Wednesday, 01 July 2026
  1. Home/
  2. Najam Wali Khan/
  3. Kashmirion Ka Dushman Kon?

Kashmirion Ka Dushman Kon?

یہ سوال بنیادی نوعیت کا ہے کہ کشمیری مسلمانوں کا اصل اور حقیقی دشمن کون ہے اور اس پر کوئی دوسری رائے نہیں ہے کہ وہ ہندوستا ن ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ پاکستان کے خلاف مہم کیوں اور جب آپ پاکستان کے خلاف مہم چلاتے ہیں تو کیا آپ بھارت کے ہاتھ مضبوط نہیں کرتے۔ ہم ان سب سوالوں کے باری باری جواب ڈھونڈتے ہیں جو اس وقت عوام کو کنفیوژ کر رہے ہیں۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ کوئی حقوق کی تحریک نہیں ہے۔ یہ واضح ہوچکا کہ یہ آزاد جموں وکشمیر کی نہ صرف پاکستان بلکہ مقبوضہ کشمیر کی تحریک آزادی کے ساتھ بھی تعلق توڑنے کی تحریک ہے۔

میں شوکت نواز میر اور ان کے ہمنواؤں کے بیانات کو سید علی گیلانی، برہان وانی، آسیہ ترابی اور یٰسین ملک کے بیانات کی روشنی میں دیکھتا ہوں اور جب میں یہ دیکھتا ہوں کہ مقبوضہ کشمیر سے آل پارٹیز حریت کانفرنس کے کنوینر دوٹوک انداز میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے اظہار یکجہتی کرتے ہیں، ایکشن کمیٹی والوں کو تحریک کے دشمن اور انتشار پسند کہتے ہیں تو ان تحریکیوں کے چہرے بے نقاب ہوجاتے ہیں۔

مجھے یہاں نوے کی دہائی سے ایک مرتبہ پھر شروع ہونے والی آزادی کشمیر کی تحریک کا ذکر کرنے دیجئے، جی ہاں، پاکستانیوں نے اپنے کشمیری بھائیوں پر مال ہی خرچ نہیں کیا، ان کو تین روپے یونٹ بجلی اور ہزار روپے کاآٹے کا بیس کلو کا آٹاتھیلا ہی نہیں دیا بلکہ ان کیلئے اپنی جانوں کی قربانیاں بھی دی ہیں۔ میں نے جہلم سے منڈی بہاوالدین اور میاں چنوں سے ملتان تک جگہ جگہ باپوں کو اپنے ان بیٹوں کے جنازے پڑھتے دیکھا ہے جو کشمیر گئے اور کبھی واپس نہیں آئے، جی ہاں، خالی چارپائیاں سامنے رکھ کے غائبانہ نماز جنازہ اور اس سے بہت پہلے جب یہ ایک تہائی کے لگ بھگ کشمیر آزاد ہوا تھا تو یہ بھی پاکستان کے قبائلیوں نے ہی کروایا تھا تو ایسے میں جب یہ ایکشن کمیٹی والے پاکستان کو گالی دیتے ہیں تو مجھے افغان یاد آجاتے ہیں۔

ہم نے ان پر بھی بڑے احسانات کئے۔ جب روس، افغانستان میں د اخل ہوا تو ہم نے ان کی عورتوں کے سر پرچادریں رکھیں، انہیں چھتیں دیں، ان کے بچوں کو تعلیم اور ان کے بزرگوں کو علاج دئیے، ہم نے انہیں روزگار اور مستقبل دئیے۔ یہ ہمارے ہی مدرسے تھے جہاں سے یہ طالبان پڑھ کر نکلے اور ہمیں اس کے بدلے کیا ملا۔ پاکستانیوں کے روزگار پر ان کا قبضہ ہونے تک تو خیر تھی مگر انہوں نے منشیات دیں، ناجائز اسلحہ دیا، جرائم دئیے اور آج کل دہشت گردی دے رہے ہیں۔

اس وقت پروپیگنڈہ ہے کہ پاکستان آزاد کشمیر میں خوراک اور ادویات نہیں جانے دے رہا اوراس کا جواب دینے سے پہلے میرا سوال ہے کہ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کے جواب دیجئے کہ آزاد کشمیر میں ہنگامہ اور فساد ہو، احتجاج اور ہڑتالیں ہوں، پاکستان کے خلاف نعرے لگیں تو کیا یہ پاکستان کی حکومت اور فوج کے مفاد میں ہے یا بھارت کی مودی سرکار کے؟

