Wednesday, 20 May 2026
  1. Home/
  2. Najam Wali Khan/
  3. Akhbarat Aur Kitabon Ka Mustaqbil

Akhbarat Aur Kitabon Ka Mustaqbil

میں نے پچھلے کالم میں صحافت اور صحافیوں کے مسائل پر کچھ بات کی مگر ا س دوران دوستوں نے ایک اور اہم مسئلہ اٹھا دیا۔ وہ مسئلہ اخبارات اور کتابوں کے مستقبل کا ہے۔ ہم جیسے کارکن صحافیوں کے لئے یہ موضوع بہت دلچسپ اور اہم ہے جنہوں نے اپنے کیرئیر کا آغاز اخبارات سے کیا۔ ہر روز تازہ اخبار کی خوشبو بھی اہم ہوتی تھی اور اس میں اپنی ایکسکلوسو نیوز کی کوریج دیکھ کے خوش ہونا، اپنی مسنگ دیکھ کے ان کے جواز ڈھونڈنا، یہ شغل بھی عشروں تک رہا بلکہ روزنامہ نئی بات، کے گروپ ایڈیٹر کے طور پر آج بھی ہے مگر پھر ٹی وی چینل آ گئے اور وہ مسنگ جو صبح دس یا گیارہ بجے کی میٹنگ میں ڈسکس ہوا کرتی تھی وہ ٹیلی فون پر فوری ہوگئی کہ فلاں چینل نے یہ خبر دے دی، تم کہاں ہو۔

صحافی کی زندگی ہر وقت چیلنج کے مقابلے میں ہوتی ہے اور سب سے زیادہ خبر سب سے پہلے بریک کرنے کا چیلنج۔ بہرحال الیکٹرانک میڈیا بارے تو کچھ بات ہوگئی اور پیارے بھائی گل نوخیز اختر نے اس پر اپنے کالم میں بھی ذکر کر دیا مگر اب بات اخبارات کی ہے، کتابوں کی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ پنجاب یونیورسٹی کے شہر ہ آفاق کتاب میلے میں جائیں یا کسی بھی دوسری کتابوں بھری جگہ، ایک ہی سوال ہوتا ہے کہ کتاب دم توڑ رہی ہے، نوجوان موبائل فونز میں گم ہو رہے ہیں تو ایسے میں کتابوں کامستقبل کیا ہے۔

کتابوں کے مستقبل سے پہلے اخبارات کے مستقبل پر بات کر لیں کیونکہ اس سے تو ہماری یادیں ہی نہیں بلکہ رزق بھی جڑا ہوا ہے۔ ابھی ایک صحافی دوست نے شیئر کیا کہ روزنامہ جنگ کراچی، لاہور سمیت دیگر مقامات پر اپنی عمارتیں بیچنے یا کرائے پر دینے کے لئے پیش کر رہا ہے۔ روزنامہ جنگ کو میں پرویز بشیر جیسے مست ملنگ اور درویش صحافی کے ذریعے زیادہ جانتا ہوں۔ وہ اس کے سینئر ترین پولیٹیکل رپورٹر اور لاہور کے چیف رپورٹر تھے اور بعد میں ایڈیٹر رپورٹنگ ہوگئے۔

میاں نواز شریف شائد جس پہلے صحافی سے واقف ہوئے ہوں گے وہ پرویز بشیر ہی ہوں گے مگر میں نے پرویز بشیر کو ہمیشہ ایسا ہی دیکھا جیسا بیان کیا مست ملنگ اور درویش۔ وہ چاہتے تو ایک ایک سفارش سے کئی کئی کروڑ کما سکتے تھے مگر میں نے ان کے بارے نہ کبھی ایسا دیکھااور نہ کبھی ایسا سنا۔ ویسے میری کمپنی جن لوگوں کے ساتھ رہی وہ واقعی درویش اور مست ملنگ ہی تھے جیسے اشرف ممتاز مرحوم، رؤف طاہر مرحوم، خواجہ فرخ سعید مرحوم اورنعیم اقبال مرحوم اور اللہ تعالیٰ انہیں زندگی میں برکت دے سلمان غنی۔

ایک اور دوست کا ذکر ضروری ہے اور وہ آغاافتخار مرحوم کا ہے جو مساوات کے چیف رپورٹر ہوا کرتے تھے۔ میں یہ ہرگز نہیں کہتا کہ اب ایسے لوگ نہیں ہیں مگر اب میں رپورٹنگ میں نہیں ہوں۔ کہا جا رہاہے کہ وہ اخبارات جو ایک ایک سٹیشن پر کئی کئی لاکھ شائع ہواکرتے تھے وہ اب چند، چند ہزار رہ گئے ہیں۔ کسی نے کہا کہ اخبارات مہنگے ہوگئے ہیں، پانچ دس روپے تک تو ٹھیک تھا مگر اب اخبارات تیس سے پچاس روپوں میں ہیں تو میرا جواب تھا کہ میرا اخبار اس وقت پینتیس روپے میں مل جاتا ہے اوراس میں ہر طرح کی خبریں اور کالم موجود ہوتے ہیں، یہ قیمت چائے کے عام کھوکھے سے ملنے والے ایک کپ کی قیمت سے آدھی ہے۔

اس سے سستا اخبار اور کیا ہوگا کہ اس میں رپورٹنگ بھی ہے اور ایڈیٹوریل بھی، کالمز بھی ہیں اور اداریہ بھی، سٹی نیوز بھی ہیں ا ور انٹرنیشنل بھی لیکن اس سے ہٹ کے میں سمجھتا ہوں کہ اخبارات ہرگز ہرگز نہیں مررہے کیونکہ اخبارات خبروں کے مجموعے کا نام ہے اور خبر کبھی نہیں مر سکتی یا خبر کی ضرورت، اہمیت اوربھوک کبھی نہیں مر سکتی۔ جب تک انسان موجود رہے گا وہ خبر مانگتا رہے گا، خبر ڈھونڈتا رہے گا، ہاں، یہ ضرور ہے کہ اخبارات اپنی شکل بدل رہے ہیں۔ پہلے یا اب تک نیوز پرنٹ پر شائع ہوتے تھے، ہر صبح گھروں تک پہنچائے جاتے تھے اور اخبارات ای پیپر کی ڈیجیٹل شیپ، میں آ گئے ہیں۔

ایسے ہی بی بی سی کی ویب سائیٹ ہو یا سی این این کی، نیو نیوز کی ویب سائیٹ ہو یا لاہور رنگ کی، یہ سب ایک نئے رنگ ڈھنگ میں اخبارات ہی ہیں۔ یہ بھی گھر تک پہنچتے ہیں بلکہ آپ کے فون میں آپ کے ساتھ ساتھ رہتے ہیں۔ پہلے اخبارات کے ایڈیشن شام چھ بجنے چھپنا شرو ع ہوتے اور صبح تک چھپتے رہتے اور اب ان ویب سائیٹس کی صورت میں ہر وقت آپ ڈیٹ ہوتے رہتے ہیں۔

پہلے ان کے لاہور، پنڈی، ملتان، کراچی کے ایڈیشن ہوا کرتے تھے اور اب ان کے اپنی ویب سائیٹ کے علاوہ فیس بک، ٹوئیٹر پر ایڈیشن ہوتے ہیں۔ پہلے اخبار یکطرفہ ہوا کرتے تھے اور اب نئی صورت میں قارئین ساتھ ساتھ تبصرے کرتے ہیں، اس سے پہلے صر ف ایڈیٹر کی ڈاک ہوا کرتی تھی۔ میں گل نوخیز اختر کی دہرائی ہوئی بات پھر کہہ دوں کہ اس وقت بھی ذمہ دارانہ رپورٹنگ کا چہرہ صرف اخبارات ہی ہیں جہاں ایڈیٹر کا ادارہ موجود ہے، احتساب و توازن موجود ہے ورنہ دوڑ ہی دوڑ ہے۔

یہی غوغا کتابوں بارے ہے کہ کتابیں ختم ہو رہی ہیں جس سے میں اتفاق نہیں کرتا، ہاں، یہ ضرور ہے کہ وہ بھی اپنی شکل بدل رہی ہیں۔ سب سے پہلے ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ ایک، دو صدیوں سے کتابیں (یا اخبارات) کس لئے اِن، ہیں تو جواب ہے نالج اور انفارمیشن، کے لئے تو ہمیں اسی بنیاد کی طرف واپس جانا ہے۔ اب اگر ہمیں وہی نالج اور انفارمیشن کہیں زیادہ آسانی سے اور کہیں زیادہ سستا مل رہی ہے تو ہم اس پر چیخیں کیوں ما ر رہے، خواہ مخواہ کا ماتم کیوں کر رہے ہیں۔

بات صرف اتنی ہے کہ کتابیں تو اپنی جگہ پر موجود ہیں مگر شکلیں بدلی ہیں جیسے اب وہ سوشل میڈیا پر ویب سائیٹس، پروفائلز کی صورت میں موجود ہیں بلکہ اب تو ویلاگز کی صورت میں بولتے ہوئے کالم ہیں اور پوڈ کاسٹس کی صورت میں زندہ انٹرویوز، ہاں، اگر کسی کو پرنٹنگ اور پبلشنگ کے کاروبار کم یا ختم ہونے کا افسوس یا گھاٹا ہے تو میں اس کے بارے کچھ نہیں کہہ سکتا ورنہ نالج اور انفارمیشن زیادہ صحت اور زیادہ رفتار کے ساتھ دستیاب ہے جو کتاب اور اخبار کا خاصہ، ضرورت اور اہمیت تھی۔

پہلے ہم ایک ایک کتاب ڈھونڈنے کے لئے کئی کئی لائبریریاں چھان مارتے تھے اور اب ایک ایک سرچ پر کئی کئی کتابیں دستیاب ہوجاتی ہیں۔ یہ ایسے ہی ہے کہ کبھی ہمارے بزرگ اونٹوں پر حج کیا کرتے تھے اور اب ہوائی جہاز موجود ہیں تو جیسے حج تک پہنچنے پر کوئی سوال نہیں تو اسی طرح نالج اور انفارمیشن تک پہنچنے پر بھی سوال نہیں ہونا چاہئے۔ ہم تعمیر، ترقی اور جدت کا راستہ نہیں روک سکتے۔ ہمیں کتابوں اور اخبارات کی نئی صورت کو اڈاپٹ، کرنا ہی ہوگاجیسے امریکہ، یورپ میں اب پرنٹ ایڈیشن سے زیادہ اہم سبسکرپشنز، ہوگئی ہیں۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais