سینئر سکیورٹی عہدیدار دلائل اور حقائق کے ساتھ بتا رہے تھے کہ پاکستان، ایران نہیں۔ وہ داخلی اتحاد اور اتفاق کے ساتھ گورننس کی بہتری کی ضرورت پر بات کر رہے تھے اور میں ان لوگوں کے بارے میں سوچ رہا تھا جو اس وقت پاکستان کے بارے میں بُری بُری باتیں کر رہے ہیں۔
میں نے اسرائیلی اخبارات کے وہ عکس دیکھے ہیں جن میں ایران کے بعد ترکی اور پاکستان کو نشانہ بنانے کی ضرورت کی بات کی گئی ہے مگر وہ تو اسرائیلی اخبارات ہیں، وہ لوگ جو پاکستان میں رہتے ہیں، پاکستان سے عزت، دولت، شہرت سمیت ہر سہولت لیتے ہیں وہ اس کے بدخواہ کیوں ہیں۔ وہ ہمیشہ اسی شاخ کے کٹنے کی خواہش کیوں رکھتے ہیں جس پر وہ خود بیٹھے ہوئے ہیں۔ ایران کے بعد پاکستان کی باری کی باتیں کرنے والے وہی ہیں جو معرکہ حق میں بھارت کی زبان بول رہے تھے اور جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افغانستان کے دہشتگردوں کے ساتھ ہیں، اپنے شہید ہوجانے والے فوجیوں اور شہریوں کا مذاق اڑاتے ہیں۔
مجھے کوئی ابہام نہیں کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو ایران کے غداروں نے شہید کروایا ہے۔ اگر وہ اندرونی اختلافات پر اسرائیل اورامریکہ کے ایجنٹ کے طور پر انفارمیشن فراہم نہ کررہے ہوتے تو یہ دونوں دشمن کبھی خامنہ ای تک نہیں پہنچ سکتے تھے۔ کیا ستم ظریفی ہے کہ یہ غدار ایران میں اتنے زیادہ اور اتنے بااثر ہیں کہ انہیں نہ صرف یہ اطلاع تھی کہ سپریم لیڈر کس جگہ پر موجود ہیں، کس جگہ پر کون سی میٹنگ کرنے جا رہے ہیں کہ نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکہ اور اسرائیل نے انفارمیشن پر ہی اپنا حملے کا وقت اور طریقہ تبدیل کیا اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ انہوں نے خامنہ ای کے جسد خاکی تصویر امریکہ اور اسرائیل کو ایرانی حکام کی تصدیق اورایرانی میڈیا کے جاری کرنے سے پہلے ہی فراہم کر دی۔ یہ ایران کا وہ طبقہ ہے جو چند ہفتے پہلے ہونے والے خونی احتجاج میں اسرائیل کے جھنڈے لہراتا رہا اور صدر ٹرمپ انہی کی مدد اور انہی کی حکومت قائم کرنے کے لئے اس وقت ایران پر حملہ آور ہیں۔
ایک با ت طے شدہ ہے کہ صدر ٹرمپ کچھ بھی کر سکتے ہیں اور کوئی بھی یوٹرن لے سکتے ہیں۔ وہ اس دوڑ میں ہمارے سابق وزیراعظم کو پیچھے چھوڑ چکے ہیں مگر ہمارا اس وقت تک کا تجزیہ اس وقت تک کے حالات کی بنیاد پر ہی ہوسکتا ہے اور اس وقت تک کے حالات یہ ہیں کہ پاکستان اور ایران کے درمیان صورتحال میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ ہمیں پاکستان اور پاکستان کے بڑوں کو برا بھلا کہنے کی عادت ڈال دی گئی ہے ورنہ اس وقت ایک مضبوط ایٹمی پاکستان ہمارے بڑوں کا ہی دیا ہوا ہے۔ مجھے کہنے میں عار نہیں کہ ایرانی انقلاب کوسینتالیس بر س ہو گئے اور وہ سینتالیس برسوں سے ہی ایٹمی قوت بننے کا خواب بھی دیکھ رہا تھا اور کوششیں بھی کر رہا تھا۔
ایران کے پاس تیل کی قوت بھی تھی، امریکہ اس کا مخالف تھا مگر وہ چین اور روس کے کیمپ میں بھی تھا مگر وہ نصف صدی میں کوششوں کے باوجود ایٹمی طاقت نہ بن سکا جبکہ پاکستان نے صرف دس برسوں میں یہ منزل حاصل کر لی۔ مجھے اس پر ذوالفقار علی بھٹو شہید، ضیاء الحق شہید، محترمہ بے نظیر بھٹو شہید اور میاں نواز شریف کو کریڈٹ دینا ہے کہ ان کے شدید ترین سیاسی ہی نہیں ذاتی تک اختلافات رہے مگر وہ پاکستان کے دفاع اوراس کے استحکام پرمتحد و متفق رہے۔ حکومتیں ایک سو اسی ڈگری پر تبدیل ہوتی رہیں مگر پاکستان کا ایٹمی پروگرام چلتا رہا حالانکہ اگر ایران کو اسرائیل جیسے دشمن کا سامنا تھا تو ہمیں بھارت جیسے بڑے دشمن کا۔
جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو ایران بنایا جا سکتا ہے وہ اس کی سفارتکاری اورڈپلومیسی کی صلاحیتوں کو نظرانداز کردیتے ہیں جن کا مظاہرہ اس وقت وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کر رہے ہیں۔ چین کے ساتھ اس وقت ہمارے سٹرٹیجک تعلقات ہیں اور بھارت سے جنگ ہم نے چینی ٹیکنالوجی کی مدد سے ہی جیتی (اور اس ٹیکنالوجی کو ہمارے جوانوں نے ایسے چلایا اور اڑایا کہ خود چینی بھی حیران رہ گئے) اور دوسری طرف امریکہ کا صدر ہر موقعے پر ہمارے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی تعریفیں کر رہا ہے۔
یہ ہم ہی ہیں جو بدترین مخالف سعودی عرب اور ایران دونوں کے ساتھ بہترین تعلقات نبھا رہے ہیں جو ہماری میچوریٹی اور بیلنس، دونوں کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ پاکستان ہی ہے جس نے سعودی عرب سے ایران کو یہ ضمانت لے کر دی کہ اس کی سرزمین امریکہ کی طرف سے حملوں میں استعمال نہیں ہوگی مگر اس کے بعد بھی ایران نے سعودی عرب پر حملے کئے جن کا کسی طور پر دفاع نہیں کیا جا سکتا۔ ایران اگر سیاسی اور سفارتی شعور کو استعمال کرتا تو اپنا ٹارگٹ اسرائیل کو ہی رکھتا۔
مجھے افسوس سے کہنا ہے کہ ہمیں ایران سے ملانے والے ایران کی ڈپلومیسی میں ناکامی کو نظرانداز کر دیتے ہیں مگر اس کے باوجود اگر کچھ بدخواہوں کوہماری بدخواہی کچھ زیادہ ہی زور سے آئی ہوئی ہے تو ان کے لئے تیربہدف علاج موجود ہے اوریہ وہی علاج ہے جو ہماری مسلح افواج نے دس مئی کوبھارت کا کیا تھا۔ جیسا میں نے پہلے کہا کہ ہم ایک ایٹمی قوت ہیں اور ہم نے دنیا کے کسی پلیٹ فارم پر یہ یقین دہانی نہیں کروا رکھی کہ ہم اپنے ایٹم بم کو دوسروں سے پہلے استعمال نہیں کریں گے کیونکہ پاکستان کی دفاعی پالیسی ہو یا سفارتی، اس کا محور پاکستان کی سالمیت ہے، پاکستان کے عوام کے جان و مال کا تحفظ ہے اور یہ کسی ڈکشنری میں نہیں لکھا کہ کوئی ہمیں مارنے کے لئے آئے اور ہم اسے نہ ماریں۔
ہمیں ایران اور پاکستان کی معاشی اور فوجی قوت کا بھی موازنہ کرنا ہے۔ ایران کا فوجی بجٹ بھی پاکستان سے زیادہ ہے اور عالمی پابندیوں کے باوجود اس کی معاشی طاقت بھی زیادہ اور اس کی وجہ تیل ہے۔ اس کے شہریوں کی فی کس آمدن پاکستانیوں سے تین گنا زیادہ ہے۔ اس کے پاس امریکہ کی دشمنی کے باوجود چین اور روس کے کیمپ موجود تھے مگر اس نے میزائل ٹیکنالوجی پر تو کام کیا مگر اپنی ائیرفورس کو مضبوط، منظم اور جدید نہ بنا سکا۔ اس کی زمینی فوج بھی پاکستان کی فوج سے تعداد میں کم نہیں ہے مگر پاک بھارت کے بعد ایران امریکہ جنگ نے بھی ثابت کر دیا کہ جنگیں کائینیٹک سے نان کائینیٹک ہوتی چلی جا رہی ہیں۔
اب یہ زمین پر دست بدست لڑتے فوجیوں کی نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی کی جنگیں ہیں اور پاکستان نے اس میں بہت تیزی سے مہارت حاصل کی ہے۔ خاص طور پر دس مئی کے بعد چیف آف ڈیفنس فورسز کا سیکرٹریٹ بنا کے جس طرح افواج میں کوارڈی نیشن بڑھائی گئی ہے یہ بالکل مختلف تجربہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم سے کئی کئی گنافوجی بجٹ والے ہم سے دفاعی معاہدے کر رہے ہیں، ٹریننگ ایکسچینج پروگرام کر رہے ہیں، بس کہنا یہ ہے کہ ہمیں ایران مت سمجھیں۔