Friday, 24 July 2026
  1. Home/
  2. Najam Wali Khan/
  3. Fauj, Siasat Aur Siasatdan

Fauj, Siasat Aur Siasatdan

جب فوج سیاست میں مداخلت نہیں کرنا چاہتی تو آپ اسے سیاست میں کیوں لانا چاہتے ہیں، محض اس لئے کہ آپ کے خیال میں اقتدار کے حصول کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ فوج کی مداخلت ہے، اس کی چھتری۔ ہم سب سے پہلے عمران خان کا معاملہ دیکھ لیتے ہیں کہ موصوف کی اقتدار سے رخصتی فوج کی سیاست میں مداخلت کی وجہ سے ہوئی یا اسی مداخلت کے خاتمے کی وجہ سے۔ میرے پاس ایک مکمل مقدمہ موجود ہے کہ عمران خان اقتدار سے صرف اس وجہ سے نکلا کیونکہ فوج نے سیاست میں مداخلت نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا ا وریہ ایک سوچا سمجھا ادارہ جاتی فیصلہ تھااور یہ اتنا بڑا فیصلہ تھا جس کا انکشاف اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک پریس کا نفرنس میں کیا تھا۔ انہوں نے بتایا تھا کہ سیکٹر کمانڈر سطح پر مشاورت کے بعد فیصلہ کیاگیا کہ فوج اپنی آئینی حدود میں رہے گی۔

اس فیصلے کی تائید ہمیں عمران خان کے بیانات اور تقریروں سے بھی ملتی ہے جب انہوں نے ایوان صدر کو غیر آئینی اور غیر اخلاقی طور پر استعمال کرتے ہوئے دباؤ ڈلوایا اور اس وقت کے آرمی چیف کے ساتھ ایک طویل ملاقات کے بعد تقریریں کیں جس میں انہوں نے فوج کی آئینی اور قابل قدر غیرجانبداری کو جانور ہونے سے تشبیہ دی۔ عمران خان چاہتے تھے کہ فوج اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے سندھ اور بلوچستان کی پارٹیوں کو دوبارہ ان کی جھولی میں ڈال دے تاکہ ان کی قومی اسمبلی میں اکثریت بن سکے۔ سچ یہ ہے کہ ان پارٹیوں کو جیسے ہی گرین سگنل ملا کہ اب عمران خان کی حکومت برقرار رکھنے کے لئے ان پر ڈنڈا نہیں ہے تو وہ رسہ تڑوا کے بھاگے کیونکہ ان کی عمران خان کے ساتھ کوئی ذاتی، سیاسی اور نظریاتی قربت نہیں تھی۔

ہمیں ہر وہ سیاستدان فوج کے خلاف نظر آتا ہے جس کویہ امید رہی کہ فوج اس کو نشستیں دلوائے گی مگر وہ ہار گیا۔ میں اس بحث میں صرف مارشل لاؤں کو نکالتا ہوں جن کے خلاف جدوجہد سیاستدانوں پر فرض تھی۔ ان سے ہٹ کے اس میں سب سے مضحکہ خیز موقف ان صاحب کا ہے جو خود پی ٹی آئی سے الیکشن ہارے۔ سب جانتے ہیں کہ نو مئی جیسی واردات کے بعد پی ٹی آئی کی فوج کے نظریاتی اور محب وطن طبقات میں حیثیت کیا ہے اور یہ بات اس سے بھی زیادہ مضحکہ خیز سمجھی جا سکتی ہے کہ ان دینی سیاسی رہنما کی سیٹیں چھین کے پی ٹی آئی کو دے دی جاتیں جو کہ عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے وقت اس کے مخالف اتحاد کی سربراہی کر رہے تھے۔

معاملہ صرف اتنا رہا کہ فوج نے مداخلت نہیں کی اور کہیں آر ٹی ایس نہیں بٹھایا۔ میں سوشل میڈیا کے نظریات اور تصورات کے ساتھ نہیں جاتا کیونکہ وہ حقائق سے بہت دور ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے عوام پاکستان کی فوج کی بہت عزت کرتے ہیں سوائے مٹھی بھر عادل راجاؤں کے جن کے اپنے مفادات ہیں اور وہ عوام کو گمراہ کرتے ہیں۔ کوئی پاکستان کی تاریخ کا جائزہ لے تو اسے علم ہوگا کہ پاکستان کی تمام تر مقبول، جدت پسنداور کرشمہ ساز قیادتیں بھی فوج نے ہی دی ہیں جیسے کہ ذوالفقار علی بھٹو، جو آکسفورڈ کے تعلیم یافتہ تھے، ان کے بعد نواز شریف اور شہباز شریف جو پروگریسو انڈسٹریلسٹ تھے اور سب سے آخر میں عمران خان، جن کی شہرت ایک کرکٹر اور پلے بوائے کی تھی۔ فوج نے جو بھی لیڈر دیا وہ عوام نے قبول کر لیا، سر آنکھوں پر بٹھا لیا۔

اب اگر عمران خان یا کوئی دوسرا سیاستدان یہ سمجھتا ہے کہ فوج اس کے لئے انتخابات میں دھاندلی کرے گی اور اس کے اقتدار کی راہ ہموار کرے گی تو یہ اس کی بھول ہے۔ اب سب کی اپنی اپنی دوڑ ہے لیکن اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ پاکستان کی فوج سے لڑ کے جیت سکتے ہیں تو آپ غلط فہمی کا شکار ہیں۔ اگر میں وطن عزیز کی تاریخ کا بے رحمی سے جائزہ لوں تو مجھے فوج (اور ریاست) کے خلاف ایک ہی سیاستدان کامیاب نظر آیا اور اس کا نام شیخ مجیب الرحمان تھا۔ اس کی کامیابی کی بنیاد محض سیاست نہیں تھی بلکہ اس میں مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان ایک ہزار کلومیٹر کا فاصلہ، اس ایک ہزار کلومیٹر پر دشمن ملک کی موجودگی اورپھر اسی دشمن ملک کی ننگی جارحیت تھی۔

اب اگر کوئی سمجھتا ہے کہ وہ شیخ مجیب جیسی کامیابی حاصل کر سکتا ہے تو یہ اس کی بھول ہے اوراس کی ویڈیو ز اپنے سوشل میڈیا پر لگانا گویا احمقوں کی جنت میں رہنا ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے، فوج کے ساتھ جنگ میں پیپلزپارٹی کا بڑا نقصان ہوا۔ اس نے الذوالفقار بھی بنائی، جیلیں بھی کاٹیں اور کوڑے بھی کھائے مگر پھر بینظیر بھٹو کواقتدار اسی وقت ملا جب انہوں نے سمجھوتہ کیا، اپنے سیٹ آپ سے باہر کے صدر اور وزیر خارجہ تک کو قبول کیا، پنجاب کی حکومت سے تب بھی محروم ہی رہیں (پنجاب ان کو دوسری باری میں ملا اور وہ بھی اتحادی پارٹی کی صورت)۔ میاں نواز شریف نے بھی بہت مشکلات کاٹیں مگر اب ان کا بھائی وزیراعظم اور صاحبزادی وزیراعلیٰ پنجاب ہیں اور ممکنہ طور پرکسی اگلے دور میں وزیراعظم پاکستان بھی۔ میں سمجھتا ہوں کہ جو لوگ فوج کے ساتھ محاذ آرائی میں ہیں کم از کم انہیں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نون سے ضرور کچھ سیکھنا چاہئے۔

ویسے تکلف برطرف، فوج کے ساتھ لڑنے کے بعد جیتا کون، کیا آپ شیخ مجیب کو جیتا ہوا کہہ سکتے ہیں جس کو خود اس کی فوج نے بیٹوں کے ساتھ گولیاں مار کے بھون دیا اوراب اس کی بیٹی دلی میں نریندر مودی کی حفاظت میں بیٹھی ہوئی ہے۔ کیا آپ الطاف حسین کو جیتا ہوا سمجھتے ہیں جس کا کراچی پر راج تھا، اس کے حکم کے بغیر کوئی شٹر کھلتا تھا نہ پتا ہلتا تھا مگراب نہ اس کے پاس وطن کی مٹی ہے، نہ پارٹی ہے اور نہ ہی طاقت۔ کیا جماعت اسلامی ایک مثال نہیں ہے کہ اس نے کروڑ کمانڈرز کہا یا شہدا کو متنازع کیا تو کہاں کھڑی ہے۔

کیا ماہرنگ بلوچ ہو یا شوکت نواز میر کیا وہ سیاست اور تاریخ کے کچرا دان میں نہیں جا رہے او رابھی حال ہی میں آپ نے سعد رضوی کو نہیں دیکھا کہ کیا اس کے کارکن مولانا فضل الرحمان کے کارکنوں کی طرح لڑنے مرنے میں کسی سے کم تھے اور سب سے بڑھ کے شجاع پاشا، ظہیرالاسلام اور فیض حمید کی آنکھوں کا تارا عمران خان، وہ کہاں ہے، کس حال میں ہے؟ سچ کہوں، بہت ساروں نے یہ گمان بنا رکھا ہے کہ وہ نواز شریف یا فوج کے خلاف ہوں گے تو بہت مقبول، بہت کامیاب ہوجائیں گے تو یہ محض ایک سراب ہے۔ وقتی طور پراس میں بہت کشش نظر آتی ہے مگر یہ ایک بھوت بنگلہ ہے جو کمزور آنکھوں والوں کو چمکتا ہوا نظر آتا ہے مگر جب وہ اس میں قید ہوتے ہیں تو تباہ وبرباد ہوجاتے ہیں۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais