Friday, 17 July 2026
  1. Home/
  2. Najam Wali Khan/
  3. Operation Sindoor Jari Hai

Operation Sindoor Jari Hai

جب بھارت کے سیاسی اور فوجی عہدیدار کہتے ہیں کہ آپریشن سندور جاری ہے تو کیا یہ سوال منطقی اور جائز نہیں کہ جب طیارے اڑنا اور میزائل گرنا بند ہو گئے تو یہ آپریشن کیسے جاری ہے مگر یہ وہ سچ ہے جو ان کے منہ سے پھسل جاتا ہے کیونکہ وہ اپنے اسی سے نوے ارب ڈالر کے خطیر جنگی جنونی بجٹ کو دہشتگردی، تخریب کاری اور سیاسی عدم استحکام کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ یہ اتنا بڑا بجٹ ہے کہ اس کو دیکھ کے بہت ساروں کے منہ میں پانی آجاتا ہے اور وہ اپنی ماں جیسی مہربان دھرتی سے غداری پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔

مجھے یہ بتانے میں عار نہیں کہ یہ بجٹ دو طرح سے استعمال کیا جا رہا ہے، دشمن ایک لڑائی دھماکے اور قتل و غارت کرتے جنگجوؤں کے ذریعے لڑ رہا ہے اور دوسری نظریے اور یکجہتی پر حملہ آور سائبر وار ہے۔ دشمن کو اس میں بھی ہماری سرحدوں کے اندر سے اور سمندر پار کے ملکوں سے وارئیر مل رہے ہیں۔ جب کچھ لوگ اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے ساتھ ساتھ اس وقت آزاد کشمیر میں بھی آ گ لگائی جار ہی ہے تو بنیادی طور پر یہ بھارتیوں کے اس بیان کا تسلسل اوراس کا عملی ثبوت ہی ہوتا ہے کہ وہ آپریشن سندور جاری ہے جس میں انہوں نے دھول چاٹی تھی۔

ہمارے گھُس بیٹھئے اسے ریاست کی ناکامی کہتے ہیں کہ حالات کنٹرول نہیں ہو پا رہے اور میں اسے دشمن کا آخری وار سمجھتا ہوں۔ وہ دشمن جس نے گذشتہ برس بائیس اپریل کو پہلگام کافالس فلیگ کیا جس کے ایک سے زیادہ مقاصد تھے، پہلا یہ کہ نفرت، تعصب اور انتہاپسندی کے نعروں میں بہار کا الیکشن جیتا جائے اور بھارتیہ جنتا پارٹی اس میں کامیاب رہی، د وسرا یہ کہ بھارت کئی برسوں سے ہمارے حصے کے پانی پر ڈاکہ ڈالنے کے لئے اربوں ڈالر کے فنڈز مختص کر رہا ہے اور اس کے لئے ضروری تھا کہ وہ سندھ طاس معاہدے کی پابندیوں سے باہر نکل جائے (اگرچہ معاہدے کی شرائط اور بین الاقوامی اداروں کے فیصلوں کے مطابق وہ اس سے از خود باہر نہیں نکل سکتا) سو اس نے اس معاہدے کو معطل کر دیا۔

پہلگام فالس فلیگ کا نتیجہ تھا کہ دس مئی کا معرکہ ہوا جس میں ہم سے آٹھ سے نو گنا زیادہ فوجی بجٹ رکھنے والے دشمن کو محض چار سے چھ گھنٹوں میں گھٹنوں پر لا کھڑا کیا گیا اوراس نے سیز فائر کی اپیلیں شروع کر دیں۔ اب آپ اس صورتحال کوکالم کے پہلے پیراگراف کے ساتھ جوڑ کر دوبارہ دیکھیں۔ جب دشمن میدان جنگ میں ناکام ہوگیا تو وہ سازشوں پر اُتر آیا۔ اس نے اپنے ایجنٹ ہائر کرنا شروع کر دئیے۔ میں آپ کو پورے یقین سے بتاتا ہوں کہ کوئی بھی مسلح جدوجہد سستی نہیں ہوتی، اس کے لئے بڑا مال درکار ہوتا ہے اور کسی بھی ملک کے اندر مسلح جدوجہد اسی وقت کامیابی سے چل سکتی ہے جب اس کو باہر سے مدد مل رہی ہو۔ اس کی مثال کچھ یوں سمجھئے کہ کیا آپ کے خیال میں بلوچستان میں ہونے والی انسرجنسی، کے فنانشل سپانسرز بلوچستان کے غریب عوام ہیں، ہرگز نہیں، ان کو مال کہیں اور سے آ رہا ہے۔

میں آپ کو گذشتہ برس چمن بارڈ ر پر سمگلنگ کھولنے کے لئے ہونے والے مظاہروں کی طرف بھی لے جانا چاہتا ہوں جو کئی ماہ تک جاری رہے اورا س میں کئی ہزار لوگ بیٹھے رہے۔ سوال یہ تھا کہ ان ہزاروں لوگوں کے کھانے پینے اور سونے جاگنے کی ضروریات کہاں سے پوری ہو رہی ہیں اور یہاں ہمیں پتا چلتا ہے کہ دہشت گردی ہو، تخریب کاری ہو یا ملک کے خلاف سازش، اس میں فنڈنگ کہیں اور سے ہی آتی ہے اور یوں سیاست اور جرائم کا گٹھ جوڑ بن جاتا ہے، جی ہاں، یہاں سیاست اورجرائم کاگٹھ جوڑ کھل کے سامنے آتا ہے جب ہم اپنے صوبوں کی صورتحال کو دیکھتے ہیں اور کچھ سیاسی عناصر کو اس میں متحرک بھی۔

اب اس امر کو سمجھیں کہ فوج کے خلاف پروپیگنڈہ کیوں ہوتا ہے اور کہاں سے ہوتا ہے تو اس کے ڈانڈے بھی وہیں جا ملتے ہیں۔ گذشتہ ایک سے ڈیڑھ برس کی عالمی اور جنگی تاریخ کا مطالعہ کیجئے۔ آپ کو علم ہوگا کہ پاکستان کے حافظ قرآن سپہ سالار نے بھارت کو ہی نہیں بلکہ اسرائیل کو بھی شکست دی ہے اور صرف غزہ میں نہیں بلکہ ایران میں بھی۔ یہ ناممکن ہے کہ نتن یاہو اور نریندر مودی کی ٹیمیں اس پر خاموش بیٹھی ہوں، بدلے کی آگ میں نہ جل رہی ہوں اور یہی وجہ ہے کہ سپہ سالار ہی نہیں بلکہ فوج کے شہدا تک نشانہ بنتے ہیں۔ اس امر کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اب جنگیں صرف میدان جنگ میں نہیں لڑی جا رہیں بلکہ اب یہ نظریے اور بیانئے کے میدانوں میں زیادہ لڑی جاتی ہیں۔

میں جب آزاد کشمیر میں ایکشن کمیٹی کی سرگرمیاں دیکھتا ہوں تو مجھے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ جنگ کتنی خوفناک ہوچکی۔ ایک طرف بھارت نے پانچ اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ بنا لیا۔ وہاں پر کشمیری پنڈتوں اور بھارتی سرمایہ کاروں کی آباد کاری شرو ع کر دی تاکہ کبھی استصواب رائے کی صورت میں بھارت کے حامیوں کی تعداد زیادہ ہو اوراس کے ساتھ ہی پاکستان میں حقیقی کشمیریوں کے ووٹ کاٹنے کی مہم شروع ہوگئی۔ ایکشن کمیٹی کہتی ہے کہ جموں و کشمیر کے مہاجرین کے ووٹ اور نمائندگی ختم کر دی جائے۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ دونوں اطراف کی مہم میں کتنی یکسانیت ہے جب یہاں پاکستان کے خلاف نعرے لگائے جاتے ہیں مگر تسلی اس بات کی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں حریت کانفرنس اس سازش کو سمجھ رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ بھی ایکشن کمیٹی کو انتشاری اور فسادی کہہ رہی ہے، کشمیر کاز کی غدار کہہ رہی ہے۔

میں نے 13جولائی کو 1931میں ڈوگرہ راج میں شہید ہوجانے والے نوجوانوں کا واقعہ یاد کیا جب بائیس نوجوان ایک اذان مکمل کرتے ہوئے مار دئیے گئے۔ میں نے سوچا کہ یہ نظریہ تھا اور یہ کمٹ منٹ تھی اور اب اسی نظریے اور کمٹ منٹ کا قتل کیا جا رہا ہے۔ کشمیر کی ایکشن کمیٹی کے عزائم کھل کے سامنے آ چکے ہیں اور اسی طرح بی ایل اے یا اس سے جڑی بی وائے سی بھی بے نقاب ہوچکی ہے سو جب یہ کہا جاتا ہے کہ آپریشن سندور جاری ہے تو مجھے اندازہ ہوجاتا ہے کہ دشمن میدان جنگ میں ہارنے کے بعد اپنی آخری لڑائی اپنے ان ایجنٹوں کے ذریعے لڑ رہا ہے۔

میں اپنی سیاسی اور فوجی قیادت کی صلاحیتوں پر پورا یقین رکھتا ہوں کہ وہ اس جنگ کو بھی جیت لیں گے مگر مجھے تشویش ضرور ہے کہ یہاں دشمن کو میر جعفر اور میرصادق مل رہے ہیں، وہ مفاد پرست اور ضمیر فروش مل رہے ہیں جو جنگوں میں فصیلوں کے دروازے اندر سے کھولتے ہیں۔ یہ آج بھی موجود ہیں جو ہمارے باہمی رشتے کمزور کر رہے ہیں، نفرت اور تعصب پیدا کر رہے ہیں، نظریوں کو روپوں میں تول رہے ہیں۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais