یہ درست ہے کہ اسرائیل کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ذریعے ایران پر حملہ چاہے وہ گذشتہ برس جون کی بارہ روز ہ جنگ والا ہو یا اب 28فروری سے چلتی رکتی جنگ، اسرائیل کے وزیراعظم نتن یا ہوکی بڑی کامیابی تھی۔ وہ امریکہ کو اس کے متلون مزاج صدر کے ذریعے کنٹرول کرنے میں کامیاب رہا لیکن اگر آپ 28فروری کو شروع ہونے والی جنگ کو اسرائیل کی کامیابی مانتے ہیں تو پھر آپ کو غیر جانبدار ہو کے 8 اپریل کو پاکستان کے ذریعے ہونے والے سیز فائر کو بھی اسرائیل کی ناکامی اور پاکستان کی کامیابی ماننا پڑے گا۔
یہ درست ہے کہ یہ سیز فائر بیچ بیچ میں ٹوٹ رہا ہے مگر آپ ذہن میں رکھیں کہ ایسی دشمنی جو سیتنالیس اڑتالیس برسوں یعنی نسل در نسل چل رہی ہو وہ دنوں میں ہفتوں میں ختم نہیں ہوسکتی۔ ہمیں امریکہ اسرائیل اتحاد کو اب ہونے والی دو جنگوں سے پہلے کے منظرنامے میں بھی دیکھنا ہوگا جب امریکہ نے ہرفلسطین میں ایک ناجائز ریاست کے قیام سے توسیع تک ہر ظلم کی حمایت ہی نہیں کی بلکہ تعاون بھی کیا۔
میں ایران کی جنگ سے پہلے آپ کو فلسطین اور غزہ میں لے جانا چاہتا ہوں جہاں اکتوبر 2023ءمیں اسرائیل نے حزب اللہ کے کچھ حملوں کے جواب میں ظلم وستم کی ایک لمبی تحریک کا آغاز کیا، اس نے ہر ایک گھنٹے میں ایک فلسطینی بچے کو مارا، دو برس میں بہتر ہزار فلسطینیوں کو شہید کر دیا، اسی سے نوے فیصد غزہ کو کھنڈر بنا دیا گیا۔ امریکہ اس ظلم میں اس کا مددگار اور پشتی بان تھا مگر اکتوبر 2025ءمیں حالات بدلے، اس کی ایک وجہ تو چار مسلم ممالک پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کا غیر اعلانیہ اتحاد تھا جس نے مشرق وسطیٰ ہی نہیں بلکہ دنیا کی سفارتی اور سیاسی تاریخ میں انقلاب برپا کرکے رکھ دیا اور جو امریکہ اس جنگ کو چلا رہا تھا وہی امریکہ غزہ میں امن کے لئے، اسرائیلی افواج کے اخراج کے فارمولے پر آ گیا۔
یہ گریٹر اسرائیل کے خواب کی موت تھی کہ جو اسرائیل غزہ میں اپنا قبضہ برقرار نہ رکھ سکے وہ اسرائیل مسلم ممالک اُردن، شام، مصر، عراق، لبنان اور بعض تشریحات کے مطابق شمالی سعودی عرب تک اپنی سرحدیں اور حکمرانیکیسے وسیع کر سکتا ہے۔ اس کا ایک بڑا اشارہ اس وقت ملا جب اسرائیل نے گذشتہ برس 9 ستمبر کو دوحہ میں حماس کی قیادت کو ختم کرنے کے لئے میزائل داغے تو نتن یاہو کو ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں صرف بیس دن بعد قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی سے معافی مانگنی پڑی۔ بہت سارے لوگ اس معافی کو چھوٹا واقعہ سمجھتے ہیں مگر یہ ایک بہت بڑا پالیسی شفٹ، تھا اور ہے۔ ہم سیاسی مباحث اور دشمنیوں میں پھنس جاتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان ایک بڑی دراڑ آ چکی اور اس پر اسرائیل میں ماتم برپا ہے۔
واپس ایران کی طرف آجاتے ہیں، جب اسرائیل نے امریکہ کو دوسری مرتبہ جنگ میں پھنسایا تو امریکہ کو بہت جلد سمجھ آ گئی کہ اسے ٹریپ کر لیا گیا ہے۔ امریکی نائب صدر کی ایک فون کال میڈیا کے ذریعے لیک کروائی گئی جس میں جے ڈی وینس نے باقاعدہ طور پر انتہائی تلخ انداز میں نتن یاہو سے کہا کہ انہیں تمام تر فالس انٹیلی جنس، مہیا کی گئی اور امریکہ کو ایک لاحاصل جنگ کی دلدل میں پھنسا دیا گیا۔ میں ذاتی طور پر ایران کی جنگ میں امریکہ کی کئی بڑی ناکامیاں دیکھتا ہوں اور ان میں سب سے پہلی انٹیلی جنس ہی نہیں بلکہ انٹیلی جنشیا کی بھی ناکامی ہے یعنی امریکہ جیسا ملک ریکارڈ علمی، تحقیقی ادارے اور ماہرین رکھنے کے باوجود درست جمع تفریق نہیں کرسکا۔ اس سے جڑی دوسری ناکامی ایران میں رجیم چینج کی ہے۔
