میں نے بطور سیاسی تجزیہ کارپی ٹی آئی کی 26 نومبر 2024ء کی کال کی سٹڈی کی۔ اس میں پنجاب، سندھ اور بلوچستان کی شرکت کو جانچا۔ اس کے بعد 8 فروری 2026ء کی پہیہ جام اور ہڑتال کی کال کو بھی۔ جب عمران خان کی آنکھ کا مسئلہ ہوا تو اس دوران اس پارٹی کی طرف سے موٹرویز اور ہائی ویز سمیت مختلف شاہراہیں بند کرنے کے عمل کو بھی دیکھا۔ جب عمران خان جیل سے باہر تھے اور لاہور کے زمان پارک میں پولیس پر پٹرول بم پھینکے جا رہے تھے یا اسلام آباد کی سڑکوں پر آگ لگائی جارہی تھی تو ان میں شامل لوگوں کی بڑی تعداد غیر قانونی مقیم افغانوں اور پی ٹی آئی کے حامی پختونوں کی تھی جن میں پولیس سمیت سرکاری اداروں کے اہلکار بھی شامل تھے۔ 2022ء سے لے کر اب تک ان کے احتجاجوں کو دیکھ لیجئے یہ واضح ہے کہ پی ٹی آئی کی تمام تر سیاسی قوت اس کی خیبرپختونخوا کی حکومت کی بنیاد پر قائم ہے اور اگر وہ خیبرپختونخوا سے باہر نکلتے ہیں تو زیرو ہوجاتے ہیں۔
ابھی حال ہی میں صوابی، ڈیرہ اسماعیل خان، نوشہرہ سمیت دیگر مقامات پر جو سڑکیں بند کی گئیں اس میں کسی بھی جگہ آپ کو سو، سواسو سے زائد لوگ نظر نہیں آئیں گے اور بہت سارے مقامات پر یہ تعداد محض بیس سے چالیس افراد کے درمیان تھی اور کوئی بھی نارمل آئی کیو رکھنے والا شخص اس کا تجزیہ کر سکتا ہے کہ ضلعی انتطامیہ اور صوبائی پولیس کے تعاون کے بغیر اس قسم کی تخریب کارانہ اور شرپسندانہ سرگرمی کو چار روز تک برقرار رکھنے کا کوئی طریقہ کار ہی نہیں تھا۔
شاہراہوں پر دئیے ہوئے ان دھرنوں میں وہ صوبائی وزراء بھی شامل تھے جو پنجاب اور سندھ کے دورے پر گئے اوروہ صوبائی تعصب پھیلا کے واپس آئے۔ اب ان کا ٹارگٹ ان کے اپنے عوام تھے اور ایک چوہتر برس کے قیدی کی آنکھ کے نان ایشو کو ایشو بنایا جا رہا تھا۔ نان ایشو اس لئے کہ شکایت آنے کے بعد حکومت کی طرف سے اسلام آباد کے بہت ہی معتبر ہسپتال پمز سے موصوف کا ٹریٹمنٹ ہوچکا تھا اور جب اس کو سیاسی ایشو بنایا گیا تواس کے بعد میڈیکل بورڈ کے ماہرین کی متفقہ رائے تھی کہ پمز میں ہونے والے ٹریٹمنٹ کے بعد ان کی آنکھ بہتر ہورہی ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ عمران خان کی آنکھ سے پہلے اس کے لنگڑے ہونے کو بھی ایشو بنایا گیا مگر جب رینجرز نے انہیں گرفتار کیا تو وہ دوڑ نے لگے، اپنے لئے ایکسرسائز سائیکل منگوا لی۔ اسی طرح ایک مرتبہ یہ پروپیگنڈہ کیا گیا کہ بشریٰ بی بی کو زہر (ان کے مطابق ہارپک کے قطرے) دئیے جا رہے ہیں تو اس کا طبی معائنہ ہوا تو پتا چلا کہ انہیں معدے کی وہ تیزابیت ہوگئی ہے جو مرچوں والی اشیا جیسے کرکرے وغیرہ زیادہ کھانے سے لڑکیوں کو ہوجاتی ہے۔
افواہیں تو ان کی موت کی بھی پھیلائی گئیں تاکہ کارکنوں کو جذباتی کرکے باہر نکالا جا سکے مگر وہ اس میں مکمل طور پر ناکام رہے۔ بہرحال یہ میری سوچی سمجھی رائے ہے کہ یہ معاملہ سو فیصد سیاسی ہے اور اس کا طبی معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ بانی پی ٹی آئی کو وہ تمام طبی سہولتیں فراہم کی جا رہیں جو کسی بھی وی آئی پی کے لئے ممکن ہوسکتی ہیں۔
عمران خان کی آنکھ کا مسئلہ اس لئے بھی ہائی لائیٹ کیا گیا تاکہ ڈیل اور ڈھیل کا شور مچایا جا سکے۔ پی ٹی آئی کے حامی سوشل میڈیا ایکٹیویسٹس نے پھر عمران آ رہا کا چورن بیچنا شروع کر دیا جو اس سے پہلے ختم ہوچکا تھا مگر اس ٹیسٹ میچ کو بھی حکومت جیت گئی۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کی طرف سے واضح بیان دیا جا چکا ہے کہ نہ کوئی ڈیل ہے اور نہ ہی کوئی ڈھیل ہے، ہاں، یہ ضرور ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل میں جب کوئی مرض ہوگا توا س کا بہترین علاج کیا جائے گا کیونکہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ دونوں کو ہی زندہ عمران خان سوٹ کرتا ہے، وہ کوئی نیا بھٹو بنانے کا چیلنج نہیں لینا چاہتے مگر دوسری طرف کچھ عناصر ایسے ہیں جن کے خیال میں زندہ عمران خان ان کے سیاسی اورمالی مفادات پورے نہیں کرسکتا۔
افسوس کا مقام یہ ہے کہ ایسے عناصر عمران خان کے قریبی سمجھے جاتے ہیں اور ان میں سے کچھ کو وزیر داخلہ محسن نقوی نے اپنی پریس کانفرنس میں ایکسپوز بھی کیا ہے۔ بہرحال، اس موضوع پر پھر لکھیں گے کہ اس وقت موضوع پی ٹی آئی کی پولیٹیکل پاور کا بیس کیمپ ہے جسے خود پی ٹی آئی نے اپنے ہی صوبے کی سڑکیں بند کرکے تباہ کرنے کی کوشش کی۔ ہم نے دیکھا کہ عوام اپنی ہی منتخب کی ہوئی حکومت کو بددعائیں دے رہے تھے۔ یہ سوال کیا جا رہا تھا کہ رمضان المبارک سر پر ہے۔ عوام کوکوئی رمضان پیکج دینے، منصوعی مہنگائی کا راستہ روکنے اور اس طرح کے دیگر اقدامات کی نگرانی کے لئے ان کا وزیراعلیٰ کہاں ہے؟
بہت سارے حلقوں نے یہ جان اور مان لیا ہے کہ پی ٹی آئی کے تمام تر احتجاج اور دبائوکا راز خیبرپختونخوا کی حکومت میں ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ آٹھ فروری کے انتخابات کے بعد آئینی، قانونی اور جمہوری طریقے سے اس حکومت کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔ رئیل پالیٹیکس کے سٹوڈنٹس جانتے ہیں کہ ہماری سیاسی جماعتیں اس وقت تک مقبول نہیں ہوتیں جب تک انہیں حکومت کی پشت پناہی نہ ہو۔
یہ بھی ثابت ہوچکا کہ آج سے تیرہ، چودہ برس پہلے پی ٹی آئی کی خیبرپختونخوا میں حکومت قائم کروانا ایک غلط سیاسی فیصلہ تھا جس کا بہت زیادہ نقصان ہوا کیونکہ اس سے پی ٹی آئی کو ایک پاور بیس مل گئی اور اسی پاور بیس کی مدد سے نو مئی کے بعد بہت سارے احتجاج کئے۔ یہ حکومتی طاقت ہی کی بنیاد تھی کہ جہاں بیس تیس مظاہرین بھی ٹریفک روک رہے تھے وہاں ان کے سامنے موجود ان سے تعداد میں سو گنا زیادہ موجود بھی مزاحمت نہیں کررہے تھے کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ اس کے پیچھے سرکاری طاقت موجود ہے اور اگر انہوں نے مزاحمت کی تو انہیں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے۔
مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ عمران خان کی رہائی صرف اور صرف قانونی اور سیاسی طریقوں سے ہی ممکن ہے مگر اس کے برعکس یہ حکومتی طاقت ہی ہے جس کی بنیاد پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لئے فورس بنانے کا اعلان کررہے ہیں ورنہ ایک آئینی معاشرے میں فورسز صرف وہی ہوسکتی ہیں جن کا ذکر آئین اور قانون میں موجود ہو۔ یہ اسی حکومت کی بنیاد پر اس فورس کے ذریعے مزاحمت کی بات کر رہے ہیں اور سوال یہ ہے کہ کیا یہ فورس جیل پر حملہ کرکے عمران خان کو رہا کروائے گی؟ حاصل کلام یہ ہے کہ سب کو نظر آ رہا ہے کہ پی ٹی آئی کی مقبولیت، طاقت اور مزاحمت کی بنیاد اب صرف اور صرف کے پی حکومت ہے۔