Friday, 06 November 2026
  1. Home/
  2. Najam Wali Khan/
  3. Trump Kyun Haare?

Trump Kyun Haare?

یہ بات رائے عامہ کے جائزو ں میں پہلے ہی بتا دی گئی تھی کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پارٹی مڈٹرم انتخابات میں ہا ررہی ہے سو ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں ری پبلکن پارٹی کی معمولی اکثریت کے خاتمے پر کسی کو حیرت نہیں ہوئی۔ اس پر سادہ سا سوال ہے کہ ٹرمپ کیوں ہارے تو اس کا سادہ سا ہی جواب ہے کہ مہنگائی کی وجہ سے۔ اس پر دوسر ا سوال یہ ہے کہ مہنگائی کیوں ہوئی تواس کا مختصر جواب ہے کہ ایران جنگ کی وجہ سے۔ اب تیسرا سوال یہ ہے کہ کیا ایران سے جنگ امریکہ کے لازم تھی، کیا ایران امریکہ کے لئے خطرہ تھا تو جواب ہے ہرگز نہیں بلکہ بے چارہ ایران تو اپنی تما م ترقیادت مروانے اور سینکڑوں ارب ڈالر کا انفراسٹرکچر تباہ کروانے کے باوجود امریکہ کی جغرافیائی حدود کے اندر ایک پتھر نہیں پھینک سکا، وہاں ایک مکھی نہیں مار سکا۔

امریکہ اپنے رقبے اور آبادی میں ا تنا بڑا ہے کہ اس کے بہت سارے شہریوں کو علم نہیں ہوتا کہ ان کی حکومت جس ملک کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے وہ نقشے میں کہاں ہے اور اس سے جھگڑا کیاہے مگر انہیں یہ ضرور علم ہوتا ہے کہ پٹرول اور گیس کے نرخ کیا ہیں۔ ہم پاکستان میں پٹرول پرائسز کے حوالے سے شور مچاتے ہیں جن میں ایک تہائی کے لگ بھگ اضافہ ہوا مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ خود تیل پیدا کرنے والے ملک امریکہ میں، جنگ سے پہلے، پٹرول تین ڈالر فی گیلن سے بھی کچھ کم تھا مگر فروری کے آخر میں شروع کی گئی جنگ کے نتیجے میں، صرف دو ماہ بعد، مئی میں یہ قیمت ساڑھے چار ڈالر سے بھی بڑھ گئی اور اسی طرح ڈیزل جو پونے چار ڈالر گیلن کے لگ بھگ تھا وہ ساڑھے چھ ڈالر فی گیلن سے بھی بڑھ گیا۔

امریکی ادارے انسٹی ٹیوٹ آن ٹیکسیشن اینڈ اکنامک پالیسی کے مطابق فروری سے نومبر کے درمیان گھرانے کا ماہانہ خرچ ایک ہزار ڈالر کے لگ بھگ بڑھ گیا اور پورے امریکہ میں ایندھن کے مجموعی اضافی اخراجات ایک سو تیس ارب ڈالر۔ سرکاری ادارے کے مقابلے میں موڈیز اینالیٹیکس کے چیف اکانومسٹ مارک زینڈی نے اکتوبر میں تخمینہ دیا کہ عام امریکی گھر پر جنگ کا مجموعی معاشی بوجھ دو ہزار ڈالر کے لگ بھگ پڑا۔ انہوں نے ہوائی سفر سے شرح سود تک ہر قسم کے اضافے کو اس میں شامل کیا ہے۔

یہ عین ممکن ہے کہ ٹرمپ او ر ان کے حامیوں کے مطابق اس جنگ سے انہوں نے امریکہ کے دبدبے اور دہشت میں اضافہ کیا ہو مگر میرا تجزیہ اس سے مختلف ہے۔ صدر ٹرمپ کی اس کوشش نے اس نتیجے پر مہر تصدیق ثبت کردی کہ اب جنگوں کے ذریعے مقاصد حاصل نہیں کئے جا سکتے۔ امریکہ اس سے پہلے لیبیا اور عراق میں ناکام ہوچکا ہے۔ اسے افغانستان سے بھی مقاصد حاصل کئے بغیر نکلنا پڑا بلکہ یہ کہیں کہ اسے اقتدار انہیں طالبان کے ہاتھوں دے کر نکلنا پڑا جن کے خلاف وہ امریکی ٹیکس دہندگان کے ہزاروں ارب ڈالر خرچ کرکے برسوں سعی لاحاصل میں مصروف رہا۔

آج وہ افغانستان ایک مرتبہ پھر دنیا بھر کی ان دہشت پسند تنظیموں کا مرکز ہے جو امریکہ مخالف بھی ہیں۔ اقوام متحدہ سمیت کئی ادارے ان کے بارے رپورٹس جاری کر رہے ہیں۔ عراق، لیبیا اور افغانستان کے بعد اب ایران کو دیکھ لیجیے۔ صدر ٹرمپ دعوی کرتے ہیں کہ وہ وہاں رجیم چینج کر چکے ہیں مگر کیا ایک باپ کی جگہ اس کے بیٹے کے آجانے کو آپ رجیم چینج کہہ سکتے ہیں۔ میں نہیں کہہ سکتا۔ میری نظر میں جنگیں اب فتح کا حتمی پیمانہ نہیں رہیں۔ میں ساحر لدھیانوی کی نظم اے شریف انسانو۔۔ کو بار بار پڑھتا اور سر دھنتا ہوں کہ جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے، جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی۔ امریکی عوام کو اس کا ادراک ہوتا چلا جا رہا ہے کہ صدر ٹرمپ، نتن یاہو کے جھانسے میں آ گئے اورمیر اتجزیہ ہے کہ امریکی عوام سے زیادہ یہ احساس امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس کو ہو رہا ہے جو دوبرس بعد ری پبلکنز پارٹی کے ممکنہ صدارتی امیدوار ہیں۔

میں نے چند روز پہلے ایک کالم لکھا تھا اور اس میں اپنے حکمرانوں کو مشورہ دیا تھا کہ وہ ریاست بچانے کے ساتھ ساتھ سیاست بچانے پر بھی توجہ دیں کیونکہ سمندر پار کی سفارتی کامیابیوں پر بھرے پیٹ کے ساتھ ہی فخر کیا جا سکتا ہے لیکن جب آپ پٹرول ڈلوانے کے لئے جائیں اور وہاں چارسوروپے لیٹر لکھا ہو تو تمام تر سفارتی کامیابیاں بھول جاتی ہیں۔ بہرحال یہ بہت اچھا رہا کہ وزیراعظم نے موٹرسائیکل سواروں اور چھوٹی گاڑیوں والوں کے لئے ضرورت کے پٹرول پر سو روپے کم کی سکیم متعارف کروا دی اوراب میں دیکھ رہا ہوں کہ تیزی کے ساتھ پٹرول کی قیمت میں کمی کی جار ہی ہے۔

ایک ہفتے میں پٹرول تقریباََ پندرہ سے سولہ روپے تک کم ہوا ہے اور امید کی جانی چاہئے کہ یہ ایک مرتبہ پھر تین سو روپے لیٹر سے کم پر آئے گا مگر یہ اس پر منحصر کرتا ہے کہ کیا صدر ٹرمپ اپنی پارٹی کی اس شکست سے سبق سیکھیں گے یا بعض حلقوں کے مطابق وہ مزید خطرے ناک، ہوجائیں گے۔ عقل اور منطق تو یہی کہتی ہے کہ انہیں (اور ایرانی قیادت کو بھی) فوری طور پر اسلام آباد کی مفاہمتی یادداشت پر آجانا چاہئے مگر دوسری طرف بعض حلقوں نے خطرہ ظاہر کیا ہے کہ وہ اپنی خفت اور ناکامی مٹانے کے لئے ایران پر ایک بڑا اور زوردار حملہ کر سکتے ہیں جس کے بعد شائد باقی کچھ نہ بچے کیونکہ ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں اکثریت ہونے کے باوجود ڈیموکریٹس انہیں کسی جنگ کے آغاز سے نہیں روک سکتے، ہاں، یہ ضرور ہے کہ وہ بعد میں جنگی بجٹ محدود کر دیں یا ٹرمپ انتظامیہ کو ایوانوں میں گھسیٹیں۔

ڈیموکریٹس اگر صدر ٹرمپ کے خلاف سادہ اکثریت سے کوئی قرارداد منظور بھی کر لیں تو امریکی صدر اسے ویٹو کر سکتے ہیں اور اس ویٹو کاخاتمہ دو تہائی اکثریت کے ساتھ ہوگا اوریہی یہ دوتہائی اکثریت کی شرط صدر کے مواخذے کے لئے بھی ہے۔ یہ ڈونلڈ ٹرمپ کی آخری صدارتی مدت ہے اور ان سے یہ توقع بھی نہیں رکھی جاسکتی کہ وہ اپنی بجائے اپنی پارٹی کے مفاد اور مقبولیت کا خیال رکھیں گے مگر یہاں میری پہلے کہی بات بہرحال ثابت ہوگئی ہے کہ اب دنیا جنگوں سے جیتی جانے والی نہیں ہے۔ دنیا کو جیتنے کے لئے دل جیتنے ہوں گے اوراس کے لئے امریکہ کے مقابلے میں چین کی پالیسی زیادہ پائیدار، کم خرچ اور یقینی نتائج کی حامل ہے۔ چین دنیا کو تجارت اور سہولت کے ذریعے اپنے تابع لا رہا ہے اور یہ ثابت ہو رہا ہے کہ جنگی مفادات سے زیادہ اہم تجارتی مفادات ہوتے ہیں۔

میں تو بہت عرصے سے قائل ہوں کہ دنیا کو اب اتنا مہذب اور باشعور ضرور ہوجانا چاہےے کہ وہ اسلحے اور منشیات کی تمام تر فیکٹریاں از خود ہی ختم کر دے، یہ ایک خواب ہے مگرہم جیسے قلم کار خواب دیکھنے اور دکھانے کے سوا کر ہی کیا سکتے ہیں؟

Check Also

Jamhuriat Aur Awami Masail: Falsafa Aur Haqiqat Ka Fasla

By Unzila Siddiqui