میں صدر ٹرمپ کی اس تعریف سے اتفاق نہیں کرتا کہ انہوں نے باپ کو مار ا اور بیٹا اقتدار میں آ گیا تو یہ رجیم چینج ہوگیا۔ رجیم چینج تب ہوتا جب ایرانی سڑکوں پر اسرائیلی پرچم لہرانے والے اپوزیشن کو حکومت مل جاتی۔ ان کی تیسر ی بڑی ناکامی دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت ہونے کے باوجود آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل نہ کر پانا ہے اور یہ کئی مرتبہ ہوا کہ ان کے بحری بیڑے آگے بڑھے او ر انہیں واپس بھاگنا پڑا۔
سو جے ڈی وینس کا یہ اپنی ناکامی کا تجزیہ اور نتن یاہو سے سخت شکوہ ہرگز غلط نہیں تھا مگر دلچسپ تو اسی برس دو جون کو اسرائیل کی طرف سے لبنان پر دوبارہ بڑے حملوں کے اعلان کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی نتن یاہو کو فون کال تھی جس میں اسے باقاعدہ گالیاں دی گئیں۔ میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ ایسی گالیوں کے بعد نتن یاہو کو اگر خود کشی نہیں بھی کرنی تھی تو کم از کم استعفیٰ ضرور دینا چاہئے تھا۔ گذشتہ برس کے آخر میں ڈونلڈ ٹرمپ نے بڑا اعتراف اور انکشاف کیا کہ انہوں نے تمام عمر سینیٹ سمیت امریکی اداروں پر یہودی لابی کا سخت کنٹرول دیکھا مگر اب وہ اپنا یہ کنٹرول کھو رہے ہیں۔
میں جب امریکہ اسرائیل اتحاد کو موت کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھتا ہوں تو مجھے یہاں امریکی حکومت سے آگے امریکی عوام نظر آتے ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ اسرائیلی لابی نے یہ حزب اللہ کو ایک دہشت گرد تنظیم کے طور پر پورٹریٹ کر رکھا تھا مگر اکتوبر 2023ءسے اکتوبر 2025ءکے دوران اسرائیل کے غزہ میں مظالم نے خود امریکی اور یورپی عوام کے آنکھوں پر پڑے ہوئے پردے اٹھا دئیے اور انہیں پتا چل گیا کہ اصل میں دہشت گرد اور غاصب کون ہے۔
امریکی عوام نے غزہ کے مسلمانوں کے حق میں اپنی تاریخ کے سب سے بڑے مظاہرے ہی نہیں کئے بلکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کو بھی تاریخ کی کم ترین سطح پر لے آئے لہذا ڈونلڈ ٹرمپ اپنے آپ کو جتنا مرضی بے فکرا اور لاابالی ظاہر کرتے رہیں وہ بہرحال اپنی مقبولیت پر کمپرومائز نہیں کر سکتے اور خاص طو ر پر جے ڈی وینس، جن کو اگلا صدارتی امیدوار کہا جا رہا ہے لہذا انہوں نے اپنی پوزیشن بدلی ہے اور وہ امریکہ جو کبھی اسرائیل کے ہاتھ میں ہوا کرتا تھا اب پاکستان کی زبان بول رہا ہے، اس کی ہاں میں ہاں اور ناں میں ناں ملا رہا ہے کیونکہ پاکستان کی فوجی اور سیاسی قیادت نے اپنی ساکھ بنائی ہے، قندمکرر، مجھے پاکستان کی موجودگی کے ساتھ یہاں اسلامی ممالک کا ایک غیر اعلانیہ اتحاد بھی آگے بڑھتا ہوا نظر آتاآ رہا ہے جس میں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر بھی ہمارے ساتھ موجود ہیں، قطر اور آذربائیجان بھی۔ انہوں نے گذشتہ برس کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے بعد سے کس قسم کی مووز، کی ہیں، کوئی مانے یا نہ مانے، وہ تاریخ کارخ اور دھارا بدلنے والی ہیں۔
میں اس غیر اعلانیہ اتحاد کو ایم سیون یا مسلم سیون میں بدلتا ہوا دیکھ رہا ہوں اور یہ علامہ اقبال کے شعر ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے، نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر، کی عملی تفسیر بن رہا ہے۔