Monday, 24 August 2026
  1. Home/
  2. Najam Wali Khan/
  3. Bani Pti Sehatmand Hain

Bani Pti Sehatmand Hain

یہ خبر بانی پی ٹی آئی کے تمام دوستوں، ساتھیوں اور رشتے داروں کے لئے باعث اطمینان ہونی چاہئے کہ وہ تین برس کی قید کے بعد بھی مکمل طور پر صحت مند ہیں۔ وجاہت ایس خان کی طرف سے ان کی موت اور شہباز گل وغیرہ کی طرف سے ان کی بیماری کی خبریں سب کی سب جھوٹی ہیں، جی ہاں، یہ ان تمام لوگوں کے لئے باعث اطمینان ہونی چاہئے جو عمران خان سے محبت کرتے ہیں اور ان کی صحت اور زندگی کے خواہاں ہیں۔ انہیں اس پر مٹھائیاں تقسیم کرنی چاہئیں اور داتادربار سے خانہ کعبہ تک ہرجگہ نوافل کا اہتمام کرنا چاہئے تاکہ اللہ رب العزت کا شکر ادا کیا جا سکے کہ ان کی زندگی اور صحت کے بارے میں تمام منفی اطلاعات غلط ثابت ہوئیں مگر کیا ہم نے پی ٹی آئی والوں کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا یا وہ ان تمام اطلاعات پر برہم ہیں، غصے میں ہیں، چیخ وپکار کر رہے ہیں، کیوں؟

یہ عجیب وغریب صورتحال ہے کہ ا نہیں بانی کی زندگی اور صحت سے زیادہ فکر اس بات کی ہے کہ انہیں ایک پرائیویٹ ہسپتال کیوں نہیں پہنچایا گیا کیونکہ وہ کچھ بدترین اور غلط اطلاعات کو سچ ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتے تھے۔ عمران خان کی بیماری کی خبریں کچھ لوگوں کے سیاسی مفاد میں ہیں اور یہی دلیل ہے کہ سابق وزیراعظم کی صحت کا میڈیا میں آنے والا معاملہ نہ طبی ہے اور نہ ہی قانونی، یہ صرف اور صرف سیاسی ہے کیونکہ اس کے ذریعے پولیٹیکل پوائنٹ سکورنگ مقصود ہے۔

حکومت نے عدالتی فیصلہ آنے کے بعد ایک گروہ کی طرف سے اس سازش کو بھانپ لیا تھا اور اندازہ لگا لیا گیا تھا کہ اگر عمران خان کو مخصوص پرائیویٹ ہسپتال میں شفٹ کیا جاتا ہے تو اس کا سیاسی فائدہ اٹھایا جائے گا بلکہ منتقلی سے پہلے ہی اس قسم کی بڑھک بازی شروع ہوگئی تھی کہ عمران خان کسی ہسپتال نہیں جیسے ایوان وزیراعظم لایا جا رہا ہے۔ یہ باتیں عام کہی جا رہی تھیں کہ ان کی مقتدرہ کے ساتھ ڈیل ہوگئی ہے اوراب مسلم لیگ نون اقتدار کے ایوانوں سے رخصت ہونے لگی ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ مسلم لیگ نون کے سوشل میڈیا پر بہت زیادہ پوسٹس کرنے والے ایک سینیٹر صاحب نے باقاعدہ اسی خدشے کااظہار کر دیاکہ شہباز شریف کی حکومت کے خلاف سازش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

یہ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کی طاقت ہے کہ وہ مسلم لیگ نون والوں کو بھی اپنی چال اور اپنے جال میں پھنسا لیتا ہے۔ جب میں یہ کہتا ہوں کہ عمران خان صاحب کی بیماری نہ طبی ہے اور ہی نہ قانونی اور اخلاقی تو میرے پاس اس کی دلیل موجودہے۔ کوئی بھی بیماری میڈیکل ٹیسٹوں اور طبی ماہرین کی تصدیق سے ہی بیماری مانی جا سکتی ہے اور جب ہم عمران خان کے حوالے سے سپریم کورٹ میں پیش کی ہوئی رپورٹ کو دیکھتے ہیں تو اس میں چوہتر برس کے بوڑھے شخص میں صرف کسی حد تک ہائی بلڈ پریشر کی تشخیص ہوتی ہے جو اس عمر میں کسی طور پر بھی غیر معمولی مرض نہیں ہے۔

میں نے عمران خان کی میڈیکل رپورٹ دیکھی تو ایک معروف لطیفہ یاد آ گیا جس میں ایک شخص ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے اور کہتا ہے کہ اسے اس کے امراض کے بہت مشکل اورپیچیدہ نام نہ بتائے جائیں بلکہ سیدھے سادے الفاظ میں بتا دیا جائے کہ اسے کیا مرض ہے۔ ڈاکٹرا س کامکمل چیک آپ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اسے کسی قسم کا مرض نہیں وہ صرف اور صرف ہڈحرامی اور نااہلی کا شکار ہے تو مریض ترنت کہتا ہے اگر ایسی بات ہے تو اسے اس کے کچھ مشکل ٹیکنیکل نام بتا دیں تاکہ وہ اپنی بیوی کو بتا سکے۔

بات لاجیکل ہے کہ عمران خان تین برس کی جیل کے بعد بھی صحت مند ہیں تو اس میں تعریف عمران خان سے زیادہ حکومت کی بنتی ہے کہ اس نے نو مئی سمیت دیگر سنگین جرائم میں ملوث ملزم کو اتنے بہترین ماحول میں رکھا ہوا ہے۔ آپ جیل سے باہر بھی اپنے ارد گرد لوگوں کو دیکھ لیجئے، بانی پی ٹی آئی سے آدھی عمر کے لوگ آپ کو شوگراور ہارٹ سمیت دیگر امراض میں مبتلا نظر آئیں گے جبکہ ان کی میڈیکل رپورٹ میں بہت بڑی بیماری بھی بے چینی ہی بتائی گئی ہے اوراس کا علاج بیوی سے ملاقاتیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ ان کی رپورٹ مرتب کرنے والے ڈاکٹر صاحب کافی رومانوی ہوں گے اور خانصاحب کی ماضی کی زندگی اور طبیعت سے بہت واقف۔ اب شکوہ یہ ہے کہ چیک آپ ایک پرائیویٹ ہسپتال سے کیوں نہیں ہوا تو اس پر میرا سوال ہے کہ آپ کا مسئلہ ہسپتال ہے یا اپنے مریض کی صحت۔ ا گر آپ مریض کے سگے نہیں بلکہ ہسپتال کے ایجنٹ ہیں تو آپ کا اعتراض سمجھ میں آتا ہے۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے عمرا ن خان کی آنکھ کا مسئلہ بھی بنایا گیا اور اس کا علاج بھی پمز میں ہی ہوا او ر اب ان کی آنکھ درست بتائی جا رہی ہے۔

یہ افسوسناک ہے کہ ہمیں ایک ایسے کلٹ کا سامنا ہے جسے ملکی سلامتی سے معاشی استحکام تک کچھ نہیں چاہئے بلکہ ہرموقعے پر لاشیں چاہئیں چاہے وہ اسلام آباد ہو، کامونکی ہو، بلوچستان ہو یا آزاد کشمیر۔ یہ کلٹ اتنا ظالم ہے کہ جب اسے اصلی اور حقیقی لاشیں نہیں ملتی تو یہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے ڈیڈ باڈیز بنا لیتا ہے اوراس پر ہی ماتم شروع کر دیتا ہے۔ ان کے دانشور کی طرف سے عمران خان کی موت کی تصدیق، تو ابھی کل پرسوں ہی کی بات ہے اور اس سے پہلے یہ بھی کہا گیا کہ بشریٰ بی بی کو زہر دیا جا رہا ہے اور اس موقع پر بھی ایک ٹوائلٹ کلینر کی مشہوری کی گئی جیسے اب ایک ہسپتال کی مشہوری کی جا رہی ہے۔

تب بھی یہی سامنے آیا تھا کہ ان کے معدے میں تیزابیت ہوگئی تھی جیسے لڑکیوں کو مرچوں والے لال کرکرے کھانے ہوجاتی ہے تو اسی کو زہر دینے کا الزام بنا دیا گیا مگر یہ معاملہ واقعی بہت ساروں کی ذہنی صحت کا ہے جو اس وقت عمران خان کی صحت کی خبروں سے مایوس اور پریشان نظر آ رہے ہیں، اصل مدعے سے ہٹتے ہوئے ادھر ادھر کے اعتراضات اٹھا رہے ہیں اورمیں سوچ رہاہوں کہ کیا انہیں واقعی عمران خان زندہ نہیں چاہئے۔

میں اس کلٹ کو دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ انسان اتنا ظالم اور خود غرض بھی ہوسکتا ہے، اپنے مردہ باپ کا جائیداد کے کاغذات پر انگوٹھا لگوانے والے جتنا، عمران خان کی صحت کا معاملہ سو فیصد سیاسی معاملہ تھا جسے حکومت نے سیاسی میدان میں ہی کھیلا اور جیت لیا۔ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ ہسپتال کو سیاسی پنڈال بنانا چاہتے تھے اور انہیں اندازہ ہی نہیں ہوا کہ ان کے ساتھ پرینک ہوگیا۔ میں بار بار کہتا ہوں کہ پی ٹی آئی والوں کو سیاست سیکھنے کی ضرورت ہے اور اب انہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ اس پر ہنسیں یا روئیں۔ ہنستے ہیں تو رونا نکل جاتا ہے اور روتے ہیں تو ہاسا نکل جاتا ہے۔

Check Also

Karobar e Hayat, Hamari Nasal Aur Tawazum Ki Talash

By Unzila Siddiqui