عمر تمام صحافت کی نذر کردینے کے بعد جہانِ فانی سے رخصت کی تیاری کرتے ہوئے اپنے پیشے کی سوشل میڈیا پر لعنت ملامت ہوتے دیکھتا ہوں تو دل بہت دُکھتا ہے۔ تاسف کی بدولت مائوف ہوا ذہن مگر جب بیدار ہوتا ہے تو خلقِ خدا کی جانب سے ملی لعنت ملامت کے اسباب جاننے کی پرخلوص مشق سے بھی گزرتا ہے۔ چند ٹھوس وجوہات جان لینے کے باوجود ازالے کی مگر کوئی راہ نظر نہیں آتی۔
خود سے سوال کرتے ہوئے دن گزرجاتا ہے تو ہمارے ہاں کی شام شروع ہوجاتے ہی امریکی صدر انگڑائی لے کر بیدار ہوجاتے ہیں۔ موصوف کو صبح اٹھتے ہی صحافیوں کے ساتھ براہِ راست گفتگو کے ذریعے اپنے ملک ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے غور کے لئے موضوعات فراہم کرنے کی فکر لاحق ہوجاتی ہے۔ ریڈیو اور ٹیلی وژن کے مقبول اینکروں سے ٹیلی فون کے ذریعے براہِ راست گفتگو کے علاوہ وہ سوشل میڈیا پر بھی چونکادینے والے پیغامات لکھنا شروع کردیتے ہیں۔
دنیا کی واحد سپرطاقت کہلاتے ملک کے صدر کا بیان کردہ ہر لفظ سنجیدہ توجہ کا تقاضہ کرتا ہے۔ ان کے دئے ایک پیغام سے تیل کے فی بیرل کی قیمت آسمان کو چھوسکتی ہے۔ وہاں پہنچ چکی ہو تو دھڑام سے زمین پر گر بھی سکتی ہے۔ پاکستان کے صحافی موصوف کے برجستہ خیالات کو مزید سنجیدگی سے لینے کو مجبور ہیں کیونکہ ایران ہمارا ہمسایہ ہے۔ اس کے ساتھ ہماری سرحد نوسوکلومیٹر لمبی ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے ہاں میسر تیل اور گیس کا تقریباََ 80فی صد خلیج کے مختلف ممالک سے ایران کے ساحل کے ساتھ جڑی آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے آتا ہے اور سینکڑوں برس سے بحری تجارت کے لئے سب عالم کے لئے کھلی رہی یہ آبنائے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے مسلط کردہ جنگ کے نتیجے میں گزشتہ سات ہفتوں سے ایران کے مکمل کنٹرول میں جاچکی ہے۔
ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی اجازت کے بغیر آپ تیل اور گیس سے لدے جہازوں کو وہاں سے گزار نہیں سکتے۔ عالمی منڈی میں پھیلی سرگوشیاں دعویٰ کرتی ہیں کہ پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کو گزرنے کی اجازت دینے کے لئے پیشگی ٹیکس طلب کرتے ہیں۔ جہاز گزارنے کی خواہاں کمپنی کے پاس امریکی ڈالروں میں رقم ادا کرنے کی سکت وہمت موجود نہ ہو تو "بھتہ" چین کی کرنسی میں بھی ادا کیا جاسکتا ہے۔ امریکی، یورپی یا چینی کرنسی میں نقد ادائیگی ممکن نہ ہوتو "اجازت" کرپٹو کرنسی سے بھی خریدی جاسکتی ہے۔
کرپٹو کرنسی کیا ہے؟ اس سوال کا جواب میں ابھی تک جان نہیں پایا۔ اس کرنسی کو کون جاری کرتا ہے؟ اس ادارے یا حکومت کا نام بھی معلوم نہیں۔ میرے پاس فرض کریں ایک لاکھ روپیہ فاضل کیش کی صورت موجود ہو تو میں کہاں سے کتنی کرپٹو کرنسی خرید کر اپنے پاس کیسے جمع رکھ سکتا ہوں؟ ان بنیادی سوالات کے جوابات سے بے خبر ہوں۔ اپنی لاعلمی کے باوجود مگر کئی مہینوں سے سن رہا ہوں کہ کرپٹو نام کی بھی ایک کرنسی ہوتی ہے۔ اس کے کاغذی نوٹ نہیں سکے (Coins)ہوا کرتے ہیں۔ یہ سکے کیسے اور کونسی فیکٹری (ٹیکسال) میں بنائے جاتے ہیں اس کے بارے میں لاعلم ہوں۔
میں اور آپ کرنسی کا جو نوٹ استعمال کرتے ہیں اسے بینک دولتِ پاکستان کے گورنر کے دستخطوں سے جاری کیا جاتا ہے۔ کرپٹو کرنسی کو چند ماہ قبل تک دنیا کے کسی بھی سرکاری بینک کی سرکاری ضمانت یا پشت پناہی میسر نہیں تھی۔ بالآخر لاطینی امریکہ کے چند ممالک کے سرکاری بینکوں نے اس کرنسی کی پشت پناہی کا فیصلہ کیا۔ اس کے نتیجے میں روایتی کرنسی کے عادی ماہرین معیشت نے واویلا مچانا شروع کردیا کہ لاطینی امریکہ کے منشیات فروش کرپٹو کرنسی کو اپنی تجارت کے لئے استعمال کرنا شروع ہوگئے ہیں۔ اس کرنسی کو پھلنے پھولنے دیا گیا تو منشیات فروش ماورائے ریاست گروہوں کی صورت اختیارکرلیں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے تاہم 20جنوری 2025ء کے روز امریکی صدر کے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد فیصلہ کیا کہ امریکی ریاست اور بینک کرپٹو کرنسی کی ضمانت فراہم کریں گے۔ ریاستی نگرانی/سرپرستی میں کرپٹو کرنسی کا دھندا چلانے کی حوصلہ افزائی کا فیصلہ ہوا۔ ٹرمپ خاندان پر مالیالی بدعنوانیوں کے الزامات لگاتے ہوئے گھبراتا ہوں۔ نہایت عاجزی سے یہ سوچتا ہوں کہ امریکی صدر ٹرمپ کے ایک چہیتے فرزند نے اپنے والد کے نوجوانی کے دوست سٹیووٹکوف کے بیٹے کے ساتھ شراکت داری میں کرپٹو کرنسی کی جو کمپنی بنائی ہے اس کا اصل مقصد شاید لوگوں کو اعتبار دلانا ہے کہ کرپٹو کرنسی دونمبر کا دھندا نہیں۔
آپ اس میں بلاجھجک سرمایہ کاری کریں۔ ہاتھی کے پائوں میں سب کا پائوں ہوا کرتا ہے۔ امریکہ نے کرپٹو کرنسی کو جائز دھندا ٹھہرادیا تو پاکستان نے بھی کرپٹو کرنسی کو ریاستی قواعد وضوابط کے اطلاق سے باضابطہ بنادیا۔ ہمارے ایک ذہین وفطین نوجوان بلال بن ثاقب اس کرنسی کو متعارف کرواتے ہوئے پاکستان کو جدید ترین مالیاتی نظام سے استفادہ کے قابل بنارہے ہیں۔
بات مگر آبنائے ہرمز سے شروع ہوئی تھی۔ جہاں سے گزرنے کی اجازت دینے کے لئے پاسدارانِ انقلاب عالمی منڈی میں پھیلی افواہوں کے مطابق کرپٹو کرنسی میں ادائیگی بھی قبول کررہے ہیں۔ دوتیل بردار جہازوں کے ساتھ مگر اس ضمن میں دھوکہ ہوگیا۔ وہ متحدہ عرب امارات سے بھارتی ریاست کیرالہ کے لئے تیل کے ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزارکرلے جانا چاہ رہے تھے۔ ایک بھارتی نڑاد شخص نے خود کو پاسدارانِ انقلاب کا نمائندہ بتاتے ہوئے ان کے ساتھ "سودا" کیا۔
کرپٹو میں ادائیگی وصول کرکے رفوچکر ہوگیا۔ جہاز مگر آبنائے ہرمز میں داخل ہونے لگے تو پاسدارانِ انقلاب نے ان کے کپتانوں (ناخدائوں) کے پاس موجود رسیدیں اور راہداری کی اجازت کو دونمبر ٹھہرایا۔ جہازوں کو گھیرے میں لے کر واپس لوٹادیا گیا۔ آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہاز گزارنا لہٰذا کرپٹو کرنسی کے استعمال سے بھی دشوار ہوتا نظر آرہا ہے۔ دنیا کی واحد سپرطاقت ہونے کا دعوے دار امریکہ آبنائے ہرمز کھلوانے کی سکت سے محروم ہے۔
اپنی خفت مٹانے کے لئے ایرانی بندرگاہوں کو جاتے اور وہاں سے آرہے جہازوں کو ناکہ بندی کے ذریعے روکنا چاہ رہا ہے۔ آبنائے ہرمز اور ایران کی بندرگاہوں سے بحرہند آئے جہازوں کی امریکہ کی جانب سے ناکہ بندی مگر پاکستان سے لے کر جاپان، ویت نام اور فلپائن تک پھیلے کروڑوں عوام کو روزمرہّ ضرورت کے تیل اور گیس سے محروم کرنا شروع ہوگئی ہے۔ ایران ہو یا امریکہ یہ حقیقت تسلیم کرنے کو آمادہ نہیں کہ ان میں سے کوئی ایک فریق بھی جنگ فیصلہ کن انداز میں جیت نہیں سکا ہے۔ بہتر یہی ہے کہ مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر کچھ لو اور دو کے ذریعے پاکستان جیسے بے شمار ممالک کے کروڑوں انسانوں کو بے یقینی کے عذاب سے نجات دلائی جائے۔
بے یقینی کے اس موسم میں بھی صدر ٹرمپ امریکی وقت کے مطابق صبح اٹھتے ہی ویڈیو اور ٹی وی کے نمائندوں کو براہِ راست ٹیلی فون کے ذریعے جو پیغامات دیتا ہے وہ گھنٹوں ہمیں امید وبیم کی کیفیت میں مبتلا رکھتے ہیں۔ بدھ کی شام انہوں نے اسلام آباد میں کئی دنوں سے قیام پذیر نیویارک پوسٹ کی نامہ نگار کو گول مول الفاظ میں یہ بتایا کہ جمعہ کے روز تک ایران اور امریکہ کے مابین دیرپا امن کی تلاش میں مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہوسکتا ہے۔ پاکستان میں جمعرات کی صبح اٹھ کر یہ کالم لکھا ہے۔ مجھے مذاکرات کے امکانات دور دور تک نظر نہیں آرہے۔
اسلام آباد کے ریڈزون تک جانے والے تمام راستے مگر عامیوں کے لئے اب بھی بند ہیں۔ انہیں خاردار تاریں بچھاکر "محفوظ" بنادیا گیا ہے۔ اسلام آباد کے مصروف ترین علاقوں میں روزمرہّ زندگی کا تعطل ناقابل برداشت ہورہا ہے۔ یہ بات مگر کوئی ایک ذمہ دار شخص بھی اعتماد سے بتانے کو آمادہ نہیں کہ ایران اور امریکہ کے مابین مذاکرات کا دوسرا دور رواں ہفتے کے اختتامی ایام میں شروع ہوسکتا ہے یا نہیں۔ اس اہم ترین سوال کا تسلی بخش جواب ڈھونڈنے میں ناکام رہنے کے بعد میں کس منہ سے خود کو صحافی کہلوانے پر مصر رہوں؟ لوگ جائز بنیادوں پر ہماری لاعلمی اور نارسائی کی لعنت ملامت میں مصروف ہیں۔