس منظر کے حامل نہیں ہوتے۔ بعض طلبہ عربی حروف اور بنیادی الفاظ سے بھی پوری طرح واقف نہیں ہوتے۔ ایسے مبتدی اورمتنوع طلباءکو مکمل طور پر ڈائریکٹ میتھڈ کے ذریعے قرآن فہمی کے اہل بنانے کی کوشش کرنا الٹا انہیں متنفر کرنے کے مترادف ہے۔ ایسا طالب علم جس کی عربی بنیاد یں کمزور ہیں اس کے لیے ہر نئے لفظ، ہر نئی ترکیب اور ہر نئے اسلوب کو عربی ہی میں سمجھنا ذہنی بوجھ، کوفت اور پریشانی کا باعث ہوتا ہے۔ طلبہ کو بڑی تعداد میں نئے الفاظ کا ذخیرہ جمع کرنا، ان کے معانی یاد رکھنا، مختلف صیغوں کو پہچاننا اور مختلف تراکیب کو ذہن میں محفوظ رکھنا پڑتا ہے۔ اگر طالب علم کی سابقہ عربی بنیاد مضبوط نہ ہو تو یہ عمل محض فہم کی مشق کے بجائے حفظ اور رٹنے کی مشقت میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ یوں ایک ایسا طریقہ جو نظری طور پر ترجمے اور رٹنے سے نجات دلانے کے لیے اختیار کیا گیا تھا عملی طور پر طلبہ کے لیے الفاظ اور تراکیب کے ایک بڑے ذخیرے کو یاد کرنے اور رٹا لگانے کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔
قرآن کے پورے متن میں الفاظ اور اسالیب کی کثرت کو سامنے رکھا جائے تو ابتدائی درجے کے طالب علم سے یہ توقع رکھنا کہ وہ ہر نئے لفظ کا مفہوم عربی ہی کے ذریعے سمجھتا چلا جائے گا، ایک مشکل اور ناممکن ہدف بن جاتا ہے۔ اسے ایک لفظ کا معنی سمجھنے کے لیے دوسرا عربی لفظ بتایا جائے گا، دوسرے کے لیے تیسرا لفظ اور یوں وضاحت کا سلسلہ بعض اوقات ایک ایسے دائرے میں داخل ہوجاتا ہے جہاں طالب علم کو بنیادی مفہوم تک پہنچنے میں ہی غیر معمولی وقت اور محنت صرف کرنا پڑتی ہے۔ اس صورت میں تدریس کا اصل مقصد، یعنی قرآن کے بنیادی پیغام کو سمجھنا پس منظر میں چلا جاتا ہے اور زبان کی پیچیدہ مشق خود مقصد بننے لگتی ہے۔ یونیورسٹی کی سطح پر قرآنِ مجید کی تدریس کے لیے عموماً محدود وقت دستیاب ہوتا ہے۔
اگر اس محدود وقت کا بڑا حصہ الفاظ کے معنی، عربی گفتگو، بنیادی تراکیب، صرفی تبدیلیوں اور براہِ راست لسانی مشقوں میں صرف ہوجائے تو قرآن کے فکری، اخلاقی، تاریخی اور تہذیبی مباحث کے لیے وقت کم رہ جاتا ہے۔ چنانچہ ڈائریکٹ میتھڈ قرآن کے وسیع تر تعلیمی مقاصد کو محدود کردیتا ہے۔ طالب علم عربی عبارت کے بعض اجزا کو پہچاننے کے قابل تو ہوجاتا ہے، لیکن اس کے پاس یہ سمجھنے کے لیے وقت نہیں رہتا کہ آیت کس مسئلے پر گفتگو کررہی ہے، اس کا اخلاقی پیغام کیا ہے، اس کا تاریخی پس منظر کیا ہے اور اس کا تعلق قرآن کے دوسرے مقامات سے کیسے قائم ہوتا ہے۔
نسل نو کو قرآن سے جوڑنے کا شوق یقیناََ ایک اچھا اور نیک عمل ہے مگراس مقصد کے لیے قرآن کو ایک مشکل، طویل اور بوجھل تعلیمی مشق بنا دینا ایک الگ معاملہ ہے۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ یونیورسٹی کے طالب علم کو قرآن کا ایسا تعارف کر انا ہے جو اسے اپنی زندگی سے متعلق محسوس ہو یا اسے ایسا نصاب پڑھانا ہے جس کے نتیجے میں وہ اپنی اصل ڈگری اور قرآن فہمی دونوں کے درمیان تقسیم ہوکر رہ جائے۔ اصل کامیابی اس میں نہیں کہ ہم نے قرآن فہمی کو نصاب میں شامل کردیا ہے بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ طلباءنے اس نصاب کے ذریعے قرآن سے حاصل کیاکیا ہے؟ ان کی زندگی میں کیا تبدیلی آئی ہے اور قرآن کے ساتھ ان کا تعلق کس حد تک مضبوط ہواہے۔ یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جن کی روشنی میں موجودہ طریقہ تدریس کا ازسرِنو جائزہ لینا لازم ہو چکا ہے۔