Monday, 21 September 2026
  1. Home/
  2. Nusrat Javed/
  3. Afaton Ke Mausam Mein Islamabad Par Ehtejaji Muzahiron Ka Khof

Afaton Ke Mausam Mein Islamabad Par Ehtejaji Muzahiron Ka Khof

حسب عادت اتوار کی صبح اٹھتے ہی یہ کالم لکھ رہا ہوں۔ چھٹی کا دن ہونے کی وجہ سے میرے گھر کی کھڑکیوں سے جو اسلام آباد کے تقریباََ مرکز میں واقع ہے سڑک پر اِکا دُکا گاڑیاں اور سواریاں نظر آرہی ہیں۔ ماحول پُرسکون ہونے کے باوجود دل کو مگر اطمینان مہیا نہیں کررہا۔ ناشتے کے لئے پوری چنے کھانے کی خواہش تھی۔ خریدنے باہر نکلا تو ایک مقبول دوکان پر معمول کا رش دکھائی نہ دیا۔ شہر کسی انجانے خوف سے سہما ہوا ہے۔ چند گاہکوں سے گفتگو ہوئی تو خبر ملی کہ اسلام آباد کے محلوں میں یہ تاثر پھیل چکا ہے کہ اتوار کی صبح سے اسلام آباد کو آئندہ 48گھنٹوں کے دوران دیگر شہروں سے آنے والے لوگوں کے لئے تقریباََ سیل کردیا جائے گا۔ وجہ اس کی جماعت اسلامی کا 20 ستمبر سے "ہر صورت" اسلام آباد آنے کا فیصلہ بتائی گئی۔

جوانی کی حدود میں داخل ہوتے ہی ذہنی طورپر "سرخا" ہوگیا تھا۔ اس کی وجہ سے 1970ء کی دہائی سے کئی برسوں تک جماعت اسلامی کی سیاست ونظریات سے نفرت رہی۔ کل وقتی صحافت کو بطور پیشہ اپنایا تو یہ تسلیم کرنے کو مجبور ہوا کہ جماعت اسلامی کے رہ نمائوں کے علاوہ متحرک کارکنوں کی کثیر تعداد تعلیمی اداروں پر "قابض" ہوئے جمعیت کے نوجوانوں کے مقابلے میں نہایت دھیمے اور مہذب انداز میں اپنی سیاست کا دفاع کرتی ہے۔ جماعت کے تنظیمی ڈھانچے نے بھی شدید متاثر کیا۔

جوانی شروع ہوتے ہی جماعت اسلامی کی سیاست ونظریات کے خلاف ذہن میں تعصبات کا جو انبار جمع ہوچکا تھا اس کی شدت میں کمی کے باوجود اس جماعت کی افغان جہاد کے حوالے سے جنرل ضیاء کی سرپرستی میں اپنائی سیاست کا دفاع ناممکن محسوس کیا۔ ذاتی تعصبات سے کامل آزادی کے حصول میں ناکامی کی بدولت جماعت اسلامی کے سیاسی فیصلوں پر تبصرہ آرائی سے گریز اختیار کرلیتا ہوں۔ یہ خدشہ لاحق رہتا ہے کہ ماضی کے تعصبات غیر جانبدارانہ تبصرے کی راہ میں حائل ہوجائیں گے۔ اسلام آباد پر دھاوے کے ارادے نے مگر تبصرہ آرائی کو مجبور کردیا ہے۔

علم معاشیات کی مبادیات سے نابلد ہونے کے باوجود جماعت اسلامی کی اس رائے سے اختلاف کی گنجائش نہیں کہ ٹیکس اکٹھا کرنے کے نظام میں برسوں سے سمائی خامیوں کی وجہ سے سرکاری ادارے ریاست وحکومت کے خرچے چلانے کے لئے صاحب استطاعت افراد پر واجب ٹیکس جمع کرنے میں مسلسل ناکام رہے ہیں۔ خامیوں کی اصلاح پر توجہ دینے کے بجائے قومی خصلت کے عین مطابق "جگاڑ" لگاتے ہوئے پٹرول اور ڈیزل کے ایک لیٹر کی قیمت پر ناقابل برداشت لیوی کے نفاذ کا اعلان کردیا گیا۔ لیوی کا نفاذ وفاقی حکومت کو پٹرول اور ڈیزل کی فروخت سے جمع ہوئی رقوم کو صوبوں میں تقسیم کرنے سے محفوظ رکھتا ہے۔ آئی ایم ایف بھی سالانہ بجٹ میں "خسارے" کو کم تر دیکھتے ہوئے مطمئن ہوجاتا ہے۔ اپنی سرشت میں لیکن امیر وغریب میں تفریق کے بغیر پٹرول اور ڈیزل پر عائد ہوئی لیوی کو دھونس سے جمع کیا "بھتہ" پکارنا زیادتی وناانصافی نہیں۔ سوال مگر یہ اٹھتا ہے کہ مذکورہ بھتے سے نجات کی راہ کیا ہے۔

مجھے اور آپ کو وہ راستہ دکھائے بغیر جماعت اسلامی نے پاکستان کے بڑے شہروں میں روزانہ کی بنیاد پر دھرنوں کا سلسلہ شروع کردیا۔ ان دھرنوں کے باوجود حکومت روزانہ کی بنیاد پر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑھوتی کا اعلان کرتی رہی۔ سوشل میڈیا پر چھائے پھکڑپن تلملا کر فریاد کرنا شر وع ہوگئے کہ جماعت اسلامی احتجاجی دھرنے ختم کردے تو شاید حکومت بھی روزانہ کی بنیاد پر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے بجائے کمی کا اعلان شروع کردے گی۔

فروری 2024ء کے انتخابی نتائج کے بعد قائم ہوا بندوبستِ حکومت احتجاجی دھرنوں اور مظاہروں کو سختی سے کچلنے کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف جماعت اسلامی کے مختلف شہروں میں دیے احتجاجی دھرنوں کو لیکن یہ بندوبست فراخ دلی سے نظرانداز کرتا رہا۔ جماعت نے جب اُکتاکر اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کیا تو وفاقی حکومت کے سینئر وزیر احسن اقبال صاحب کی سربراہی میں وزراء کی ایک کمیٹی جماعت کے رہ نمائوں سے مذاکرات میں مصروف ہوگئی۔

احسن اقبال جماعت اسلامی کی سیاست وقیادت سے بخوبی آشنا ہیں۔ ان کی آشنائی مگر جماعت کو رام کرنے میں ناکام رہی۔ اسلام آباد پر چڑھائی کا فیصلہ لینے کے لئے جماعت اسلامی کو ٹھوس انداز میں اپنے کارکنوں اور تماشائی عوام کو کوئی ایسی شے دکھانا ہوگی جو لوگوں کو قائل کرے کہ جماعت کے احتجاج کی بدولت حکومت لیوی کے مکمل خاتمے کے بغیر بھی ڈیزل اور پٹرول کی قیمت میں قابل ستائش رعایتیں فراہم کرنے کو مجبور ہوگئی۔ انگریزی میں ایسی رعایت کے لئے "فیس سیونگ" کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے اور وہ ہفتے کی رات تک دریافت نہیں ہوپائی ہے۔

فیس سیونگ کے بغیر جماعت اسلامی اسلام آباد پر مارچ کے فیصلے سے "حکومت کے خوف" سے بھاگتی نظر آنا سیاسی اعتبار سے برداشت کرنہیں سکتی۔ اسلام آباد کی فضائوں میں تنائو کی صورتحال لہٰذا اس شہر کو طلسماتی کہانیوں میں بیان ہوئے شہروں کی طرح مفلوج ہوا دکھارہی ہے۔

جماعت اسلامی کے مارچ کے علاوہ ہفتے کے دوران "کسان اتحاد" بھی اسلام آباد پر دھاوا بولنے کا ارادہ رکھتا ہے اور سب سے زیادہ حکومتی صفوں میں اضطراب 27ستمبر کی وجہ سے پایا جارہا ہے جب خیبرپختونخواہ کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اپنے صوبے سے ایک بڑے قافلے کے ساتھ اسلام آباد آنے کو ڈٹے ہوئے ہیں۔ جماعت اسلامی، کسان اتحاد اور تحریک انصاف اسلام آباد پر دھاوے کے فیصلے کامل ایک ہفتے تک پاکستان کے دارالحکومت کو کنٹینروں کی مدد سے بنائی فصیل میں محصور ہوا دکھائیں گے۔

مہنگائی کی بدترین لہر نے پاکستانیوں کی بے پناہ اکثریت کے اذہان کو مائوف بنارکھا ہے۔ آفتوں کے اس موسم میں احتجاجی مظاہروں کے سلسلے اور حکومت کی جانب سے انہیں کچلنے کیلئے ہر حربے کے استعمال کی دھمکی لوگوں کو مزید خوفزدہ کئے ہوئے ہے۔ بات چیت کے ذریعے کوئی درمیانی راہ نکالنے کی گنجائش بھی موجود نہیں۔ ہم مسلسل اضطراب کے گرداب میں گرفتار ہوا محسوس کررہے ہیں۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.

Check Also

Karobar e Hayat, Hamari Nasal Aur Tawazum Ki Talash

By Unzila Siddiqui