Monday, 11 May 2026
  1. Home/
  2. Najam Wali Khan/
  3. 9 May Se 10 May Tak Ka Safar

9 May Se 10 May Tak Ka Safar

میری نظر میں پاک فوج کا اہم ترین سفر 9 مئی 2023ء سے 10 مئی 2025ءکے درمیان کا تھا۔ تین برس پہلے والا 9 مئی پاک فوج کو ایک گہرائی میں پھینکنے والا تھا، اس کی اپنی قوم کے ساتھ ایک بڑی خلیج پیدا کرنے والا تھا۔ اس 9 مئی کو برپا کرنے والے بھی غیر نہیں تھے بلکہ ان کے پاس پاکستان ہی کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ تھے مگر دوسری طرف ایک برس پہلے والا 10 مئی تھا اور ا ن کے درمیان دو برس۔ ان دوبرسوں میں پاک فوج پر کون کون سی تہمت نہیں لگائی گئی اور کون کون سا طوفان تھا جو برپا نہیں کیا گیا۔

9 مئی ایک منظم مہم کا نتیجہ تھا جس سے پہلے اسی فوج کوآئینی، سیاسی اور اخلاقی غیرجانبداری پر جانور قرار دیا جا رہاتھا، اس کے سربراہ کی تقرری کے موقعے پر اپنے من پسند کی تقرری کے لئے لانگ مارچ کئے جا رہے تھے، فوج کے سربراہ کو غیر آئینی اور غیر قانونی مقاصد پورے نہ کرنے پرمیر جعفراور میر صادق کہا جا رہا تھا۔ اس گروہ کا مطالبہ ایک تھا کہ فوج اپنی آئینی غیر جانبداری ترک کرتے ہوئے اسی طرح اقتدار میں لے آئے جس طرح اس صدی کی دوسری دہائی میں کھیل کھیلا گیا تھا۔ اسی سازشی اور نااہل شخص کو اقتدار کے ایوانوں میں پہنچانے کے لئے اسٹیبلشمنٹ کے ایک گروہ نے ہر گندی اور غلیظ حرکت کی۔

دھرنے کروائے گئے، سیاسی جماعتوں کو تڑوایا گیا، ایک منتخب وزیراعظم کو عدلیہ کو کٹھ پتلی بنا کے نااہل کروایا گیاا ور پھر آرٹی ایس بٹھایا گیا۔ مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ فوج کو بہت جلد اندازہ ہوگیا تھا کہ اس سے غلطی ہوگئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ عمران خان آیا بھی جنرل قمر جاوید باجوہ کے دور میں اور فوج کی چھتری ختم ہونے کے بعد اقتدار سے نکلا بھی جنرل قمر جاوید باجوہ کے دور میں، یعنی رواں صدی کی دوسری دہائی کی غلطی تیسری دہائی شروع ہونے پر ختم کر دی گئی۔

جنرل قمر جاوید باجوہ کے دو ر میں ہی سیکٹر کمانڈر لیول کی مشاورت ہوئی اور طے کر لیا گیا کہ اب فوج سیاست میں مداخلت نہیں کرے گی۔ مجھے یہاں ریکارڈ درست کرنے دیجئے کہ فوج نے جنرل پرویز مشرف کے دور میں بھی یہی فیصلہ کر لیا تھا مگرشواہد موجود ہیں کہ شجاع پاشا، ظہیر الاسلام اور فیض حمید اپنی ذمہ داریوں سے ہٹ کر بہت کچھ کرتے رہے اور یوں جو فوج جنرل اشفاق کیانی کے دور میں پیچھے جا رہی تھی اسے ایک عاقبت نااندیش شخص محض ذاتی اقتدار کی ہوس میں دوبارہ آگے لے آیا۔

مجھے یہ گواہی دینے میں کوئی عار نہیں کہ فوج نے اپنا کردار جنرل قمر جاوید باجوہ کے دور میں بھی محدود کر لیا تھا۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ جب چھوٹے صوبوں کی اہم سیاسی جماعتوں کے سر سے فیض حمید کی تلوار اتری تو انہوں نے دوسرا سانس لینے سے پہلے عمران خان کا ساتھ چھوڑ دیا۔ وہ ساتھ نہ نظریاتی تھا اور نہ ہی مفاداتی بلکہ وہ جبر اور ستم کا ساتھ تھا۔ فوج کے غیر جانبدار ہونے کی دلیل یہ بھی ہے کہ عمران خان اسی غیر جانبداری پر چیختا چلا تا رہا، ایوان صدر کا غیر آئینی استعمال کرتے ہوئے، اس وقت کے صدر کے ذریعے، فوج کو سیاسی کردار ادا کرنے کی دعوت دیتا رہا۔

بہرحال9 مئی سے دس مئی کا سفر خاصا طویل تھا اور یہ سفر دراصل سابق وزیراعظم کے خلاف عین آئینی تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے سے شروع ہوا تھاجس کی تفصیل میں اوپر بیان کر چکا۔ اس سفر میں فوج پر ہر طرح کے الزامات عائد کئے گئے۔ مجھے حیرت ہے کہ 9 مئی کو پی ٹی آئی کے بیرون ملک مقیم سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ انٹرنیٹ پر لائیو بیٹھ کے نشاندہی کرتے رہے کہ آئی ایس آئی کا دفتر کہاں ہے اور کور کمانڈر ہاوسز کہاں ہیں، پھر یہ منحوس اورسازشی وقت گزر گیا اور گزشتہ برس 22 اپریل کو بھارت نے پہلگام فالس فلیگ والی حماقت کر ڈالی اور اس کے نتیجے میں 10 مئی ہوا۔

مجھے مئی کا مہینہ اس لئے بہت ہی اہم لگتا ہے بالکل اگست کے مہینے جیسا جس میں پاکستان قائم ہوا کہ مئی کا ہی مہینہ تھا جب پاکستان نے نواز شریف کی وزارت عظمیٰ کے دوران ایٹمی دھماکے کئے۔ بہت سارے لوگ ان ایٹمی دھماکوں کی اہمیت نہیں سمجھتے تھے مگر آج انکار نہیں کر سکتے جب ایران کو ایٹمی قوت بننے سے روکنے کے لئے ہونے والی جنگ کو دیکھتے ہیں۔ یہاں ہمیں ذوالفقار علی بھٹو، جنرل ضیاءالحق، غلام اسحق خان، بینظیر بھٹو سے نواز شریف تک کی سیاسی قیادت کو سلام پیش کرنا پڑے گا کہ وہ اپنے سیاسی (بلکہ ذاتی تک بن جانے والے) اختلافات کی پروا کئے بغیر ایٹمی پروگرام کی حفاظت کرتے رہے، اسے پروان چڑھاتے رہے۔

بات مئی کے مہینے کی ہو رہی ہے تواس میں 9 مئی کی اپنی اہمیت ہے اور اسی طرح کی ہے جیسے 16 دسمبر کی۔ کیا حیرت کی بات ہے کہ 16 دسمبر میں بھی ایک نیازی ملوث تھا اور9 مئی میں بھی ایک نیازی۔ کیا یہ نیازیوں کو کوئی بددعا ہے۔ میرا دل چاہتا ہے کہ ہم اپنا یوم دفاع 6 ستمبر سے10 مئی پر شفٹ کر لیں کیونکہ ہم میں سے ساٹھ ساٹھ برس کی عمر والوں کو بھی 6 ستمبر یاد نہیں مگر10 مئی تو سب نے دیکھا ہے۔

10مئی دو برس پہلے والے نو مئی کے بعد اہم ترین پڑاؤ ہے۔ یہ ہماری فتح اور کامرانی کا پڑاؤ ہے۔ یہ ہماری جرات اور بہادری کا پہاڑ ہے۔ یہ ہماری امن پسندی کا جھرنا بھی ہے کہ جیسے ہی ہمارے دشمن نے جنگ بندی کی بھیک مانگی ہم نے اسے یہ عطا کردی کیونکہ ہم جنگوں کے شائق ہی نہیں ہیں۔ پاکستان نے 10 مئی کو جس شاندار سفر کا آغاز کیا تھا وہ جاری و ساری ہے۔ 10 مئی کے بعد ہم دوست ممالک کے ساتھ مل کر غزہ میں اسرائیل کی بربریت ختم کروا چکے، غضب خدا کا، اسرائیل نے دو برسوں میں بہتر ہزار فلسطینیوں کو شہید کردیا تھا اوراس کے بعد ہم نے ایران امریکہ جنگ بھی رکوا دی۔

فوج نے نو مئی کے تمام داغ دھو دئیے اورقوم کے تمام قرض چکا دئیے ہیں بس ایک باقی ہے کہ نو مئی کے ماسٹر مائنڈ کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے ورنہ کل کوئی اور مہم جو اپنے کلٹ کے ساتھ اٹھ سکتا ہے، حملہ آور ہو سکتا ہے، جی ہاں، 10 مئی کے اعزا ز کی حفاظت ضروری ہے تاکہ ہم اپنا عالمی مقام برقرار رکھ سکیں۔ یہ کیا ہی دلچسپ نکتہ ہے کہ 10 مئی سے پہلے کہا جاتا تھا کہ پاکستان میں جو کچھ کرواتا ہے وہ امریکہ کرواتا ہے اور 10 مئی کے بعد آج امریکی کہہ رہے ہیں کہ امریکہ جو کچھ کروا رہا ہے وہ پاکستان کروا رہا ہے۔ ہمارا 10 مئی کا مقام دو ستونوں پر کھڑا ہے اور پہلا ستون ہے اللہ کا فضل اور کرم، دوسرا ستون ہماری قیادت کی نیک نیتی اور محنت ہے۔ اللہ تعالیٰ پاکستان کو سلامت رکھیں، اس کی قیادت کی حفاظت کریں، آمین۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais