حکومت میں شامل بڑے بڑے وزراءاور تھِنک ٹینکس جب ملتے ہیں تو ایک دلیل بار بار دیتے ہیں کہ انہوں نے ریاست بچانے کے لئے سیاست قربان کر دی جبکہ ان کے مخالفین اپنی سیاست بچانے کے لئے ریاست ذبح کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ ان کا یہ دعویٰ غلط بھی نہیں ہے مگر میں ہمیشہ سے قائل رہا ہوں کہ اگر محب وطن جماعتوں اور قائدین کی سیاست بچے گی تب ہی ریاست بچے گی لہٰذا جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے ریاست کو بچاتے ہوئے اپنی سیاست یعنی مقبولیت قربان کر دی وہ درحقیقت ان کی مقبولیت کی راہ ہموار کر رہے ہوتے ہیں جو اپنا اقتدار نہ ہونے کی صورت میں اس ملک کو دیوالیہ دیکھنا چاہتے ہیں، اس ملک کی فوج پر اس سے بڑا اور شدید حملہ کرتے ہیں جیسے بھارتی افواج نے کیے اور ناکام رہیں۔
میں اس قول کو تھوڑا سا وسیع کرکے دیکھتا ہوں جس میں یہ کہا جاتا ہے کہ اگر ریاست بچے گی تو سیاست بھی بچے گی اور کہتا ہوں کہ اگر سیاست بچے گی تو ہی ریاست بچے گی۔ میرے پاس اس کی ایک بہت ہی تلخ مثال سقوط ڈھاکہ کی صورت میں موجود ہے کہ جب متحدہ پاکستان کی حامی سیاسی جماعتیں مشرقی پاکستان میں اپنی سیاست نہ بچا سکیں تو اس کانتیجہ ریاست کے ٹوٹنے کی صورت میں نکلا۔ پولیٹیکل سائنس بتاتی ہے کہ سیاست میں خلا نہیں رہتا اور جیسے ہی کسی جگہ خلا پیدا ہونے لگتا ہے اس کی جگہ لینے کے لئے دوسری سیاسی طاقتیں آجاتی ہیں لہٰذا یہ ضروری ہے کہ محب وطن سیاسی جماعتیں اپنی سیاست کی طرف بھی توجہ دیں، اسے بھی مضبوط رکھیں۔
ریاست کی جگہ سیاست بچانے کی باتیں عام طو رپر مہنگائی کے ضمن میں کی جاتی ہیں کیونکہ موجودہ حکومت کا سب سے بڑا ویک پوائنٹ ہے۔ یہ درست ہے کہ مہنگائی پوری دنیا میں ہور ہی ہے اور ہم نے فرانس میں پرتشدد مظاہرے بھی دیکھے ہیں۔ فرانس کے علاوہ جن ممالک میں نمایاں احتجاج ہوئے ان میں پرتگال، اٹلی، اسپین، بلجیم، یونان، البانیہ اور تیونس وغیرہ بھی شامل ہیں۔ ہمارے امریکہ اور برطانیہ میں مقیم دوست بھی بتاتے ہیں کہ وہاں پٹرول اور گیس کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہیں مگر دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان میں خطے کا سب سے مہنگا پٹرول اور ڈیزل مل رہا ہے یعنی انڈیا اور بنگلہ دیش سے بھی زیادہ مہنگا۔
قیمتوں کے زیادہ ہونے میں اس لیوی اور ان مارجنز کابھی بڑا ہاتھ ہے جو سو روپے کے لگ بھگ ہوچکے اور اس بہتی گنگا میں ہمارے پٹرولیم سے وابستہ کاروباری حضرات اور ادارے بھی خوب ہاتھ دھو رہے ہیں۔ بی بی سی نے رپورٹ کیا ہے کہ جب عوام مہنگے پٹرول پر سراپا احتجاج ہیں تو اسی دوران پاکستان کی پٹرولیم بزنس سے وابستہ کمپنیوں کے منافعے ایک ہزار فیصد تک بڑھ گئے ہیں جس سے یہ پروپیگنڈہ فروغ پاتا ہے کہ اس منافع خوری میں بعض حکومتی شخصیات کا تعاون اور حصہ بھی شامل ہے۔
ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ تیل درامد کرنے والوں سے لے کراس کی ڈیلری کرنے والے اپنا مارجن بڑھاتے چلے جار ہے ہیں اور اس کا جواز یہ دیا جا رہا ہے کہ عالمی منڈی میں بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث ان کی سرمایہ کاری اور اخراجات بڑھتے چلے جا رہے ہیں حالانکہ یہی وقت تھا کہ اسی بہترین گورننس کا مظاہرہ کیا جاتا جو وزیراعظم شہباز شریف سے منسوب ہے مگر لگتا ہے کہ انہوں نے زیادہ توجہ عالمی سفارتی کامیابیوں پر دے رکھی ہے۔
میں بطور پاکستانی شہری اپنے ملک کی سفارتی کامیابیوں کی اہمیت سے انکار نہیں کرسکتا اور مجھے بھی اس کی خوشی ہوتی ہے جب میں امریکہ کے صدر کو وزیراعظم شہباز شریف اورفیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تعریفیں کرتے دیکھتا ہوں، مجھے اطمینان ملتا ہے جب وہ غزہ کے معصوم بچوں کے بعد ایران میں کلمہ گو بھائیوں کو جارحیت سے بچانے کے لئے سرگرم عمل نظر آتے ہیں، میں مکہ دفاعی اتحاد کے بعد بدر ایم او یو کو علامہ اقبال کے اس خواب کی تعبیر سمجھتا ہوں جو انہوں نے حرم کی پاسبانی کے لئے نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر مسلمانوں کے ایک ہونے کے لئے دیکھا تھا مگر جب میں پٹرول ڈلوانے پٹرول پمپ پرجاتا ہوں تو مجھے یہ سب کچھ بھول جاتا ہے اور میرے سامنے چار سو کے وہ فگرز ناچنے لگتے ہیں جو ایک لیٹر پٹرول یا ڈیزل کی قیمت کی صورت ادا کرنے ہوتے ہیں۔
میں بالعموم اس پیکج کی تعریف کرتا ہوں جس میں موٹرسائیکل سواروں اور چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کے لئے فی لیٹر سو روپے کی رعایت دی گئی ہے مگر مجموعی طور پر اس کا مہنگائی کی بڑھوتری پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ میں جانتا ا ور سمجھتا ہوں کہ پٹرول پر بھاری لیوی میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کا کتنا بڑا ہاتھ ہے مگر عام لوگ اسے نہیں سمجھتے کیونکہ وہ نہ اتنا مطالعہ کرتے ہیں اور نہ ہی اسے سمجھنا چاہتے ہیں۔
اٹھارہویں آئینی ترمیم میں این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کے حصے کو لاک کر دیا گیا ہے اور اب وفاق ٹیکس جمع کرتا ہے اوراس کا ساڑھے ستاون فیصد صوبوں کو دے دیتا ہے جبکہ باقی ماندہ سے اسے قرضے بھی اتارنے ہوتے ہیں، دفاع بھی کرنا ہوتا ہے اور اس کے ساتھ بہت کچھ اور بھی۔ وفاق نے بہت چیخیں ماریں کہ صوبوں کا شئیر کم کیا جائے اوراس کے لئے ایک آئینی ترمیم ضروری ہے تاکہ وفاق کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ کم کیا جا سکے مگر پیپلزپارٹی نہیں مانتی اوراس وقت کوئی بھی آئینی ترمیم پیپلزپارٹی کی رضامندی کے بغیر نہیں ہوسکتی۔
فرض کریں وفاق پٹرولیم پر ایک ہزار ارب روپے کی لیوی کم کردیتا ہے مگر ماہرین کے مطابق اس کے مقابلے میں اسے کم از کم ساڑھے تین سے چار ہزار ارب روپے کے ٹیکس لگانے پڑیں گے کیونکہ لیوی، دوسرے ٹیکس کی طرح ساڑھے ستاون فیصد صوبوں کے پاس نہیں جاتی اور اگر وفاق کو ہزار ارب کسی اور ٹیکس کے ذریعے جمع کرنا پڑے تو پہلے تویہ ٹیکس ہی سو فیصد جمع نہیں ہوگا اور جب ہوگااس کا ساڑھے ستاون فیصدصوبے لے جائیں گے مگر مجھے یہاں کہنا ہے کہ یہاں بھی راستہ حکومت نے ہی نکالنا ہے عوام نے نہیں اور عوام کو اس پورے گھن چکر کی سمجھ بھی نہیں ہے۔
یہاں مسئلہ امریکہ او ر ایران کی ہٹ دھرمی سے اصلی مہنگائی کے ساتھ مصنوعی مہنگائی کا بھی ہے جیسے ایل پی جی چھ سو روپے کلو سے بھی مہنگی ہوگئی۔ اس کی جتنی مرضی وضاحتیں دے لیں مگر اس کا کیاجواب ہے کہ حکومتی قیمت توپونے تین سو روپے ہے اور ابھی تو سردی بھی پوری طرح نہیں آئی یعنی سردیوں میں ایل پی جی مافیا اسے ہزار روپے کلو بیچے گا۔ حیرت انگیز یہ بھی ہے کہ میڈیا کے شور مچانے کے باوجود کسی کو اس کا نوٹس لیتے نہیں دیکھا گیا۔ میں تو اسی نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اگر حکمران ریاست بچانا چاہتے ہیں تو پہلے انہیں اپنی سیاست بچانی ہوگی اور وہ مافیاوں کو کنٹرول کرکے، مہنگائی کو کم کرکے ہی بچ سکتی ہے کیونکہ عام آدمی کا جینا بہت مشکل ہوگیا ہے۔