Thursday, 26 March 2026
  1. Home/
  2. Najam Wali Khan/
  3. Mera Haqiqi Naya Pakistan

Mera Haqiqi Naya Pakistan

یہ وزیراعظم شہباز شریف اورفیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں مکمل طور پر ایک نیا پاکستان ہے جو جنوبی ایشیا میں اپنے سات سے آٹھ گنا بڑے اور طاقتور دشمن کو چارسے چھ گھنٹوں میں شکست دے رہا ہے اور آگے بڑھتے ہوئے مشرق وسطیٰ کی سیاست میں اپنا بھرپور اور مثبت کردارادا کر رہا ہے۔ یہ درست ہے کہ نئے پاکستان کا نعرہ عمران خان نے دیا تھا مگر وہ ایبسولیوٹلی ناٹ، کی طرح کا نعرہ ہی تھا جسے سچ ملک کو چلانے والی موجودہ ٹیم نے کرکے دکھایا ہے۔

عمران خان نے ایک ٹی وی پروگرام میں امریکہ کو اڈے دینے بارے اینکرکے سوال پر ایبسولیوٹلی ناٹ کہا تھا مگر اس سے بہت پہلے نوازشریف ایٹمی دھماکے کرتے ہوئے امریکی صدر کی طرف سے پانچ ارب ڈالر کی پیشکش کو ٹھکراتے ہوئے عملی طور پر ایبسولیوٹلی ناٹ کہہ چکے تھے اور اسی طرح یہ نیا پاکستان وہ نہیں ہے جس میں محض نشئیوں کی رہائش گاہوں، کٹوں وچھوں اور لیٹرینوں پر واٹس ایپ نمبر لکھنے کے میگا پراجیکٹس تھے، یہ نیا پاکستان ایک نئی تاریخ لکھ رہا ہے، غزہ میں جنگ بندی کرا رہا ہے، ایران کے مسئلے پر ثالثی کرا رہا ہے۔

کیا کہا، غزہ میں جنگ بندی کا کوئی فائدہ نہیں کہ اسرائیل اس جنگ بندی کی خلاف ورزی کر رہا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ دو برس میں اسرائیل نے نوے فیصد تک غزہ کو کھنڈر بنا دیا، بہتر ہزار فلسطینیوں کو شہید کردیا مگرجنگ بندی کے بعد اکتوبر سے اب مارچ تک شہدا کی تعداد چھ، سوا چھ سو کے لگ بھگ ہے، اگر کوئی اسے کامیابی نہیں سمجھتا تو نہ سمجھے، ہماری نظر میں ہمارے کلمہ گو بھائیوں کی زندگیاں بچنا، وہاں امن آنا، سکول کھلنا سب کی سب بڑی کامیابیاں ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ ہم ایک آزاد فلسطین کی منزل تک بھی پہنچیں گے، ایک ایسافلسطین جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہوگا، جس کی سرحدیں 1967ءسے پہلے کی ہوں گی اور یہ حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے عین مطابق ہوگا اور صرف غزہ ہی کیوں، ہمیں یقین ہے کہ ہم بھارت کے پنجے اور شکنجے سے مقبوضہ کشمیر کو بھی نکالیں گے، جدوجہد آزادی کشمیر کے نوے ہزار شہیدوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، کشمیر پاکستان بنے گا، ان شاءاللہ۔

ہمارے کچھ یوتھیائے گئے صحافی دوست کہتے ہیں کہ اگر عمران خان باہر ہوتا یا اقتدار میں ہوتا تو وہ امریکہ اور ایران کے درمیان کردارادا کرتا تو مجھے اس دعوے پر ہنسی آجاتی ہے۔ عمران خان واشنگٹن جاتا تو کیا کیلی فورنیا کی اس عدالت میں بھی جاتا جہاں سے وہ ایک ماں کا مفرور ہے، وہ ماں جو اب مرچکی ہے مگر وہ اس کی راہ تک رہی تھی کہ وہاں وہ اپنی سگی بیٹی کو بیٹی کہہ سکے۔ مجھے وہ شخص کبھی بہادر نہیں لگ سکتا جو اپنی بیٹی کو بیٹی کہنے سے بھاگ نکلے۔ جو اپنی غلطیو ں کو تسلیم نہ کر سکے، ان کا ازالہ کرنے کی ہمت اور جرات نہ رکھتا ہو۔

عمران خان سعودی عرب اور ایران کے درمیان کیا مفاہمت کراتا کہ اس پر سعودی ولی عہد کی گھڑی چوری کا الزام ثابت ہے جو اس نے دوبئی میں فروخت کرائی۔ یہ محض ایک چوری اوربددیانتی کا جرم نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ پاکستان کی سفارتی توہین ہے۔ یہ درست ہے کہ توشہ خانہ سے تمام سربراہان مملکت اور سرکاری عمائدین کو تحائف مقررہ قیمت دے کر لینے کا حق حاصل ہے مگر یہ حق کسی کو حاصل نہیں کہ وہ تحفہ، توشہ خانہ سے غصب کرے، اسے کسی فرح گوگی یا کسی زلفی بخاری کے ذریعے سمگل کرا کے دوبئی پہنچوائے اور اس میں مبینہ طور پر سرکاری جہاز اور اختیارات کا استعمال ہو۔

وہ گھڑی وہاں چور بازار میں اونے پونے داموں فروخت کر دی جائے اوراس کی رقم منی لانڈرنگ کے ذریعے پاکستان واپس لائی جائے، اس پر نہ صرف ٹیکس چوری کی جائے بلکہ اسے اگلے ایک دو برس تک ظاہر بھی نہ کیا جائے۔ اس گھڑی کی ایک جعلی رسید اسلام آباد کے گھڑی فروش سے بنوا کے جمع کرا دی جائے۔ یہ بددیانتی اور بدعملی کی انتہا ہے۔ سونے پر سہاگہ سعودی حکمرانوں کو خانہ کعبہ کے عکس والی اس مقدس اور قیمتی گھڑی کی چوربازار میں فروخت کا پتا ہی دوبئی کے دکانداروں سے چلے جو دنیا میں صرف دوگھڑیاں بنائی گئی ہوں۔

آج کا پاکستان اس سے بہت الگ اور بہت منفرد ہے۔ یہ وہ پاکستان ہے جس کے پاس غزہ کی جنگ بندی کا اعزاز ہی نہیں بلکہ کعبةُ اللہ اور روضہ رسول کی حفاظت کی ذمے داری بھی ہے۔ یہ وہ پاکستان ہے جس کا چین کے ساتھ سٹرٹیجک اور دفاعی تعلق ہی نہیں ایک ایسی تاریخی دوستی بھی ہے جو سمندر سے گہری، ہمالہ سے اونچی اور شہد سے میٹھی ہے تو دوسری طرف امریکہ کا صدر کی قیادت کی تعریفیں کرتا ہے، اس کے وزیراعظم کو شاندار شخصیت اور اس کے آرمی چیف کو اپنا پسندیدہ فیلڈ مارشل کہتا ہے۔

یہ وہ پاکستان ہے جس کے لیے گذشتہ برس جون میں ہونے والی بارہ روزہ ایران اسرائیل جنگ کے بعد ایران کی پارلیمنٹ میں تشکر تشکر پاکستان کے نعرے لگتے ہیں، جس کا صدر مسعود پزشکیان اگر جنگ میں فون کرتا ہے تو عالمی طاقت روس کے صدر کے بعد بہت ہی قابل اعتماد پاکستان کے وزیراعظم کو کرتا ہے۔ جس کا وزیرخارجہ عباس عراقچی اردو میں ٹوئٹ کرکے پاکستان کا شکریہ ہی ادا نہیں کرتا بلکہ سلامتی کونسل میں جس کا نمائندہ جن تین ملکوں (اور صرف ایک اسلامی ملک) کا شکریہ ادا کرتا ہے وہ روس، چین اور پاکستان ہوتے ہیں۔ یہ وہ پاکستان ہے جس کا وزیراعظم پارلیمنٹ میں کھڑا ہو کے یہ نہیں کہتا کہ میں کیا کروں، کیا بھارت پر حملہ کر دوں بلکہ وہ حملے کا منہ توڑ جواب دیتا ہے۔ اس کا آرمی چیف یہ نہیں کہتا کہ اس کی جیپوں میں تیل ہی نہیں ہے بلکہ ستر اسی برس کی پاک بھارت جنگی تاریخ اور دفاعی توازن کو ہی بدل کے رکھ دیتا ہے۔

مجھے اس پاکستان کا شہری ہونے پر فخر ہے جس کو میرے پرکھوں نے محض سات برس کی جدوجہد کے بعد حاصل کیا، کلمے کی بنیاد پر دنیا کی تاریخ میں ریاست مدینہ کے بعد پاکستان کی ریاست بنا کے دکھا دی، جی ہاں، پاکستان کا مطلب کیا، لاالہ الا اللہ، ہمارے بڑوں نے جس میں ذوالفقار علی بھٹو، ضیاءالحق، غلام اسحق خان، بے نظیر بھٹو اور نواز شریف شامل ہیں، سب کے سب نے، اپنے ذاتی، گروہی اور سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنا دیا، جی ہاں، وہی ایٹمی قوت جو ایران تیل کی بڑی دولت رکھنے کے باوجود پچھلے پینتالیس برس میں نہیں بن سکا جبکہ پاکستان نے یہ کامیابی دس برس سے بھی قلیل عرصے میں حاصل کر لی اور جب چاہا ایٹمی دھماکے کرکے خود کو ایٹمی طاقت ڈکلیئر کر دیا۔ میرے پاس آج اپنے وطن پر فخر کرنے کے لئے بہت کچھ ہے جیسے میرے ڈاکٹر اور انجینئر جن کی دنیا بھر میں مانگ ہے۔ آپ بھی فخر کیجئے کہ آپ محفوظ ترین، کامیاب ترین، طاقتور ترین پاکستان کے شہری ہیں۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais