Monday, 07 September 2026
  1. Home/
  2. Najam Wali Khan/
  3. Qamar Javed Bajwa Ke General?

Qamar Javed Bajwa Ke General?

کچھ یوٹیوبرز ہی نہیں بلکہ صحافی نے بھی نجی محفلوں میں اپنی خفیہ معلومات کی دھاک بٹھانے کی کوششوں میں ہیں۔ پکے سے منہ بنا کے، آنکھیں گول گول گھما کے، ہاتھوں پر ہاتھ مار کے انکشافات کر رہے ہیں کہ اگست، ستمبر، اکتوبر بہت اہم ہیں جس میں سے اگست گزر چکا ہے۔ اہم کیوں ہیں، آپ کو علم ہی ہے کہ ان کی ساری کی ساری دانشوری اسی کے گرد گھومتی ہے کہ حکومت جانے والی ہے۔ ان کے پاس ہر وقت یہی انفارمیشن ہوتی ہے کہ کون سا جرنیل کون سی موو کر رہاہے جس کا ان کے سوا کسی دوسرے کو علم نہیں ہوتا۔

میں نے بھی ایک محفل میں ایک ایسے ہی باخبر صحافی سے جان کی امان پاتے ہوئے پوچھ لیا، حضور کیا ہونے والا ہے، کچھ ہمیں بھی بتائیں۔ وہ اس پر زور دار انداز میں ہنسے اور بولے، ہونے والا نہیں ہے بلکہ ہو رہا ہے۔ تمہیں علم ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے بارہ جرنیل اکتوبر میں ریٹائر ہو رہے ہیں اور انہوں نے گیم اٹھا دی ہے۔ میں نے پوچھا کہ کیا گیم اٹھائی گئی ہے تو انہوں نے کہا کہ تم سپریم کورٹ کی طرف سے عمران خان کو شفا انٹرنیشنل میں لے جانے کا حکم اور سہیل آفریدی کی طرف سے ستائیس ستمبر کی کال کو سنجیدہ نہیں لے رہے، کیا یہ کسی کی پشت پناہی کے بغیر ہو رہا ہے۔ مجھ جیسے کم علم کے پاس ان کی اس دلیل کا کوئی جواب نہیں تھا۔

میں نے اس بارے کچھ تحقیق کی، کچھ دوستو ں اور کچھ دشمنوں سے پوچھا، پتا چلا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنی توسیع شدہ مدت ملازمت پوری ہونے سے کوئی ڈیڑھ ماہ قبل ایک درجن میجر جنرلز کو لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی تھی۔ ان افسران میں انعام حیدر ملک، فیاض حسین شاہ، نعمان زکریا، محمد ظفر اقبال، ایمن بلال صفدر، احسن گلریز، سید عامر رضا، شاہد امتیاز، محمد منیر افسر، بابر افتخار، یوسف جمال اور کاشف نذیر شامل تھے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ انتیس نومبر2022 کو ریٹائر ہوئے جبکہ یہ پروموشنز گیارہ اکتوبر کی گئیں۔ معاملات کو جاننے والوں کے نزدیک ایک عمومی تاثر یہ بھی رہا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو یہ پروموشنز نہیں کرنی چاہئیں تھیں اور یہ نئے آرمی چیف کا استحقاق تھا تاکہ وہ اپنی ٹیم تشکیل دے سکتا مگر میرا تاثر یہ ہے کہ اس کے ذریعے جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش کی کیونکہ میرے ایوان وزیراعظم کے اہم ترین ذرائع کے مطابق صورتحال یہ تھی کہ جہاں عمران خان، سید عاصم منیر کو آرمی چیف بنانے سے روکنے کے لئے لانگ مارچ کر رہا تھا وہاں ایوان وزیراعظم میں تقرری کے اعلان کی رات یہ افواہ پھیلا دی گئی تھی کہ اگر جنرل صاحب کو توسیع نہ ملی تو مارشل لا لگ جائے گا۔

یہ وزیراعظم کے اعصاب کا امتحان تھا جو اس وقت چومکھی لڑائی لڑ رہے تھے۔ میرا خیال ہے کہ جنرل صاحب نے اپنے حق میں معاملات کرنے کی کوشش کی مگر وہ ناکام رہے اور جن کے بارے یہ کہا جارہا ہے کہ وہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے جرنیل تھے وہ بھی اس میں کوئی کردارادا نہیں کرسکے بلکہ مجھے یہاں ہی تصیح کر لینے دیجئے کہ یہ فقرہ ہی غلط ہے کہ وہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے جرنیل تھے، وہ صرف اس وقت بیچ کے رکن تھے جنہیں اس وقت کے آرمی چیف نے ترقی دی اور یہاں پر یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا اس وقت فوج میں اہم ترین عہدے خالی تھے اور یہ ترقی وقت کی ضرورت تھی تو اس کا جواب اثبات میں ہے اور اس سے بھی آگے بڑھ کے اسی سوال کے جواب میں، کیا یہ میجر جنرل، جنہیں گیارہ اکتوبر کو لیفٹیننٹ جنرل بنایا گیا وہ ذمہ داریوں، میرٹ اور صلاحیت کی بنیاد پر اس کے حقدار تھے تو اس کاجواب بھی اثبات میں ہے کیونکہ بعد میں جنرل عاصم منیر نے بھی بطور آرمی چیف ان میں سے بہت ساروں کو بہت ساری اہم ترین ذمہ داریاں دیں جیسے کہ جنرل عامر رضا کو ابھی فور سٹار جرنیل بنایا گیا ہے۔

میں یہاں فوجی ذرائع سے بار بار سنا ہوا ایک فقرہ دہرانا چاہوں گا کہ پاکستان کی فوج پروفیشنل ہے اوراس میں فیصلے پیشہ ورانہ بنیادوں پر ہوتے ہیں، اگر کسی کو کوئی غلط فہمی ہے یا غلط فہمی پیدا کرنا چاہتا ہے تویہ اس کے دماغ کا فتور ہے۔

افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں کہ یہ جرنیل قمر جاوید باجوہ کے لگائے ہوئے تھے اس لئے وہ اب بھی عمران خان کی گیم کر رہے ہیں تو میرا بنیادی سوال یہ ہے کہ جب جنرل قمر جاوید باجوہ نے ہی عمران خان کی گیم نہ کی تو ان کے لگائے ہوئے جرنیل کیوں کریں گے۔ کیا آپ بھول گئے کہ عمران خان اگر جنرل قمر جاوید باجوہ کے دور میں نصب کیا گیا تو اتارابھی اسی دور میں گیا تھا۔ مان لیجئے، قمر جاویدباجوہ صاحب نے بطور آرمی چیف، ایوان صدر کی واضح مداخلت اور ننگے دباو میں اس سے ملاقاتیں کرنے کے باوجود اس کے لئے سیاسی کردارادا کرنے اور دوبارہ گود میں بٹھا کے ایوان وزیراعظم پہنچانے سے صاف انکار کر دیا تھا حالانکہ عمران خان نے انہیں تاحیات توسیع کی پیشکش بھی کی تھی جو اب کوئی راز نہیں ہے مگر جنرل قمر جاوید باجوہ عمران خان کی صورت میں ملکی سیکورٹی کو درپیش خطرے کو سمجھ چکے تھے۔

میرے پاس اس سے بھی آگے دلیل یہ ہے کہ اگر واقعی ایسی گروپ بندی ہوتی تو وہ جرنیل سب سے پہلے قمر جاوید باجوہ صاحب کو برقرار رکھنے کے لئے کچھ کرتے مگر پاکستان کی فوج ایک ڈسپلنڈ فوج ہے اوراس میں سیاسی جماعتوں کی طرح سازشیں ممکن نہیں ہیں اور سب جانتے ہیں کہ جو ایسے کرتے ہیں وہ عبرت ناک انجام سے دوچار ہوتے ہیں جیسے کہ ایک صاحب، جوآئی ایس آئی کی سربراہی کے باوجود کورٹ مارشل کا سامنا کر رہے ہیں اور نجانے اب عمران خان اور ان کے ساتھ اکتوبر، نومبر میں کیا ہو۔

وہ احمق ہیں جو سازشی تھیوریاں پھیلا رہے ہیں اور ان کی یادداشت بھی کمزور ہے کیونکہ وہ اس میں نو مئی کے سانحے کو بھول رہے ہیں کہ اگر پاک فوج کے بارہ جرنیل واقعی عمران خان کے ساتھ ہوتے تو نو مئی کو موجودہ فوجی قیادت اور سیاسی حکومت کو تختہ الٹ دیتے بلکہ مجھے بطور سیاسی تجزیہ کار کہنے دیجئے کہ پی ٹی آئی کے یوتھیے، برملا کہتے اور سمجھتے تھے کہ جنرل ساحر شمشاد جو کہ پاک فوج کے آخری چئیرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی تھے وہ ان کے ساتھی اور ہمدرد تھے مگر مجھے کہنا اوربتانا ہے کہ جنرل ساحر شمشاد مرزا کا نو مئی کو کردار پیشہ ورانہ اور حب وطن سے بھرا ہوا تھا اور اگر ایسی کوئی بات ہوتی جیسی بات اب کی جار ہی ہے کہ یہ بارہ جرنیل جاتے جاتے عمران خان کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں تو نومئی ان کے لئے بہترین موقع تھا کہ کچھ، کرتے۔

بنیادی طور پر ہم سازشی تھیوریوں کے دور میں رہتے ہیں اور ہماری نظر میں ہر شخص ہی موقع پرست ہے مگر ایسا نہیں ہے۔ پاک فوج ایک ڈسپلنڈ ادارہ ہے اور آج سے چار سال پہلے سیکٹر کمانڈر سطح کی مشاورت کے ذریعے فیصلہ ہو چکا کہ پاک فوج کا کوئی افسر اور سپاہی سیاست میں حصہ نہیں لے گا اور یہی وجہ ہے کہ آج پی ٹی آئی ہر قسم کا لالچ دینے اورہر قسم کا دباو ڈالنے کے باوجود فوج کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ مذاکرات نہیں کرسکی اور پاک فوج کی طرف سے ہمیشہ یہی کہا گیا کہ سیاسی جماعتیں آپس میں مذاکرات کریں، ان کا سیاسی مذاکرات سے کیا لینا دینا؟

بہت سارے لوگ جو ایک بار پھر اگست سے اکتوبر بارے پیشین گوئیاں کر رہے ہیں مجھے ان سے کہنا ہے کہ جہاں عمران خان کو گئے ساڑھے چار برس گزرنے کو ہیں اور تین برس سے جیل میں ہے تو اب بھی کچھ نیا نہیں ہو رہا۔ اگر وہ اچھے اور درست تجزیہ کاربننا چاہتے ہیں توانہیں اپنے کچھ بنیادی تصورات درست کرلینے ہوں گے کہ نو مئی برپا کرنے، شیخ مجیب کو ہیرو بنانے، ملک کو ڈیفالٹ کرنے اور معرکہ حق میں دشمن کی زبان بولنے والوں کے رہنما نے اندر سے اڈیالہ کی کوئی کنڈی نہیں لگا رکھی، یہ کنڈی باہر سے لگی ہوئی ہے اور اگر کسی کو شک ہے تو وہ شفا انٹرنیشنل والی پوری ایپی سوڈ دیکھ لے۔

یہاں کوئی قمر جاوید باجوہ کے جرنیل نہیں ہیں، یہ سب پاک فوج کے جرنیل ہیں اور ابھی تک یہ بھی کنفرم نہیں ہے کہ ان میں سے کتنے ریٹائر ہوں گے اور کتنے جنرل عامر رضا کی طرح نئی ذمہ داریاں لیں گے کیونکہ چیف آف ڈیفنس فورسز کے نئے اختیارات کے بارے قانون سازی ہوچکی ہے۔

واللہ اعلم بالصواب!

Check Also

Karobar e Hayat, Hamari Nasal Aur Tawazum Ki Talash

By Unzila Siddiqui