یہ بہت ہی کامن سینس کا سوال ہے کہ آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال کا فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے اور یہی تفتیش کا بنیادی نکتہ ہوتا ہے کہ مجرم وہی ہوگا جو فائدہ اٹھا رہا ہو۔ مجھے یہ کہنے میں عارنہیں کہ جب دس مئی کا معرکہ ختم ہوچکا، توپیں اوربندوقیں خاموش ہوچکیں، جہاز اور میزائل اڑنے بند ہوچکے تو اجیت ڈیول سمیت دیگر ہندوستانی کیسے کہتے ہیں کہ آپریشن سندور جاری ہے۔ یہ دوجمع دو کی طرح واضح ہے کہ دس مئی کو آپریشن بنیان مرصوص میں بدترین شکست کے بعد بھارت پراکسیز کے استعمال پر اتر آیا ہے۔ وہ جنگ میں خرچ ہونے والا اپنا اسی نوے ارب ڈالر کا بجٹ اپنے انہی ایجنٹوں پر خرچ کر رہا ہے ورنہ یہ سوال منطقی ہے کہ احتجاجیوں کو ہر روز کا کروڑوں روپوں کا خرچہ کون دے رہا ہے، ان کے پاس خطرناک اسلحہ کہاں سے آ رہا ہے۔

جب ایکشن کمیٹی اور اس کے حواری پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ پاکستان کی فورسز نے کشمیر کا راشن روک رکھا ہے تو مجھے ہنسی آجاتی ہے کہ بھائی ہم تو وہ ہیں کہ ہمارے کسان کو بیس کلو آٹے کا تھیلا اپنے گھر میں ہزار روپے کا نہیں پڑتا، وہ اپنے سگے بھائی کو آٹا اس ریٹ پر نہیں دیتا جس پر پاکستان تمہیں دے رہا ہے تو پاکستان اس بحران کا ذمے دار کیسے ہوگیا اور کیا ہڑتال کی کال پاکستان کی حکومت اور فوج نے دے رکھی ہے، کیا ٹرکوں والوں پر حملوں کا خطرہ اسلحہ بردار تحریکیوں سے نہیں ہے، کیا ایک مہینہ تک راشن جمع کرنے کی کال شوکت نواز میر نے نہیں دی تھی اور بند مطلب سب کچھ بند کانعرہ کیا مولانا فضل الرحمان اور بلاول بھٹو زرداری نے لگایا تھا؟

مجھے کہنے دیجئے، کشمیر ایکشن کمیٹی کی تحریک نریندرمودی کے عمران خان دور میں کئے 5اگست 2019کے اقدام کا تسلسل ہے جس میں اس نے مقبوضہ کشمیر کی متنازع حیثیت ختم کرتے ہوئے اسے بھارت کا آئینی حصہ بنا لیا۔ یہی وہ منحوس تاریخ تھی جب کروڑ اور ارب پتی بھارتیوں کو مقبوضہ کشمیر میں زمینیں خریدنے کا اختیار دے دیا گیا تاکہ وہاں کشمیریوں کی آبادی کا تناسب کم کیا جاسکے اوراس کے نتیجے میں استصواب رائے عملی طور پر ناممکن ہوکے رہ جائے۔

اب آپ آزاد کشمیر کی بھارتیہ ایکشن کمیٹی کے مطالبے پر غور کیجئے کہ جموں کے مہاجرین کی نشستیں ختم کر دی جائیں یعنی پاکستان سائیڈ کے لاکھوں ووٹ کم کر دئیے جائیں، واہ واہ، کیا بے شرمی سے بنایا ہوابوگس منصوبہ ہے کہ اگر بھارت کو کبھی استصواب رائے پر مجبور بھی ہونا پڑے تو پاکستان نے ریفرنڈم ہار جائے۔ یہ سازش اتنی سادہ، اتنی ننگی اور اتنی بے ہودہ ہے کہ اس کو ایکسپوز کرنے کی بھی ضرورت نہیں، سونے پر سہاگہ ان کا مطالبہ ہے کہ الیکشن کے موقعے پر ارکان کا وہ حلف بھی ختم کر دیا جائے جو وہ پاکستان سے الحاق کا اٹھاتے ہیں۔

آئیے اس بحث کو اب اختتام کی طرف لے کر چلتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ بھارت کے مقاصد پورے کرنے والے صرف بھارت کے ہی یار ہیں یا وہ کشمیریوں کے دشمن بھی ہیں، جی ہاں، انہوں نے کشمیریوں کے کاروبار تباہ کرکے رکھ دئیے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ امن و امان کی وہ صورتحال پیدا کر دی ہے کہ اب کوئی ٹرانسپورٹر آزاد کشمیر میں اپنے ٹرک لے جانے پر تیار نہیں کہ کہیں لوٹ نہ لئے جائیں۔

بات یہاں تک محدود نہیں، مجھے وادی نیلم سے منتخب رکن اسمبلی اور مسلم لیگ آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر بتا رہے تھے کہ دوبرس پہلے وادی نیلم میں ساڑھے پانچ لاکھ سیاح آئے مگر اس کے بعد بھارت کے حملے اور اب ایکشن کمیٹی کے حملوں کی وجہ سے یہ کاروبار بھی ٹھپ ہو کے رہ گیا ہے اور لاکھوں کشمیری ٹورازم کے سیزن میں کمانے سے محروم ہوگئے ہیں، اب کا یہی کمایا وہ سردیوں میں کھاتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ایکشن کمیٹی والے آزاد اور مقبوضہ کشمیرکے مسلمانوں کے دشمن ہیں اور کیا ہی بُرے، گھٹیا دشمن ہیں۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais