Thursday, 22 October 2026
  1. Home/
  2. Najam Wali Khan/
  3. Ye Brain Drain Kya Hai?

Ye Brain Drain Kya Hai?

شور مچا ہوا ہے کہ تین برسوں میں نوے ہزار سے زیادہ اعلیٰ تعلیم یافتہ پاکستانی شہری روزگار کے لئے بیرون ملک جا بسے اوراسے پاکستان کے انسانی سرمائے کے لئے ایک بڑا نقصان قرار دیا جا رہا ہے مگر مجھے برین ڈرین سے پہلے مورالٹی کے ڈرین پر ضرور بات کرنی ہے کہ ہمارے بہت سارے نام نہاد سینئر صحافیو ں نے بھی کسی نامعلوم اخبار کی وہ خبر شئیر کر دی جس میں یہ تعداد نوے ہزار کی بجائے اٹھارہ لاکھ بیان کی جا رہی ہے مگر وہ سینئر صحافی اس غلط بیانی پرشرمندہ بھی نہیں، اسے آزادی اظہار رائے کہہ رہے ہیں۔ برین ڈرین پر بات کرنے سے پہلے فیکٹ چیک کر لیتے ہیں، اس خبر کا ماخذ پاکستان کی اکنامک سروے کی رپورٹ اور بیورو آف امیگریشن کے اعداد وشمار ہیں۔ یہ دو الگ الگ کیٹیگریز بیان کرتے ہیں جن میں اعلیٰ ہنر مند الگ ہیں اور اعلیٰ تعلیم یافتہ الگ۔ رپورٹ کے مطابق 2022ءسے 2024ءتک اعلیٰ ہنرمند 95,989 جبکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ 60,323 افراد ملک سے باہر گئے اور یہ مجموعی طو رپر156312 پاکستانی بنتے ہیں۔

اگر اہم اخلاقی اور اصولی بات کریں تو دنیا کے کسی بھی ملک سے کسی ایک بھی فرد کو پردیسی نہیں ہونا چاہئے مگر آپ ہی بتائیں کہ کیا یہ ممکن ہے۔ دنیا تیزی کے ساتھ گلوبل ورلڈ بنتی جا رہی ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کو اپنے شہریوں کی خدمت کے لئے تیسری دنیا کے مزدور بھی درکار ہیں اور ہنر مند بھی۔ وہ اچھی تنخواہیں دیتے ہیں تو اس کے بدلے وہاں جا کے روزگا ر حاصل کرنا کون سی بری بات ہے۔ میں نے اعداد وشمار دیکھے تو مجھے علم ہوا کہ اٹھاون لاکھ چینی یا چینی نژاد باشندے امریکہ میں ہیں۔ ایک وقت آیا تھا کہ ہم نے شور مچانا شروع کر دیا تھا کہ چینیوں کی بہت بڑی تعداد پاکستان میں ہے، وہ پاکستانی لڑکیوں سے شادیاں بھی کر رہے ہیں (ان کے مسائل الگ رپورٹ ہوئے) تو اس کا مطلب یہ لے لیا جائے کہ چین میں روزگار نہیں ہے؟

اسی اخلاقی اور اصولی بات والے پیراگراف میں اسے بھی شامل کر لیں کہ کسی بھی شخص کے لئے اپنے ماں باپ، اپنے بیوی بچے، اپنے رشتے دار، پرکھوں کی قبریں اور شہروں کی گلیاں چھوڑ کے جانا کون سا آسان ہے مگر ان کے بارے آپ کیا کہیں گے جو دن رات اس ملک کی برائیاں کرتے ہیں، جو یہاں باپ کی کئی کروڑ کی دکان پر بیٹھنا پسند نہیں کرتے مگر کسی دوسرے ملک جا کے ان کے باتھ روم بھی صاف کر لیتے ہیں اور کتے بھی نہلا لیتے ہیں سو اس میں کوئی اخلاقی اور اصولی بات نہیں ہے، اپنی اپنی ترجیح کی بات ہے، اپنے اپنے ذہن کی بات ہے۔

بات جذبات کی بجائے حقائق کی بنیاد پر کرنی چاہئے کہ اس وقت پاکستان کی آبادی پچیس کروڑ کے لگ بھگ ہے اوراس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ کیا ہماری معیشت اس قابل ہے کہ وہ تمام پاکستانیوں کو ملازمتوں کے مواقع فراہم کر سکے۔ ایسے میں ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان ہر سال ہزاروں کی تعداد میں معیاری ڈاکٹرز بھی پروڈیوس کر رہا ہے مگر دوسری طرف ان سب کے لئے بھی نوکریاں دستیاب نہیں ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ہزاروں لوگ سی ایس ایس کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر ان میں سے ایک ڈیڑھ فیصد ہی کامیاب ہوتے ہیں۔ میں یہ بھی کہتا ہوں کہ آپ کسی بھی ایف اے، بی اے تعلیمی معیار کے ساتھ جاب کے لئے اشتہار دیں آپ کے پاس ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی سکالرز کی درخواستوں کی قطار لگ جائے گی۔

میں نے کچھ عرصہ پہلے فیملی پلاننگ کرنے والے ملازمین کے ایک احتجاج میں ان کے ساتھ پروگرام کیا تو پتا چلا کہ درجنوں ایم فل اور پی ایچ ڈی سکالرز بیس پچیس ہزار روپے ماہانہ کی اس جاب کے لئے احتجاج کر رہے تھے جس میں انہیں گاوں گاوں جا کے لوگوں کو بچے پیدا نہ کرنے پر راضی کرنا پڑتا تھا اور یہ ایک بہت مشکل کام تھا۔ ایسے میں اگر لوگوں کو بیرون ملک ملازمتیں مل رہی ہیں، وہ باہر جا رہے ہیں تواس میں برا کیا ہے؟ اگر وہ اپنے لئے کچھ اچھا کماتے ہیں اور اپنے ملک کو بھی زرمبادلہ بھیجتے ہیں تو آپ کو تکلیف کیا ہے؟ کیا آپ کو یہ خوشی نہیں کہ پاکستان ایسی نوجوان نسل تیار کر رہا ہے، ان کو اتنی معیاری تعلیم دے رہا ہے کہ بیرون ملک ان کی مانگ ہے۔

کیا آپ نے کبھی کسی بھی پروڈکٹ میں ایکسپورٹ کوالٹی بارے سنا ہے۔ یہ ایکسپورٹ کوالٹی ہمیشہ لوکل مارکیٹ سے زیادہ اچھی اورمہنگی ہوتی ہے۔ کیا ہمیں اس پر افسوس کرنا چاہئے یا فخر کہ ہم ایکسپورٹ کوالٹی یوتھ تیار کر رہے ہیں۔ ہماری ایم بی بی ایس کی ڈگری دنیا بھر میں تسلیم کی جاتی ہے۔ عربی یہاں آتے ہیں اور جہازوں کے جہاز بھر کے ہمارے نوجوان ڈاکٹر لے جاتے ہیں۔ ظاہر ہے جب ہمارے پاس اتنا انفراسٹرکچر ہی نہیں ہوگا، جب ہمارے پاس اتنی ملازمتیں ہی نہیں ہوں گی تو ہمیں اس قانونی ایکسپورٹ پر خوش ہونا چاہئے۔

چلیں، اس کو ایک اور طرح سے دیکھ لیتے ہیں۔ بھارتی ہمیں بتاتے ہیں کہ ان کے شہری گوگل سے ایمازون تک پتا نہیں کون کون سا ادارہ چلا رہے ہیں۔ اجے بنگا ورلڈ بینک کا صدر ہے اور وویک اگروال ایف اے ٹی ایف کا تو یہ کیسے وہاں پہنچے اگر وہ یا ان کے والدین انڈیا میں ہی ٹکے رہتے۔ موجودہ امریکی نائب صدر اور اگلے ممکنہ صدر کی اہلیہ انڈین ہیں اور جب پہلگام فالس فلیگ ہوا تو امریکی نائب صدر اپنی اہلیہ کے ساتھ انڈیا میں ہی موجود تھے اور آپ اس کی اہمیت سمجھ سکتے ہیں اگر خارجہ پالیسی کا دس فیصد بھی شعور ہے۔ جب یہ کہا جاتا ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ یا اعلیٰ ہنرمند ملک چھوڑ گئے تو میں اس کو اس طرح بھی لیتا ہوں کہ ہمارے پاس اب ماشااللہ نہ ڈاکٹروں کی کمی ہے نہ انجینئروں کی، ایک اشتہار دیں تو ایک پوسٹ پر ایک سودس اپلائی کرتے ہیں سو ان میں سے آدھے بھی چلے جائیں تو کوئی حرج نہیں۔

ہم پر برین ڈرین سے نقصان کی تشریح اس وقت لاگو ہوگی جب ہم کسی پوسٹ کے لئے اشتہار دیں گے اور ہمیں کوئی ملے گا نہیں۔ اب تک تو ایسی کوئی صورتحال نہیں ہے اور یوں بھی جس طرح ہم دنیا میں بچے پیدا کرنے میں سب سے آگے جا رہے ہیں مجھے پوری امید ہے کہ ہمارے ہاں کبھی شارٹ فال ہوگا بھی نہیں۔ یہ بھی دیکھیں کہ ہم کب تک ڈرائیور اور مزدور ہی باہر بھیجتے رہیں گے جو کسی نہ کسی حدتک ہمارے زرمبادلہ کو تو سہارا دیں گے مگر کیا وہ دوسرے ممالک میں اہم سیٹوں پر پہنچ سکیں گے جو بہت مشکل کام ہے لیکن اگر ہمارے اعلیٰ تعلیم یافتہ یا اعلیٰ ہنرمند جائیں گے تویقینی طور پر وہ وہاں کی سوسائٹی میں سیاسی اور سماجی طور پر وزن رکھیں گے۔ ابھی ہم ریکارڈ ریمی ٹینسز پر خوشی سے چھلانگیں مار رہے ہیں جس کی وجہ سے ہم ڈیفالٹ سے بچ گئے، یہ بھی توانہی جانے والوں کی مہربانی ہے۔

Check Also

Jamhuriat Aur Awami Masail: Falsafa Aur Haqiqat Ka Fasla

By Unzila Siddiqui